روح اور اسلام

کتاب : روحانی ڈاک (جلد اوّل)

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=29322

سوال: عظیمی صاحب! طرز فکر کیا ہوتی ہے؟

جواب: ایک آدمی آنکھوں پر چشمہ نہیں پہنتا وہ جو کچھ دیکھتا ہے براہ راست دیکھتا ہے۔ دوسرا آدمی چشمہ لگاتا ہے۔ وہ جو کچھ دیکھ رہا ہے اس کے دیکھنے میں گلاس میڈیم بن جاتا ہے۔ اب اسی مثال کو اور زیادہ گہرائی میں بیان کیا جائے تو اس طرح کہا جائے گا کہ عینک میں اگر سرخ رنگ کا گلاس ہے تو ہر چیز سرخ نظر آئے گی۔ نیلا گلاس ہے تو ہر چیز نیلی نظر آئے گی۔ جس طرح انسانی تقاضے اور انسان کی نظر لوح محفوظ پر نقش ہے۔ جب ہم کسی رنگین شیشے کو اپنا میڈیم بنائیں گے تو نظر وہی دیکھے گی جو ہمیں شیشہ دکھائے گا۔ بات طرز فکر کی ہو رہی تھی۔ طرز فکر اور نظر کا قانون ایک ہی بات ہے۔ طرز فکر ہی براہ راست اور بالواسطہ کام کرتی ہے۔ ایک طرز فکر ایسی ہے جو بالواسطہ کام کرتی ہے اور ایک طرز فکر یہ ہے کہ جو براہ راست کام کرتی ہے۔ کوئی آدمی اگر ایسے شخص کی طرز فکر کو اپنے لئے واسطہ بناتا ہے جس کی طرز فکر براہ راست کام کر رہی ہے تو اس شخص کے اندر وہی طرز فکر منتقل ہو جاتی ہے جس طرح رنگین شیشہ آنکھ پر لگانے سے ہر چیز رنگین نظر آتی ہے۔ روحانی تعلیم دراصل طرز فکر کی اس صلاحیت کو اپنے اندر منتقل کرنے کا ایک عمل ہے۔

جب کوئی بچہ استاد کی شاگردی میں آتا ہے تو استاد اس سے کہتا ہے کہ پڑھ الف، ب، جیم۔ بچے کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ الف جیم کیا ہے۔ وہ اپنی لا علمی کی بناء پر جو استاد اسے سکھاتا ہے قبول کر لیتا ہے لیکن اگر یہی بچہ الف، ب ، جیم کو قبول نہ کرے تو علم نہیں سیکھ سکتا۔ مفہوم یہ ہے کہ بچے کی لاعلمی اس کا علم بن جاتی ہے۔ وہ بحیثیت شاگرد استاد کی رہنمائی قبول کر لیتا ہے اور درجہ بدرجہ علم سیکھتا چلا جاتا ہے۔

ایک آدمی جو باشعور ہے اور وہ کسی نہ کسی درجہ میں دوسرے علوم کا حامل بھی ہے۔ روحانیت کا علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کی پوزیشن بھی ایک بچے کی سی ہوتی ہے۔ روحانیت میں شاگرد کو مرید اور استاد کو مراد کہا جاتا ہے۔ مرید کے اندر اگر بچے کی افتاد طبیعت موجود نہیں تو وہ مراد کی بتائی ہوئی کسی بات کو اس طرح قبول نہیں کرے گا۔ جس طرح کوئی بچہ الف، ب، جیم کو قبول کرتا ہے چونکہ روحانی علوم میں اس کی حیثیت ایک بچے سے زیادہ نہیں ہے اس لئے اسے وہی طرز فکر اختیار کرنا پڑے گی جو بچے کو الف، ب،جیم سکھاتی ہے۔

روحانی استاد اپنے شاگرد سے کہتا ہے کہ آنکھیں بند کر کے بیٹھ جاؤ۔ کیوں بیٹھ جاؤ؟ اس کے بارے میں وہ کچھ نہیں بتاتا۔ بالکل اس طرح جس طرح کوئی استاد بچے سے کہتا ہے کہ پڑھو الف اور یہ نہیں بتاتا کہ الف کیا ہے اور کیوں ہے؟ پھر وہ کہتا ہے آنکھیں بند کر کے شیخ کا تصور کرو لیکن یہ نہیں بتاتا کہ تصور شیخ کیا ہے اور کیوں کیا جاتا ہے؟ اگر ابتداء میں ہی شاگرد اپنے علم کے زعم میں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرے کہ آنکھیں کیوں بند کی جائیں۔ تصور شیخ کیوں کیا جائے اور اس سے کیا حاصل ہو گا تو یہ طرز فکر شاگرد کے عمل کے منافی ہے کسی علم کو سیکھنے میں صرف اور صرف یہ طرز فکر کام کرتی ہے کہ استاد کے حکم کی تعمیل کی جائے اور استاد کی تعمیل حکم یہ ہے کہ لاعلمی اس کا شعار بن جائے۔

امام غزالیؒ کا ایک بہت مشہور واقعہ ہے۔ آپ اپنے زمانے کے یکتائے روزگار تھے۔ بڑے بڑے جید علماء ان کے علم سے استفادہ کرتے تھے۔ بیٹھے بیٹھے ان کو خیال آیا کہ خانقاہی نظام کو بھی دیکھنا چاہئے۔ وہ عرصہ دراز تک لوگوں سے ملتے رہے اور اس سلسلے میں انہوں نے دور دراز کا سفر بھی کیا۔ بالآخر مایوس ہو کر بیٹھ گئے۔ کسی نے پوچھا آپ ابو بکر شبلیؒ سے بھی ملے ہیں؟ امام غزالیؒ نے فرمایا کہ اب تک روحانی مکتبہ فکر کا کوئی مشہور آدمی نہیں چھوڑا۔ جس سے ملاقات نہ کی ہو۔ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ سب کہانیاں ہیں۔ جو فقراء نے اپنے بارے میں مشہور کر رکھی ہیں پھر انہیں خود ہی خیال آیا کہ ایک مشہور آدمی رہ گیا ہے کیوں نہ ملاقات کر لی جائے؟

قصہ کوتاہ ، وہ ملاقات کے لئے عازم سفر ہوئے۔ مختلف تذکروں میں یہ بات ملتی ہے کہ جس وقت وہ عازم سفر ہوئے تو ان کا لباس اور سواری میں گھوڑے کے اوپر زین وغیرہ کی مالیت اس زمانہ میں بیس ہزار اشرفی تھی۔ یہ کہنا کہ واقعتا یہ صحیح ہے اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہتے لیکن اتنا ضرور ہے کہ امام غزالیؒ بہت شان و شوکت کی زندگی بسر کرتے تھے۔ منزلیں طے کرکے جب حضرت ابو بکر شبلیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ایک مسجد میں بیٹھے گدڑی سی رہے تھے۔ امام غزالیؒ حضرت ابو بکر شبلیؒ کی پشت کی جانب کھڑے ہو گئے۔ حضرت ابو بکر شبلیؒ نے پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر فرمایا۔’’غزالی! آ گیا تو نے بہت وقت ضائع کر دیا ہے۔ شریعت میں علم پہلے ہے عمل بعد میں اور طریقت میں عمل پہلے ہے علم بعد میں ہے۔ اگر تو اس بات پر قائم رہ سکتا ہے تو میرے پاس قیام کر ورنہ واپس چلا جا۔ امام غزالیؒ نے ایک منٹ توقف کیا اور کہا کہ میں قیام کروں گا۔ یہ بات سن کر حضرت ابو بکر شبلیؒ نے فرمایا کہ سامنے مسجد کے کونے میں جا کر کھڑے ہو جاؤ۔ امام غزالیؒ مودب ایستادہ ہو گئے۔ کچھ دیر کے بعد حضرت شبلیؒ نے ان کو بلایا اور اپنے ساتھ گھر لے گئے۔ بہت خاطر مدارت کی۔ امام غزالیؒ بہت خوش ہوئے کہ مجھے بہت اچھا روحانی استاد مل گیا ہے۔ جس نے میرے اوپر آرام و آسائش کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ چند روز بعد حضرت شبلیؒ نے امام غزالیؒ سے فرمایا، بھائی اب کام شروع ہو جانا چاہئے۔ اور کام کی ابتداء یہ ہے کہ ایک بوری کھجور لے کر شہر کے بازار میں جاؤ اور بوری کھول کر یہ اعلان کر دو کہ جو آدمی میرے سر پر ایک چپت لگائے (رسید) کرے گا اسے ایک کھجور ملے گی۔ امام غزالیؒ شام کو جب کھجوریں تقسیم کر کے واپس آئے تو پوچھا۔ حضرت یہ کام مجھے کتنے عرصے تک کرنا پڑے گا۔ حضرت ابو بکر شبلیؒ نے فرمایا ایک سال اور وہ ایک سال یہ خدمت سر انجام دیتے رہے۔ سال پورا ہوا تو امام غزالیؒ نے یاددہانی کرائی کہ حضور ایک سال پورا ہو گیا۔ حضرت ابو بکر شبلیؒ نے فرمایا ایک سال اور، دو سال پورے ہونے کے بعد فرمایا کہ ایک سال اور جب تین سال پورے ہو گئے اور امام غزالیؒ نے اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کی تو حضرت ابو بکر شبلیؒ نے ان سے پوچھا کہ کیا ابھی سال پورا نہیں ہوا۔ امام غزالیؒ نے فرمایا کہ سال پورا ہوا ہے یا نہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ سن کر حضرت نے فرمایا کہ کام پورا ہو گیا ہے۔ اب کھجوریں لے کر جانے کی ضرورت نہیں اور انہوں نے غزالی کو وہ علم جس کی تلاش میں وہ سالہاسال سے سرگرداں تھے، منتقل کر دیا۔ امام غزالیؒ جب وطن واپس پہنچے تو صورتحال یہ تھی کہ معمولی کپڑے زیب تن تھے۔ ہاتھ میں ایک ڈول تھا اور ڈول میں رسی بندھی ہوئی تھی۔ شہر والوں کو جب علم ہوا کہ امام غزالیؒ واپس تشریف لا ئے ہیں تو ان کے استقبال کے لئے پورا شہر امڈ آیا۔ لوگوں نے جب ان کو پھٹے پرانے لباس میں دیکھا تو حیران و پریشان ہوئے اور کہا یہ آپ نے کیا صورت بنا رکھی ہے؟ امام غزالیؒ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم اگر میرے اوپر یہ وقت نہ آتا تو میری ساری زندگی ضائع ہو جاتی۔ امام غزالیؒ کے یہ الفاظ بہت فکر طلب ہیں۔ اپنے ز مانے کے یکتا عالم فاضل دانشور یہ کہہ رہا ہے کہ’’یہ علم اگر حاصل نہ ہوتا جو تین سال تک سر پر چپت کھا کر حاصل ہوا ہے تو زندگی ضائع ہو جاتی۔‘‘

امام غزالیؒ اگر اس وقت جب ان سے کہا گیا تھا کہ سر پر ایک چپت کھانے کے بعد ایک کھجور تقسیم کرو۔ یہ سوال کر دیتے کہ جناب اس کی علمی توجیہہ کیا ہے اور سر پر چپت کھانے سے روحانیت کیسے حاصل ہو سکتی ہے تو انہیں یہ علم حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔

یہی صورتحال روحانی استاد(مراد) اور شاگرد(مرید) کی ہے۔ مرید کے اند رجب تک اپنی انا کا علم موجود ہے وہ مراد سے کچھ نہیں سیکھ سکتا۔ ہم جب کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں تو پہلے اللہ کی نفی کرتے ہیں اور پھر اللہ کا اقرار کرتے ہیں۔ لاالہ کوئی معبود نہیں الاللہ مگر اللہ۔ اس کی عام تفسیر تو یہ ہے کہ حضورﷺ کی بعثت کے زمانے میں بتوں کی پوجا ہوتی تھی۔ لوگ بتوں کو خدا مانتے تھے۔ لا الہ کا مفہوم یہ ہوا کہ یہ بت معبود نہیں مگر اللہ معبود ہے ۔ لیکن باریک بین نظر اور گہرے تفکر اور سنجیدہ فہم سے غور کیا جائے تو اس کی تشریح اس طرح ہو گی کہ ہمارے شعوری علوم کے احاطے میں اللہ کے جاننے کی جو طرز ہے، ہم اس کی نفی کرتے ہیں اور اللہ کو اس طرح تسلیم کرتے ہیں جس طرح اللہ خود کو اللہ کہلاتا ہے اور محمدﷺ اللہ کے قاصد ہیں۔ یعنی محمدﷺ بحیثیت قاصد اللہ کو جس طرح بتایا ہم اسی طرح اللہ کو تسلیم کرتے ہیں۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ پہلے ہم نے علم کی نفی کی اور پھر علم کا اثبات کیا۔ جب علم کی نفی کی تو اپنی نفی کی اور جب اپنی نفی کی تو اللہ کے سوا کچھ باقی نہ بچا۔

ہم جب کسی چیز کو اپناتے ہیں تو اس میں طرز فکر کو پہلے دخل ہوتا ہے۔ روحانیت کا اگر مجموعی طور پر کوئی دوسرا مترادف لفظ ہو سکتا ہے تو وہ طرز فکر ہے۔ چونکہ عام آدمی طرز فکر قائم کرنے کے اصول و قواعدسے واقف نہیں ہوتا اس لئے اسے ایسے آدمی کی تلاش ہوتی ہے جو طرز فکر قائم کرنے کے قانون سے واقفیت رکھتا ہو۔ ابتداء اس طرح ہوتی ہے کہ ایک بندے نے ایسا بندہ تلاش کیا جس کی طرز فکر سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وابستہ ہے۔ اس کی قربت میں بندے کو وہی طرز فکر منتقل ہو جاتی ہے اور جب اس بندے کو رسول اللہ صلی علیہ و سلم کا عرفان نصیب ہو جاتا ہے تو اس کی طرز فکر میں گہرائی پیدا ہو جاتی ہے۔ تو اس طرز فکر سے بھی آشنا ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی قربت کا ذریعہ ہے۔ زندگی میں اگر اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل ہو جاتا ہے۔ تو زندگی کامیاب ہے ورنہ پوری زندگی خسارے اور نقصان کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 181 تا 186

روحانی ڈاک (جلد اوّل) کے مضامین :

ِ انتساب  ِ ترتیب و پیشکش  ِ 1 - اولاد نہیں ہوتی  ِ 2 - الرجی کا علاج  ِ 3 - ایک سو پچاس چھینکیں  ِ 4 - اداسی  ِ 5 - انگلیاں کشش کا ذریعہ  ِ 6 - اولاد نرینہ  ِ 7 - اولاد نہیں ہوئی  ِ 8 - اندرونی بخار  ِ 9 - احساس کمتری  ِ 10 - استغناء اور کیلوریز  ِ 11 - انسانی وولٹیج  ِ 12 - ایک لاکھ خواہشات  ِ 13 - ایب نارمل زندگی  ِ 14 - اجمیر شریف کی حاضری  ِ 15 - آوارہ لڑکا  ِ 16 - آنکھوں کے سامنے نقطے  ِ 17 - آنکھ میں آنسو  ِ 18 - آدھے جسم میں درد  ِ 19 - آسمان  ِ 20 - آنتیں  ِ 21 - آپریشن  ِ 22 - آٹھ علاج  ِ 23 - انا للہ و انا الیہ راجعون  ِ 24 - اسلامی لباس کا تصور  ِ 25 - آرزو  ِ 26 - اندھی محبت  ِ 27 - استخارہ  ِ 28 - ایک عجیب بیماری  ِ 29 - اجتماعی خود کشی  ِ 30 - اجتماعی سکون  ِ 31 - اُم الصبیان  ِ 32 - آوازیں آتی ہیں  ِ 33 - اندرونی مریض  ِ 34 - ایمان کی روشنی  ِ 35 - اقتدار کی جنگ  ِ 36 - اولاد  ِ 37 - برص کا علاج  ِ 38 - برے خیالات  ِ 39 - بجلی کے جھٹکے  ِ 40 - بیوہ عورت  ِ 41 - بچپن کا خواب  ِ 42 - بیٹی نہیں بیٹا  ِ 43 - بے وفا شوہر  ِ 44 - بہرے پن کا علاج  ِ 45 - بخار  ِ 46 - بچوں کی نفسیات  ِ 47 - بدعقیدہ  ِ 48 - بھوت  ِ 49 - بیہوشی  ِ 50 - بزدلی کی تصویر  ِ 51 - برقی رو کا ہجوم  ِ 52 - بارونق چہرہ  ِ 53 - بھینگا پن  ِ 54 - بڑا سر  ِ 55 - بسم اللہ کی زکوٰۃ  ِ 56 - بے جوڑ شادی  ِ 57 - بال خورے کا علاج  ِ 58 - پراگندہ ذہنی  ِ 59 - پریشانیوں کا حل  ِ 60 - پرانی پیچش  ِ 61 - پولیو کا علاج  ِ 62 - پڑھنے میں دل نہ لگنا  ِ 63 - پر اسرار بیماری  ِ 64 - پیٹ کی تکلیف  ِ 65 - پسینہ آنا  ِ 66 - پیدائشی دماغی معذور  ِ 67 - پسند کی شادی  ِ 68 - پیلیا  ِ 69 - پرانی پیچش  ِ 70 - پیر صاحب  ِ 71 - پیر وہ نہیں ہوتا جو مرید بنا دیتے ہیں  ِ 72 - پرابلم  ِ 73 - پرکشش چہرہ  ِ 74 - پیر سو جاتے ہیں  ِ 75 - پچہتر ہزار روپیہ  ِ 76 - ترقی نہیں ہوتی  ِ 77 - تقدیر  ِ 78 - تیسری آنکھ  ِ 79 - تصور شیخ  ِ 80 - تخلیقی فارمولے  ِ 81 - تنہائی کا احساس  ِ 82 - ٹائی فائیڈ کے اثرات  ِ 83 - ٹیڑھا منہ  ِ 84 - ٹانگیں کپکپاتی ہیں  ِ 85 - ٹیلی پیتھی  ِ 86 - ٹیوشن  ِ 87 - ٹانگیں کمزور ہیں  ِ 88 - ٹونسلز  ِ 89 - ٹرانس پیرنٹ  ِ 90 - جادو کا توڑ(۱)  ِ 91 - جوڑوں کادرد  ِ 92 - جسم میں کرنٹ لگنا  ِ 93 - جادو کا توڑ(۲)  ِ 94 - جسم چھوٹا سر بڑا  ِ 95 - جلد بازی  ِ 96 - جسم میں آگ  ِ 97 - جنسی مسائل  ِ 98 - جادو ختم کرنے کیلئے  ِ 99 - جگر کا متاثر ہونا  ِ 100 - جسم اچھل اچھل جاتا ہے  ِ 101 - جن  ِ 102 - جھنجلاہٹ کیسے دور ہو  ِ 103 - جہیز کا مسئلہ  ِ 104 - چوکور کاغذ  ِ 105 - چمگاڈر  ِ 106 - چاند گرہن  ِ 107 - چہرے پر دانے  ِ 108 - چہرے پر چھائیاں  ِ 109 - چھپکلی کا خوف  ِ 110 - چھوٹی بیگم  ِ 111 - چہرے پر بال  ِ 112 - حضرت خضرؑ سے ملاقات  ِ 113 - حسد کی عادت  ِ 114 - حروف مقطعات  ِ 115 - حالات کی ستم ظریفی  ِ 116 - حسد  ِ 117 - حسب منشاء شادی کیلئے  ِ 118 - حقیقت آگاہی  ِ 119 - خوف  ِ 120 - خود سے باتیں کرنا  ِ 121 - خون کی بوند  ِ 122 - خوفناک شکلیں نظر آتی ہیں  ِ 123 - خیالی پلاؤ  ِ 124 - خون میں کمزوری  ِ 125 - خود ترغیبی  ِ 126 - خود غرضی  ِ 127 - خون کی کلیاں(۱)  ِ 128 - خالہ کی روح  ِ 129 - خلفشار  ِ 130 - خون کی الٹیاں(۲)  ِ 131 - خشکی کا علاج  ِ 132 - خشک خارش  ِ 133 - خواب اور ہماری زندگی  ِ 134 - دماغی خلئے اور پیدائش  ِ 135 - دل میں سوراخ  ِ 136 - دنیا بیزاری  ِ 137 - دماغی امراض  ِ 138 - دماغ کے اوپر خول چڑھ گیا ہے  ِ 139 - دستخط کیجئے اور مسئلہ حل  ِ 140 - دوپٹہ میں جوئیں  ِ 141 - دل میں درد  ِ 142 - دمہ  ِ 143 - دریا اور سبزہ زار  ِ 144 - دواؤں کا ری ایکشن  ِ 145 - دوائیں  ِ 146 - دماغ کے اعصاب  ِ 147 - دانت پیسنا  ِ 148 - دوسری شادی  ِ 149 - دماغی توازن  ِ 150 - دکھی لڑکی  ِ 151 - درخت بولتے ہیں  ِ 152 - دھوکہ  ِ 153 - ڈراؤنے خواب  ِ 154 - ذہنی سکون  ِ 155 - ذہنی مریضہ  ِ 156 - ذہنی الجھنیں  ِ 157 - ذہنی مریض  ِ 158 - روح سے ملاقات  ِ 159 - رنگ و نور کا شہر  ِ 160 - روح کا الارم  ِ 161 - روحانی غذا  ِ 162 - رشتہ کی تلاش  ِ 163 - روشن مستقبل  ِ 164 - روح اور اسلام  ِ 165 - رات بھر روتی ہوں  ِ 166 - زنانی آواز  ِ 167 - زندگی کا ساتھی  ِ 168 - زبان ساتھ نہیں دیتی  ِ 169 - زبان کھل جائے گی  ِ 170 - سکون کی تلاش  ِ 171 - سر اور معدہ  ِ 172 - سوتے میں پیشاب نکل جاتا ہے  ِ 173 - سایہ  ِ 174 - سیپ کی پوٹلی  ِ 175 - سر کے بال گر رہے ہیں  ِ 176 - سانس کی بیماری  ِ 177 - سینے میں درد  ِ 178 - سانس رک جاتا ہے  ِ 179 - سانولا رنگ  ِ 180 - سردی میں پسینہ  ِ 181 - سوچ میں ڈوبے رہنا  ِ 182 - سیاہ رنگ چہرہ  ِ 183 - سائیکالوجی  ِ 184 - سیلاب اور سیمنٹ  ِ 185 - سکون  ِ 186 - سیرت طیبہؐ  ِ 187 - شادی کے مسائل  ِ 188 - شادی  ِ 189 - شوہر لندن میں ہیں  ِ 190 - شباب آمیز کہانیاں  ِ 191 - شوہر شکل نہیں دیکھتا  ِ 192 - شفا ء دینا اللہ کا کام ہے  ِ 193 - شیطانی وسوسے  ِ 194 - شادی اور شرم  ِ 195 - شوہر کا مزاج  ِ 196 - شوہر نے آنکھیں بدل لیں  ِ 197 - شکی شوہر  ِ 198 - شادی روکنے کیلئے  ِ 199 - شوہر کی محبت  ِ 200 - شریعت اور طریقت  ِ 201 - شجر ممنوعہ کی روحانی تفسیر  ِ 202 - شکوہ  ِ 203 - ضدی بچہ  ِ 204 - طلبہ متوجہ ہوں  ِ 205 - طلسمی سانپ  ِ 206 - عقیدہ کی خرابی  ِ 207 - عشق کا سمندر  ِ 208 - علوم اور صلاحیت  ِ 209 - علاج کی ضرورت نہیں ہے  ِ 210 - عملیات کا شوق  ِ 211 - غلطی کا اعتراف  ِ 212 - فریج میں رکھا ہوا کھانا  ِ 213 - فحش خیالات  ِ 214 - فالج  ِ 215 - قلب کی سیاہی  ِ 216 - قوت ارادی  ِ 217 - قبض اور گیس  ِ 218 - قرض  ِ 219 - کر بھلا ہو بھلا  ِ 220 - کنجوس سسرال  ِ 221 - کرایہ دار  ِ 222 - کلر تھراپی  ِ 223 - کشف القبور  ِ 224 - کثرت اولاد سے پریشانی  ِ 225 - کانوں میں سیٹیاں  ِ 226 - گھر کا فساد  ِ 227 - گوشت  ِ 228 - گردوں میں پتھری  ِ 229 - گیس کا مرض  ِ 230 - لانبے بال  ِ 231 - لکنت  ِ 232 - لنگڑی کا درد  ِ 233 - ملازمت میں ترقی  ِ 234 - مستقل خارش  ِ 235 - مالی پریشانیاں  ِ 236 - مردے نظر آنا  ِ 237 - موت کے خوف سے نجات  ِ 238 - مراقبہ کی شرائط  ِ 239 - مرض کا علاج شادی  ِ 240 - منگیتر کی نفرت  ِ 241 - موت کا خیال  ِ 242 - نیند میں جھٹکے لگنا  ِ 243 - نفسیاتی بیماری  ِ 244 - نماز پڑھنے کو دل نہیں چاہتا  ِ 245 - نعمت یا زحمت  ِ 246 - نیند نہیں آتی  ِ 247 - وظیفہ کی رجعت  ِ 248 - وٹّہ سٹّہ کی شادی  ِ 249 - ہرجائی شوہر  ِ 250 - ہڈیوں کی بیماری  ِ 251 - ہمزاد اور جنات  ِ 252 - ہاتھ لگائے کھجلی ہوتی ہے  ِ 253 - ہیروئن  ِ 254 - ہڈیوں کا پنجر  ِ 255 - ہمنوا دل  ِ 256 - ہونٹوں پر داغ  ِ 257 - یہ مست اور ملنگ بندے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message