روح انسانی سے آشنا ہونے کا طریقہ کیا ہے؟

کتاب : اسم اعظم

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=278

سوال: روح انسانی سے آشنا ہونے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب: ہمارا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ جب پوری توجہ کے ساتھ کسی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں تو باقی دوسری باتیں عالم بے خیالی میں چلی جاتی ہیں۔ کسی ایک بات پر ہماری توجہ مستقل مرکوز رہے تو وہ بات پوری ہو جاتی ہے۔ مثلاً ہم کسی دوست یا رشتہ دار کے بارے میں سوچتے ہیں اور اس طرح سوچتے ہیں کہ ہمارا ذہن ہر طرف سے ہٹ کر اس کی شخصیت میں جذب ہو جائے تو وہ ہمارے سامنے آ موجود ہوتا ہے۔

روح اعظم میں وہ علوم مخفی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تجلی، مشیت اور حکمت سے متعلق ہیں۔ اس دائرے سے متعارف بندہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا عارف ہوتا ہے۔ یہی برگزیدہ بندے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔

“میرا بندہ اپنی طاعتوں سے مجھ سے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ یہاں تک کہ میں وہ آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، وہ کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور وہ ہاتھ بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ پکڑتا ہے۔”

اللہ تعالیٰ سے قربت غیب کی دنیا میں داخل ہوئے بغیر ممکن نہیں۔ غیب کے عالم میں داخل ہونا یا زمان و مکان سے ماوراء کسی چیز کو دیکھنا اس وقت ممکن ہے جب آدمی زمان و مکان سے آزاد ہونے کے طریقے سے واقف ہو۔

آیئے تلاش کریں کہ آدمی کے حواس زمان ومکان کی گرفت سے کیسے آزاد ہوتے ہیں۔

مثال:

ہم کسی ایسی کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں جو اتنی دل چسپ ہے کہ ہم ماحول سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔ کتاب ختم کرنے کے بعد ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کئی گھنٹے گزر گئے ہیں اور ہمیں وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوا تو بڑی حیرت ہوتی ہے کہ اتنا طویل وقت کیسے گزر گیا۔ اسی طرح جب ہم نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں تو وقت کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ قرآن پاک کے مطابق نیند رات ہے اور بیداری دن ہے۔

’’ہم داخل کرتے ہیں رات کو دن میں اور داخل کرتے ہیں دن کو رات میں۔‘‘

(القرآن)

دوسری جگہ ارشاد ہے:

’’ہم نکالتے ہیں رات کو دن میں سے اور دن کو رات میں سے۔‘‘

(القرآن)

تیسری جگہ ارشاد ہے:

’’ہم ادھیڑ لیتے ہیں رات پر سے دن کو اور دن پر سے رات کو۔‘‘

(القرآن)

اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات میں تفکر کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ رات اور دن میں دو حواس ہیں۔ یعنی ہماری زندگی دو حواسوں میں منقسم ہے یا ہماری زندگی دو حواسوں میں سفر کرتی ہے۔ ایک حواس کا نام دن ہے، دوسرے حواس کا نام رات ہے۔

دن کے حواس میں ہمارے اوپر زمان ومکان کی جکڑ بندیاں مسلط ہیں۔ اور رات کے حواس میں ہم زمان و مکان کی قید سے آزاد ہیں۔

قانون یہ بنا کہ اگر کوئی انسان اپنے اوپر رات اور دن کے وقفے میں رات کے حواس غالب کرے تو وہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے اور زمان و مکان سے آزادی دراصل غیبی انکشافات کا ذریعہ ہے۔

قرآن پاک نے اس پروگرام اور اس عمل کا نام “قیام صلوٰۃ” رکھا ہے جس کے ذریعے دن کے حواس سے آزادی حاصل کر کے رات کے حواس میں سفر کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھنا چاہئے کہ نماز قائم کرنے کا لازمی نتیجہ دن کے حواس کی نفی اور رات کے حواس میں مرکزیت حاصل ہونا ہے۔ نماز کے ساتھ لفظ “قائم کرنا” اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ اگر کوئی نماز اپنی اس بنیادی شرط کو پورا نہیں کرتی تو وہ کسی شخص کو رات کے حواس سے متعارف کرا دے تو وہ حقیقی نماز نہیں ہے۔

آدمی جب مراقبہ کرتا ہے تو اس کے اوپر سے دن کے حواس کی گرفت کمزور ہو جاتی ہے اور وہ بیدار رہتے ہوئے بھی ٹائم اسپیس سے آزاد حواس (رات کے حواس) میں چلا جاتا ہے۔ جو دراصل غیبی انکشافات کا ذریعہ ہیں۔ اس سلسلے میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا مشہور واقعہ سامنے لانا بھی نماز کی تشریح اور وضاحت میں معاون ثابت ہو گا۔ کسی جنگ میں دشمن کا ایک تیر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی پنڈلی میں پیوست ہو گیا۔ جب اس تیر کو نکالنے کی کوشش کی گئی تو حضرت علیؓ نے تکلیف محسوس کی اور فرمایا:

’’میں نماز قائم کرتا ہوں۔‘‘

حضرت علیؓ نے نیت باندھی اور لوگوں نے تیر کھینچ کر مرہم پٹی کر دی۔ حضرت علیؓ کو اس بات کا احساس تک نہ ہوا کہ تیر نکال کر مرہم پٹی کر دی گئی ہے۔

اس واقعہ سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ قیام نماز میں ان حواس کی نفی ہو جاتی ہے جن میں تکلیف، جراحت اور پابندی موجود ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جب نماز کی نیت باندھی تو وہ دن کے حواس سے نکل کر رات کے ان حواس میں پہنچ گئے جو انسان کو غیب کی دنیا میں لے جاتے ہیں۔

روحانیت کی بنیاد اس حقیقت پر قائم ہے کہ انسان کے اندر دو حواس، دو دماغ اور دو زندگیاں سرگرم عمل ہیں۔ جیسے ایک ورق کے دو صفحات ہوتے ہیں دو صفحے الگ الگ ہونے کے باوجود ورق کی اپنی حیثیت ایک ہی رہتی ہے۔ دو حواس یا دو زندگیوں میں سے ایک کا نام پابندی ہے اور دوسری کا نام آزادی ہے۔ پابند زندگی دن، بیداری اور شعور ہے اور آزاد زندگی رات، سکون، اطمینان قلب اور لاشعور ہے۔

راحت و سکون اور غیب کی دنیا میں داخل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے اندر اس دنیا کی موجودگی کا یقین ہو۔ یقین ہونا اس لئے ضروری ہے کہ بغیر یقین کے ہم کسی چیز سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ پانی پینے سے پیاس اس لئے بجھ جاتی ہے کہ ہمارے یقین کے اندر یہ بات راسخ ہے کہ پانی پیاس بجھا دیتا ہے ہم زندہ اس لئے ہیں کہ ہمیں اس بات کا یقین حاصل ہے کہ ہم زندہ ہیں۔ جس وقت، جس لمحے اور جس آن زندگی سے متعلق یقین ٹوٹ جاتا ہے، آدمی مر جاتا ہے۔ کسی آدمی کے ذہن میں یہ بات آ جائے اور یقین کا درجہ حاصل کر لے کہ اگر میں گھر سے باہر نکلوں گا تو میرا ایکسیڈنٹ ہو جائے گا تو وہ گھر سے باہر نہیں نکلے گا۔ اسی طرح اگر کسی آدمی کے اندر یہ بات یقین کا درجہ حاصل کرلے کہ کھانا کھانے کے بعد وہ بیمار ہو جائے گا تو وہ کھانا نہیں کھائے گا۔

زندگی کا محاسبہ کیا جائے تو زندگی کے کسی بھی عمل میں ہم اللہ تعالیٰ کی موجودگی اور ربوبیت کا انکار نہیں کر سکتے۔ اس یقین کا مشاہدہ بنانے کے لئے قرآن نے قیام صلوٰۃ کا حکم دیا ہے۔ مقام تفکر ہے کہ غار حرا میں یکسوئی کے ساتھ عبادت و ریاضت(مراقبہ) میں مشغول رہنے کے بعد جب رسول اللہﷺ پر غیب منکشف ہوا، اس وقت نماز فرض ہوئی ہے۔ اس سے پہلے امت محمدیہﷺ پر نماز فرض نہیں تھی۔ حضورﷺ کے وارث اولیاء اللہ غار حرا کی زندگی سامنے رکھ کر مراقبہ کی تلقین کرتے ہیں۔ مراقبہ اس عمل اور کوشش کا نام ہے جس سے انسان کے اندر یقین کی وہ دنیا روشن ہوتی ہے جس پر غیب کی دنیا سے متعارف ہونے کا دارومدار ہے۔ مراقبہ وہ پہلی سنت ہے جس کے نتیجے میں قرآن نازل ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبیینﷺ پر اپنی نعمتیں پوری فرمائیں۔ اللہ کو یکتا اور اللہ کے حبیب محمدﷺ کو اللہ کا سچا رسول ماننے والا جب کوئی بندہ مراقبہ کی کیفیات میں صلوٰۃ قائم کرتا ہے تو اس کے اوپر غیب منکشف ہو جاتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 36 تا 40

اسم اعظم کے مضامین :

ِ 1.1 - نظریہ رنگ و روشنی  ِ 1.2 - فوٹان اور الیکٹران  ِ 1.3 - کہکشانی نظام اور دو کھرب سورج  ِ 1.4 - دو پیروں اور چار پیروں سے چلنے والے جانور  ِ 1.5 - چہرہ میں فلم  ِ 5.8 - مراقبہ مرتبہ احسان اور روشنیوں کا مراقبہ  ِ 1.6 - آسمانی رنگ کیا ہے؟  ِ 1.7 - رنگوں کا فرق  ِ 1.8 - رنگوں کے خواص  ِ 2.1 - مرشد کامل سے بیعت ہونا  ِ 2.2 - مرشد کامل کی خصوصیات  ِ 2.3 - تصور سے کیا مراد ہے؟  ِ 2.4 - علمِ حصولی اور علمِ حضوری میں فرق  ِ 2.5 - اسم اعظم کیا ہے  ِ 2.6 - وظائف نمازِ عشا کے بعد کیوں کیئے جاتے ہیں  ِ 2.7 - روزہ روح کی بالیدگی کا ذریعہ ہے  ِ 2.8 - نام کا انسانی زندگی سے کیا رشتہ ہے اور نام مستقبل پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں؟  ِ 2.9 - جب ایک ہی جیسی اطلاعات سب کو ملتی ہیں تو مقدرات اور نظریات میں تضاد کیوں ہوتا ہے؟  ِ 3.1 - نماز اور مراقبہ  ِ 3.2 - ایسی نماز جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق حضور قلب اور خواہشات، منکرات سے روک دے کس طرح ادا کی جائے؟  ِ 3.3 - روح کا عرفان کیسے حاصل کیا جائے؟  ِ 3.4 - مخلوق کو کیوں پیدا کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کو پہچاننے کا طریقہ کیا ہے؟  ِ 3.5 - چھ دائرے کیا ہیں، تین پرت سے کیا مراد ہے؟  ِ 3.6 - روح انسانی سے آشنا ہونے کا طریقہ کیا ہے؟  ِ 3.7 - مراقبہ کیا ہے۔ مراقبہ کیسے کیا جائے؟  ِ 4.1 - تعارف سلسلہ عظیمیہ  ِ 4.2 - سلسلہ عظیمیہ کے اغراض و مقاصد اور قواعد و ضوابط  ِ 5.1 - مراقبہ سے علاج  ِ 5.2 - مراقبہ کی تعریف  ِ 5.3 - مراقبہ کے فوائد اور مراقبہ کی اقسام  ِ 5.4 - مراقبہ کرنے کے آداب  ِ 5.5 - سانس کی مشق  ِ 5.6 - مراقبہ کس طرح کیا جائے۔ خیالات میں کشمکش  ِ 5.7 - تصورِ شیخ کیا ہے اور کیوں ضروری ہے  ِ 5.9 - مراقبہ سے علاج  ِ 6.1 - سانس کی لہریں  ِ 6.2 - روحانی علم کو مخفی علم یا علم سینہ کہہ کر کیوں عام نہیں کیا گیا  ِ 6.3 - اللہ تعالیٰ پر یقین رکھنے اور توکل کرنے کے کیا معانی ہیں  ِ 6.4 - رحمانی طرز فکر کو اپنے اندر راسخ کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے  ِ 6.5 - واہمہ، خیال تصور اور احساس میں کیا فرق ہے؟  ِ 6.6 - ہمارا ماحول ہمیں کس حد تک متاثر کرتا ہے؟  ِ 7 - کیا نہیں ہوں میں رب تمہارا؟  ِ 7.2 - لوح اول اور لوح دوئم کیا ہیں  ِ 7.3 - علمِ حقیقت کیا ہے  ِ 7.4 - علمِ حصولی اور علم حضوری سے کیا مراد ہے  ِ 7.5 - روح کیا ہے  ِ 8 - انسان اور آدمی  ِ 9 - انسان اور لوحِ محفوظ  ِ 10.1 - احسن الخالقین  ِ 10.2 - روحانی شاگرد کو روحانی استاد کی طرز فکر کس طرح حاصل ہوتی ہے۔  ِ 10.3 - روحانی علوم حاصل کرنے میں زیادہ وقت کیوں لگ جاتا ہے؟  ِ 10.4 - تصورات جسم پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں  ِ 10.5 - یادداشت کیوں کمزور ہو جاتی ہے؟  ِ 10.6 - تصور سے کیا مراد ہے  ِ 10.7 - کسی بزرگ کا قطب، غوث، ابدال یا کسی اور رتبہ پر فائز ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟  ِ 10.8 - تصور کیا ہے  ِ 10.9 - کرامت کی توجیہہ  ِ 10.10 - مختلف امراض کیوں پیدا ہوتے ہیں  ِ 11 - تصوف اور صحابہ کرام  ِ 12 - ایٹم بم  ِ 13 - نو کروڑ میل  ِ 14 - زمین ناراض ہے  ِ 15 - عقیدہ  ِ 16 - کیا آپ کو اپنا نام معلوم ہے  ِ 17 - عورت مرد کا لباس  ِ 18 - روشنی قید نہیں ہوتی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)