روح کا عرفان

کتاب : روح کی پکار

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=12677

سوال: بتایا گیا ہے کہ انسان ناقابل تذکرہ شئے تھا۔ اور اس سے ظاہر ہونے والے افعّال و حرکات کا سرچشمہ روح ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی جلوہ نمائی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس جلوہ نمائی یا صناعی یا تخلیق سے کس طرح تعارف حاصل کیا جائے اور یہ کیسے سمجھا جائے کہ روح کا عرفان کیا ہے؟

جواب: یہ سوال جب سے دنیا بنی اور دنیا میں آدم علیہ السّلام کا وجود ظاہر ہُوا، اُس وقت سے ہی ذہنِ آدم میں بار بار ابھر رہا ہے۔ جب آدم کی اولاد زمین پر پھیلی تو رفتہ رفتہ اس کی زندگی میں نئے نئے تقاضے پیدا ہوئے اور ان تقاضوں کی تکمیل کے لئے نئی نئی ایجادات کی گئیں۔ انواع و اقسام کے علوم کی داغ بیل پڑی۔ یہ علوم شاخ در شاخ پھیلتے گئے اور نتیجہ میں بے شمار فلسفے اور اَن گنت تحقیقی راہیں ہمارے سامنے آئیں۔ جب ان علوم کی کوئی انتہا نظر نہ آئی اور انسان نے باوجود عقل و شعور کے خود کو بے بس اور مجبور پایا تو بالآخر اس کے سامنے یہ بات آئی کہ کوئی ہستی ہے جو کائنات اور کائنات میں موجود سیّارے اور سیّاروں میں مخلوقات اور مخلوقات میں موجود علم و ہنر کی تحریک کو سنبھالے ہوئے ہے۔
اب اس ذات کی تلاش شروع ہوئی۔ جب تلاش کا کوئی نتیجہ نہیں ہوا، لوگ کوشش اور جدّ و جہد ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے تو وہ بھٹک گئے۔ جب یہ صورت حال واقع ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر علیہم الصّلوٰۃ و السّلام بھیجے۔ انبیائے کرام نے نوعِ انسان کے فطری اور طبعی تقاضوں کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنے کا ایک لائحہ عمل بنا دیا اور قواعد و ضوابالترتیب دیئے۔ اچھائی اور برائی کے پہلو نمایاں کر کے اچھائیوں پر گامزن رہنے کی تلقین اور برائیوں سے بچنے کی ہدایت کی اور یہ بتایا کہ انسان کے اندر ہمہ وقت دو رخ کام کرتے ہیں۔ ایک رخ بھلائی کی طرف متوجہ کرتا ہے اور دوسرا رخ برائی کی ترغیب دیتا ہے۔ برائی کا رخ دراصل روح سے دور کرنے والی ایجنسی ہے اور بھلائی کا رخ روح تک پہنچنے والا ایک دروازہ ہے۔
لوگوں نے انبیاء کرام کی اس تعلیم کو سمجھا اور اس کی بنیاد پر زندگی گزارنے کا ارادہ کیا۔ لیکن مشکل یہ آن پڑی کہ بھلائیوں کے عمل کے ساتھ ایک صلہ جس کا نام ثواب رکھا گیا، مُتعیّن کر لیا گیا۔ یہ بجائے خود روح سے دوری کا پیغام ثابت ہوا۔ ایک آدمی نے اس بنیاد پر ایک اچھا کام کیا کہ اسے اس کا صلہ ملے گا۔ یہ عمل نادیدہ مستقبل میں چلا گیا۔ صلہ کب ملے گا؟ اس کا کچھ پتہ نہیں۔ انسان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ فی الواقع اس کا عمل بارگاہ الٰہی میں قبول بھی ہوا ہے یا نہیں۔
اللہ تعالیٰ کا کوئی نبی ایسا نہیں ہوا کہ جو خود سے واقف نہ ہو۔ جنّت سے واقف نہ ہو، دوزخ کے بارے میں نہ جانتا ہو، اللہ کے فرشتوں کے بارے میں وافر علم نہ رکھتا ہو، کائنات کے اسرار و رموز سے وقوف نہ رکھتا ہو۔ اسے اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل نہ ہو۔ کوئی نبی جب اپنی تعلیمات کو عام کرتا ہے تو دراصل اس کے پیش نظر یہ پروگرام ہوتا ہے کہ اللہ کی مخلوق اور میری امّت کے افراد میری طرح اپنی استعداد اور صلاحیت کے مطابق اللہ تعالیٰ کو جانتے اور پہچانتے ہوں، اُس کے فرشتوں سے واقف ہوں، اِس دنیا میں رہتے ہوئے جنّت کا نظارہ کر لیں، دوزخ کی صعوبتیں اُن کے سامنے آ جائیں، پیدا ہونے سے پہلے وہ کہاں تھے اور مرنے کے بعد وہ کہاں چلے جاتے ہیں اور وہاں کے شب و روز کس طرح طلوع و غروب ہوتے ہیں۔ ان کے علم میں یہ بات بھی ہو کہ گوشت پوست سے مرکب آدمی اصل آدمی نہیں ہے بلکہ اس کی اصل روح ہے۔ وہ روح جو نہ گھٹتی ہے، نہ بوڑھی ہوتی ہے اورنہ اس کے اوپر موت وارد ہوتی ہے۔
جب تک کوئی بندہ اپنی روح سے واقف نہیں ہوتا وہ دریائے توحید میں قدم نہیں رکھ سکتا۔ اللہ تعالیٰ سے متعارف ہونے کے لئے پہلے خود سے متعارف ہونا ضروری ہے۔ خود سے متعارف ہونے کے لئے مفروضہ حواس اور اس عارضی زندگی کی نفی کرنا ضروری ہے۔ نفی کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ انسان ہاتھ پیر توڑ کر اور سب کچھ ترک کر کے گوشہ نشین ہو جائے۔ اپنی نفی کرنے سے مراد یہ ہے کہ انسان دنیاوی زندگی گزارنے کے لئے وظیفہ اعضاء پورا کرے لیکن نتیجہ اللہ تعالیٰ کے اوپر چھوڑ دے۔ ہر حال میں شکر کو اپنا شعار بنائے۔ مخلوق خدا کی خدمت کر کے اور رات کی تنہائیوں میں ہر طرف سے اپنا ذہن ہٹا کر مراقبہ میں یہ تصوّر کرے کہ اسے اور اس کے ہر عمل کو اللہ دیکھ رہا ہے۔ یہ تصوّر جب مشاہدہ بن جاتا ہے تو اس کے اوپر سے مفروضہ حواس کی گرفت ٹوٹ جاتی ہے اور وہ اپنی روح سے واقف ہو جاتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 154 تا 156

روح کی پکار کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 1 - مراقبہ کیا ہے؟  ِ 2 - زمان و مکان کیا ہے؟  ِ 3 - لوحِ محفوظ  ِ 4 - خالقِ خدا  ِ 5 - اللہ تعالیٰ نظر کیوں نہیں آتے؟  ِ 6 - اللہ تعالیٰ کی امانت کے حصول کے بعد ظالم اور جاہل کیسے؟  ِ 7 - کونسی طرزِ فکر اللہ کے قریب کرتی ہے؟  ِ 8 - روحانی طرزِ فکر کا تجزیہ  ِ 9 - روحانیت میں سب سے پہلے کیا ضروری ہے؟  ِ 10 - طرزِ فکر کی منتقلی کس قانون سے ہوتی ہے؟  ِ 11 - زمان (Time) کی حدود  ِ 12 - نفس کیا ہے؟  ِ 13 - درست طرزِ فکر کونسی ہے؟  ِ 14 - مرشد کو ظاہری آنکھ سے نہ دیکھا ہو  ِ 15 - کیا مراقبہ خواب کا تسلسل ہے؟  ِ 16 - اللہ تعالیٰ کے درمیان حجاب  ِ 17 - اللہ تعالیٰ بہترین خالق ہیں  ِ 18 - اللہ تعالیٰ ہر چیز پر محیط ہیں  ِ 19 - اللہ تعالیٰ کے علم کا عکس  ِ 20 - کائنات کے تخلیقی خدوخال  ِ 21 - کسی چیز کو سمجھنے کے لئے بنیادی عمل نظر ہے  ِ 22 - اللہ تعالیٰ کی صفات  ِ 23 - علم استدراج اور علم نوری میں فرق  ِ 24 - روحانی تصرّف کیا ہے؟  ِ 25 - اختیاری اور غیر اختیاری طرزِ فکر  ِ 26 - بخیلی اور سخاوت  ِ 27 - زندگی کی بنیاد  ِ 28 - حقیقت مُطلَقہ کیا ہے؟  ِ 29 - یقین کے کیا عوامل ہیں؟  ِ 30 - کیا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان سب مسخر کر دیا؟  ِ 31 - شُہود کی قسمیں  ِ 32 - سائنسی ایجادات  ِ 33 - علم کی حیثیت  ِ 34 - کیا قرآنی آیات پڑھنی چاہئیں؟  ِ 35 - تعویذ کے اندر کونسی طاقت ہے؟  ِ 36 - فِقہی علم کیا ہے؟  ِ 37 - سلطان کیا ہے؟  ِ 38 - مٹھاس یا نمک  ِ 39 - خیالی اور حقیقی خواب  ِ 40 - دعا آسمان سے کیوں پھینکی جاتی ہے؟  ِ 41 - مرشد کس طرح فیض منتقل کرتا ہے؟  ِ 42 - کتنی نیند کرنی چاہئے؟  ِ 43 - کیا رنگین روشنیاں غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں؟  ِ 44 - طریقت اور شریعت  ِ 45 - روح کا عرفان  ِ 46 - عام آدمی اور مؤمن میں فرق  ِ 47 - حساب کتاب کیا ہوتا ہے؟  ِ 48 - استغنائی طرزِ فکر  ِ 49 - خود ترغیبی کیا ہے؟  ِ 50 - کیفیت اور خیال میں فرق  ِ 51 - حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد  ِ 52 - تدلّیٰ اور علم الاسماء  ِ 53 - ارتقائی منازل  ِ 54 - نورِ باطن  ِ 55 - ذہن بیمار یا جسم بیمار  ِ 56 - روح کہاں جاتی ہے؟  ِ 57 - علم الغیب کیا ہے؟  ِ 58 - اللہ کا پسندیدہ بندہ  ِ 59 - فنا و بقا کیا ہے؟  ِ 60 - رنج و غم کیوں جمع ہوتے ہیں؟  ِ 61 - وَحدت الوجود اور وَحدت الشُہود  ِ 62 - دماغ میں دو کھرب خانے  ِ 63 - قلم خشک ہو گیا  ِ 64 - ترقی کا فسوں  ِ 65 - کون سا رنگ کون سا پتھر؟  ِ 66 - نماز میں حضورِقلب پیدا ہو  ِ 67 - روحانی تفسیر  ِ 68 - روح سے وُقوف حاصل کرنا  ِ 69 - نظر کا قانون  ِ 70 - زمان و مکان (Time And Space)  ِ 71 - شجرِ ممنوعہ کیا ہے؟  ِ 72 - کائنات کا بنیادی مسالہ  ِ 73 - اِرتکازِ توجّہ  ِ 74 - جسم میں لطیفے  ِ 75 - مادری زبان میں خیالات  ِ 76 - تصوّرِ شیخ  ِ 77 - کشش کیوں ہوتی ہے؟  ِ 78 - معجزہ، کرامت، اِستدراج کیا ہے؟  ِ 79 - قوّت ارادی کیا ہے؟  ِ 80 - تخلیقی اختیارات  ِ 81 - بغیر استاد کیا نقصان ہوتا ہے؟  ِ 82 - سورج بینی کا کیا فائدہ ہے؟  ِ 83 - رَحمۃَ لِّلعالمین  ِ 84 - وہاں کی زبان کو سمجھنا  ِ 85 - مراقبہ کا حکم  ِ 86 - انسانی کوشش کا عمل دخل  ِ 87 - اسفل زندگی سے نکلنا  ِ 88 - اسمِ اعظم کیا ہے؟  ِ 89 - ہر شئے دو رخوں پر ہے  ِ 90 - مؤکل کیا ہوتے ہیں؟  ِ 91 - مذہب کی حقیقت کیا ہے؟  ِ 92 - حواس کہاں سے آتے ہیں؟  ِ 93 - شرحِ صدر کیا ہے؟  ِ 94 - تفکر کی صلاحیت  ِ 95 - عشاء کا وقت افضل کیوں ہے؟  ِ 96 - سعید روح اور شَقی روح کیا ہے؟  ِ 97 - حافظے کی سطح  ِ 98 - حسبِ خواہش نتیجہ نہ ملنا  ِ 99 - نیگیٹیو بینی کیا ہے؟  ِ 100 - اس کتاب میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے  ِ 101 - یاحي یاقیوم کا کیا مطلب ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message