رنگوں کے خواص

کتاب : رنگ و روشنی سے علاج

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=9485

اب ہم ہلکے نیلے اورگہرے نیلے رنگ کے خواص بیان کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ہلکے نیلے رنگ کااثردماغی خلیوں پرپڑتاہے۔ اگرچہ دماغی خلیوں کا رنگ ہلکا نیلا الگ الگ ہوتاہے۔ لیکن ان خلیوں کی دیواریں ہلکی اور موٹی ہوتی ہیں۔ پھر ان میں رنگوں کے چھاننے کے اثرات بھی موجود ہیں۔ ایک خلیہ اپنے ہلکے نیلے رنگ کو جب چھانتاہے تواس رنگ میں تبدیلی واقع ہوتی ہے اس طرح لاکھوں خلئے مل کر اپنا تصرف کرتے ہیں۔ تصرف کا مطلب یہ ہے کہ ایک فلسفی ان خلیوں کو اور ان خلیوں کے تمام تصرفات کوایک ہی طرف متوجہ کرلیتاہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تمام خلیوں کا تصرف یکجا ہوکر ایک تخیّل بن جاتا ہے۔ اب تصرف کا اختلاف قسم قسم کے فلسفے تخلیق کرتاہے اور ان کی تخلیقات یہاں تک ہوتی ہیں کہ وہ اکثر ایک عملی شکل اختیار کرلیتی ہیں پھر اسی علم کے اندر اختلافات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ جس سے بحث کی باریکیاں نکل آتی ہیں۔ منشاء اس کے بیان کرنے کا یہ ہے کہ یہ اختلاف ایک دوسرے فلسفہ کا مخالف فلسفہ بن جاتاہے۔ پہلے دلائل میں معمولی اختلافات ہوتے ہیں۔ پھر یہی معمولی اختلافات بڑھ کر غیر معمولی ہوجاتے ہیں۔ یہ سب اس تصرف کا کرشمہ ہے جو خلیوں کا رنگ بدلنے سے ہوتاہے ۔ کبھی کبھی ان خلیوں کا رنگ اتنا تبدیل ہوجاتاہے کہ نگاہ  انہیں بالکل سرخ ، سبز، زرد وغیرہ رنگوں میں دیکھنے لگتی ہے۔ اس لئے کہ باہر سے جو روشنیاں جاتی ہیں۔ ان میں اسپیس(SPACE)نہیں ہوتا بلکہ خلیوں کے تصرف سے اسپیس بنتاہے ۔ خلیوں کاتصرف جب اسپیس بناتاہے توآنکھوں کے ذریعہ باہر سے جانے والی کرنوں کو الٹ پلٹ کر دیتاہے نتیجہ میں رنگوں کی تبدیلیاں یہاں تک واقع ہوتی ہیں کہ وہ ساٹھ سے زیادہ تک گنے جاسکتے ہیں۔

مثلاً سرخ رنگ کو لیجئے خلئے ان پر اتنا تصرف کرتے ہیں کہ ذرات مل کر آنکھ کے پردوں پر اپنی تیزی پھینکتے ہیں۔ یہ تیزی ایک دوسرے میں خلط ملط ہونے کے بعد سرخ رنگ نظرآنے لگتی ہے۔ اسی طرح خلیوں کا اورتصرف ہوتا ہے، مثلاً رنگ تبدیل ہوکر سبز ہوجاتے ہیں۔ زرد ہوجاتے ہیں، نارنجی ہوجاتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ اور کتنے ہی رنگ بدل جاتے ہیں۔ ان رنگوں میں عجیب عجیب تاثرات ہیں، یہی رنگ مل کر حواس بناتے ہیں ۔ مثلاً سننے کے حواس بہت سارے خلیوں کے عمل سے ترتیب پاتے ہیں۔

ہمارے ارد گرد بہت سی آوازیں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کے قطر بہت چھوٹے اوربہت بڑے ہوتے ہیں جن کو انگریزی میں ویولینتھ (Wave Length)کہتے ہیں۔

سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ چار سوقطرسے نیچے کی آوازیں آدمی نہیں سن سکتا۔ ایک ہزارچھ سو قطر سے زیادہ اونچی آوازیں بھی آدمی نہیں سن سکتا۔ چارسو ویولینتھ (Wave Length)سے نیچے کی آوازیں برقی روکے ذریعہ سنی جا سکتی ہیں اور ایک ہزار چھ سو ویو لینتھ کی آوازیں بھی بجز برقی رو کے سننا ممکن نہیں۔ یہ ایک قسم کی حس کا عمل ہے جو دماغی خلئے بناتے ہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہ سب آسمانی رنگ کے تاثر سے ہوتاہے۔ یہ رنگ خلیوں میں، خلیوں کی بساط کے مطابق عمل کرتاہے ۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ آسمانی رنگ جوفی الواقع ایک برقی روہے، دماغی خلیوں میں آنے کے بعد اسپیس بن جاتاہے۔ یہ اسپیس بے شمار میں رنگوں میں تقسیم ہوجاتی ہے اور یہ ہی رنگ آنکھ کے پردہ پر مختلف شکلوں میں نظر آتے ہیں۔

آنکھ کے پردوں پر جو عمل ہوتاہے وہ خلئے کے اندر بہنے والی رو سے بنتاہے۔ آنکھ کی حس جس قدرتیزہوتی ہے، اتنا ہی رو میں امتیاز کر سکتی ہے لیکن پھر بھی خلیوں کی روکا آپس کا تعلق برقرار رہتاہے۔ اس تعلق کی وجہ سے نگاہ کے پردے متاثر ہوتے ہیں اور ان میں ساٹھ سے زیادہ رنگ تک امتیاز ہوجاتاہے ۔ اس کے بعد برقی روسے امداد لینا پڑتی ہے بالکل اس طرح جس طرح کان کی ویو لینتھ کو چار سو سے کم یا سولہ سوبڑھاکر کی جاتی ہے۔

ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ کوئی شخص ساٹھ رنگ سے زیادہ قبول نہ کرے یا اس سے کم پر اکتفا کرلے۔ لیکن یہ بات یہاں بتانا اس لئے ضروری ہے کہ دماغی خلیوں سے اور ان کی برقی رو سے تمام اعصاب کا تعلق ہے۔ تمام اعصاب پر اس کا اثرپڑتاہے جیسا کہ ہم نے تذکرہ کیا ہے کہ کان کی ویولینتھ ، برقی رو کے ذریعہ چارسو سے کم یا سولہ سے زیادہ کی جا سکتی ہے۔ اس کے معنی یہ بھی نکلتے ہیں کہ ہم مستقل برقی رو میں گھرے ہوئے ہیں۔ یہ برقی روکتنے قسم کی ہے،کتنی تعداد پر مشتمل ہیں ، اس کا شمار کیاہے، آدمی کسی ذریعہ سے گن نہیں سکتا۔ البتہ یہ برقی رودماغی خلیوں کے تصرف سے باہر آتی ہے تو طرح طرح کے رنگوں کا جال آنکھوں کے سامنے لاتی ہے۔ علاوہ آنکھوں کے ، چکھنے کی حس، سونگھنے کی حس، سوچنے کی حس، بولنے کی حس، اورچھونے کی حس وغیرہ اسی سے بنتی ہے۔

وغیرہ سے مراد یہ نہیں ہے کہ حسّیں تعداد میں اتنی ہی ہیں بلکہ یقیناًاور بہت سی حسّیں ہیں جو انسان کے علم میں نہیں ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 26 تا 29

رنگ و روشنی سے علاج کے مضامین :

ِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ  ِ وَمَا ذَرَالَکُم… القرآن  ِ انتساب  ِ بنظرِ خدمت  ِ عرضِ مکرّر  ِ رنگین بوتلیں اور ٹرانسپیرنٹ شیٹ بنانے کا طریقہ  ِ 1.1 - زندگی اور رنگ  ِ 1.2 - فوٹان اور الیکٹران  ِ 1.3 - کہکشانی نظام اور دو کھرب سورج  ِ 1.4 - دوپیروں اور چار پیروں سے چلنے والے جانور  ِ 1.5 - چہرہ میں فلم  ِ 1.6 - آسمانی رنگ کیا ہے؟  ِ 1.7 - رنگوں کا فرق  ِ 1.8 - رنگوں کے خواص  ِ 2.1 - مرگی کا دورہ  ِ 2.2 - دیوانگی یا پاگل پن کی وجوہات  ِ 2.3 - حافظہ کی کمزوری  ِ 2.4 - بخار اوراس کی قسمیں  ِ 2.5 - گلٹی کا بخار  ِ 2.6 - دِق اور سِل  ِ 2.7 - کبڑا پن  ِ 2.8 - لقوہ کی حقیقت  ِ 2.9 - ہنسلی کا ٹوٹ جانا  ِ 2.10 - فالج اورپولیو کے اسباب اور ہارٹ فیلیئر  ِ 2.11 - دل اور کو سمک ریز  ِ 2.12 - ذیابیطس اورجگر میں السر کی وجوہات  ِ 2.13 - تِلّی، پِتّہ اور گُردے کا عمل  ِ 2.14 - غیر متوازن برقی روسے جوڑوں پر ورم آجاتاہے  ِ 2.15 - اڑکر لگنے والے امراض  ِ 2.16 - کینسر کیوں ہوتاہے  ِ 3.1 - رنگ اور روشنی سے علاج کا اصول  ِ 3.2 - روشنی اور رنگ سے علاج کا طریقہ  ِ 4.1 - آسمانی رنگ کی کمی یا زیادتی سے امراض اور ان کا علاج  ِ 4.2 - سرخ رنگ  ِ 4.3 - نیلارنگ  ِ 4.4 - آسمانی رنگ  ِ 4.5 - ارغوانی اورنارنجی رنگ  ِ 4.6 - زرد رنگ  ِ 4.7 - سرخ رنگ  ِ 4.8 - رنگ سے امراض کا علاج  ِ 4.9 - آواز کا بھاری ہونا یاگلا بیٹھنا  ِ 4.10 - آنکھوں میں ورم  ِ 4.11 - آنتوں کی بیماری  ِ 4.12 - آنت کااترنا  ِ 4.13 - آدھا سیسی کا درد  ِ 4.14 - آنکھوں کے امراض  ِ 4.15 - آگ سے جلنا  ِ 4.16 - انفلوئنزا  ِ 4.17 - اختلاج قلب اور دل کی دھڑکن  ِ 4.18 - اختناق الرحم(ہسٹیریا)  ِ 4.19 - اعصابی درد  ِ 4.20 - السر  ِ 4.21 - احتلام  ِ 4.22 - اندام نہانی کی سوجن  ِ 4.23 - احساسِ کمتری  ِ 4.24 - استسقاء(پانی بھر جانا)  ِ 4.25 - ام الصبیان(سوکھا)  ِ 4.26 - بچوں کا مٹی کھانا  ِ 4.27 - بالوں کا ازوقت سفیدہونا  ِ 4.28 - بخار  ِ 4.46 - پیچش  ِ 4.47 - پیشاب کا تکلیف سے آنا  ِ 4.48 - سوتے میں پیشاب نکل جانا  ِ 4.49 - پیشاب کا باربار آنا  ِ 4.50 - پیشاب میں شکر آنا۔ ذیابیطس شکری  ِ 4.51 - تپ دق  ِ 4.52 - ڈائریا (تخمہ)  ِ 4.53 - جریان  ِ 4.54 - جلق (مادہ تولید کو ہاتھ سے ضائع کرنا)  ِ 4.55 - جسم کا بہت زیادہ دبلا ہونا  ِ 4.56 - جسم کے کسی حصے کا پھول جانا  ِ 4.57 - جسم کے کسی حصہ کاسن ہوجانا  ِ 4.58 - جسم پر آبلے  ِ 4.59 - جسم پرورم  ِ 4.60 - چھیپ ۔چنبل  ِ 4.61 - چیچک  ِ 4.62 - چوٹ  ِ 4.63 - چڑچڑاپن  ِ 4.64 - حیض  ِ 4.65 - حمل  ِ 4.66 - حملِ کاذب  ِ 4.67 - حبسِ ریاح (گیس)  ِ 4.68 - خناق  ِ 4.69 - خصیوں کی سوجن یافوطوں میں پانی آنا  ِ 4.70 - خون کی کمی  ِ 4.71 - ہائی بلڈپریشر  ِ 4.72 - لوبلڈپریشر  ِ 4.73 - خنازیر  ِ 4.74 - خارش  ِ 4.75 - داد  ِ 4.76 - دست  ِ 4.77 - دانتوں کے امراض  ِ 4.78 - دمہ  ِ 4.79 - دل میں درد  ِ 4.80 - دماغ کی تکان  ِ 4.81 - دماغ کا ورم  ِ 4.82 - ڈکاریں  ِ 4.83 - کھٹی ڈکاریں  ِ 4.84 - رقت یا مادۂ تولید میں پتلا پن  ِ 4.85 - رسولی  ِ 4.86 - رعشہ  ِ 4.87 - زکام ۔ نزلہ  ِ 4.88 - سیلان الرحم (لیکوریا)  ِ 4.89 - سر کا درد  ِ 4.90 - سینے کی جلن  ِ 4.91 - سر کے بال  ِ 4.92 - سکتہ  ِ 4.93 - سردی کی وجہ سے سوجن  ِ 4.94 - سرخبادہ  ِ 4.95 - سفید کوڑھ ۔ برص  ِ 4.96 - سوزاک  ِ 4.97 - سرطان۔کینسر  ِ 4.98 - سل  ِ 4.99 - سرسام  ِ 4.100 - سرعت  ِ 4.101 - شہوت کی زیادتی  ِ 4.102 - صفرا کی زیادتی  ِ 4.103 - صفرا کی وجہ سے قے  ِ 4.104 - فالج  ِ 4.105 - قولنج  ِ 4.106 - قبض  ِ 4.107 - قے  ِ 4.108 - کان کے امراض  ِ 4.109 - کوڑھ ۔ جذام  ِ 4.110 - کمزوری۔کاہلی  ِ 4.111 - کٹ جانا  ِ 4.112 - پاگل کتے کے کاٹے کا علاج  ِ 4.113 - خشک کھانسی  ِ 4.114 - تر کھانسی  ِ 4.115 - گردوں کا ورم  ِ 4.116 - گلے کا درد، گلے کی سوزش  ِ 4.117 - گنج  ِ 4.118 - گٹھیا  ِ 4.119 - لقوہ  ِ 4.120 - موتی جھرہ  ِ 4.121 - ملیریا  ِ 4.122 - منہ سے خون آنا  ِ 4.123 - منہ میں چھالے  ِ 4.124 - مثانے میں پتھری  ِ 4.125 - مالیخولیا۔مراق  ِ 4.126 - معدہ میں جلن  ِ 4.127 - مسّے  ِ 4.128 - مرگی  ِ 4.129 - موٹاپا کم کرنے کےلئے  ِ 4.130 - ناف ٹلنا  ِ 4.131 - نقرس اور فیل پاء  ِ 4.132 - نیند نہ آنا۔بے خوابی  ِ 4.133 - نمونیہ  ِ 4.134 - ناسور  ِ 4.135 - نکسیر  ِ 4.136 - وجع المفاصل  ِ 4.137 - نفرت، حسد اور سنگدلی  ِ 4.138 - ہاضمے کی کمزوری  ِ 4.139 - ہیضہ  ِ 4.140 - ہاتھ پیروں کا پھٹنا اور ہاتھ پیروں کی اینٹھن  ِ 4.141 - ہاتھ پیروں کا ٹھنڈا رہنا  ِ 4.142 - یرقان  ِ 5 - امراض اور مفید غذائیں  ِ 5.1 - معدہ اور آنتوں کے امراض  ِ 5.2 - استسقاء  ِ 5.3 - ٹی بی  ِ 5.4 - جگر کے امراض  ِ 5.5 - گُردہ کے امراض  ِ 5.6 - بواسیر  ِ 5.7 - ذیابیطس  ِ 5.8 - کمزوریٔ قلب اور اختلاج  ِ 5.9 - حاملہ اور حمل کی حفاظت  ِ 5.10 - حیض  ِ 5.11 - لیکوریا  ِ 5.12 - ماں کے دودھ میں کمی  ِ 5.13 - جریان۔احتلام۔سرعت  ِ 5.14 - جلدی امراض  ِ 5.15 - رَعشہ، فالج اور لقوہ  ِ 5.16 - حافظہ کی کمزوری  ِ 5.17 - ذہنی کمزوری، دماغی خشکی، مالیخولیا اور جنون  ِ 5.18 - گٹھیا  ِ 5.18 - ہائی بلڈ پریشر۔لو بلڈ پریشر  ِ 5.19 - پِتَّہ کی پتھری۔ گردوں اور مثانہ میں پتھری  ِ 5.20 - دمہ  ِ 5.21 - یرقان  ِ 5.22 - کمزوری اعصاب  ِ 6.1 - دائرۃ الحاضرات۔ پتھروں کی تاثیر معلوم کرنے کا روحانی طریقہ  ِ 6.2 - نام کے مطابق پتھر اور نگینے  ِ 6.3 - پتھر اورانسانی زندگی  ِ 6.4 - موتی  ِ 6.5 - مرجان  ِ 6.6 - فیروزہ  ِ 6.7 - لعل  ِ 6.8 - کہربا  ِ 6.9 - لاجورد  ِ 6.10 - یشب  ِ 6.11 - زمرد  ِ 6.12 - ہیرا  ِ 6.13 - پُکھراج  ِ 6.14 - یاقوت  ِ 6.15 - عقیق  ِ 6.16 - نیلم  ِ 6.17 - لہسنیا  ِ 6.18 - سنگ سلیمانی  ِ 6.19 - مُون اسٹون  ِ 6.20 - دھانِ فرہنگ  ِ 7 - تجربات  ِ 7.1 - بخار  ِ 7.2 - پیچش  ِ 7.3 - جانور اور رنگین علاج  ِ 7.4 - فوڈ پوائزن  ِ 7.5 - مثانہ کی پتھری  ِ 7.6 - آگ سے جلنا  ِ 7.7 - گِلٹی  ِ 7.8 - ایلوپیتھی ڈاکٹر اور کینسر  ِ 7.9 - رنگوں سے تبِ دِق کا علاج  ِ 7.10 - شعاعوں کے ذریعہ انجکشن تیار کرنا اور بجلی کے رنگین بلب  ِ 8 - رنگین شعاعوں کے تیل
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)