روحانی علوم

کتاب : آگہی

مصنف : خواجہ شمس الدۤین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=11682

مورخہ 4مارچ 2001 ؁ء بروز اتوار
ہماری پوری زندگی مشاہدوں پر قائم ہے۔ جب بچہ اس دنیا میں آتا ہے تو وہ کچھ بھی نہیں جانتا لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے اس کے اندر جاننے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ بچہ ماں سے، باپ سے، خاندان سے، برادری سے، ملک و قوم سے اور پھر اسکول و کالج کے ماحول سے واقف ہوتا رہتا ہے۔ جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا ہے ذہن بھی بڑا ہوتا رہتا ہے۔

علم حاصل کرنے کے بعد بچے کے دماغ میں وسعت آتی ہے۔ مشاہدات سے کس قدر فائدہ اٹھایا اور تجربہ حاصل کیا؟ جتنے زیادہ علوم سیکھتے ہیں دماغ میں اتنی ہی وسعت پیدا ہوتی ہے۔

سنار زیور بناتا ہے۔ مضمون نگار مضمون لکھتا ہے۔ انسان اور حیوان میں یہ فرق ہے کہ انسان میں علم سیکھنے کی صلاحیت ہے۔ علم یہ ہے کہ کائنات کا کھوج لگا کر کائنات کی حقیقت کا ادراک کیا جائے۔ غور کرنا چاہئے کہ زمین کیا ہے؟ سات آسمان کیا ہیں؟ فرشتے کیا کام کرتے ہیں؟ جنات اور فرشتوں کی ساخت کیا ہے؟ علم شریعت کیا ہے؟ علم طریقت کیا ہے؟

علم شریعت کی طرح علم طریقت کے کئی شعبے ہیں۔

سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دور میں صحابہ کرامؓ کی زندگی حضورﷺ کے ارد گرد گزرتی تھی۔ صحابہ کرامؓ آپﷺ سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے۔

جب کوئی آیت نازل ہوتی تھی تو آپﷺ بیان فرما دیتے تھے۔ صحابہ کرامؓ کی مرکزیت رسول اللہﷺ کی ذات اقدس تھی۔ جب کسی شئے کی مرکزیت قائم ہو جاتی ہے تو غور و فکر سے حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔

جب ہم آسمان اور آسمانی علوم پر تفکر کرتے ہیں تو ہماری مرکزیت آسمانی علوم ہوتے ہیں اور جب ہم زمین پر پھیلی ہوئی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر غور و فکر کرتے ہیں تو ہمارا ذہن ان حقائق کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے جن حقائق میں زمین اورآسمان کے معاملات ہیں۔
صحابہ کرامؓ کی مرکزیت نور نبوت تھی۔ اس لئے ان کو آسمانی علوم سیکھنے میں دقت پیش نہیں آتی تھی۔ سیدنا حضورﷺ کے ارشاد عالی پر وہ تفکر کرتے تھے اور تفکر کے نتیجے میں ان کو علم حاصل ہوتا تھا اور ان کے اوپر حقائق منکشف ہوتے تھے۔ رسولﷺ کے شب و روز ان کے سامنے تھے۔ رسولﷺ کی گفتگو وہ نہایت توجہ سے سنتے تھے۔ رسولﷺ کی زندگی صحابہ کرامؓ کے سامنے تھی اور رسولﷺ کے فرمان اور عادت پر صدق دل سے عمل کرتے تھے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے لئے رسولﷺ کے اعمال اور ارشادات مشعل راہ تھے۔

اسلامی فرائض پورے کرنے، نماز قائم کرنے، روزہ رکھنے اور دیگر شرعی علوم پر عمل کرنے سے لطائف روشن ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین تخلیق فرمایا ہے۔ میرے دوستو! روحانی علوم سیکھئے۔ نماز قائم کیجئے۔ قرآن ترجمہ کے ساتھ پڑھئے۔ عمرہ کیجئے۔ حج کی استطاعت ہے تو حج کیجئے۔ روزے رکھئے۔ زکوٰۃ دیجئے۔ وہ سب فرائض پورے کیجئے جو اسلام نے فرض کئے ہیں۔ روحانی علوم اور تسخیر کائنات کا علم قرآن پاک میں موجود ہے، ان علوم کو تلاش کیجئے۔

 

 
لیکچر8

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 249 تا 251

آگہی کے مضامین :

ِ انتساب  ِ پیش لفظ  ِ 1 - روحانی اسکول میں تربیت  ِ 2 - با اختیار بے اختیار زندگی  ِ 3 - تین سال کا بچہ  ِ 4 - مرید کی تربیت  ِ 5 - دس سال۔۔۔؟  ِ 6 - قادرِ مطلق اللہ تعالیٰ  ِ 7 - موت حفاظت کرتی ہے  ِ 8 - باہر نہیں ہم اندر دیکھتے ہیں  ِ 9 - اطلاع کہاں سے آتی ہے؟  ِ 10 - نیند اور شعور  ِ 11 - قانون  ِ 12 - لازمانیت اور زمانیت  ِ 13 - مثال  ِ 14 - وقت۔۔۔؟  ِ 15 - زمین پر پہلا انسان  ِ 16 - خالق اور مخلوق  ِ 17 - مٹی خلاء ہے۔۔۔  ِ 18 - عورت کے دو رُخ  ِ 19 - قانون  ِ 20 - ہابیل و قابیل  ِ 21 - آگ اور قربانی  ِ 22 - آدم زاد کی پہلی موت  ِ 23 - روشنی اور جسم  ِ 24 - مشاہداتی نظر  ِ 25 - نیند اور بیداری  ِ 26 - جسمِ مثالی  ِ 27 - گیارہ ہزار صلاحیتیں  ِ 28 - خواتین اور فرشتے  ِ 29 - روح کا لباس؟  ِ 30 - ملت حنیف  ِ 31 - بڑی بیگمؓ، چھوٹی بیگمؓ  ِ 32 - زم زم  ِ 33 - خواتین کے فرائض  ِ 34 - تیس سال پہلے  ِ 36 - کہکشانی نظام  ِ 37 - پانچ حواس  ِ 38 - قانون  ِ 39 - قدرِ مشترک  ِ 40 - قانون  ِ 41 - پچاس سال  ِ 42 - زندگی کا فلسفہ  ِ 43 - انسانی مشین  ِ 44 - راضی برضا  ِ 45 - زمانے کو بُرا نہ کہو، زمانہ اللہ تعالیٰ ہے(حدیث)  ِ 46 - مثال  ِ 47 - سائنس اور روحانیت  ِ 48 - مادی دنیا اور ماورائی دنیا  ِ 49 - چاند گاڑی  ِ 50 - تین ارب سال  ِ 51 - کائناتی نظام  ِ 52 - تخلیق کا قانون  ِ 53 - تکوین  ِ 54 - دو علوم۔۔۔  ِ 55 - قانون  ِ 56 - ذات کا عرفان  ِ 57 - روحانی شاگرد  ِ 58 - ذات کی نفی  ِ 59 - پانچ کھرب بائیس کروڑ!  ِ 60 - زندگی کا تجزیہ  ِ 61 - عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ  ِ 62 - دین فطرت  ِ 63 - عید  ِ 64 - ملائکہ اعلان کرتے ہیں  ِ 65 - بچے اور رسول اللہﷺ  ِ 66 - افکار کی دنیا  ِ 67 - مثال  ِ 68 - تحقیق و تلاش  ِ 69 - Kirlian Photography  ِ 70 - قرآن علوم کا سرچشمہ ہے  ِ 71 - روشنی سے علاج  ِ 72 - روشنی کا عمل  ِ 73 - چھ نقطے  ِ 74 - قانون  ِ 75 - امراض کا روحانی علاج  ِ 76 - مشق کا طریقہ  ِ 77 - نور کا دریا  ِ 78 - ہر مخلوق عقل مند ہے  ِ 79 - موازنہ  ِ 80 - حضرت جبرائیل ؑ  ِ 81 - ڈائری  ِ 82 - ماں کی محبت  ِ 83 - حضرت بہاؤ الدین ذکریا ملتانیؒ  ِ 84 - اکیڈمی میں ورکشاپ  ِ 85 - زمین اور آسمان  ِ 86 - ورد اور وظائف  ِ 87 - آواز روشنی ہے  ِ 88 - مثال  ِ 89 - نگینوں سے علاج  ِ 90 - تقدیر کیا ہے؟  ِ 91 - مثال  ِ 92 - حضرت علیؓ کا ارشاد  ِ 93 - فرشتے، جنات اور آدم ؑ  ِ 94 - انسان اور موالید ثلاثہ  ِ 95 - سلطان  ِ 96 - مثال  ِ 97 - دو رخ  ِ 98 - سیاہ نقطہ  ِ 99 - قانون  ِ 100 - کوئی معبود نہیں مگر اللہ تعالی۔۔۔  ِ 101 - تین کمزوریاں  ِ 102 - عفو و درگذر  ِ 103 - عام معافی  ِ 104 - توازن  ِ 105 - شکر کیا ہے؟  ِ 106 - قافلہ سالار  ِ 107 - ٹیم ورک  ِ 108 - سلسلہ عظیمیہ کے ارکان کی ذمہ داری  ِ 109 - چھوٹوں کی اصلاح  ِ 110 - ایک نصیحت  ِ 111 - صبحِ بہاراں  ِ 112 - دنیا مسافر خانہ ہے  ِ 113 - روح کیا ہے؟  ِ 114 - سانس کی مشقیں  ِ 115 - من کی دنیا  ِ 116 - بے سکونی کیوں ہے؟  ِ 117 - غور و فکر  ِ 118 - روحانی علوم  ِ 119 - ہمارے بچے  ِ 120 - اللہ تعالیٰ بہت بڑے ہیں  ِ 121 - اللہ ھُو  ِ 122 - اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کو مانگو  ِ 123 - قربت  ِ 124 - ہر مخلوق باشعور ہے  ِ 125 - کامیاب زندگی  ِ 126 - انا کی لہریں  ِ 127 - صدقۂ جاریہ  ِ 128 - ادراک یا حواس
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message