رویائے صادقہ

کتاب : توجیہات

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=3100

سوال: خیالی خواب اور حقیقی خواب میں کیا فرق ہے نیز یہ کہ انسان جب کسی کے بارے میں مسلسل سوچتا رہتا ہے تو وہ خیال کی صورت میں خواب میں نظر آ جاتا ہے اگر رجحان اچھی باتوں کی طرف ہے تو جو خواب دیکھتا ہے اس کو اچھا کہا جاتا ہے لیکن جب برے خیال خواب بنتے ہیں تو اس کو برا کہہ دیا جاتا ہے حالانکہ وہ بھی خیال ی ہوتا ہے، ایسا کیوں ہے؟ وضاحت فرمائیں۔ جواب: کائنات میں کوئی بھی خیال، کوئی بھی واہمہ اور کوئی بھی تصور بے معنی نہیں ہے ۔ ہر خیال کے دو قسم کے معنی نکلتے ہیں۔ اس خیال میں رحمانی قدروں سے متعلق معنی ہوتے ہیں یا خیالات شیطانی قدروں سے متعلق ہوتے ہیں۔ علوم کی دو قسمیں ہیں۔ شیطانی علوم اور رحمانی علوم۔
جتنے بھی پیغمبر اس دنیا میں تشریف لائے حضور صلی اللہ علیہ و سلم تک انہوں نے ایک ہی بات کہی ہے کہ رحمانی علوم سیکھنے کے بعد ان پر عمل کرو تا کہ تم رحمان سے قریب ہو جاؤ۔ شیطانی علوم نہ سیکھو اور شیطانی علوم پر عمل بھی نہ کرو ۔ اس لئے کہ اگر تم نے شیطانی علوم پر عمل کیا تو شیطان سے قریب ہو جاؤ گے۔ ظاہر ہے کہ جو بندہ شیطان سے قریب ہو جائے گا وہ رحمان سے دور ہو جائے گا اور جو بندہ رحمان سے قریب ہو جائے گا وہ شیطان سے دور ہو گا۔ خواب خیال کی بات جو آپ نے پوچھی ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ ایک انسان کے خیال میں 24 گھنٹہ خیال رہتا ہے ’’پیسہ پیسہ پیسہ‘‘ اس کو پیسہ کی ہوس ہے تو خواب میں وہ دولت ہی دیکھے گا اور ایک آدمی کے ذہن میں اللہ کی محبت، پیغمبروں کی تعلیمات، اولیاء اللہ کی محبت ہو گی تو وہ ہر وقت اسی خیال میں رہے گا کہ اس کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت مل جائے۔ حضورصلى الله عليه وسلم کا قرب نصیب ہو جائے، حضورصلى الله عليه وسلم کی زیارت ہو جائے تو اس کے خواب بھی پاکیزہ ہوں گے۔ پیغمبروں نے شیطنت کو رد کیا ہے اور شیطانی خیال سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے اور اللہ تعالیٰ سے قریب ہونے کے لئے اور رحمانی علوم سیکھنے کے لئے پوری نوع انسانی کو دعوت دی ہے۔ خواب کی دو طرزیں ہیں۔ ایک یہ کہ جو خیالات ہر وقت ذہن میں گشت کرتے رتے ہیں وہ مسخ صورت ہو کر نظر آ جائیں۔ دوسری یہ کہ عالم بالا میں جو پاکیزہ خیالات گشت کر رہے ہیں وہ نظر آ جائیں۔ مسخ صورت خواب رویائے کا ذبہ اور حقیقی خوابوں کو رویائے صادقہ کہا جاتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 236 تا 238

توجیہات کے مضامین :

ِ 1 - مراقبہ کیا ہے؟  ِ 2 - صاحبِ صلاحیت  ِ 3 - صاحب خدمت  ِ 4 - عقل وشعور  ِ 5 - اللہ کا نور  ِ 6 - دوسرے سیاروں کی مخلوق  ِ 7 - پر عظمت ہستی  ِ 8 - طرزِ فکر  ِ 9 - علم حضوری  ِ 10 - حقیقتِ مذاہب  ِ 11 - غیب بینی  ِ 12 - خواب کی حالت  ِ 13 - ماوراء ذات  ِ 14 - تصرف  ِ 15 - علم کا مظاہرہ  ِ 16 - علمِ حصولی  ِ 17 - اعراف کیا ہے  ِ 18 - علم کی طرزیں  ِ 19 - جسمِ مثالی  ِ 20 - روشنیوں کا ہالہ  ِ 21 - Time & Space  ِ 22.1 - حقیقت پسندانہ طرز فکر – 1  ِ 22.2 - حقیقت پسندانہ طرز فکر – 2  ِ 23 - انعام یافتہ  ِ 24 - تصورِ شیخ  ِ 25 - اللہ کی مہر  ِ 26 - اللہ کے دوست  ِ 27 - استغناء، توکل اور بھروسہ  ِ 28 - وسائل کی فراہمی  ِ 29 - خرق عادت  ِ 30 - صلاحیتوں کا ذخیرہ  ِ 31 - راسخ العلم  ِ 32 - حصول یا منتقلی  ِ 33 - ترقی اور تنزلی  ِ 34 - علم الاسماء  ِ 35 - ذاتِ مطلق  ِ 36 - بیمار درخت  ِ 37 - نیابتِ الہی  ِ 38 - رنگین دُنیا  ِ 39 - بے جا اسراف  ِ 40 - نفسِ واحدہ  ِ 41 - کام اور آرام  ِ 42 - روشنیوں کا سیب  ِ 43 - راہِ سلوک کےآداب  ِ 44 - سلطان کیا ہے  ِ 45 - مٹھاس کا استعمال  ِ 46 - رویائے صادقہ  ِ 47 - دُعا کے آداب  ِ 48 - فیض کا حاصل ہونا  ِ 49 - نماز کی اقسام  ِ 50 - بیعت کا قانون  ِ 51 - نیگٹو بینی  ِ 52 - اعتکافِ رمضان
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)