روحِ اعظم، روحِ انسانی، روحِ حیوانی اور لطائفِ ستّہ

کتاب : لوح و قلم

مصنف : حضور قلندر بابا اولیاءؒ

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2874

مخلوق کی ساخت میں روح کے تین حصّے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔روحِ اعظم، روحِ انسانی، روحِ حیوانی۔
روحِ اعظم علم واجب کے اَجزاء سے مرکّب ہے۔
روحِ انسانی علمِ وَحدت کے اَجزاء سے بنتی ہے۔ اور
روحِ حیوانی ‘‘جُو’’ کے اَجزاء ترکیبی پر مشتمل ہے۔
روحِ اعظم کی إبتداء لطیفۂِ اخَفیٰ اور انتہا لطیفۂِ خَفی ہے۔ یہ روشنی کا ایک دائرہ ہے جس میں کائنات کی تمام غیب کی معلومات نقش ہوتی ہیں۔
یہ وہی معلومات ہیں جو ازل سے ابد تک کے واقعات کے متَنِ حقیقی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس دائرے میں مخلوق کی مصلحتوں اور اَسرار کا ریکارڈ محفوظ ہے۔ اس دائرہ کو ثابِتہ کہتے ہیں۔
روحِ انسانی کی إبتداء لطیفۂِ سری ہے اور انتہا لطیفۂِ روحی ہے۔ یہ بھی روشنی کا ایک دائرہ ہے۔ اس دائرے میں وہ اَحکامات نقش ہوتے ہیں جو زندگی کا کردار بنتے ہیں۔ اس دائرے کا نام ‘‘اَعیان’’ہے۔
روحِ حیوانی کی إبتداء لطیفۂِ قلبی اور انتہا لطیفۂِ نفسی ہے۔ یہ روشنی کا تیسرا دائرہ ہے۔ اس کا نام ’’جَویَّہ‘‘ ہے۔ اس دائرے میں زندگی کا ہر عمل ریکارڈ ہوتا ہے۔ عمل کے وہ دونوں حصّے جن میں اللہ تعالیٰ کے اَحکام کے ساتھ جنّ و انس کا اِختیار بھی شامل ہے جُزو درجُزو نقش ہوتے ہیں۔
روشنی کے یہ تینوں دائرے تین اوراق کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہوتے ہیں۔ ان کا مجموعی نام روح، امرِ ربّی، جُزوِ لاتجزأ یا انسان ہے۔
لطیفہ اس شکل وصورت کا نام ہے جو اپنے خدّوخال کے ذریعے معنی کا انکشاف کرتا ہے۔ مثلاً شمع کی لَو ایک ایسا لطیفہ ہے جس میں اجالا، رنگ اور گرمی تینوں ایک جگہ جمع ہو گئے ہیں۔ (ان کی ترتیب سے ایک شعلہ بنتا ہے جو شُہود کی ایک شکل ہے)۔ ان تین اَجزاء سے مل کر شُہود کی ایک بننے والی شکل کا نام شعلہ رکھا گیا ہے۔ یہ شعلہ جن اَجزاء کا مظہر ہے۔ ان میں سے ہر جُزو کو ایک لطیفہ کہیں گے۔
لطیفہ نمبر۱: شعلہ کا اجالا ہے۔
لطیفہ نمبر۲: شعلہ کا رنگ ہے۔
لطیفہ نمبر۳: شعلہ کی گرمی ہے۔
ان تینوں لطیفوں کا مجموعی نام شمع ہے۔ جب کوئی شخص لفظ شمع استعمال کرتا ہے تو معنوی طور پر اس کی مراد تینوں لطیفوں کی یکجا صورت ہوتی ہے۔
اس طرح انسان کی روح میں چھ لطیفے ہوتے ہیں جس میں پہلا لطیفہ اخَفیٰ ہے۔ لطیفۂِ اخَفیٰ علمِ الٰہی کی فلم کا نام ہے۔ یہ فلم لطیفۂِ خَفی کی روشنی میں مشاہدہ کی جا سکتی ہے۔ ان دونوں لطیفوں کا اجتماعی نام ثابِتہ ہے۔ اس طرح ثابِتہ کے دو اِطّلاق ہوئے۔ ایک اِطّلاق علمِ الٰہی کے تمثُّلات ہیں اور دوسرا اِطّلاق روح کی وہ روشنی ہے جس کے ذریعے تمثُّلات کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ تصوّف کی زبان میں دونوں اِطّلاق کا مجموعی نام تدلّٰی ہے۔ تدلّٰی دراصل اسماءِ الٰہیہ کی تشکیل ہے۔ اسماءِ الٰہیہ اللہ تعالیٰ کی وہ صفات ہیں جو ذات کا عکس بن کر تنزّل کی صورت اِختیار کر لیتی ہیں۔ یہی صفات مَوجودات کے ہر ذرّے میں تدلّٰی بن کر محیط ہوتی ہیں۔ پیدائش، عروج اور زوال کی مصلحتیں اس ہی تدلّٰی میں مندرج ہیں۔ اس ہی تدلّٰی سے علمِ الٰہی کے عکس کی إبتداء ہوتی ہے۔ جس انسان پر علمِ الٰہی کا یہ عکس مُنکشِف ہو جاتا ہے وہ تقدیرِ ربانی سے مُطّلع ہو جاتا ہے۔ اس ہی تدلّٰی یا تجلّی کا اِندراج ثابِتہ میں ہوتا ہے۔ جیسےالٓمّٓ خالق اور مخلوق کے درمیانی ربط کی تشریح ہے یعنی الٓمّٓ کی رُموز کو سمجھنے والا اللہ تعالیٰ کی صفَت تدلّٰی یا رمزِ حکمرانی کو پڑھ لیتا ہے۔
تدلّٰی کا علم رکھنے والا کوئی انسان جب الٓمّٓ پڑھتا ہے تو اس پر وہ تمام اَسرار و رُموز مُنکشِف ہو جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ میں بیان فرمائے ہیں۔ الٓمّٓ کے ذریعے صاحبِ شُہود پر وہ اَسرار مُنکشِف ہو جاتے ہیں جو مَوجودات کی رگ جاں ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی اس صفَت تدلّٰی کو دیکھ لیتا ہے جو کائنات کے ہر ذرّے کی روح میں بشکلِ تجلّی پیوست ہے۔ کوئی اہلِ شُہود جب کسی فرد کے لطیفۂِ خَفی میں الٓمّٓ لکھا دیکھتا ہے تو یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس نقطے میں صفَت تدلّٰی کی روشنیاں جذب ہیں۔ یہی روشنیاں ازل سے ابد تک کے تمام واقعات کا انکشاف کرتی ہیں۔ لطیفۂِ خَفی کے باطن کا انکشاف لطیفۂِ اخَفیٰ کا انکشاف ہے اور دونوں لطیفوں کا اجتماعی نام روحِ اعظم یا ثابِتہ ہے۔
اگر ہم ثابِتہ کو ایک نقطہ یا ایک ورق فرض کر لیں تو اس ورق کا ایک صفحہ لطیفۂِ اخَفیٰ اور دوسرا صفحہ لطیفۂِ خَفی ہو گا۔ فی الواقع لطیفۂِ خَفی نوری تحریر کی ایک مختصر شکل (SHORT FORM) ہے جس کو پڑھنے کے بعد کوئی صاحب اَسرار اس کے پورے مفہوم سے مُطّلع ہو جاتا ہے۔ اس مفہوم کے متعلّق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ مختصر ہے کیونکہ SHORT FORM ہونے کے باوجود وہ اپنی جگہ کسی فرد کی پیدائش سے متعلّق اللہ تعالیٰ کی تمام مَصلِحتوں کی تشریح ہوتا ہے۔ اس ہی چیز کو اَسرار کی اِصطلاح میں اسماء یا علمِ قلم کہا جاتا ہے۔ یہ علم دو حصّوں پر مشتمل ہے۔
پہلا حصّہ: اسماءِ الٰہیہ
دوسرا حصّہ: علمِ حروفِ مُقطّعات

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 36 تا 39

لوح و قلم کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 0.02 - عرضِ احوال  ِ 1 - بسمِ اللہِ الرّحمٰن الرّحیم  ِ 2 - عالمِ رُؤیا سے انسان کا تعلق  ِ 3 - رُؤیا کی صلاحیّتوں کے مَدارِج  ِ 4 - لوحِ اوّل یا لوحِ محفوظ  ِ 5 - لوحِ دوئم  ِ 6 - عالمِ جُو  ِ 7 - کثرت کا اَجمال  ِ 8 - ‘‘جُو’’ کا واسطہ  ِ 9 - احساس کی درجہ بندی  ِ 10 - وَحدتُ الوُجود اور وَحدتُ الشُہود  ِ 11 - روحِ اعظم، روحِ انسانی، روحِ حیوانی اور لطائفِ ستّہ  ِ 12 - اسماءِ الٰہیہ  ِ 13 - اسماءِ الٰہیہ کی تعداد گیارہ ہزار ہے  ِ 14 - خواب اور بیداری  ِ 15 - لوحِ محفوظ اور مراقبہ  ِ 16 - تدلّٰی  ِ 17 - کُن فیَکون  ِ 18 - علمِ لدُنّی  ِ 19 - ہر اسم تین تجلّیوں کا مجموعہ ہے  ِ 20 - اسمِ ذات  ِ 21 - روح کی مرکزیّتیں اور تحریکات  ِ 22 - لطیفۂِ نفسی کی حرکت  ِ 23 - باصرہ اور شُہود نفسی  ِ 24 - عملِ اِسترخاء  ِ 25 - علم ‘‘لا’’ اور علم ‘‘اِلّا’’  ِ 26 - ‘‘لا’’ کا مراقبہ  ِ 27 - قوّتِ اَلقاء  ِ 28 - سالک مجذوب، مجذوب سالک  ِ 29 - نسبت کا بیان  ِ 30 - ٹائم اسپیس کا قانون  ِ 31 - زمانیت اور مکانیت کا راز  ِ 32 - کائنات کی ساخت  ِ 33 - نیابت کیا ہے؟  ِ 34 - لوحِ محفوظ کا قانون  ِ 35 - اَنا یا انسانی ذہن کی ساخت  ِ 36 - علمُ الیقین، عینُ الیقین، حقُ الیقین  ِ 37 - تخلیق کا قانون  ِ 38 - انبیاء کے مقامات  ِ 39 - تخلیق کا فارمولا  ِ 40 - ماضی اور مستقبل  ِ 41 - زمان و مکان کی حقیقت  ِ 42 - اِدراک کیا ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)