دیباچہ

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=425

لفظ معجزہ کا ماخذ“عجز” ہے ، مفہوم یہ ہے کہ کوئی کام کرنے سے عاجز ہونا۔ نبوت کی صداقت کے لئے خرق عادت کا ظاہر ہونا معجزہ ہے ۔

خرقِ عادت انبیاءکرام کے علاوہ نوع انسانی کے دیگر افراد سے بھی صادر ہوئی ہیں۔ انبیاءاور روحانی طاقت رکھنے والے انسانی کے کتنے ہی واقعات اس کے شاہد ہیں ۔ پاک طینت حضرات سے خرق عادات کا اظہار رشد و ہدایت اور تنبیہ کے لئے ہوتا ہے ۔ روحانی سائنس کی پہلی کتاب“لوح و قلم” میں ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاءؒ لکھتے ہیں:

تصرف کی تین قسمیں ہیں:

  1. معجزہ
  2. کرامات

    استدراج

استدراج وہ علم ہے جو اعراف کی بری روحوں یا شیطان پرست جنات کے زیر سایہ کسی آدمی میں خاص وجوہ کی بناءپر پرورش پا جا تا ہے ۔ صاحب استدراج کو اللہ کی معرفت حاصل نہیں ہو سکتی۔ علم استدراج اور علم نبوت میں یہی فرق ہے کہ استدراج کا علم غیب بینی تک محدود رہتا ہے اور علم نبوت انسان کو غیب بینی کی حدوں سے گزار کر اللہ کی معرفت تک پہنچا دیتا ہے۔

علم نبوت کے زیراثرجب کوئی خارق عادت نبی سے صادر ہوتی ہے تو اس کو معجزہ کہتے ہیں ۔ ختم نبوت و رسالت کے بعد یہ وراثت اولیاءاللہ کو منتقل ہوئی اور اولیاءاللہ سے صادر ہونے والی خارق عادات کرامت کہلاتی ہیں لیکن یہ بھی علم نبوت کے زیر اثر ہوتی ہے۔ معجزہ اور کرامت کا تصرف مستقل ہوتا ہے ۔ مستقل سے مراد یہ ہے کہ جب تک صاحب تصرف اس چیز کو خود نہ ہٹائے وہ نہیں ہٹے گی ۔ استدراج کے زیر اثر جو کچھ ہوتا ہے وہ مستقل نہیں ہوتا اور اس کا اثر فضا کے تاثرات بدلنے سے خود بخود ضائع ہو جاتا ہے استدراج کے زیر اثر جو کچھ ہوتا ہے اس کو جادو کہتے ہیں ۔

قرآن حکیم نے انبیاءکرام کو عطا کردہ معجزات کو اللہ کی نشانیاں کہا ہے:

’’پھر بچا دیا ہم نے اس کو اور جہاز والوں کو اور رکھا ہم نے جہاز کو نشانی جہان والوں کے لئے ۔‘‘ (عنکبوت ۔۱۵)

’’اللہ کی اونٹنی تمہارے واسطے نشانی ہے ۔‘‘ ( اعراف ۔ ۱۳)

سیّدنا علیہ الصلوة والسلام نے جب نبوت کا اعلان فرمایا تو کفار نے مطالبہ کیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی معجزہ دکھائیں ۔ قرآن نے مکہ کے منکرین کا مطالبہ ان الفاظ میں دہرایا ہے۔

ترجمہ : ’’وہ ( محمد رسول ﷺ) ہمارے پاس اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں لائے ہیں۔‘‘ (طہٰ۔ ۱۳۳)

ترجمہ: ’’اس پر اس کے رب کی جانب سے نشانیاں کیوں نہیں اتاری جاتیں؟‘‘ ( عنکبوت ۔ ۵۰)

ترجمہ ’’تو انہیں چاہیے کہ ہمارے پاس کوئی نشانی لائیں جیسے پہلے انبیاءبھیجے گئے تھے ۔‘‘ ( الا نبیاء۔ ۵)

نبی سے ظاہر ہونے والی واضح دلیل کو انبیاءکی تعلیمات کو جھٹلانے والے جادو و سحر کہتے تھے ۔ قرآن نے خارق عادت کے مطالبے کے جواب میں فرمایا:

ترجمہ : ’’اگر یہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ جادو تو ہمیشہ سے ہوتا چلا آ یا ہے‘‘  ( القمر ۲)

ترجمہ : ’’کہہ دیجئے کہ بلا شبہ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں ۔‘‘(عنکبوت ۔ ۵۰)

تاریخ شاہد ہے کہ انبیاءکرام سے معجزات کا ظہور اتمام حجت کے لئے ہوا ہے ۔ لیکن نا سعید لوگ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائے ۔

ترجمہ : ’’اور بچا دیا ہم نے موسیٰ کو اور جو لوگ تھے اس ساتھ سارے ۔ پھر ڈبو دیا ان دوسروں کو اس چیز میں ایک نشانی ہے اور نہیں وہ بہت لوگ ماننے والے۔‘‘ ( الشعراء۶۵۔۶۷)

حضرت صالح ؑ کی قوم پتھر سے زندہ سلامت اونٹنی نکالنے کا معجزہ دیکھ کر بھی راہ راست پر نہیں آئی تو قانون قدرت نے پکڑ لیا ۔

ترجمہ : ’’اور تحقیق جھٹلایا حجر والوں نے رسولوں کو اور دیں ہم نے ان کو نشانیاں سو رہے ان کو ٹلاتے اور تھے تراشتے پہاڑوں کو گھر خاطر جمع سے پھر پکڑا ان کو چنگھاڑ نے صبح ہوتے۔ پھر کام نہ آیا ان کو جو کماتے تھے‘‘ (الحجر ۸۰۔۸۳)

حضرت عیسیٰؑ کے معجزات دیکھ کر صرف گنتی کے چند لوگ ایمان لائے ۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے معجزات دیکھ کر بھی کفار مکہ کے دلوں میں ایمان کی روشنی داخل نہیں ہوئی ۔ جب آپؐ کو ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں ضیاءپاشی کا حکم ہوا تو کفار مکہ کے حصے میں رسوائی اور بدبختی آئی ۔ آپؐ اور آپؐ پر ایمان لانے والے غالب اور فاتح بن کر دوبارہ مکے میں داخلے ہوئے۔

پاک باطن نفوس کے لئے سیّدنا علیہ الصلوة والسلام کی ذات اقدس معجزہ ہے ۔ انہیں ایمان سے سرفراز ہونے کے لئے کسی مافوق الفطرت واقعہ کی تلاش نہیں ہوتی ۔ حضرت خدیجة الکبریٰ ؓ ، حضرت ابو بکر صدیق ؓ، حضرت عمر فاروق ؓ ، حضرت عثمان غنی ؓ ، حضرت علی ؓ اور دوسرے نامور صحابی معجزہ دیکھے بغیر ایمان لائے ۔

ہر نبی کو اس دور کے ماحول ، قوم کے مزاج ، عقل و فہم اور افتادِ طبع کی مناسبت سے معجزات سے نوازا گیا ۔ حضرت موسیٰ ؑ کا دور جادو ٹونہ اور طلسم کے عروج کا زمانہ تھا ۔ آپ کو ید بیضا ءاور عصا کے معجزات عطا فرمائے گئے ۔ فرعون کے دربار میں موجود ساحروں نے رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں جو سانپ بن گئیں ۔ حضرت موسیٰ ؑ کو حکم ہوا:

’’ڈال اپنا عصا، پس وہ ان کے فریب کو نگل گیا۔‘‘( اعراف ۔ ۱۱۷)

اور جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کی سیرابی کے لئے دعا کی تو حکم ہوا۔

’’پتھرپر اپنا عصا مار تب پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔‘‘( البقرہ۔۶۰)

حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانے میں علم طب عروج پر تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو شفاءدینے اور مُردوں کو زندہ کر دینے کا معجزہ عطا فرمایا :

’’اور جب تو بناتا مٹی سے جانور کی صورت میرے حکم سے ، پھر دم مارتا اس میں تو ہو جاتا جانور میرے حکم سے اور چنگا کرتا ماں کے پیٹ کا اندھا اور کوڑھی کو میرے حکم سے اور جب نکال کھڑا کرتا مُردے میرے حکم سے۔‘‘( المائدہ۔ ۱۱۰)

حضرت صالحؑ کے دور میں مجسمہ سازی اور سنگ تراشی کا فن بام عروج پر تھا ۔ منکرین نے اپنی ذہنی سکت کے مطابق نا ممکن چیز کو ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا ، آپ نے پہاڑ کی طرف اشارہ کیا ، چٹان شق ہو گئی اور زندہ سالم اونٹنی اس میں سے برآمد ہوئی اور بچے کو جنم دیا ۔

حضرت صالح ؑ کی قوم کو تنبیہ کی گئی:

’’یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے واسطے نشانی ہے۔‘‘

سیّدنا علیہ الصلوة والسلام کی بعثت کے بعد قرآن علی الاعلان کہتا ہے:

’’اے لوگو!بلا شبہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے سند پہنچ چکی ہے ۔‘‘ (النساء۔ ۱۷۴)

سیّدنا علیہ الصلوة والسلام کی حیات مقدسہ کا ہر دور سمجھ بوجھ رکھنے والوں کے لئے اللہ کی برہان ہے ۔

بعثت کے بعد حق و باطن کے مابین تفریق ظاہر ہو گئی ۔ کعبہ کو مسمار کرنے کے ارادے سے آنے والے اپنے لاؤ لشکر سمیت کھائے ہوئے بھس میں تبدیل ہو گئے ۔ برسوں سے خشک سالی کا شکار عرب ، بارانِ رحمت سے سر سبز ہو گیا ۔

ایک ہزار سال سے جلائی ہوئی مجوسیوں کی آگ بجھ گئی ۔ زلزلہ کی شدت سے کسریٰ کے محل کے چودہ کُنگرے گر گئے ۔ ہمدان اور قم کے درمیان چھہ میل لمبا چھہ میل چوڑا بحیرہ سارہ خشک ہو گیا ۔ کوفہ اور شام کے درمیان وادیٔ سماوہ کی خشک ندی میں پانی جاری ہو گیا ۔

معجزات اور خوارق عادات کا احاطہ کرنا انسانی دسترس سے باہر ہے۔

تاریخ کے حوالے سے حیات طیبّہ میں جن خارق عادات کا ظہور ہوا ہے زیر نظر صفحات میں بصد احترام و ادب پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں ساتھ ساتھ محض اللہ کے کرم اور سیّدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت سے اس عاجز نے معجزات کی سائنسی توجیہہ کےلئے قلم اٹھایا ہے ۔

خواجہ شمس الدّین عظیمی

خانوادہ سلسلہ عظیمہ

مرکزی مراقبہ ہال ، سرجانی ٹاؤن ، کراچی

یکم رمضان ۱۴۱۷ ہجری بمطابق ۱۱جنوری ۱۹۹۷ عیسوی

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 11 تا 18

محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم کے مضامین :

ِ یا صاحب الجمال  ِ دیباچہ  ِ 1 - قرآن اور آسمانی کتابیں  ِ 2.1 - ستارے قریب آئے  ِ 2.2 - پنگوڑے میں چاند  ِ 2.3 - مائی حلیمہ  ِ 2.4 - دو اجنبی  ِ 3.1 - بادلوں کا سایہ  ِ 3.2 - بارش کا وسیلہ  ِ 3.3 - درخت، پتھر سجدے میں گر گئے  ِ 3.4 - نبیوں کا درخت  ِ 4 - تبت یدا  ِ 5 - دو کمانوں سے کم فاصلہ  ِ 6 - ہجرت کی رات  ِ 7.1 - دو سردار  ِ 7.2 - نگاہ مرد حق آگاہ  ِ 8.1 - جب چاند دو ٹکڑے ہوا  ِ 8.2 - تابع فرمان سورج  ِ 9 - پہاڑ نے حکم مانا  ِ 10 - پتھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے موم ہو گئے  ِ 11 - سنگریزوں نے کلمہ پڑھا  ِ 12 - باطل مٹ گیا  ِ 13 - درخت کی گواہی  ِ 14 - حنین جذع کا واقعہ  ِ 15.1 - کھجور کی تلوار  ِ 15.2 - لاٹھی قندیل بن گئی  ِ 15.3 - لکڑی میں روشنی  ِ 16.1 - اونٹ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں سر رکھا  ِ 16.2 - اونٹ نے شکایت کی  ِ 16.3 - ہرنی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی  ِ 17 - اور آپؐ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک  ِ 18.1 - مستجاب الدعٰوۃ  ِ 18.2 - شیر آیا  ِ 18.3 - پانی برسا  ِ 18.4 - ابو ہریرہؓ کی ماں  ِ 18.5 - اندھی آنکھ میں بینائی  ِ 18.6 - کھانے میں برکت  ِ 19 - جنگ خندق  ِ 20 - حضرت عائشہؓ کی برأت  ِ 21 - حدیبیہ میں کنواں  ِ 22.1 - کعبہ کی کنجی  ِ 22.2 - بائیکاٹ  ِ 22.3 - سراقہ اور کنگن  ِ 23 - دست رحمت  ِ 24 - جن نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلدی چلو  ِ 25.1 - بچانے والا اللہ ہے  ِ 25.2 - مغربی حاجی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message