ذہنی الجھنیں

کتاب : روحانی ڈاک (جلد اوّل)

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=29219

سوال: بچپن سے ہی میری عادت ہے کہ میں بہت زیادہ سوچتا ہوں یعنی بہت زیادہ بلکہ حد سے زیادہ سوچنے کا عادی ہوں۔ کوئی بھی واقعہ یا کوئی بھی معمولی بات ہو یا کوئی بھی چھوٹا سا مسئلہ ایک دفعہ میرے ذہن میں آ جائے تو بس اس سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس پر سوچتا رہتا ہوں۔ خوب غور و غوض کرتا ہوں اور سوچتے سوچتے بالکل گہرائی میں ڈوب جاتا ہوں۔ بس یوں سمجھئے کہ سوچ سوچ کر ایک رائی کے دانے کو بھی پہاڑ بنا لیتا ہوں اور یہ تو آپ جانتے ہیں کہ جو جتنا زیادہ سوچتا ہے اتنا ہی زیادہ ڈوبتا ہے۔ بس یہی معاملہ میرے ساتھ ہے۔ سوچتے سوچتے ایک معمولی سا مسئلہ بھی ایک بہت بڑی الجھن بن جاتا ہے اور پھر جیسے جیسے سوچتا ہوں ویسے ویسے اور زیادہ الجھنوں میں پھنستا جاتا ہوں۔ یعنی الجھنیں یکے بعد دیگرے بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے ذہنی سکون بالکل ختم ہو گیا ہے اور میں مستقل طور پر ذہنی الجھنوں کا مریض بن گیا ہوں

جواب: قانون تخلیق کے تحت انسانی ذہن تین پرت کا مجموعہ ہے۔ ہر پرت کے محسوسات ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ ان تینوں میں ایک پرت وہ ہے جو خیال کو تصور بنا کر جسد خاکی میں منتقل کرتا ہے۔ جسد خاکی تصورات کو معنی کا لباس پہنا کر خوشی اور غم کے نقش و نگار ترتیب دیتا ہے۔ اس کو اگر ایسی معلومات فراہم کی جائیں جو خوشی کا پیش خیمہ ہوں تو اس کے اندر خوشی کے طوفان اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر ایسی اطلاعات فراہم کی جائیں جن کا تعلق رنج و غم سے ہو تو اس کے اندر مایوسی، بے کیفی، احساس کمتری، زندگی سے بیزاری اور نت نئی الجھنیں جم لینے لگتی ہیں۔ یہ پرت بالکل غیر جانبدار رہتا ہے۔ اس کو جیسی اطلاعات فراہم کر دی جاتی ہیں وہ ان کو مظاہر میں پیش کر دیتا ہے۔ اطلاع فراہم کرنے والا پرت جب فطرت سے کٹ جاتا ہے یا اس میں فطرت کے اصولوں سے دوری واقع ہو جاتی ہے تو وہ ایسی اطلاعات دینا شروع کر دیتا ہے جو فطرت کے خلاف اور غیر حقیقی ہوتی ہیں۔ فطرت میں مایوسی، احساس شکستگی، خود کشی کا رجحان خود کو اور لوگوں سے کمتر یا برتر سمجھنا، خواہ مخواہ کی الجھنوں میں گرفتار رہنا، کہیں نہیں ہے۔ یہ سب غیر فطری چیزیں ہیں۔ فطرت ہمیشہ پر سکون رہتی ہے۔ فطرت سے دوری ہی انسانی مشکلات و مصائب کا سبب بنتی ہے۔ فطرت سے قریب آ جائیے، سارے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ طریقہ یہ ہو گا کہ صبح اندھیرے اٹھئے اور جھٹ پٹے میں کم سے کم دو میل روزانہ ٹہلئے۔ زیادہ سے زیادہ تین ہفتے میں آپ الجھنوں سے نجات حاصل کر لیں گے۔ لیکن فطرت سے قریب ہونے کا یہ طریقہ کم سے کم تین ماہ جاری رکھئے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 174 تا 175

روحانی ڈاک (جلد اوّل) کے مضامین :

ِ انتساب  ِ ترتیب و پیشکش  ِ 1 - اولاد نہیں ہوتی  ِ 2 - الرجی کا علاج  ِ 3 - ایک سو پچاس چھینکیں  ِ 4 - اداسی  ِ 5 - انگلیاں کشش کا ذریعہ  ِ 6 - اولاد نرینہ  ِ 7 - اولاد نہیں ہوئی  ِ 8 - اندرونی بخار  ِ 9 - احساس کمتری  ِ 10 - استغناء اور کیلوریز  ِ 11 - انسانی وولٹیج  ِ 12 - ایک لاکھ خواہشات  ِ 13 - ایب نارمل زندگی  ِ 14 - اجمیر شریف کی حاضری  ِ 15 - آوارہ لڑکا  ِ 16 - آنکھوں کے سامنے نقطے  ِ 17 - آنکھ میں آنسو  ِ 18 - آدھے جسم میں درد  ِ 19 - آسمان  ِ 20 - آنتیں  ِ 21 - آپریشن  ِ 22 - آٹھ علاج  ِ 23 - انا للہ و انا الیہ راجعون  ِ 24 - اسلامی لباس کا تصور  ِ 25 - آرزو  ِ 26 - اندھی محبت  ِ 27 - استخارہ  ِ 28 - ایک عجیب بیماری  ِ 29 - اجتماعی خود کشی  ِ 30 - اجتماعی سکون  ِ 31 - اُم الصبیان  ِ 32 - آوازیں آتی ہیں  ِ 33 - اندرونی مریض  ِ 34 - ایمان کی روشنی  ِ 35 - اقتدار کی جنگ  ِ 36 - اولاد  ِ 37 - برص کا علاج  ِ 38 - برے خیالات  ِ 39 - بجلی کے جھٹکے  ِ 40 - بیوہ عورت  ِ 41 - بچپن کا خواب  ِ 42 - بیٹی نہیں بیٹا  ِ 43 - بے وفا شوہر  ِ 44 - بہرے پن کا علاج  ِ 45 - بخار  ِ 46 - بچوں کی نفسیات  ِ 47 - بدعقیدہ  ِ 48 - بھوت  ِ 49 - بیہوشی  ِ 50 - بزدلی کی تصویر  ِ 51 - برقی رو کا ہجوم  ِ 52 - بارونق چہرہ  ِ 53 - بھینگا پن  ِ 54 - بڑا سر  ِ 55 - بسم اللہ کی زکوٰۃ  ِ 56 - بے جوڑ شادی  ِ 57 - بال خورے کا علاج  ِ 58 - پراگندہ ذہنی  ِ 59 - پریشانیوں کا حل  ِ 60 - پرانی پیچش  ِ 61 - پولیو کا علاج  ِ 62 - پڑھنے میں دل نہ لگنا  ِ 63 - پر اسرار بیماری  ِ 64 - پیٹ کی تکلیف  ِ 65 - پسینہ آنا  ِ 66 - پیدائشی دماغی معذور  ِ 67 - پسند کی شادی  ِ 68 - پیلیا  ِ 69 - پرانی پیچش  ِ 70 - پیر صاحب  ِ 71 - پیر وہ نہیں ہوتا جو مرید بنا دیتے ہیں  ِ 72 - پرابلم  ِ 73 - پرکشش چہرہ  ِ 74 - پیر سو جاتے ہیں  ِ 75 - پچہتر ہزار روپیہ  ِ 76 - ترقی نہیں ہوتی  ِ 77 - تقدیر  ِ 78 - تیسری آنکھ  ِ 79 - تصور شیخ  ِ 80 - تخلیقی فارمولے  ِ 81 - تنہائی کا احساس  ِ 82 - ٹائی فائیڈ کے اثرات  ِ 83 - ٹیڑھا منہ  ِ 84 - ٹانگیں کپکپاتی ہیں  ِ 85 - ٹیلی پیتھی  ِ 86 - ٹیوشن  ِ 87 - ٹانگیں کمزور ہیں  ِ 88 - ٹونسلز  ِ 89 - ٹرانس پیرنٹ  ِ 90 - جادو کا توڑ(۱)  ِ 91 - جوڑوں کادرد  ِ 92 - جسم میں کرنٹ لگنا  ِ 93 - جادو کا توڑ(۲)  ِ 94 - جسم چھوٹا سر بڑا  ِ 95 - جلد بازی  ِ 96 - جسم میں آگ  ِ 97 - جنسی مسائل  ِ 98 - جادو ختم کرنے کیلئے  ِ 99 - جگر کا متاثر ہونا  ِ 100 - جسم اچھل اچھل جاتا ہے  ِ 101 - جن  ِ 102 - جھنجلاہٹ کیسے دور ہو  ِ 103 - جہیز کا مسئلہ  ِ 104 - چوکور کاغذ  ِ 105 - چمگاڈر  ِ 106 - چاند گرہن  ِ 107 - چہرے پر دانے  ِ 108 - چہرے پر چھائیاں  ِ 109 - چھپکلی کا خوف  ِ 110 - چھوٹی بیگم  ِ 111 - چہرے پر بال  ِ 112 - حضرت خضرؑ سے ملاقات  ِ 113 - حسد کی عادت  ِ 114 - حروف مقطعات  ِ 115 - حالات کی ستم ظریفی  ِ 116 - حسد  ِ 117 - حسب منشاء شادی کیلئے  ِ 118 - حقیقت آگاہی  ِ 119 - خوف  ِ 120 - خود سے باتیں کرنا  ِ 121 - خون کی بوند  ِ 122 - خوفناک شکلیں نظر آتی ہیں  ِ 123 - خیالی پلاؤ  ِ 124 - خون میں کمزوری  ِ 125 - خود ترغیبی  ِ 126 - خود غرضی  ِ 127 - خون کی کلیاں(۱)  ِ 128 - خالہ کی روح  ِ 129 - خلفشار  ِ 130 - خون کی الٹیاں(۲)  ِ 131 - خشکی کا علاج  ِ 132 - خشک خارش  ِ 133 - خواب اور ہماری زندگی  ِ 134 - دماغی خلئے اور پیدائش  ِ 135 - دل میں سوراخ  ِ 136 - دنیا بیزاری  ِ 137 - دماغی امراض  ِ 138 - دماغ کے اوپر خول چڑھ گیا ہے  ِ 139 - دستخط کیجئے اور مسئلہ حل  ِ 140 - دوپٹہ میں جوئیں  ِ 141 - دل میں درد  ِ 142 - دمہ  ِ 143 - دریا اور سبزہ زار  ِ 144 - دواؤں کا ری ایکشن  ِ 145 - دوائیں  ِ 146 - دماغ کے اعصاب  ِ 147 - دانت پیسنا  ِ 148 - دوسری شادی  ِ 149 - دماغی توازن  ِ 150 - دکھی لڑکی  ِ 151 - درخت بولتے ہیں  ِ 152 - دھوکہ  ِ 153 - ڈراؤنے خواب  ِ 154 - ذہنی سکون  ِ 155 - ذہنی مریضہ  ِ 156 - ذہنی الجھنیں  ِ 157 - ذہنی مریض  ِ 158 - روح سے ملاقات  ِ 159 - رنگ و نور کا شہر  ِ 160 - روح کا الارم  ِ 161 - روحانی غذا  ِ 162 - رشتہ کی تلاش  ِ 163 - روشن مستقبل  ِ 164 - روح اور اسلام  ِ 165 - رات بھر روتی ہوں  ِ 166 - زنانی آواز  ِ 167 - زندگی کا ساتھی  ِ 168 - زبان ساتھ نہیں دیتی  ِ 169 - زبان کھل جائے گی  ِ 170 - سکون کی تلاش  ِ 171 - سر اور معدہ  ِ 172 - سوتے میں پیشاب نکل جاتا ہے  ِ 173 - سایہ  ِ 174 - سیپ کی پوٹلی  ِ 175 - سر کے بال گر رہے ہیں  ِ 176 - سانس کی بیماری  ِ 177 - سینے میں درد  ِ 178 - سانس رک جاتا ہے  ِ 179 - سانولا رنگ  ِ 180 - سردی میں پسینہ  ِ 181 - سوچ میں ڈوبے رہنا  ِ 182 - سیاہ رنگ چہرہ  ِ 183 - سائیکالوجی  ِ 184 - سیلاب اور سیمنٹ  ِ 185 - سکون  ِ 186 - سیرت طیبہؐ  ِ 187 - شادی کے مسائل  ِ 188 - شادی  ِ 189 - شوہر لندن میں ہیں  ِ 190 - شباب آمیز کہانیاں  ِ 191 - شوہر شکل نہیں دیکھتا  ِ 192 - شفا ء دینا اللہ کا کام ہے  ِ 193 - شیطانی وسوسے  ِ 194 - شادی اور شرم  ِ 195 - شوہر کا مزاج  ِ 196 - شوہر نے آنکھیں بدل لیں  ِ 197 - شکی شوہر  ِ 198 - شادی روکنے کیلئے  ِ 199 - شوہر کی محبت  ِ 200 - شریعت اور طریقت  ِ 201 - شجر ممنوعہ کی روحانی تفسیر  ِ 202 - شکوہ  ِ 203 - ضدی بچہ  ِ 204 - طلبہ متوجہ ہوں  ِ 205 - طلسمی سانپ  ِ 206 - عقیدہ کی خرابی  ِ 207 - عشق کا سمندر  ِ 208 - علوم اور صلاحیت  ِ 209 - علاج کی ضرورت نہیں ہے  ِ 210 - عملیات کا شوق  ِ 211 - غلطی کا اعتراف  ِ 212 - فریج میں رکھا ہوا کھانا  ِ 213 - فحش خیالات  ِ 214 - فالج  ِ 215 - قلب کی سیاہی  ِ 216 - قوت ارادی  ِ 217 - قبض اور گیس  ِ 218 - قرض  ِ 219 - کر بھلا ہو بھلا  ِ 220 - کنجوس سسرال  ِ 221 - کرایہ دار  ِ 222 - کلر تھراپی  ِ 223 - کشف القبور  ِ 224 - کثرت اولاد سے پریشانی  ِ 225 - کانوں میں سیٹیاں  ِ 226 - گھر کا فساد  ِ 227 - گوشت  ِ 228 - گردوں میں پتھری  ِ 229 - گیس کا مرض  ِ 230 - لانبے بال  ِ 231 - لکنت  ِ 232 - لنگڑی کا درد  ِ 233 - ملازمت میں ترقی  ِ 234 - مستقل خارش  ِ 235 - مالی پریشانیاں  ِ 236 - مردے نظر آنا  ِ 237 - موت کے خوف سے نجات  ِ 238 - مراقبہ کی شرائط  ِ 239 - مرض کا علاج شادی  ِ 240 - منگیتر کی نفرت  ِ 241 - موت کا خیال  ِ 242 - نیند میں جھٹکے لگنا  ِ 243 - نفسیاتی بیماری  ِ 244 - نماز پڑھنے کو دل نہیں چاہتا  ِ 245 - نعمت یا زحمت  ِ 246 - نیند نہیں آتی  ِ 247 - وظیفہ کی رجعت  ِ 248 - وٹّہ سٹّہ کی شادی  ِ 249 - ہرجائی شوہر  ِ 250 - ہڈیوں کی بیماری  ِ 251 - ہمزاد اور جنات  ِ 252 - ہاتھ لگائے کھجلی ہوتی ہے  ِ 253 - ہیروئن  ِ 254 - ہڈیوں کا پنجر  ِ 255 - ہمنوا دل  ِ 256 - ہونٹوں پر داغ  ِ 257 - یہ مست اور ملنگ بندے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message