روح کا علم

کتاب : خطبات ملتان

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=13133

اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آج کے لیکچر کا موضوع ہے روح کیا ہے، کیا انسان روح کا علم سیکھ سکتا ہے؟
ترجمہ:
“ہمارے محبوب بندےﷺ یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ فرما دیجئے روح میرے رب کے امر سے ہے۔۔۔۔۔۔اور روح کے بارے میں جو علم دیا گیا ہے وہ قلیل ہے”۔۔۔۔۔۔ایسا نہیں ہے کہ روح کے بارے میں علم نہیں دیا گیا۔ روح کے بارے میں علم تو سکھایا گیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے قلیل علم عطا کیا ہے۔
روحانیت کے بارے میں دو مکاتب فکر ہیں۔ ایک مکتبہ فکر کہتا ہے کہ تصوف ایسا اسکول یا راستہ ہے، جس میں داخل ہو کر آدمی دنیا بیزار ہو جاتا ہے۔ معاملات و مسائل اور مشکلات اور پیچیدگیوں کا کیونکہ وہ مقابلہ نہیں کر سکتا اس لئے وہ دنیا سے فرار اختیار کر کے صوفی بن جاتا ہے۔ وہ کاہل الوجود انسان بن کر دنیا میں زندگی گزارتا ہے۔ تصوف ایک نشہ ہے آدمی اس نشہ میں سست اور کاہل بن جاتا ہے۔ آسائش و آرام کے لئے مرید جمع کر لیتا ہے اور ان سے خدمت لیتا ہے۔ لوگوں کو بیوقوف بنا کر نذرانے وصول کرتا ہے۔
دوسرا طبقہ کہتا ہے۔ روحانیت ایک مکمل علم ہے اور جو لوگ روحانی علوم سیکھ لیتے ہیں ان کے اندر اضافی عقل آ جاتی ہے اور ان کے شعور میں ایسی بالیدگی پیدا ہو جاتی ہے جو عام انسان میں نہیں ہوتی۔ بلکہ پڑھے لکھے لوگوں میں بھی شعور کی اتنی بالیدگی نہیں ہوتی جتنی بالیدگی روحانی آدمی میں ہوتی ہے۔
سائنٹسٹ کو ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ باشعور یا اعلیٰ شعور کا حامل نہیں ہے۔ لیکن جب ایک روحانی آدمی اور سائنٹسٹ کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو روحانی علم والا آدمی سائنس کے علوم سے کافی حد تک باخبر ہوتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی صلاحیت عطا کر دی جاتی ہے کہ وہ سائنسی امور میں دخل دے کر اس کے اضافی فوائد یا نقصانات کا بخوبی اندازہ کر لیتا ہے۔
جو گروہ تصوف کو کاہل الوجود ہونے کا علم سمجھتا ہے اس میں بھی دو طبقے ہیں۔ ایک طبقہ روحانیت کے بارے میں کہتا ہے کہ روحانیت جن بھوت اتارنے کا عمل ہے، وہ زائچہ بنانا بھی روحانیت میں شمار کرتے ہیں، ستاروں کا علم، ستارے کیا کہتے ہیں، یہ علم بھی روحانی علم سمجھا جاتا ہے۔ جادو ٹونہ، سفلی کو بھی کچھ لوگ روحانیت کہتے ہیں۔ طالبات و طلباء، اساتذہ کرام کو بطور خاص یہ بات جان لینی چاہئے، اسلام میں جب ملکیت داخل ہوئی بادشاہوں نے اپنی حکومت اور اقتدار قائم رکھنے کے لئے مذہب کا سہارا لیا اور مذہبی دانشوروں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ جس میں علماءِ سُو کی ایک بڑی جماعت ان کے ساتھ شامل ہو گئی اور بادشاہوں نے اپنی مصلحتوں کو سامنے رکھ کر ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ ان کا اقتدار قائم رہے۔
اس کے برعکس جب علماء حق سے روابط کیئے گئے جن کو روحانی ادراک حاصل تھا تو وہ دامِ فریب میں نہیں آئے۔ نتیجہ میں علماء حق کو قتل کر دیا گیا۔ حضرت امام حسن بصریؒ کے زمانے میں یہ سب کچھ ہوا اور جب امام حسن بصریؒ نے اس پر احتجاج کیا تو صاحب اقتدار لوگوں نے کہا کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ آپ ہی تو کہتے ہیں کہ ہر چیز من جانب اللہ ہے۔
رفتہ رفتہ اسلام کی تعلیمات کے اوپر مصلحتوں کی چھاپ پڑ گئی اور روحانیت کا علم پردے میں چلا گیا۔ روحانیت یا تصوف کا ترجمہ “تزکیۂ نفس” ہے۔ تزکیہ سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی ذات کے اندر جو برائیاں ہیں ان کو اچھائیوں سے تبدیل کرے۔ انسان کے اندر اگر غصہ ہے تو غصہ کے اوپر عفو و درگزر کو ترجیح دے۔ اگر انسان کے اندر اقتدار کی خواہش ہے تو اقتدار کی خواہش کو نظر انداز کر کے اپنے اندر عاجزی اور انکساری پیدا کرے اور اقتدار اعلیٰ کا مالک صرف اور صرف اللہ کو سمجھے۔
تصوف کا ایک مطلب “تقویٰ” ہے۔ یعنی انسان کے اندر ایسی صلاحیتیں زیادہ سے زیادہ ذخیرہ ہو جائیں جو صلاحیتیں انسان کو حیوانیت سے نکال کر انسانیت میں داخل کر دیں اور اس کے اندر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی طرز فکر پیدا ہو جائے۔ انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات ہمارے سامنے ہیں۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی تعلیمات میں ایک ہی بات بیان کی گئی ہے کہ پرستش کے لائق صرف ایک ذات اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ تمام انبیاء کی تعلیمات کا خلاصہ اور نچوڑ ہے کہ عبادت کے لائق صرف ایک ذات اللہ وحدہ لا شریک ہے۔
تصوف، روحانیت یا تقویٰ ایک ہی بات ہے۔ جب ہم انسان کی زندگی کا تجزیہ کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔بڑی آسانی کے ساتھ ہم اس حقیقت کو جان لیتے ہیں کہ مادی جسم عارضی اور ناپائیدار ہے۔ جو شخص پیدا ہوتا ہے اسے بہرحال مرنا ہے۔ ہر باشعور انسان جانتا ہے کہ مادی جسم عناصر سے مرکب ہے۔ جسم کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ حرکت کرتا ہو اور متحرک ہو۔ اگر جسم متحرک نہیں ہے تو ہم اس جسم کو لاش یا Dead Bodyکہتے ہیں۔ انسان کی زندگی مسلسل حرکت ہے۔ اگر انسان کے اندر حرکت ہے تو زندہ ہے، اگر انسان کے اندر حرکت نہیں ہے تو مردہ ہے۔ مردہ جسم کی کوئی حیثیت نہیں۔ سوائے اس کے کہ مذہبی رسومات کے تحت اسے قبر میں دفنا دیا جائے یا مذہبی رسومات کے تحت اس کو جلا دیا جائے یا مذہبی رسومات کے تحت اس کو چیل کووں کو کھلا دیا جائے۔
تصوف ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی کہاں سے آتی ہے۔ آدمی مر کیوں جاتا ہے؟ زندگی روٹھ کیوں جاتی ہے اور حرکت کس طرح ختم ہو جاتی ہے؟ دنیا ایک امتحان گاہ ہے، ایک سرائے ہے۔ یہاں انسان کو اس لئے بھیجا گیا ہے کہ اس کی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ اس کو اس دنیا میں اچھائی اور برائی کو تصور دے کر بھیجا گیا ہے۔ اچھائی اور برائی کے تصور میں یہ بتا دیا گیا ہے۔ یہ باتیں اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کی پسندیدہ ہیں اور یہ باتیں اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کے لئے ناپسندیدہ ہیں۔ جو ناپسندیدہ باتیں ہیں وہ سب کی سب برائی ہیں اور اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کے لئے جو باتیں پسندیدہ ہیں وہ سب کی سب اچھائی ہیں۔ اگر تم اچھے اعمال کرو گے تو یہاں بھی خوش رہو گے، یہاں بھی پر سکون رہو گے اور اگر تم اچھے اعمال نہیں کرو گے تو یہاں بھی بے سکون رہو گے اور مرنے کے بعد کی زندگی بھی انتہائی اذیت ناک اور درد ناک ہو گی۔
تصوف راہنمائی کرتا ہے کہ انسان کو مرنے سے پہلے، مرنے کے بعد کی زندگی سے واقف ہونا چاہئے۔ جس طرح آپ مختلف علوم سیکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔اسی طرح ایک علم روحانیت بھی ہے۔ تصوف میں دل کی حقیقت کیا ہے؟ مائنڈ کیا ہے؟ وہ توانائی کیا ہے جس سے انسان زندہ رہتا ہے؟ ان تمام سوالوں کے جواب ملتے ہیں۔
ایک گھر میں دس آدمی رہتے ہیں۔ ایک آدمی مر جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آکسیجن ختم ہونے سے آدمی مر جاتا ہے۔ ایک آدمی کیوں مرا؟ جبکہ گھر میں نو آدمی زندہ ہیں۔ نو آدمی زندہ ہیں کا مطلب یہ ہے کہ گھر میں آکسیجن موجود ہے۔ پھر ایک آدمی کے لئے آکسیجن کیوں ختم ہو گئی؟ یہ کیسی منطق ہے۔ ہر انسان روز یہ تجربہ کرتا ہے بیداری کی زندگی سے اس کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کے باوجود وہ خواب میں چلتا پھرتا ہے، کھاتا پیتا ہے، ڈرتا ہے خوف زدہ ہوتا ہے اور خوش ہوتا ہے، تھکان محسوس کرتا ہے۔ یہی عمل وہ بیداری میں بھی کرتا ہے۔ ایک بلی میں اور انسان میں اس اعتبار سے کوئی فرق نیہں ہے کہ بلی کو بھوک لگتی ہے انسان کو بھی بھوک لگتی ہے، بلی کے بچے ہوتے ہیں، بلی اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے، آدمی کی ماں بھی اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے۔ والدین اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہیں، بلی اپنے بچوں کو شکار کرنا سکھاتی ہے۔
اگر انسان کے اندر شعور ہے تو بلی کے اندر بھی شعور ہے۔ اگر انسان کو سردی لگتی ہے تو بلی کو بھی سردی لگتی ہے۔ انسان بیمار ہوتا ہے تو بلی بھی بیمار ہوتی ہے۔ پھر کون سی چیز ہے جو انسان کو حیوانات سے ممتاز کرتی ہے؟
سمجھا یہ جاتا ہے کہ انسان کو جو چیز حیوانات سے ممتاز کرتی ہے وہ علم کا حصول ہے۔ ایسا علم جس سے انسان کے اندر اضافی عقل پیدا ہو۔
جب ہم شعور کی طرف دیکھتے ہیں اور جانوروں کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو بہت ساری باتیں ایسی ہیں کہ جانور انسانوں سے زیادہ باشعور نظر آتے ہیں۔ کتے میں سونگھنے کی حس انسان سے بہت زیادہ ہے۔ انتہا یہ ہے کہ انسان مجرم لوگوں کو پکڑنے کے لئے کتوں کی مدد لیتا ہے، کتوں سے تعاون حاصل کرتا ہے۔ کتوں کی قیمت گیارہ گیارہ ، بارہ بارہ لاکھ روپے ہوتی ہے۔ بہت سارے انسان ایسے ہیں جو پاگل ہوتے ہیں۔ بہت سارے انسان ایسے ہیں جن میں شعور برائے نام ہوتا ہے۔ بہت سارے انسان ذہین ہوتے ہیں۔
انسان کا شرف روحانی نقطۂ نظر سے یہ ہے کہ انسان کو سب سے پہلے اپنی زندگی کا مقصد معلوم ہونا چاہئے کہ ہم اس دنیا میں کیوں آئے ہیں؟ انسان کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ انسان کا خالق کون ہے؟ اگر خالق اور مخلوق کے رشتے کے بارے میں انسان کو علم نہیں ہے تو اس کی حیثیت ہرگز حیوانات سے ممتاز نہیں ہے۔ مذہبی دانشوروں کا ایک طبقہ کہتا ہے کہ مخلوق اللہ کو دیکھ نہیں سکتی۔ یہ بات قرآن میں نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں کہ
میں تمہاری رگ جان سے زیادہ قریب ہوں۔۔۔۔۔۔جہاں تم چار ہو وہاں میں پانچواں ہوں۔ جو تم کرتے ہو میں جانتا ہوں۔ جو تم چھپاتے ہو وہ میں دیکھتا ہوں۔ میں ہی تمہاری ابتدا ہوں میں ہی تمہاری انتہا ہوں۔ میں ہی تمہارا اول ہوں میں ہی تمہارا آخر ہوں۔ تم میری سماعت سے سنتے ہو۔ تم میری بصارت سے دیکھتے ہو۔ تم میرے فواد سے سوچتے ہو۔ میں تمہارے نفسوں میں ہوں تم مجھے دیکھتے کیوں نہیں؟
ہمارے حواس اسی وقت کام کرتے ہیں جب ہمارے اندر روح موجود ہو۔ ایک طبقہ کہتا ہے کہ روح کا علم حاصل نہیں ہو سکتا۔ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روح کا علم دیا گیا ہے مگر قلیل۔ اللہ نے روح کا جو علم دیا ہے وہ قلیل ہے، اللہ کا دیا ہوا قلیل علم بھی سمندروں سے زیادہ کثیر اور وسیع ہے۔ کیونکہ لامحدود کا قلیل بھی لامحدود ہوتا ہے۔
تصوف یہ گرہ کھولتا ہے کہ انسان روح کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور روح اللہ کا امر ہے۔
ترجمہ: ہم نے آدم کے پتلے میں اپنی روح میں سے روح ڈال دی۔ ہم نے اس کے اندر اپنی روح میں سے روح پھونک دی۔ ہر انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کی روح موجود ہے۔ اگر کوئی انسان پڑھ لکھ کر بڑے سے بڑا سائنسدان بن جائے اور روحانی علوم حاصل نہ کر ے تو اسے علم تو حاصل ہو جائے گا لیکن شرف حاصل نہیں ہو گا۔
تصوف میں جادو ٹونہ، بھوت پریت وغیرہ کا علم روحانیت کی مبادیات تو ہو سکتی ہے اس لئے کہ کسی نہ کسی صورت اس کا ماورائی دنیا سے تعلق ہے۔ لیکن اصل روحانیت یہ ہے کہ کوئی انسان اپنی روح سے، اپنی ذات سے کتنا واقف ہے۔ انسان جتنا اپنی ذات سے، اپنی روح سے واقف ہو جاتا ہے، اسی مناسبت سے وہ اللہ تعالیٰ سے واقف ہو جاتا ہے۔ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے۔۔۔۔۔۔کہ جس نے اپنی نفس (ذات) کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ یعنی اللہ تک رسائی حاصل کرنے کے لئے، اللہ کی قربت حاصل کرنے کے لئے، اللہ سے ہم کلام ہونے کے لئے اور اللہ کو دیکھنے کے لئے، اللہ کے سامنے اپنی عرض معروضات پیش کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنی روح سے واقف ہو۔ اگر آدمی اپنی روح سے واقف نہیں ہو گا تو اس کا اللہ سے رابطہ قائم نہیں ہو گا۔ ان معروضات کے بعد۔۔۔۔۔۔عرض ہے کہ طلبا اور طالبات تصوف کے بارے میں سوال کر سکتے ہیں تا کہ شکوک و شبہات دور ہو جائیں۔
سوال: روح کو جاننے کا کیا طریقہ ہے؟
جواب: ایک بی بی نے سوال کیا ہے کہ روح کو پہچاننے کا کیا طریقہ ہے۔ اگر کوئی یہ سوال کرے کہ عظیمی صاحب آپ خود کو کیسے پہچانیں گے، میرا جواب یہ ہو گا کہ میں گوشت پوست کا آدمی ہوں، میرے ہاتھ ہیں، پیر ہیں، دماغ ہے، آنکھیں ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ میں اپنے آپ کو محسوس کر سکتا ہوں کہ میں ایک جان ہوں۔ روح کے بارے میں جب ہم غور کرتے ہیں کہ روح کیا ہے تو ہمیں ایک ہی جواب ملتا ہے کہ روح کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے۔
بہت غور سے آپ سنیں۔ روح کیا ہے؟ ہم سب روح ہیں۔ صرف جسم نہیں ہیں۔ اس لئے کہ جب روح جسم سے اپنا رشتہ توڑ لیتی ہے تو جسم میں زندگی اور حرکت ختم ہو جاتی ہے۔ مثلاً ایک آدمی چل رہا ہے، تقریر کر رہا ہے، اس کو Heart Attackہو گیا۔ وہ مر گیا اب وہ کچھ نہیں کر سکتا۔
بتایئے! کیا وہ کچھ کر سکتا ہے؟
کیا آپ اسے انسان یا آدمی کہیں گے؟
نہیں کہیں گے۔۔۔۔۔۔کیوں نہیں کہیں گے؟
اس لئے کہ اس کے اندر زندگی کے آثار ختم ہو گئے۔ انسان وہ ہے جس کے اندر زندگی کے آثار موجود ہوں۔ اگر زندگی کے آثار ختم ہو گئے تو وہ انسان نہیں رہا۔ ایک لاش ہے۔
سننا، دیکھنا، محسوس کرنا۔۔۔۔۔۔حواس کا موجود ہونا ہے۔
حواس کی موجودگی کب تک رہتی ہے؟
طلبا اور طالبات سے درخواست ہے کہ وہ بتائیں۔
جب تک جسم میں روح ہوتی ہے۔
اگر روح نکل جائے۔۔۔۔۔۔حواس بھی ختم ہو جاتے ہیں۔
ہمارا جسم اصل ہے یا ہماری روح اصل ہے؟
ہماری اصل روح ہے۔
تو ہم سب کیا ہیں؟۔۔۔۔۔۔یہاں جتنے لوگ بیٹھے ہیں وہ کیا ہیں اصل ہیں یا نقل ہیں؟
ہم سب اصل میں روح ہیں۔ روح جب تک ہمارے اندر ہے ہم سب کچھ ہیں۔ روح نہیں ہے تو ہم کچھ نہیں ہیں صرف Dead Bodyہیں۔۔۔۔۔۔میں بات کر رہا ہوں، بول رہا ہوں، ابھی میں مر جاتا ہوں۔ میرا دم نکل جاتا ہے تو میں نہیں بول سکتا۔
میرے دوستو!
ہم سب روح ہیں۔ روح نے ایک Mediumبنا رکھا ہے، لبادہ اوڑھ رکھا ہے، برقع اوڑھ لیا ہے۔ ایک ایسا برقع اوڑھ لیا ہے کہ کان میں کان، ناک میں ناک، آنکھ میں آنکھ، ہاتھوں میں ہاتھ، ٹانگوں میں ٹانگ چھپی ہوئی ہے۔ پورے جسم کو روح نے برقع بنا لیا ہے، لبادہ اوڑھ لیا ہے یا لباس پہن لیا ہے۔ تو ہماری اصل کیا ہے؟۔۔۔۔۔۔سب لوگوں کا جواب ہے کہ ہم روح کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔ جب ہم نے یہ سمجھ لیا کہ ہم روح کے علاوہ کچھ نہیں ہیں تو قدرتی طور پر ہمارا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ روح سے ہمارا رابطہ ہونا چاہئے، ہمیں روح کو دیکھنا چاہئے۔
روح چونکہ پردے میں ہے اس لئے روح ہمیں نظر نہیں آتی۔ لیکن جب اس بات کا یقین حاصل ہو جائے گا کہ سب کچھ روح ہے تو ہم روح سے رابطہ کریں گے۔ ہمہ وقت روح سے انسان کا رابطہ رہتا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں۔ آپ تھکان محسوس کر رہے ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ علم روحانیت آپ کے لئے نیا ہے۔ کوئی نئی بات سننے سے دماغ پر وزن پڑتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کوئی بات سمجھ میں نہ آئے ہر بات سمجھ میں آ جانی ہے۔ ایک دفعہ، دو دفعہ، تین دفعہ سنا جائے یا دہرایا جائے تو ذہن پر بوجھ نہیں پڑتا۔
جب انسان سو جاتا ہے تو بیداری کے حواس معطل ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہمارا تجربہ ہے کہ جسم کے اندر سے ایک اور جسم نکلتا ہے۔ وہ جسم کھاتا بھی ہے، پیتا بھی ہے، دہشت ناک منظر کو دیکھ کر دہشت زدہ بھی ہو جاتا ہے۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ خواب میں دہشت ناک منظر دیکھ کر آدمی خوفزدہ ہو جاتا ہے اور اس کے دل کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔پسینہ میں شرابور ہوتا ہے اور کئی دفعہ خواب میں اچھا منظر نظر آتا ہے تو آدمی خوش ہوتا ہے کہ میں نے باغ دیکھا ہے، باغ میں پھول دیکھے ہیں، فوارے دیکھے ہیں، آبشار دیکھی ہے، میں نے برف گرتے ہوئے دیکھی ہے، میں نے خوبصورت پرندے دیکھے ہیں۔
اس کا کیا مطلب ہوا؟
اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان کے حواس جسم کے بغیر بھی کام کرتے ہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں آدھا حصہ روح سے دوری میں گزارتا ہے اور آدھا حصہ روح سے قربت میں گزارتا ہے۔ اگر انسان خواب کی زندگی کو سمجھ لے جو اس کی اپنی زندگی ہے تو وہ بڑی آسانی کے ساتھ روح سے واقفیت حاصل کر لیتا ہے۔
خواب کی زندگی میں کیا ہوتا ہے؟
خواب کی زندگی میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی بیداری کی زندگی سے دور ہو جاتا ہے یا بیداری کی زندگی سے عارضی طور پر، دس، بارہ گھنٹے تک اس کا تعلق ختم ہو جاتا ہے۔ اگر انسان بیداری میں اس تعلق کو عارضی طور پر ختم کرنا چاہے تو اس کا بہترین طریقہ مراقبہ ہے۔ مراقبے میں جب ہم بیٹھتے ہیں تو جسمانی زندگی سے عارضی طور پر تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔ جیسے جیسے مراقبے کی Practiceبڑھتی ہے، بیداری میں بھی روح سے واقفیت حاصل ہو جاتی ہے۔ مراقبے کے ذریعے انسان اپنی روح سے واقف ہو سکتا ہے اور مراقبے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی دنیاوی معاملات سے یکسو ہو کر الگ تھلگ ہو کر پہلے وضو کرے تا کہ اس کو پاکیزگی حاصل ہو، پھر درود شریف پڑھے، پھر اللہ کا نام پڑھے “یا حی یا قیوم” اور اس کے بعد آنکھیں بند کر کے بیٹھ جائے۔ جیسے جیسے وقت گزرے گا، اسی مناسبت سے انسان اپنی ذات سے، اپنی روح سے واقفیت حاصل کر لے گا۔
سوال: میرا سوال یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دور میں خلفائے راشدینؓ کے دور میں کیا ایسے Institutionsتھے جہاں روحانی علوم سکھائے جاتے تھے؟
جواب: سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا سارا دور ہی Institutionہے۔ رسول اللہﷺ کی قربت سے صحابہ کرامؓ اور خلفاء راشدین کے دل نور نبوت سے روشن تھے۔ اس لئے انہیں الگ کسی Institutionکی ضرورت پیش نہیں آئی۔لیکن جب اسلام میں بہت ساری مصلحتیں شامل ہونے لگیں جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے،اس کے بعد روحانی Institutionsقائم کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ لوگ رسول اللہﷺ سے قرآن پاک سنتے تھے اور حفظ کر لیتے تھے۔ جہاں سورج ہوتا ہے وہاں روشنی از خود ہو جاتی ہے۔ جب سورج غروب ہو جاتا ہے پھر روشنی کی ضرورت پڑتی ہے۔ مراقبے کا مطلب ہے کسی چیز کو متوجہ ہو کر سمجھنا، ذہن نشین کرنا اوراس کی حکمت کو جاننا۔۔۔۔۔۔صحابہ کرامؓ رسول اللہﷺ سے جب کوئی حدیث سنتے تھے اور قرآن پاک کی آیت سنتے تھے تو وہ متوجہ ہو جاتے تھے۔ مرکزیت حاصل ہونے کی وجہ سے حدیث کا مفہوم اور قرآن کی حکمت ان کے ذہنوں میں نقش ہو جاتی تھی۔
سوال: اللہ تعالیٰ نے اتنی بڑی کائنات بنائی۔ ہم اس دنیا میں آئے۔ ہمیں جنت اور دوزخ کے بارے میں بتا دیا گیا۔ اگر ہم اچھے کام کریں گے تو جنت ملے گی اور اگر نافرمانی کریں گے تو دوزخ میں جائیں گے۔ اگر ہم اللہ کو سمجھنا چاہیں، یا کائنات کو سمجھنا چاہیں تو ہمیں کیا کرنا ہو گا؟
جواب: دیکھئے بی بی! بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں جنت اور دوزخ کا تذکرہ فرمایا ہے وہاں یہ بات بھی بتا دی ہے کہ جنت ان لوگوں کو عطا کی جائے گی جو اللہ کے دوست ہیں۔ اللہ کی باتوں کو سمجھیں گے اور اللہ کے احکامات کی تعمیل کریں گے۔ یعنی جو کچھ وہ کریں گے اللہ کے لئے کریں گے۔ جب آپ اللہ کے لئے کوئی کام کریں گے تو یہ اللہ کو ہی سمجھنے کا ایک عمل ہوا۔ ہر کام کا قاعدہ قانون ہوتا ہے۔ ہم کوئی ایجاد کرتے ہیں پہلے ہم اس ایجاد کے بارے میں سوچیں گے پھر ایک طریقہ کار وضع کر کے تحقیق و تلاش کرینگے اور جس چیز سے ایجادات عمل میں آتی ہیں اس کا بھرپور علم حاصل کریں گے۔ یہی قاعدہ قانون کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔
دوزخ ان لوگوں کے لئے ہے جو اللہ کے احکامات کی تعمیل نہیں کرتے۔ جنت ان لوگوں کا مقام ہے جو اللہ کے دوست ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر نور الدین جامی صاحب: میرا خیال ہے کہ کافی گفتگو ہو چکی ہے، میں آخر میں سب احباب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میں پروفیسر ڈاکٹر شفقت اللہ صاحب کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ اپنے طلبا کے ساتھ شعبہ عربی سے تشریف لائے اور انہوں نے یہ لیکچر سماعت فرمایا۔ اس موقع پر میں خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ وہ لیکچر کے لئے کراچی سے تشریف لائے اور انہوں نے اپنا قیمتی وقت ہمیں دیا۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 81 تا 91

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)