رفتار

کتاب : پیرا سائیکالوجی

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=7921

جب کوئی مر جاتا ہے تو اس کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ آدمی ختم ہو گیا ہے۔ حالانکہ انتقال ہونے کا مطلب ختم ہونا نہیں بلکہ ایک عالَم سے دوسرے عالَم میں منتقل ہو جانا ہے۔ یعنی آدمی گوشت پوست کے جسم کو چھوڑ کر دوسرے عالَم میں منتقل ہو گیا۔ لفظ مرنے کا ترجمہ بھی امر ہونا ہے۔
اب ہم یوں کہیں گے کہ آدمی اس عارضی زندگی کو چھوڑ کر ایسے عالَم میں چلا گیا ہے جہاں اسے دنیا سے زیادہ طویل عمر تک رہنا ہے۔ روحانی طور پر مرنا اور جسمانی طور پر مرنا بظاہر ایک جیسی دو حالتیں نظر آتی ہیں لیکن ان دو حالتوں میں فرق ہے۔ ایک آدمی اس جسم کی موجودگی میں اپنے ارادے اور اختیار کے ساتھ جسم کو چھوڑ کر مر جاتا ہے اور دوسری حالت یہ ہے کہ آدمی اس جسم کو اس طرح چھوڑ دیتا ہے کہ پھر اس جسم کی اپنی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔
مثال:
جب ہم سو جاتے ہیں تو خواب دیکھتے ہیں۔ خواب کی حالت میں خود کو ہزاروں میل کے فاصلے پر دیکھتے ہیں۔ وہاں جو چیز کھاتے ہیں اس کا مزہ بھی محسوس کرتے ہیں۔ اس ملک کا جو موسم ہے اس کے اثرات کو بھی قبول کرتے ہیں۔ کسی گرم ملک میں رہنے والا آدمی یہ خواب دیکھتا ہے کہ وہ برف پوش پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا ہے، سردی سے اس کے دانت بج رہے ہیں، اتنی زیادہ سردی محسوس ہوتی ہے کہ جب اس کی آنکھ کھلتی ہے تو سردی کے تمام اثرات اس پر غالب ہوتے ہیں اور اس کے اوپر کپکپی طاری ہوتی ہے۔
ہر آدمی ایک دو یا زیادہ خواب ایسے ضرور دیکھتا ہے کہ اس کی ملاقات عزیزوں رشتے داروں سے ہوتی ہے۔ مرے ہوئے لوگوں کی روحوں سے ملاقات اس بات کی نشاندہی ہے کہ آدمی عالمِ اَعراف میں منتقل ہو گیا ہے۔
روحانیت کا منشاء بھی یہی ہے کہ آدمی کے اندر وہ صلاحیت بیدار ہو جائے جو خواب میں کام کرتی ہے۔ وہ صلاحیت متحرّک ہو جائے جو آدمی کو زمان و مکان سے آزاد کر دیتی ہے۔
رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے: مُوتُوا قبلَ أن تمُوتُوا…. (ترجمہ: مر جاؤ مرنے سے پہلے)۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمِ ناسُوت کی زندگی میں رہتے ہوئے زمان و مکان (Time & Space) کی گرفت سے آزاد ہو کر اس عالَم کا مشاہدہ کر لیا جائے جہاں عالمِ ناسُوت کی طرح زمانیّت اور مکانیّت کی پابندی نہیں ہے۔ جس ذہنی کیفیّت میں انسان سوتا ہے۔
① سونے میں سب سے پہلے جو عمل سرزد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ آدمی نہایت آرام و سکون کے ساتھ بستر پر لیٹ جاتا ہے۔
② آدمی دوسرا کام یہ کرتا ہے کہ ذہن اور دماغ کو بیداری کے حواس سے ہٹا کر اُن حواس میں منتقل کر دیتا ہے جن حواس کا نام
نیند ہے۔
③ تیسرا قدم یہ اٹھاتا ہے کہ آنکھیں بند کر لیتا ہے۔
④ چوتھا قدم یہ ہے کہ وہ سو جاتا ہے۔
آیئے! بیداری میں سونے کی مشق کرتے ہیں۔
① پرسکون ہو کر آرام سے بیٹھ جائیے۔
② ذہن کو تمام دنیاوی خیالات سے آزاد کر لیجئے۔
③ آنکھیں بند کر کے شعور سے لاشعور میں داخل ہو جائیے۔
④ جیسے ہی شعور کی گرفت کمزور پڑے گی بند آنکھوں کے سامنے لاشعور کا دروازہ آئے گا۔ یہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہو جائیے۔ اب آپ عالمِ اَعراف (ماورائی دنیا) میں ہیں جس طرح کوئی مسافر کسی بڑے شہر میں داخل ہوتا ہے اسی طرح آپ بھی عالمِ اَعراف (ماورائی دنیا) کے ایک بڑے شہر میں ہیں یہاں بھی آپ کو آبادیاں نظر آ رہی ہیں۔
عالمِ ناسُوت (مادی دنیا) میں روح گوشت پوست اور ہڈیوں سے ہمارا وجود بناتی ہے یعنی گوشت پوست اور ہڈیوں کا تانا بانا مٹی کے ذرّات سے بنتا ہے اور عالمِ اَعراف میں روح جو گوشت پوست اور ہڈیوں کا لباس بناتی ہے اس کا تانا بانا روشنیوں کا ہوتا ہے۔ مٹی میں وزن ہوتا ہے۔ مٹی کشش ثقل کا دوسرا نام ہے اس لئے آدمی اس زمین پر خود کو پابند دیکھتا ہے۔ عالمِ اَعراف میں چونکہ جسم روشنیوں کے تانے بانے سے بنا ہوا ہے اس لئے آدمی خود کو پابند اور مجبور نہیں دیکھتا۔ پابند دنیا میں سفر کرنے کے لئے پابند وسائل کی ضرورت پیش آتی ہے۔رفتار تیز اور کم ہو سکتی ہے لیکن وسائل سے چھٹکارا نہیں ملتا۔ ایک گھنٹے میں پیدل تین میل کا سفر طے ہوتا ہے یہی سفر سائیکل پر سوار ہو کر کیا جائے تو چار پانچ میل فی گھنٹہ ہو جاتا ہے۔ موٹر کار میں بیٹھ کر ساٹھ ستر اور اسی میل ہو جاتا ہے۔ ہوائی جہاز میں بیٹھ کر ہزاروں میل کا سفر طے ہو جاتا ہے۔ جس طرح رفتار کی تیزی اپنی جگہ مُملّ ہے اسی طرح وسائل کی محتاجی بھی مُملّو ہے۔ بندہ اس لئے محتاج ہے کہ اس کا جسم مٹی کا بنا ہوا ہے اور جتنے وسائل ہیں وہ بھی مٹی سے بنے ہوئے ہیں۔ سائیکل مٹی کے علاوہ کچھ نہیں ہے اس لئے کہ سائیکل کے اندر جتنے کَل پرزے ہیں وہ سب لوہے سے مرکب ہیں اور لوہا مٹی ہے… مٹی کو کٹھالی میں پکایا جاتا ہے تو مٹی کے مخصوص ذرّات سیال بن کر لوہا بن جاتے ہیں۔ جہاز میں جتنے کَل پرزے ہیں وہ بھی مٹی ہیں۔ دنیا کے کسی خطے پر کوئی بھی دھات ہو اس کا بنیادی مسالہ یا خام مال (Raw Material) مٹی ہے۔ مٹی اپنی شکل بدلتی رہتی ہے۔ مٹی کے ذرّات کہیں آدمی بن جاتے ہیں کہیں سائیکل بن جاتے ہیں کہیں موٹر سائیکل بن جاتے ہیں کہیں ہوائی جہاز بن جاتے ہیں اور یہی مٹی کے ذرّات خوبصورت درخت بن جاتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے چھوٹا ذرہ کبھی وائرس بن جاتا ہے۔ کبھی چیونٹی بن جاتا ہے اور کبھی ہاتھی بن جاتا ہے۔ یہ ذرّات اللہ کریم کی صناعی اور قدرت کی واضح نشانیاں ہیں۔ اس صناعی کے بارے میں اللہ کریم نے ارشاد فرمایا ہے کہ:
‘‘ہماری نشانیوں پر غور کرو۔’’
اور وہ لوگ قابل ستائش ہیں اور منزل رسیدہ ہیں اور اللہ کے لئے پسندیدہ ہیں جو اللہ کی نشانیوں پر غور کرتے ہیں۔ مٹی کو گوند بنا کر ہر شکل بنائی جا سکتی ہے۔ مٹی کے گارے سے آپ چڑیا بھی بنا سکتے ہیں، مٹی کے گارے سے آپ عمارت بھی کھڑی کر سکتے ہیں، مٹی کے گارے سے آپ انسانی پتلا بھی بنا سکتے ہیں اور مٹی سے آپ بڑی سے بڑی تخلیق بھی عمل میں لا سکتے ہیں۔
علم حاصل کرنے کی دو طرزیں ہیں۔ ایک طرز یہ ہے کہ آپ زمان و مکاں میں بند ہو کر وسائل کا کھوج لگائیں اور وسائل میں تفکر کریں۔ تفکر جتنا زیادہ گہرا ہوتا ہے اسی مناسبت سے صلاحیتیں بیدار اور متحرّک ہو جاتی ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 105 تا 109

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)