زمان و مکان کی حقیقت

کتاب : لوح و قلم

مصنف : حضور قلندر بابا اولیاءؒ

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2944

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ کائنات کس طرح بنی ہے اور مکان و زمان کا کائنات کی تکوین سے کیا تعلّق ہے۔
کائنات کی دو سطح ہیں۔ اگر ہم ایک سطح کو کُل ذات (Internal Self) کہیں تو دوسری سطح کو ایک ذات (Personal Ego) کہیں گے۔ کُل ذات چھوٹے سے چھوٹے ذرّات اور بڑے سے بڑے اجرام کا بسط(Base Line) ہے۔ یعنی چھوٹے سے چھوٹا ذرّہ اور بڑے سے بڑا کرّہ جن روشنیوں کا مجموعہ ہے وہ ساری روشنیاں کُل ذات کے اَجزاء ہیں۔ اگر ہم ان روشنیوں کو دیکھ سکیں تو یہ تصوّرات کی صورت میں نظر آئیں گے۔ یہی تصوّرات کُل ذات سے یک ذات میں منتقل ہوتے ہیں۔ ان کا منتقل ہونا کُل ذات پر منحصر ہے۔ کُل ذات جن تصوّرات کو یک ذات کے سپرد کر دے۔ یک ذات انہیں قبول کرنے پر مجبور ہے۔ مثلاً گلاب کو کُل ذات سے وہی تصوّرات منتقل ہوتے ہیں جو گلاب کی شکل وصورت میں ظُہور پاتے ہیں۔ اِسی طرح انسان کو بھی کُل ذات سے وہی تصوّرات ملتے ہیں جو انسانی شکل وصورت کا مظہر ہوں۔
انسان کی ساخت کیا ہے؟
وہ ایسے تصوّرات کا مجموعہ ہے جو کُل ذات میں ایک ذات کا شعور حاصل کرتے ہیں۔ انسان کا لاشعور(کُل ذات) خود اپنے جسم کی تخلیق کرتا ہے۔ عام زبان میں جس کو مادہ (Substance) کہا جاتا ہے وہ لاشعور کی مشین کا بنا ہوا ہے۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ خارج سے جو غذا انسان کو ملتی ہے اس سے خون اور جسم بنتا ہے۔ یہ قیاس سرے سے غلط ہے۔ دراصل انسان کا لاشعور (کُل ذات) تصوّرات کو روشنی سے مادہ کی شکل میں بدل ڈالتا ہے۔ یہی مادہ جسمانی خدّوخال اور ثقل کی صورت میں متعارف ہوتا ہے۔ جب لاشعور کسی وجہ سے تصوّرات کو مادہ میں منتقل کرنے کا اہتمام نہیں کرتا تو موت واقع ہو جاتی ہے۔
انسان کو اپنی زندگی میں ایک سے زیادہ مرتبہ سخت ترین بیماریوں سے سابقہ پڑتا ہے۔ اس زمانہ میں غذا یا تو کم سے کم رہ جاتی ہے یا بالکل مفقود ہو جاتی ہے لیکن موت واقع نہیں ہوتی۔ اس کے یہ معنی ہوئے کہ جسمانی مشین زندگی کو چلانے کی ذمّہ دار نہیں ہے۔ ان مشاہدات سے یہ بات تحقیق ہو جاتی ہے کہ خارج سے انسانی جسم کو جو کچھ ملتا ہے وہ زندگی کا موجب نہیں ہے۔ زندگی کا موجب صرف لاشعور کی کارسازی ہے۔
کُل ذات کو سمجھنے کی طرزیں بہت ہیں۔ کُل ذات کی صفات لاشمار ہیں۔ انسان پیدا ہوتا ہے، وہ چند ماہ کا ہوتا ہے۔ پھر ساٹھ، ستر، اِسی اور نوے سال کا ہو جاتا ہے۔ اس کے جسم میں، اس کے خیالات میں، اس کے علم و عمل میں ہر لمحہ تغیّر ہوتا ہے۔ اس کے جسم اور علم و خیال کا ہر ذرّہ بدل جاتا ہے لیکن وہ شخص نہیں بدلتا۔ وہ جو کچھ چند ماہ کی عمر میں تھا وہی نوے سال کی عمر میں ہوتا ہے۔ اگر اس کا نام زید ہے تو اس کو زید ہی کہیں گے۔ وہ ہمیشہ زید ہی کے نام سے یاد کیا جائے گا۔

جملہ معترضہ

یہ زید کیا ہے؟
یہ زید کُل ذات ہے۔ جس قدر ردّ و بدل واقع ہوتا ہے وہ ایک ذات (Personal Ego) ہے۔ کُل ذات کائنات کو محیط ہے۔
علمِ کائنات یک ذات کو حاصل نہیں ہے۔ کُل ذات سے لاتعلّقی اس کا سبب ہے۔ اگر ایک شخص کی تمام دل چسپیاں اس کے خاندان تک محدود رہیں تو اس کی فہم صرف خاندان کی حدود میں سوچ سکتی ہے۔ اس کے مشاہدات اور تجربات بھی اس ہی مناسبت سے محدود ہوں گے۔ یوں کہیئے کہ اس نے اپنی فہم کو محدود کر لیا، یہاں تک کہ وہ خاندان سے باہر دیکھنے سے قاصر ہے۔ انسان کی آنکھ اور کان اس کی اپنی فہم کی حدود میں دیکھتے اور سنتے ہیں۔ فہم کی حدود سے باہر نہ دیکھ سکتے ہیں، نہ سن سکتے ہیں۔ بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے اطراف میں دیکھ رہے ہیں اور سن بھی رہے ہیں لیکن اس کی فہم کو خاندان سے باہر کسی چیز میں ذرّہ بھر دلچسپی نہیں ہوتی۔ اس کے شعور کا حال بالکل چند سال کے بچے کا سا ہوتا ہے، ایسے بچے کا سا جس کو آپ ریڈیو پر ساری دنیا کی خبریں سنوا دیں مگر وہ نہ کچھ سمجھے گا، نہ محسوس کرے گا۔ اگر کوئی شخص پچاس سال کی عمر میں صرف اپنے خاندان کی حدود میں سوچتا ہے تو روحانیت کے نقطۂِ نظر سے اس کی عمر چند سال سے زیادہ تصوّر نہیں کی جا سکتی۔ کسی ایسے انسان کا شعور جو محض اپنے انفرادی مفاد کو مدنظر رکھتا ہے۔ سو سال کی عمر میں بھی بلوغ کو نہیں پہنچتا۔ اس ہی بنیاد پر کُل ذات سے بے خبر رہتا ہے۔ کائنات کی اسٹیج پر اس کی حالت وہی ہوتی ہے جو تین سال کے بچے کی کسی بین الاقوامی جلسے میں ہو سکتی ہے۔ اس ہی وجہ سے مذہب لازمۂ حیات انسانی ہے۔ جس قوم کا ایمان، کائنات کا اخلاص نہیں ہے وہ قوم کائناتی قدروں کا مشاہدہ نہیں کر سکتی۔ نہ اس کی فہم کائناتی علوم تک پہنچ سکتی ہے۔ اس نے خود کو کُل ذات سے منقطع کر لیا ہے۔ اس وضع کی قوم ہزاروں سال کی عمر پانے کے باوجود پالنے کا بچہ رہے گی۔
یہ روشنی جس کو ہماری آنکھیں دیکھتی ہیں ایک ذات اور کُل ذات کے درمیان ایک پردہ ہے۔ اس ہی روشنی کے ذریعے کُل ذات کے تصوّرات یک ذات کو وصول ہوتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیں گے کُل ذات جو اطّلاعات یک ذات کو دیتی ہے ان اطّلاعات کو یہ روشنی رنگ روپ اور إبعاد(Dimensions) دے کر یک ذات تک پہنچاتی ہے۔ اس کی مثال ٹیلیویژن ہے۔ ٹیلیویژن کی سطح سے وہ ساری چیزیں نظر آتی ہیں اور وہ ساری آوازیں سنائی دیتی ہیں جو اسٹیشن سے ارسال کی گئی ہیں۔ جس وقت یہ ترسیل منقطع ہو جاتی ہے نہ کچھ سنائی دیتا ہے، نہ نظر آتا ہے۔ بالکل یہی حال کُل ذات سے آنے والی اطّلاعات کا ہے۔ نَوعِ انسانی کے افراد کو روشنی کے ذریعے اطّلاعات ملتی رہتی ہیں۔ جس طرح اطّلاع ملتی ہے انسانی افراد اس ہی طرح دیکھتے اور جانتے ہیں۔ جب کسی فرد سے اطّلاعات کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے تو اس فرد کی موت واقع ہو جاتی ہے لیکن یہ انقطاع ناسُوتی دنیا سے ہوتا ہے۔ یعنی حیات کی ایک سطح سے فرد منقطع ہو جاتا ہے لیکن دوسری سطح سے (جس کو ہم غیب کہتے ہیں) اطّلاعات ملتی رہتی ہیں۔
یہ ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ جس روشنی کے ذریعے ہماری آنکھیں دیکھتی ہیں خود اس روشنی کی بھی دو سطح ہیں۔ ایک سطح کے حواس میں ثقل اور إبعاد دونوں شامل ہیں لیکن دوسری سطح میں إبعاد ہیں۔ إبعاد کی سطح اس روشنی کی گہرائی میں واقع ہے۔ روشنی ہمیں جو اوپری سطح کی اطّلاعات دیتی ہے حواس انہیں براہِ راست دیکھتے اور سنتے ہیں۔ لیکن جو اطّلاعات ہمیں نچلی سطح سے پہنچتی ہیں ان کی وصولی کے راستے میں کوئی مزاحمت ضرورہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حواس ان اطّلاعات کی پوری طرح گرفت نہیں کرتے۔ دراصل جو اطّلاعات ہمیں اوپری سطح سے وصول ہوتی ہیں وہی اطّلاعات نچلی سطح سے وصول ہونے والی اطّلاعات کے راستے میں مزاحمت بن جاتی ہیں۔ گویا کہ ایک طرح کی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔ یہ دیوار اتنی سخت ہوتی ہے کہ ہمارے حواس کوشش کرنے کے باوجود اسے پار نہیں کر سکتے۔ اوپری سطح کی اطّلاعات دو قسم پر ہیں۔
۱۔ وہ اطّلاعات جو اغراض پر مبنی ہوں۔ ان کے ساتھ ہمارا رویہ جانب دارانہ ہوتا ہے۔
۲۔ وہ اطّلاعات جو انفرادی مفاد سے وابستہ نہیں ہوتیں۔ ان کے حق میں ہمارا رویہ غیر جانب دارانہ ہوتا ہے۔
اطّلاعات کی ان دونوں طرزوں کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو یہ حقیقت مُنکشِف ہو جاتی ہے کہ انسان کے پاس اِدراک کے دو زاویے ہیں۔ ایک وہ زاویہ جو انفرادیت تک محدود ہے۔ دوسرا وہ زاویہ جو انفرادیت کی حدود سے باہر ہے۔ جب ہم انفرادیت کے اندر دیکھتے ہیں تو کائنات شریک نہیں ہوتی لیکن جب ہم انفرادیت سے باہر دیکھتے ہیں تو کائنات شریک ہوتی ہے۔ جس زاویے میں کائنات شریک ہے اس کے اندر ہم کائنات کی تمام اشیاء کے ساتھ اپنا اِدراک کرتے ہیں۔ اِدراک کا یہ عمل بار بار ہوتا ہے۔ اس ہی کو ہم تجرباتی دنیا کہتے ہیں۔ ایک طرف کائنات کو اپنی انفرادیت میں دیکھنے کے عادی ہیں، دوسری طرف اپنی انفرادیت کائنات میں دیکھنے کے عادی ہیں۔ یہ ایک طرف انفرادیت کی ترجمانی کرتے ہیں اور دوسری طرف کائنات کی۔ جب یہ دونوں ترجمانیاں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں تو انفرادیت کی ترجمانی کو صحیح ثابت کرنے کے لئے تاویل کا سہارا لیتے ہیں۔ بعض اوقات تاویل کے حامی اپنے حریفوں سے دست و گریباں ہو جاتے ہیں۔ یہیں سے نظریات کی جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ انفرادیت ایک شخص، ایک جماعت یا پوری ایک قوم پر مشتمل ہو سکتی ہے۔ انفرادیت کے زاویے کا سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ یہ کسی نہ کسی مرحلے میں کائنات کی اور اشیاء سے منحرف ہو جاتی ہے۔ اس زاویہ میں نگاہ ہمیشہ غلط دیکھتی ہے۔ مثلاً کسی چیز کا سائز(Size) ہوا میں کچھ اور نظر آتا ہے، پانی میں کچھ اور۔ یہ اختلافِ نظر زمان اور مکان کی پابندیوں کے سبب ہیں۔ دیکھنے والا جب تک زمان و مکان سے آزاد نہ ہو کسی شئے کی حقیقت کو نہیں پا سکتا۔

زمان و مکان کی تشریح لازمانی زاویہ سے

زمان و مکان دو چیزیں نہیں ہیں۔ روشنی سے ملنے والی اطّلاعات کی جو سطح ہمارے سامنے ہے ہم اس کو مکان کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور جو سطح نظر سے اوجھل ہے اس کو زمان کا نام دیتے ہیں۔ فی الواقع یہ دونوں سطح مل کر ایک یونٹ ہیں۔ شعور کی اوپری سطح میں یہ صلاحیّت نہیں ہے کہ وہ بیک وقت لاشمار چیزوں کو دیکھ سکے، سن سکے اور سمجھ سکے۔ یہ یکے بعد دیگرے ایک ایک چیز کو دیکھتی، سنتی اور سمجھتی ہے۔ حواس کی اس ترتیب میں جو مرحلے پڑتے ہیں ان کو وقفہ، آن، لمحہ وغیرہ متنوّع الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ ہیں زمان کے اَجزاء۔ جب ان اَجزاء کو نگاہ دیکھتی ہے، کان سنتے ہیں، ذہن سمجھتا ہے تو مکانی تخلیق عمل میں آتی ہے۔
اگرچہ کائنات کی بناوٹ بہت زیادہ پیچیدہ نہیں مگر فکرِ انسانی اس بناوٹ کو نامانوس ہونے کی وجہ سے پیچیدہ سمجھتی ہے۔ بات بہت سادہ ہے۔ اس کا کہنا اور سمجھنا بالکل آسان ہے۔ لاتناہیت کا ایک عالم ہے۔ یہ عالم ماوراءِ کائنات کو محیط ہے۔ تمام کہکشانی نظاموں کو اس عالم سے اِدراک تقسیم ہوتا ہے۔ یہ اِدراک لاشمار لمحات سے گزرتا ہے۔ یہی لمحات کہکشانی نظاموں کی شکل وصورت اِختیار کر لیتے ہیں۔ کسی جوہر کے چھوٹے سے اَجزاء اور کسی کرّہ کے بڑے سے بڑے جسم کا ظُہور ایک ہی لمحہ میں ہوتا ہے۔ اس بات کو ایک اور طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ کائنات کے اِدراک میں حرکت ہوتی ہے۔ خود لاتناہیت میں حرکت نہیں ہوتی۔ یہ حرکت ایک یونٹ، ایک ہستی یا ارادۂ الٰہیہ ہے اور دو سطح پر مشتمل ہے۔ ایک زمان، دوسرے مکان۔ یہ دونوں توام ہیں اور ایک دوسرے کا إثبات کرتے ہیں۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے زمان کو امر اور مکان کو خلق فرمایا ہے۔

امر اور خلق کے اَجزاء

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُن شَيْئًا مَّذْكُورًا (سورۂ دہر۔ آیت ۱)
ترجمہ: کبھی ہُوا ہے انسان پر ایک وقفہ زمانے میں جو نہ تھا کچھ چیز قابل ذکر کِیا ہُوا۔
نمبر۱۔ دہر لازمان ہے۔ ہم دہر کو اِدراکِ الٰہیہ کہہ سکتے ہیں۔ یہ لاتناہیت ہے۔
نمبر۲۔ وقت کائنات کا وقفہ ہے اور کائنات کو محیط ہے۔ یہ ازل تا ابد ہے۔ حضور علیہِ الصّلوٰۃ والسّلام کی حدیث ہے۔
لِيْ‌ مَعَ اللہِ وَقْتٌ ۔ اس حدیث میں کائنات ہی کے وقت کا تذکرہ ہے۔
کائنات سے ماوراء جو سطح ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے دہر(امر) فرمایا ہے۔ یہی سطح لازمان ہے۔ کائنات کی حدود میں اِسی سطح کو حضور علیہِ الصّلوٰۃ والسّلام نے ‘‘وقت’’ کا نام دیا ہے۔ یہی سطح زمان ہے۔ افرادِ کائنات میں اس کو حِین کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ سطح خود مظاہر نہیں ہے بلکہ مظاہر کی اساس ہے۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس ہی مفہوم کی طرف اشارہ فرمایا ہے:

۲۔ خَلَقَ الإنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ (سورۂ رحمٰن۔ آیت ۱۴)
ترجمہ: بنایا آدمی کھنکھناتی مٹی سے جیسے ٹھیکرا۔

۲۔ هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُن شَيْئًا مَّذْكُورًا (سورۂ دہر۔ آیت۱)
ترجمہ: کیا نہیں پہنچا انسان پر ایک وقت جو تھا شئے (تصوّر) بغیر تکرار کیا ہوا(بے ترتیب)۔

۳۔ خَلَقَكَ مِن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ (سورۃ کہف۔ آیت ۳۷)
ترجمہ: بنایا تجھ کو مٹی سے پھر بوند سے۔

۴۔ إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا (سورۂ دہر۔ آیت ۲)
ترجمہ: ہم نے بنایا آدمی ایک بوند سے، پلٹتے رہے اس کو پھر کر دیا سنتا دیکھتا۔

اللہ تعالیٰ نے مٹی کو بجتی اور کھنکھناتی فرمایا ہے۔ یعنی خلاء مٹی کے ہر ذرّے کی نیچر ہے۔ اس ہی خلاء کا نام حِین لیا ہے۔ ارشاد ہے ہم نے انسان کو پھر دیکھتا سنتا بنا دیا۔ مراد یہ ہے کہ خلاء میں حواس پیدا کر دیئے۔ یہ حواس وہ بوند ہیں جس کا تذکرہ نطفہ کے لفظ سے کیا ہے۔ خلاء زمان غیر مسلسل ہے اور بوند زمان مسلسل ہے، خلاء نور ہے اور بوند نَسمہ ہے۔ بوند کے معنی کوئی جسمیت نہیں ہے بلکہ وہ ایک نقطۂِ ماسکہ ہے۔ اس ہی نقطہ میں تصوّرات جمع ہوتے ہیں۔ فرمایا ہے پلٹتے رہے اس کو۔ گویا جو تصوّرات مصدر اطّلاعات (دہر) سے خلاء(حِین) کو حاصل ہوئے اُن میں ترتیب قائم کی گئی ہے۔ اس ہی ترتیب نے حواس یا مظاہر کی شکل اِختیار کر لی۔
قرآنِ پاک میں كتابُ المُبين کا تذکرہ ہے۔ كتابُ المُبين ہی وہ غیب ہے جس کو ہم مستقبل کا نام دیتے ہیں۔ یہ ازل تا ابد کی مکمل تصویر ہے اور ظُہور کا مُبداء ہے۔ جب ہم لفظ ابد زبان سے ادا کرتے ہیں تو یہ ایک ہی لفظ ازل تا ابد کے تمام تصوّرات کا مجموعہ ہے۔ لفظ ظُہور ہے اور لفظ کے اندر مَخفی تصوّرات غیب ہیں۔ لفظ ذہن کی ایک حرکت ہے۔ اس حرکت میں تین قسم کی شعاعیں مرکوز ہوتی ہیں۔
۱۔ حسّیات کی شعاعیں
۲۔ معتقدات کی شعاعیں
۳۔ تغیّرات کی شعاعیں
حسّیات کی شعاعیں مُفرد اور معتقدات کی شعاعیں مرکّب ہوتی ہیں۔ مُفرد و مرکّب شعاعیں مل کر تغیّرات کی شعاعیں بن جاتی ہیں۔ تغیّرات ہی کی شعاعوں کا نام ظُہور کائنات ہے۔

تخلیق کا راز

قرآنِ پاک میں تخلیق کا راز بیان ہوا ہے۔ اللہ کا امر یہ ہے کہ

إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ (سورۂ یٰسین۔ آیت ۸۲)
ترجمہ: جب وہ کسی چیز کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ‘‘ہو’’ اور وہ ہو جاتی ہے۔

اس آیت پر غور کیا جائے تو لفظ کے اندر جو راز ہیں ان رازوں کا اور ان رازوں کو حرکت میں لانے کا انکشاف ہو جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ‘‘کُن’’ تو ان کا مخاطب کوئی شئے ہوتی ہے جو ابھی تک ظُہور میں نہیں آئی لیکن جب اسے ظُہور میں آنے کا حکم دیا گیا تو یہی حکم اس شئے کے اندر میکانکی حرکت بن گیا۔ غور طلب یہ ہے کہ شئے کے ظہور کی ماہیت اور طرز کیا تھی۔ یہ ماہیت وہ تصوّرات ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارادے میں موجود ہیں۔ لیکن ان کی طرز میں کوئی ترتیب نہ تھی۔ ترتیب نہ ہونا یہ معنی رکھتا ہے کہ کوئی شئے لاتناہیت میں پھیلی ہوئی ہے۔ جب ارادہ نے شئے کے تصوّر کو لاتناہیت سے اخذ کیا تو شئے کی ایک صورت بن گئی۔ اب شئے کی صورت ایک علم بن گئی اور علم لفظ ہے۔ یعنی جس وقت شئے کے مجموعی تصوّرات علم کا سانچہ بن گئے تو لفظ کہلائے۔ پھر شئے کی ہستی لفظ کی گرفت میں آ گئی۔ اور لفظ اسے پردہ (كتابُ المُبين) سے باہر کھینچ لایا۔
لفظ کی تین قسمیں ہیں۔ دو قسمیں ایسی ہیں کہ ان کو برائے نام لفظ کہا جا سکتا ہے۔یہ دو قسم کے لفظ ظُہور کے بعد استعمال ہوتے ہیں مثلاً اچھا یا برا۔ اچھا ایسا لفظ ہے جو تائید کرتا ہے، برا ایسا لفظ ہے جو تردید کرتا ہے۔ دونوں الفاظ میں تصوّرات کا ایسا مجموعہ پوشیدہ ہے جو ظُہور میں آ چکا ہے۔ اب ارادہ میں ایسے تصوّرات موجود نہیں ہیں جن کو ظُہور میں آنا ہو۔ یعنی ارادہ میں تصوّر کی گنجائش نہیں ہے۔ ان دونوں قسم کے الفاظ کا نام خلق یا کائنات ہے۔ یہ دونوں امر کے شعبے سے الگ ہیں۔ قرآنِ پاک میں آیا ہے:

هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ

ان معنوں میں اللہ تعالیٰ محیطِ کُل ہے۔ اور وُجودِ مُدرِک ہے۔ ہم ظاہر کو دیکھتے ہیں باطن کو نہیں دیکھتے۔ جو کچھ ہم دیکھتے ہیں وہ تو دیکھتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ کس سے دیکھ رہے ہیں۔ ہم اِدراک کرتے ہیں لیکن یہ اِدراک نہیں کرتے کہ کس سے اِدراک کرتے ہیں۔ اگر ہم یہ اِدراک کر لیں کہ کس سے اِدراک کر رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا اِدراک کر لیں گے۔ اس ہی لئے ہماری فہم صرف خلق میں کام کرتی ہے۔ امر تک اس کی رسائی نہیں ہوتی۔ ہم الفاظ کو کسی چیز کے رد میں استعمال کرتے ہیں یا قبول میں استعمال کرتے ہیں جس لفظ کو رد میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لفظ میں رد کئے ہوئے تصوّرات کام کرتے ہیں۔ جس لفظ کو قبول میں استعمال کیا جاتا ہے اس میں قبول کئے ہوئے تصوّرات کام کرتے ہیں۔ یہ دونوں قسم کے الفاظ خلق ہیں کیونکہ تصوّرات سے لبریز ہونے کے بعد ظُہور میں آ چکے ہیں۔
پانی تصوّرات کا خول ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ
تمام امور اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

خلق کے بعد صرف رجوع کا مرحلہ رہ جاتا ہے۔ لیکن امر وہ مرحلہ ہے جس میں نزول ہے۔ نزول کے معنی ہیں خلاء میں تصوّرات کا داخل ہونا۔ جو اطّلاعات خلاء(ذرّہ) میں داخل ہوتی ہیں تصوّرات کہلاتی ہیں۔ ان تصوّرات کو اللہ تعالیٰ نے ماء(پانی) کا نام دیا ہے۔ دراصل پانی تصوّرات کا خول ہے، یا وہ ایسے جوہروں کا مجموعہ ہے جس میں ہر جوہر تصوّر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ہے پانی کی ماہیت۔ اوپر کی آیت میں اس ہی نوعیت کی طرف اشارہ ہے۔ پانی کے خواص یہ ہیں کہ وہ پھول میں جا کر پھول بن جاتا ہے۔ کانٹے میں جا کر کانٹا بن جاتا ہے۔ پتھر میں جا کر پتھر بن جاتا ہے۔ سونے میں جا کر سونا بن جاتا ہے اور ہیرے میں جا کر ہیرا بن جاتا ہے۔
ہمارے ذہن میں تصوّرات کا ایک مجموعہ ہے جس کو ہم سونا کہہ کر پکارتے ہیں۔ اور تصوّرات کا ایک دوسرا مجموعہ ہے جس کو ہیرا کہہ کر پکارتے ہیں۔ سونا اور ہیرا دو لفظ ہیں یا دو خول ہیں، جن میں تصوّرات کے الگ الگ مجموعے مُقیّد ہیں۔ ان میں ہر مجموعہ اِدراک ہے۔ اِدراک کو آواز میں قید کیا جائے تو لفظ بن جاتا ہے۔ اِدراک کے بہت سے نام ہیں مثلاً خلاء، مُبداء (Secret Plan)، امر، وقت(Non-Serial Time) یا نفس وغیرہ۔ یہی کائنات کی اساس ہے۔
انسان کے اندر اِدراک ذہن ہے۔ ذہن کی وسعت کائنات کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہے۔ اس ہی کا ایک رخ گہرائی یعنی زمان ہے اور دوسرا رخ پہنائی یعنی مکان ہے۔ جب ذہن زمان میں دیکھتا ہے تو اس کی حرکت ‘‘امر’’ ہوتی ہے اور جب مکان میں دیکھتا ہے تو اس کی حرکت خلق ہوتی ہے۔ خلق وہ لفظ ہے جس کی دونوں قسموں کا تذکرہ اوپر ہو چکا ہے۔

کائنات کا ظُہور کس طرح ہوتا ہے

انسان کے شعور کو پہلے دن سے رنج و راحت کا احساس رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے رنج و راحت کی وجہ معلوم ہو تا کہ رنج سے محفوظ رہے اور راحت کو برقرار رکھ سکے۔ وہ راحت کو نہیں چھوڑتا۔ اس لئے راحت کے ضائع ہونے کا خوف و ملال بھی اس کے دل سے نہیں نکلتا۔ وہ کسی نہ کسی طرح رنج سے دور رہنے اور راحت سے قریب ہونے کی ضمانت چاہتا ہے۔ وہ اپنی کمزوریوں کے سبب خود کو حوادث پر قابو پانے کے لائق نہیں سمجھتا۔ لہٰذا کسی ایسی طاقت کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے جس سے اس کو راحت کی ضمانت مل سکے۔ یہی مَخفی طاقتوں کی تلاش کا موجب ہے۔ قرآنِ پاک نے یُؤْ مِنُوْنَ بِالْغَیْب میں اس ہی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پھر جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کی لامُتناہی صفات کا تذکرہ ہے۔ یہیں سے راحت کی ضمانت ملتی ہے۔
کوئی انسان خود اعتمادّی کا دعویٰ کر سکتا ہے لیکن رنج و راحت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ البتہ غیب پر ایمان لانے کے بعد اسے بہتری کا یقین ہو جاتا ہے۔ غیب پر ایمان لانے کے معنی یہ ہیں کہ غیب جو کچھ ہے بہترہی بہتر ہے، کیونکہ غیب رحیم و کریم کے ہاتھ میں ہے۔

وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا
(سورۂ شوریٰ۔ آیت ۵۱)
ترجمہ: اور کسی آدمی کی حد نہیں کہ اس سے باتیں کرے اللہ مگر اشارہ سے یا پردہ کے پیچھے سے یا بھیجے پیغام لانے والا۔

اوپر کی آیت میں انسانی حواس کی رسائی بیان ہوئی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ انسان کو مخاطب کرتے ہیں تو اشارہ کرتے ہیں۔ یہ ہے دل کہ دیکھ لیتا ہے اور جان لیتا ہے۔ دل کے دیکھنے کا تذکرہ بایں الفاظ کیا گیا ہے۔

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ (جھوٹ نہ دیکھا دل نے جو دیکھا)

یہ اللہ تعالیٰ کا وہی طرز تکلم ہے جس کا نام وحی ہے یا اللہ تعالیٰ ایلچی کے ذریعے بات کرتے ہیں۔ یعنی آنکھیں ایلچی کو دیکھتی ہیں۔ تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور کسی طرح اپنے بندے پر رہنمائی کرتے ہیں۔ اس طرز کا نام حجاب ہے۔ مثلاً ایک جمیل اور نورُٗ علیٰ نور صورت میں بندہ پر جلوہ فرماتے ہیں۔ یہ جمیل صورت اللہ تعالیٰ نہیں بلکہ حجاب ہے۔
اوپر کی آیات سے انسانی حواس کی حدیں دو طرزیں معیّن ہو جاتی ہیں۔ انسانی حواس جب کسی نقطہ پر ٹھہرتے ہیں تو اس ٹھہراؤ کا نام شئے ہے اور یہ شئے ایک شکل وصورت رکھتی ہے۔ دراصل یہ ایک لمحہ ہے جس سے خود حواس کو جسم حاصل ہو جاتا ہے۔ حواس اس جسم کو خارجی اور معروضی دیکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کیونکہ دیکھنے کی طرز اس کے علاوہ نہیں ہو سکتی کہ حواس خود کو اپنے بالمقابل دیکھیں اور خود ہی کو خود سے ایک الگ شئے قرار دیں۔ زندگی کی تمام حرکات و سکنات اس طرز نگاہ کی مثالیں ہیں۔ اُصولاً جب حواس کسی طرف اشارہ کرتے ہیں تو اشارتاً اندرونی خدّوخال کو بیرونی بنا دیتے ہیں۔ جب حواس خود کا اعلان کرتے ہیں اور کہتے ہیں ‘‘میں’’ تو یہ ‘‘میں’’ صرف خلاء ہوتی ہے، بالکل سادہ اور شفاف۔ گویا حواس اپنے نقش و نگار کی طرف اشارہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ ایک بے رنگ شئے کا تذکرہ کر رہے ہیں جو صرف خاکہ ہے۔ اب حواس ‘‘میں’’ کی رنگینیوں اور نقش و نگار کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں۔ میں نے یہ کہا، میں نے وہ کیا، دیکھو یہ چاند ہے، یہ ستارے ہیں۔ یہ چاند اور ستارے وہ ہیں جن کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں۔ اس طرز میں حواس اپنی ذاتی حرکت کو قریب یا بعید دیکھتے اور اس کا تذکرہ کرتے ہیں۔ یہ محض کائناتی حواس کا انداز نظر ہے۔ یہ وہی حواس ہیں جو فرد کے اندر ‘‘میں’’ بن جاتے ہیں۔ اور اشارۂِ قریب و بعید کے ذریعے اپنی تکرار کرتے ہیں۔

هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُن شَيْئًا مَّذْكُورًا
ترجمہ: کیا نہیں پہنچا انسان پر ایک وقت زمانے میں جو تھا شئے بغیر تکرار کیا ہوا۔

کبھی انسان ایسا وقت (حواس) تھا جس میں تکرار نہیں تھی۔ پھر ایسا وقت(حواس) ہوا جس میں تکرار ہے۔ یہاں صرف دو ایجنسیاں زیر بحث ہیں۔ ایک حواس، نمبر دو حواس کی تکرار۔ یہ دونوں ایجنسیاں ایک یونٹ ہیں۔ اس مطلب کی وضاحت تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ ۖ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ (سورۂ آل عمران۔ آیت ۲۷) میں کی گئی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا دستور العمل بیان فرمایا ہے۔ اللہ رات کو داخل کرتا ہے دن میں اور دن کو داخل کرتا ہے رات میں، تو زندگی کو موت سے نکالتا ہے اور موت کو زندگی سے نکالتا ہے۔ رات حواس کی ایک نَوع ہے اور دن حواس کی دوسری نوع۔ رات کے حواس کی نَوع میں مکانی اور زمانی فاصلے مُردہ ہو جاتے ہیں لیکن دن کے حواس کی نَوع میں یہی فاصلے زندہ ہو جاتے ہیں۔
زید خواب دیکھتا ہے کہ وہ اپنے ایک دوست سے باتیں کر رہا ہے۔ حالانکہ اس کا دوست دور دراز فاصلے پر رہتا ہے۔ خواب میں زید کو یہ احساس بالکل نہیں ہوتا کہ اس کے اور دوست کے درمیان کوئی فصل ہے۔ ایسے خواب میں مکانی فاصلے صفر ہوتے ہیں۔ اس ہی طرح زید گھڑی دیکھ کر رات کے ایک بجے سوتا ہے۔ خواب میں ایک ملک سے دوسرے ملک تک ہفتوں کا دُور دراز سفر طے کرتا ہے۔ راستے میں منزل پر قیام بھی کرتا ہے۔ ایک طویل مدت گزارنے کے بعد گھر واپس آتا ہے۔ آنکھ کھلتے ہی گھڑی دیکھتا ہے۔ اب بھی ایک ہی بجا ہے۔ اس قسم کے خواب میں زمانی فاصلہ صفر ہوتا ہے۔ یہ رات کے حواس کی نَوع ہے۔ جو فاصلے اس نَوع میں مُردہ ہوتے ہیں وہی فاصلے دن کے حواس میں زندہ ہو جاتے ہیں۔ خواب کی نیچر میں مکانی زمانی تمام فاصلے معدوم ہو جاتے ہیں۔ قرآنِ پاک کا یہی ارشاد ہے رات کی نَوع دن میں داخل ہو جاتی ہے اور دن کی نَوع رات میں۔ رات اور دن میں اِدراک مشترک ہے۔ محض فاصلے مرتے اور جیتے ہیں۔
رات کے حواس كتابُ المُبين (لوحِ محفوظ) ہیں اور دن کے حواس کتابُ المرقوم ہیں۔ ان دونوں میں ایک چیز مشترک ہے۔ ہم اس چیز کا مظاہِر قدرت میں مشاہدہ کرتے ہیں۔ مثلاً زید اور محمود دونوں بیٹھے ہوئے ہیں۔ چراغ جل رہا ہے۔ چراغ کی روشنی میں زید محمود کو اور محمود زید کو دیکھ رہا ہے۔ دونوں کے لئے روشنی دیکھنے کا ذریعہ ہے۔ اب روشنی کی رفتار بیک وقت دو سمتوں میں ہے۔ (دوسری طرف) زید کی سمت سے روشنی محمود کی آنکھ تک پہنچتی ہے اور محمود کی سمت سے روشنی زید کی آنکھ تک پہنچتی ہے۔ یہ ایک ہی چراغ کی روشنی جو محمود سے زید تک اور زید سے محمود تک سفر کر رہی ہے۔ سفر کی سمتیں مختلف ہیں لیکن روشنی کا مَخرج ایک ہے۔ یا پھر یوں کہیں گے کہ روشنی ایک ہے۔ اس روشنی کے احساس میں کوئی ایسی شئے ہے جو بیک وقت دو سمتوں میں سفر کرتی ہے۔ اور اس کے آثار یکساں ہیں۔ امتیاز کہاں ہے؟۔۔۔ یہی روشنی جو تصوّرات زید میں پیدا کرتی ہے، وہ زید کے تصوّرات کہلاتے ہیں۔ یہی روشنی جو تصوّرات محمود میں پیدا کرتی ہے، وہ محمود کے تصوّرات کہلاتے ہیں۔ یہ فرق مشاہدہ کرنے والے کے زاویۂ نظر کا ہے۔ یہاں سے مظاہر کا یہ قانون مُنکشِف ہو جاتا ہے کہ سمتوں کی تبدیلی روشنی میں نہیں بلکہ مشاہدہ کرنے والے کے زاویۂِ نگاہ میں ہے۔ اس کی وجہ وہ مرکزی نقطہ ہے جس کو مشاہدہ کرنے والے کی ذات کہتے ہیں۔ یہ وہی ذات ہے ذاتِ باری تعالی سے متّصل ہے۔ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبلِ الوَرید میں اس ہی اتصال کا تذکرہ ہے۔ یہاں یہ نکتہ غور طلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر لفظ ‘‘ہم’’ استعمال کیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کثرت میں ہر ایک فرد کی ذات کے ساتھ خود کو وابستہ کر رہے ہیں۔ ہر فرد کی منفرد حیثیت اس ہی لئے اپنی جگہ قائم ہے۔
روشنی کا مرکز ایک ہی چراغ ہے۔ زید اور محمود دونوں کو ایک ہی چراغ سے روشنی مل رہی ہے۔ البتہ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ تغیّر روشنی میں واقع نہیں ہوتا۔ روشنی بدستور اپنی حالت پر قائم ہے۔ صرف زید اور محمود کے طرزِ بیان میں تغیّر ہے کیونکہ وہی روشنی زید میں زید کی تصویرِ حیات ہے اور محمود میں محمود کی۔
تصوّف میں اس طرز کو ‘‘مرتبہ’’ کہتے ہیں۔ اگر ہم مرتبہ کا ترجمہ عام زبان میں کرنا چاہیں تو انگریزی کا ایک لفظ ‘‘میکانزم’’ استعمال کر سکتے ہیں۔ میکانزم کی اساس ایک ہے۔ فقط نام الگ الگ ہیں۔ یہی میکانزم یا مرتبہ لاشمار اَنواع پر مشتمل ہے۔ یہی میکانزم آدمیوں میں زید اور محمود ہے اور یہی درختوں میں آم اور بادام ہے۔ ایک ہی روشنی ہے جو ان سب کی شکلیں بناتی ہے۔ یہ میکانزم (مرتبہ) ایسے سیاہ نقطوں سے بنا ہے جو کائنات کی اصل ہے۔ ان سیاہ نقطوں کو تجلّی کہتے ہیں۔ ان کی گردش دوہری ہوتی ہے۔ قرآنِ پاک میں جہاں اللہ تعالیٰ نے تکرار کا مفہوم استعمال کیا ہے وہاں یہی دوہری حرکت مراد ہے۔ دوہری حرکت ہر سمت میں واقع ہوتی ہے۔ اس طرح بیک وقت وہ ہر پہنائی، ہر گہرائی، ہر سمت اور وقت کے کمترین یونٹ میں جاری و ساری ہے۔ یہ دوہری حرکت صُدوری ہوتی ہے یعنی سیاہ نقطہ جو زمان(Time) ہے پہنائی، گہرائی اور سمتوں میں پَے در پَے چھلانگ لگاتا رہتا ہے۔ جہاں تک اس نقطے کی چھلانگ ہے وہاں تک مکان (Space) کی شکل وصورت بنتی رہتی ہے۔ اس سیاہ نقطے میں وہ ساری شکلیں جو مکانی شکل وصورت میں نظر آتی ہیں مَخفی ہیں۔ جب یہ نقطہ چھلانگ لگاتا ہے تو مَخفی مظاہر کا روپ اِختیار کر لیتا ہے۔ اس ہی روپ کا نام کائنات ہے۔ اس نقطہ میں لاشمار پردے ہیں۔

سیاہ نقطہ

سیاہ نقطہ کو سمجھنے کے لئے اس کا نام زمان (Time) رکھنا پڑے گا۔ زمان کے دو مراتب ہیں۔ ایک مرتبہ میں مکان اور وقت کے فاصلے پائے جاتے ہیں۔ دوسرے مرتبہ میں مکان اور وقت کے فاصلے نہیں پائے جاتے۔ ایک مرتبہ میں مشاہدہ کرنے والا ترتیب وار دیکھتا ہے۔ اس کے دیکھنے کا انداز کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ وہ ایک لمحہ کے بعد دوسرے لمحے اور تیسرے لمحے اور اس ہی طرح مزید لمحوں کے یکے بعد دیگرے گزرنے کا اِدراک کرتا ہے۔ یہی اِدراک کی تکرار ہے۔ اِدراک کی تکرار سے شُہود کی گہرائیاں بنتی ہیں۔ ان گہرائیوں کو مکانی فاصلے کہا جاتا ہے۔ یہ مرتبہ سیاہ نقطہ کا صرف ایک انداز نظر ہے۔ مثلاً دن ایک حَيز (Space) ہے۔ رات ایک اسپیس ہے، پھول ایک اسپیس ہے، فضا ایک اسپیس ہے، مٹی ایک سپیس ہے، پانی ایک اسپیس ہے، خلاء ایک اسپیس ہے، خیال ایک اسپیس ہے، آگ ایک اسپیس ہے، ہَوا ایک اسپیس ہے، چاندی ایک اسپیس ہے، سونا ایک اسپیس ہے، ہر شئے کا چھوٹے سے چھوٹا ذرّہ ایک اسپیس ہے، کائنات کا بڑے سے بڑا کرّہ ایک اسپیس ہے۔ اگر کسی چھوٹے سے چھوٹے جوہر(ایٹم) کے کھرب در کھرب ٹکڑے کئے جائیں تو ہر ٹکڑا ایک اسپیس ہے۔ اگر ایک سیکنڈ کو سنکھ در سنکھ حصّوں میں تقسیم کیا جائے تو ہر حصّہ ایک جُزّ (Space) ہے۔ سیاہ نقطہ میں ازل تا ابد جتنے جُزّ ہو سکتے وہ سب تہہ در تہہ موجود ہیں۔
سیاہ نقطے کا دوسرا اندازِ نظر بیان شدہ اندازِ نظر سے برعکس ہے۔ اس اندازِ نظر میں سیاہ نقطہ کی گہرائیاں اس درجہ لاتناہیت رکھتی ہیں کہ پہلے اندازِ نظر کا اِدراک اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ تاہم یہ اندازِ نظر اپنا الگ اِدراک رکھتا ہے۔ اس اِدراک کو اللہ تعالیٰ نے لیلتہُ القدر فرمایا ہے۔
گزشتہ صفحات میں تسوید، تجرید، تشہید اور تظہیر کا تذکرہ ہوا ہے۔ یہ چاروں اِدراک ہیں۔ اور اِدراک کو سمجھنے کے لئے کائنات کی گہرائی اور پہنائی کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ کائنات کو پہنائی میں دیکھنا اور گہرائی میں محسوس کرنا یا دل کی آنکھ سے کائنات کا مشاہدہ کرنا اِدراک کی طرزیں ہیں۔ ظاہر میں دیکھنا پہنائی میں دیکھنا ہے۔ باطن میں دیکھنا گہرائی میں دیکھنا ہے۔ قرآنِ پاک میں ان دونوں طرزوں کی شرح کی گئی ہے۔ اللہ وہ ہے جس نے زمین و آسمان کو چھ دن میں بنایا ہے۔ اور پھر عرش پر متمکن ہو گیا۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم تمہاری رگِ جان سے زیادہ قریب ہیں۔ یہ بھی ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان (بلندیوں و پستیوں) کا نور ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 249 تا 269

لوح و قلم کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 0.02 - عرضِ احوال  ِ 1 - بسمِ اللہِ الرّحمٰن الرّحیم  ِ 2 - عالمِ رُؤیا سے انسان کا تعلق  ِ 3 - رُؤیا کی صلاحیّتوں کے مَدارِج  ِ 4 - لوحِ اوّل یا لوحِ محفوظ  ِ 5 - لوحِ دوئم  ِ 6 - عالمِ جُو  ِ 7 - کثرت کا اَجمال  ِ 8 - ‘‘جُو’’ کا واسطہ  ِ 9 - احساس کی درجہ بندی  ِ 10 - وَحدتُ الوُجود اور وَحدتُ الشُہود  ِ 11 - روحِ اعظم، روحِ انسانی، روحِ حیوانی اور لطائفِ ستّہ  ِ 12 - اسماءِ الٰہیہ  ِ 13 - اسماءِ الٰہیہ کی تعداد گیارہ ہزار ہے  ِ 14 - خواب اور بیداری  ِ 15 - لوحِ محفوظ اور مراقبہ  ِ 16 - تدلّٰی  ِ 17 - کُن فیَکون  ِ 18 - علمِ لدُنّی  ِ 19 - ہر اسم تین تجلّیوں کا مجموعہ ہے  ِ 20 - اسمِ ذات  ِ 21 - روح کی مرکزیّتیں اور تحریکات  ِ 22 - لطیفۂِ نفسی کی حرکت  ِ 23 - باصرہ اور شُہود نفسی  ِ 24 - عملِ اِسترخاء  ِ 25 - علم ‘‘لا’’ اور علم ‘‘اِلّا’’  ِ 26 - ‘‘لا’’ کا مراقبہ  ِ 27 - قوّتِ اَلقاء  ِ 28 - سالک مجذوب، مجذوب سالک  ِ 29 - نسبت کا بیان  ِ 30 - ٹائم اسپیس کا قانون  ِ 31 - زمانیت اور مکانیت کا راز  ِ 32 - کائنات کی ساخت  ِ 33 - نیابت کیا ہے؟  ِ 34 - لوحِ محفوظ کا قانون  ِ 35 - اَنا یا انسانی ذہن کی ساخت  ِ 36 - علمُ الیقین، عینُ الیقین، حقُ الیقین  ِ 37 - تخلیق کا قانون  ِ 38 - انبیاء کے مقامات  ِ 39 - تخلیق کا فارمولا  ِ 40 - ماضی اور مستقبل  ِ 41 - زمان و مکان کی حقیقت  ِ 42 - اِدراک کیا ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)