روح کی مرکزیّتیں اور تحریکات

کتاب : لوح و قلم

مصنف : حضور قلندر بابا اولیاءؒ

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2899

لطائف کا بیان پہلے آ چکا ہے۔ روح کے چھ لطائف دراصل روح کی چھ مرکزیّتیں ہیں جن کو بہت وسعتیں حاصل ہیں۔ ان مرکزیّتوں کی حرکت دن رات کے وقفوں سے یکے بعد دیگرے صادِر ہوتی رہتی ہیں۔ چھ لطیفوں میں سے تین لطیفوں کی حرکت بیداری میں اور باقی تین لطیفوں کی حرکت نیند میں عمل کرتی ہے۔ ان لطیفوں کی حرکات کو ہم مندرجہ ذیل حصّوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
یہ حصّے بیداری یا نیند کے وقفے ہیں۔ بیداری کے وقفوں میں سب سے پہلا وقفہ وہ ہے جب انسان سو کر اٹھتا ہے اور اس کے اوپر نیم بیداری کی حالت طاری ہوتی ہے۔ اس وقفہ میں لطیفۂِ نفسی حرکت کرتا ہے اور اس کی وسعتوں میں جس قدر فکر و عمل کی طرزیں ہیں وہ سب یکجا دَور کرنے لگتی ہیں۔
دوسرا وقفہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب خمار اتر چکتا ہے اور پوری بیداری کی حالت ہوتی ہے۔ اس وقطہ میں لطیفۂِ قلبی کی تمام صلاحیّتیں اپنی وسعتوں میں جنبش کرتی رہتی ہیں۔ یہ وقفہ متوازن طور پر کُلفت و سُرور کی حالت پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس وقفہ میں کُلفت و سُرور کے احساسات متوازن ہوتے ہیں یا کبھی کُلفت کا احساس بڑھ جاتا ہے۔
بیداری کا تیسرا وقفہ خوشی، وِجدان اور سُرور کی قوّت کے غالب ہونے کا دَور ہے۔ اس وقفہ میں مسلسل لطیفۂِ روحی کی حرکت قائم رہتی ہے۔
بیداری کے ان تینوں وقفوں کے بعد نیند کا پہلا وقفہ شروع ہو جاتا ہے جس کو غُنودگی کہتے ہیں۔ اس حالت میں لطیفۂِ سری حرکت میں رہتا ہے۔ نیند کی دوسری حالت جسے ہلکی نیند کہنا چاہئے۔ لطیفۂِ خَفی کی حرکت کا وقفہ ہوتی ہے۔ نیند کی تیسری حالت میں جب نیند پوری طرح گہری ہو جاتی ہے تو لطیفۂِ اخَفیٰ کی تحریکات صادِر ہوتی ہیں۔ ان تمام حالتوں کے آغاز میں انسان پر سُکوت کی حالت ضرور طاری ہوتی ہے۔ مثلاً جب کوئی شخص سو کر اٹھتا ہے تو آنکھیں کھولنے کے بعد چند لمحے قطعی سُکوت کے ہوتے ہیں اور جب حواس کو رفتہ رفتہ بیدار ہونے کا موقع ملتا ہے تو ابتدائی طور پر حواس میں کچھ نہ کچھ سُکوت ضرور ہوتا ہے۔ اس طرح وِجدانی حالت شروع ہونے سے پہلے انسان کی طبیعت چند لمحوں کے لئے ساکِت ضرور ہوتی ہے۔ جس طرح تینوں بیداری کی حالتیں ابتدائی چند لمحات کے سُکوت سے شروع ہوتی ہیں، اس ہی طرح غُنودگی شروع ہونے کے وقت پہلے حواس پر بہت ہلکا سا سُکوت طاری ہوتا ہے اور چند لمحے گزر جانے کے بعد حواس کا یہ سُکوت بوجھل ہو کر غُنودگی کی صورت اِختیار کر لیتاہے۔ اس کے بعد ابتدائی نیند کے چند ساکِت لمحات سے ہلکی نیند کی شروعات ہوتی ہے پھر گہری نیند کی ساکِت لہریں ذرا سی دیر کے لئے انسانی جسم پرغلبہ حاصل کر لیتی ہیں۔ یہ غلبہ بعد میں گہری نیند بن جاتا ہے۔ اب ہم ہر لطیفہ کی حرکت اور حرکت سے متعلّق حالت کو مختصراً بیان کریں گے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 67 تا 68

لوح و قلم کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 0.02 - عرضِ احوال  ِ 1 - بسمِ اللہِ الرّحمٰن الرّحیم  ِ 2 - عالمِ رُؤیا سے انسان کا تعلق  ِ 3 - رُؤیا کی صلاحیّتوں کے مَدارِج  ِ 4 - لوحِ اوّل یا لوحِ محفوظ  ِ 5 - لوحِ دوئم  ِ 6 - عالمِ جُو  ِ 7 - کثرت کا اَجمال  ِ 8 - ‘‘جُو’’ کا واسطہ  ِ 9 - احساس کی درجہ بندی  ِ 10 - وَحدتُ الوُجود اور وَحدتُ الشُہود  ِ 11 - روحِ اعظم، روحِ انسانی، روحِ حیوانی اور لطائفِ ستّہ  ِ 12 - اسماءِ الٰہیہ  ِ 13 - اسماءِ الٰہیہ کی تعداد گیارہ ہزار ہے  ِ 14 - خواب اور بیداری  ِ 15 - لوحِ محفوظ اور مراقبہ  ِ 16 - تدلّٰی  ِ 17 - کُن فیَکون  ِ 18 - علمِ لدُنّی  ِ 19 - ہر اسم تین تجلّیوں کا مجموعہ ہے  ِ 20 - اسمِ ذات  ِ 21 - روح کی مرکزیّتیں اور تحریکات  ِ 22 - لطیفۂِ نفسی کی حرکت  ِ 23 - باصرہ اور شُہود نفسی  ِ 24 - عملِ اِسترخاء  ِ 25 - علم ‘‘لا’’ اور علم ‘‘اِلّا’’  ِ 26 - ‘‘لا’’ کا مراقبہ  ِ 27 - قوّتِ اَلقاء  ِ 28 - سالک مجذوب، مجذوب سالک  ِ 29 - نسبت کا بیان  ِ 30 - ٹائم اسپیس کا قانون  ِ 31 - زمانیت اور مکانیت کا راز  ِ 32 - کائنات کی ساخت  ِ 33 - نیابت کیا ہے؟  ِ 34 - لوحِ محفوظ کا قانون  ِ 35 - اَنا یا انسانی ذہن کی ساخت  ِ 36 - علمُ الیقین، عینُ الیقین، حقُ الیقین  ِ 37 - تخلیق کا قانون  ِ 38 - انبیاء کے مقامات  ِ 39 - تخلیق کا فارمولا  ِ 40 - ماضی اور مستقبل  ِ 41 - زمان و مکان کی حقیقت  ِ 42 - اِدراک کیا ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)