یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

روحانی سیر

کتاب : مراقبہ

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=12477

مسلسل مراقبہ اور استاد کی توجہ و نگرانی کے نتیجے میں شاگرد کے اندر روشنی کا ذخیرہ ہو جاتا ہے اور شعور کا آئینہ صاف ہو جاتا ہے۔ اس وقت شاگرد کی روحانی سیر شروع ہو جاتی ہے۔ اس سیر کے دو مراتب و مدارج ہیں۔ پہلے مرتبے میں آدمی تمام مشاہدات و انکشافات کو اس شعور کے ساتھ دیکھتا ہے کہ وہ بعد (دوری) میں واقع ہیں۔ یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچ جاتا ہے اور عرش پر تجلی صفات کی نعمت سے سرفراز ہوتا ہے۔  اس طرزِ مشاہدہ کو سیر آفاق کہتے ہیں۔

جب سیر آفاقی پوری ہو جاتی ہے اور طالب علم پر اللہ کا فضل و کرم ہوتا ہے۔ تو سیر انفس شروع ہوتی ہے۔ اس درجے میں واردات و مشاہدات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں کوئی شخص تمام عالم کو اپنے نقطہ ذات کا حصّہ دیکھتا ہے اور موجودات ذات کے اندر نظر آتی ہیں۔ اہل اللہ اس طرز ادراک کو سیر انفس کہتے ہیں۔ سیر انفس کی انتہا پر عارف باللہ، اللہ کو تجلی کی صورت میں ورائے عرش دیکھتا ہے۔ قرآن پاک کی ان دو آیات میں سیر انفس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:

  1. ’’وہ تمہارے نفسوں میں ہے، کیا تم دیکھتے نہیں۔‘‘
  2. ’’ہم بہت جلد دکھائیں گے اپنی نشانیاں آفاق اور انفس میں ، یہاں تک کہ کھل جائے گا ان پر حق۔‘‘
    (پارہ 25آیت نمبر 1)

جب کوئی شخص اس درجے پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کی باطنی نظر متحرک ہو جائے تو اس سے یہ مراقبہ کرایا جاتا ہے کہ تمام عالم ایک آئینہ ہے جس پر انوار الٰہی کا عکس پڑ رہا ہے۔ اس تصور کے ذریعے سیر آفاقی شروع ہو جاتی ہے۔ اگلے مرحلے میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ صاحب ِمراقبہ خود، ایک آئینہ ہے۔ جس میں انوار و صفات الٰہی کا عکس پڑ رہا ہے۔ یہ تصور سیر انفس کی ابتداء کرتا ہے۔ اس سیر کی انتہا پر اپنے اندر موجود آئینے کی بھی نفی کر دی جاتی ہے۔ تا کہ ذات باری تعالیٰ کا ادراک کمال کو پہنچ جائے۔

ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ طالب علم پہلے یہ تصور کرتا ہے کہ اس کا قلب عرش سے ایک نسبت و تعلق رکھتا ہے چنانچہ صاحبِ‏‏‎‍ مراقبہ عروج کرتا ہوا عرش تک پہنچ جاتا ہے۔ اگلے مرحلے میں وہ مراقبہ میں اور چلتے پھرتے ان آیات قرآنی کا تصور اپنے اوپر محیط کر دیتا ہے کہ:

  1. ’’وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو۔‘‘
  2. ’’وہ تمہاری رگ جاں سے بھی زیادہ قریب ہے۔‘‘
  3. وہ تمہارے نفسوں کے اندر ہے، کیا تم نہیں دیکھتے۔‘‘ (قرآن)

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 306 تا 308

یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ کے مضامین :

ِ انتساب  ِ 1 - انفس و آفاق  ِ 2 - ارتکاز توجہ  ِ 3 - روحانی دماغ  ِ 4 - خیالات کی لہریں  ِ 5 - تیسری آنکھ  ِ 6 - فلم اور اسکرین  ِ 7 - روح کی حرکت  ِ 8.1 - برقی نظام  ِ 8.2 - تین کرنٹ  ِ 9.1 - تین پرت  ِ 9.2 - نظر کا قانون  ِ 10 - كائنات کا قلب  ِ 11 - نظریہ توحید  ِ 12.1 - مراقبہ اور مذہب  ِ 12.2 - تفکر  ِ 12.3 - حضرت ابراہیم ؑ  ِ 12.4 - حضرت موسیٰ ؑ  ِ 12.5 - حضرت مریم ؑ  ِ 12.6 - حضرت عیسیٰ ؑ  ِ 12.7 - غار حرا  ِ 12.8 - توجہ الی اللہ  ِ 12.9 - نماز اور مراقبہ  ِ 12.10 - ذکر و فکر  ِ 12.11 - مذاہب عالم  ِ 13.1 - مراقبہ کے فوائد  ِ 13.2 - شیزو فرینیا  ِ 13.3 - مینیا  ِ 14.1 - مدارج  ِ 14.2 - غنود  ِ 14.3 - رنگین خواب  ِ 14.4 - بیماریوں سے متعلق خواب  ِ 14.5 - مشورے  ِ 14.6 - نشاندہی  ِ 14.7 - مستقبل سے متعلق خواب  ِ 15.1 - لطیف احساسات  ِ 15.2 - ادراک  ِ 15.3 - ورود  ِ 15.4 - الہام  ِ 15.5 - وحی کی حقیقت  ِ 15.6 - کشف  ِ 16 - سیر  ِ 17 - فتح  ِ 18.1 - مراقبہ کی اقسام  ِ 18.2 - وضاحت  ِ 18.3 - عملی پروگرام  ِ 18.4 - اندازِ نشست  ِ 18.5 - جگہ اور اوقات  ِ 18.6 - مادی امداد  ِ 18.7 - تصور  ِ 18.8 - گریز  ِ 18.9 - مراقبہ اور نیند  ِ 18.10 - توانائی کا ذخیرہ  ِ 19.1 - معاون مشقیں  ِ 19.2 - سانس  ِ 19.3 - استغراق  ِ 20.1 - چار مہینے  ِ 20.2 - قوتِ مدافعت  ِ 20.3 - دماغی کمزوری  ِ 21 - روحانی نظریہ علاج  ِ 22.1 - رنگ روشنی کا مراقبہ  ِ 22.2 - نیلی روشنی  ِ 22.3 - زرد روشنی  ِ 22.4 - نارنجی روشنی  ِ 22.5 - سبز روشنی  ِ 22.6 - سرخ روشنی  ِ 22.7 - جامنی روشنی  ِ 22.8 - گلابی روشنی  ِ 23 - مرتبہ احسان  ِ 24 - غیب کی دنیا  ِ 25.1 - مراقبہ موت  ِ 25.2 - اعراف  ِ 25.3 - عظیم الشان شہر  ِ 25.4 - کاروبار  ِ 25.5 - علمائے سوء  ِ 25.6 - لگائی بجھائی  ِ 25.7 - غیبت  ِ 25.8 - اونچی اونچی بلڈنگیں  ِ 25.9 - ملک الموت  ِ 25.10 - مراقبہ نور  ِ 26.1 - کشف القبور  ِ 26.2 - شاہ عبدالعزیز دہلویؒ  ِ 27 - روح کا لباس  ِ 28.1 - ہاتف غیبی  ِ 28.2 - تفہیم  ِ 28.3 - روحانی سیر  ِ 28.4 - مراقبہ قلب  ِ 28.5 - مراقبہ وحدت  ِ 28.6 - ’’لا‘‘ کا مراقبہ  ِ 28.7 - مراقبہ عدم  ِ 28.8 - فنا کا مراقبہ  ِ 28.9 - مراقبہ، اللہ کے نام  ِ 28.10 - اسم ذات  ِ 29 - تصورشیخ  ِ 30 - تصور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام  ِ 31 - ذات الٰہی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)