دوپیروں اور چار پیروں سے چلنے والے جانور

کتاب : رنگ و روشنی سے علاج

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=9463

جانور دو ہیں ۔ ایک جانور چارپیروں سے چلنے والا ہے اور دوسرا دو پیروں سے چلنے والاہے۔ اڑنے والا جانور اور تیرنے والا جانور بھی چار پیروں سے چلنے والے جانوروں میں شامل ہے اس لئے کہ وہ پربھی استعمال کرتاہے اور پیربھی۔ نیز اس کے اڑنے کی صورت بھی وہی ہوتی ہے جو چار پیروں سے چلنے والے جانور کی ہوتی ہے۔ دوپیروں سے چلنے والا جانور آدمی ہے۔

چار پیروں سے چلنے والا جانور، اڑنے والا جانور، تیرنے والا جانور آسمانی رنگ کو تمام جسم میں یکساں قبول کرتے ہیں اسی وجہ سے عام طورپر ان میں جبلّت کام کرتی ہے، فکر کام نہیں کرتی یا زیادہ سے زیادہ انہیں سکھایا جاتاہے۔ لیکن وہ بھی فکر کے دائرے میں نہیں آتا۔ جن  چیزوں کی انہیں اپنی زندگی میں ضرورت پڑتی ہے صرف ان چیزوں کو قبول کرتے ہیں۔ ان میں زیادہ غیر ضروری چیزوں سے یہ واسطہ نہیں رکھتے، جن چیزوں کی انہیں ضرورت ہوتی ہے ان کا تعلق زیادہ تر آسمانی رنگ کی لہروں سے ہوتاہے۔

دوپیروں سے چلنے والا جانور یعنی آدمی سب سے پہلے آسمانی رنگ کا مخلوط یعنی بہت سے ملے ہوئے رنگوں کو اپنے بالوں اورسرمیں قبول کرتاہے اور اس رنگ کو مخلوط پیوست ہوتارہتاہے۔ یہاں تک کہ جتنے خیالات، کیفیات اور محسوسات وغیرہ اس رنگ کے مخلوط سے اس کے دماغ کو متاثر کرتے ہیں وہ اتنا ہی متاثرہوتاہے۔

دماغ میں کھربوں خانے ہوتے ہیں اور ان میں سے برقی روگزرتی رہتی ہے، اسی برقی روکے ذریعے خیالات، شعور اور تحت الشعور سے گزرتے رہتے ہیں اور اس سے بہت زیادہ لاشعورمیں۔

دماغ کا ایک خانہ وہ ہے جس میں برقی روفوٹو لیتی رہتی ہے اور تقسیم کرتی رہتی ہے ، یہ فوٹوبہت ہی زیادہ تاریک ہوتا ہے یا بہت ہی زیادہ چمکدار۔

ایک دوسرا خانہ ہے جس میں کچھ اہم باتیں رہتی ہیں لیکن وہ اتنی اہم نہیں ہوتیں کہ سالہاسال گزرنے کے بعد بھی یاد آجائیں ، ایک تیسرا خانہ اس سے زیادہ اہم باتوں کو جذب کرلیتاہے، وہ بشرط موقع کبھی کبھی یادآجاتی ہیں۔ ایک چوتھا خانہ معمولات (ROUTINE CHORES)کاہے جس کے ذریعہ آدمی عمل کرتاہے۔ لیکن اس میں ارادہ شامل نہیں ہوتا ، پانچواں خانہ وہ ہے جس میں گزری ہوئی باتیں اچانک یاد آجاتی ہیں جن کا زندگی کے آپس کے تاروپود سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ منشاء یہ ہے کہ ایک بات یاد آئی ، دوسری بات ساتھ ہی ایسی یاد آئی جس سے پہلی بات کا کبھی کوئی تعلق نہیں تھا،  ایک چھٹاخانہ ایساہے جس کی یاتو کوئی بات یاد نہیں آتی اور اگریاد آتی ہے تو فوراًاس کے ساتھ ہی عمل ہوتاہے۔ اس کی مثال یہ ہے کسی پرندے کا خیال آیا خیال آتے ہی عملاًوہ پرندہ سامنے ہے، ساتواں خانہ اور ہے جس کو عام اصطلاح میں حافظہ (MEMORY)کہتے ہیں۔

دماغ میں مخلوط آسمانی رنگ آنے سے اورپیوست ہونے سے خیالات ، کیفیات، محسوسات وغیرہ برابر بدلتے رہتے ہیں،  اس کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ اس رنگ کے سائے ہلکے بھاری یعنی طرح طرح کے اپنا اثر کم وبیش پیداکرتے ہیں اور فوراًاپنی جگہ چھوڑ دیتے ہیں تاکہ دوسرے سائے ان کی جگہ لے سکیں، بہت سے سائے جنہوں نے جگہ چھوڑدی ہے محسوسات بن جاتے ہیں اس لئے کہ وہ گہرے ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ بہت سے خیالات کی صورتیں منتشر ہوجاتی ہیں۔ رفتہ رفتہ انسان ان خیالات کو ملانا سیکھ لیتاہے ان میں سے جن خیالات کو بالکل کاٹ دیتا ہے وہ حذف ہوجاتے ہیں اور جو جذب کرلیتا ہے  وہ عمل بن جاتے ہیں ، یہ سائے اسی طرح کام کرتے رہتے ہیں، انہی سایوں کے ذریعے انسان رنج وراحت حاصل کرتاہے ۔ کبھی وہ رنجیدہ اوربہت رنجیدہ ہو جاتاہے، کبھی وہ خوش اور بہت خوش ہوجاتاہے۔ یہ سائے جس قدر جسم سے خارج ہو سکتے ہیں ہو جاتے ہیں لیکن جتنے جسم کے اندر پیوست ہو جاتے ہیں وہ اعصابی نظام بن جاتے ہیں۔

ٍ آدمی دوپیر سے چلتاہے اس لئے سب سے پہلے ان سایوں کا اثر اس کا دماغ قبول کرتاہے۔ دماغ کی چند حرکات معین ہیں جن سے وہ اعصابی نظام میں کام لیتاہے۔ سرکا پچھلا حصہ یعنی ام الدّماغ اورحرام مغز اس اعصابی نظام میں خاص کام کرتاہے،  رنج وخوشی دونوں سے اعصابی نظام متاثر ہوتاہے،  رنج و خوشی دراصل بجلی کی ایک رو ہے جو دماغ سے داخل ہوکر تمام اعصاب میں سما جاتی ہے۔ یہ لہریں دوپیروں سے چلنے والے جانور کے دماغ میں داخل ہوتی ہیں۔ ان لہروں کا وزن، تجزیہ، فضا، ہر جگہ بالکل یکساں نہیں ہوتا بلکہ جگہ جگہ تقسیم ہوتااور اس تقسیم کار میں وہ لہروں کے کچھ سائے زیادہ جذب کرتاہے اور کچھ سائے کم۔ انسان کے دماغ میں لاشمار خلئے(CELLS)بھی کام کرتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ان لاشمار خلیوں میں سائے کی لہریں جو فضا سے بنتی ہیں وہ اپنے اثرات کو برقرار رکھیں، کبھی ان کے اثرات بہت کم رہ جاتے ہیں، کبھی ان کے اثرات بالکل نہیں رہتے ،لیکن یہ واضح رہے کہ یہ تمام خلئے جو دماغ سے تعلق رکھتے ہیں کسی وقت خالی نہیں رہتے ، کبھی ان کا رخ ہو اکی طرف زیادہ ہوتاہے کبھی پانی کی طرف، کبھی غذاکی طرف اورکبھی تنہا روشنی کی طرف ، اسی روشنی سے رنگ اوررنگوں کی ملاوٹی شکلیں بنتی ہیں اور خرچ ہوتی رہتی ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 18 تا 21

رنگ و روشنی سے علاج کے مضامین :

ِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ  ِ وَمَا ذَرَالَکُم… القرآن  ِ انتساب  ِ بنظرِ خدمت  ِ عرضِ مکرّر  ِ رنگین بوتلیں اور ٹرانسپیرنٹ شیٹ بنانے کا طریقہ  ِ 1.1 - زندگی اور رنگ  ِ 1.2 - فوٹان اور الیکٹران  ِ 1.3 - کہکشانی نظام اور دو کھرب سورج  ِ 1.4 - دوپیروں اور چار پیروں سے چلنے والے جانور  ِ 1.5 - چہرہ میں فلم  ِ 1.6 - آسمانی رنگ کیا ہے؟  ِ 1.7 - رنگوں کا فرق  ِ 1.8 - رنگوں کے خواص  ِ 2.1 - مرگی کا دورہ  ِ 2.2 - دیوانگی یا پاگل پن کی وجوہات  ِ 2.3 - حافظہ کی کمزوری  ِ 2.4 - بخار اوراس کی قسمیں  ِ 2.5 - گلٹی کا بخار  ِ 2.6 - دِق اور سِل  ِ 2.7 - کبڑا پن  ِ 2.8 - لقوہ کی حقیقت  ِ 2.9 - ہنسلی کا ٹوٹ جانا  ِ 2.10 - فالج اورپولیو کے اسباب اور ہارٹ فیلیئر  ِ 2.11 - دل اور کو سمک ریز  ِ 2.12 - ذیابیطس اورجگر میں السر کی وجوہات  ِ 2.13 - تِلّی، پِتّہ اور گُردے کا عمل  ِ 2.14 - غیر متوازن برقی روسے جوڑوں پر ورم آجاتاہے  ِ 2.15 - اڑکر لگنے والے امراض  ِ 2.16 - کینسر کیوں ہوتاہے  ِ 3.1 - رنگ اور روشنی سے علاج کا اصول  ِ 3.2 - روشنی اور رنگ سے علاج کا طریقہ  ِ 4.1 - آسمانی رنگ کی کمی یا زیادتی سے امراض اور ان کا علاج  ِ 4.2 - سرخ رنگ  ِ 4.3 - نیلارنگ  ِ 4.4 - آسمانی رنگ  ِ 4.5 - ارغوانی اورنارنجی رنگ  ِ 4.6 - زرد رنگ  ِ 4.7 - سرخ رنگ  ِ 4.8 - رنگ سے امراض کا علاج  ِ 4.9 - آواز کا بھاری ہونا یاگلا بیٹھنا  ِ 4.10 - آنکھوں میں ورم  ِ 4.11 - آنتوں کی بیماری  ِ 4.12 - آنت کااترنا  ِ 4.13 - آدھا سیسی کا درد  ِ 4.14 - آنکھوں کے امراض  ِ 4.15 - آگ سے جلنا  ِ 4.16 - انفلوئنزا  ِ 4.17 - اختلاج قلب اور دل کی دھڑکن  ِ 4.18 - اختناق الرحم(ہسٹیریا)  ِ 4.19 - اعصابی درد  ِ 4.20 - السر  ِ 4.21 - احتلام  ِ 4.22 - اندام نہانی کی سوجن  ِ 4.23 - احساسِ کمتری  ِ 4.24 - استسقاء(پانی بھر جانا)  ِ 4.25 - ام الصبیان(سوکھا)  ِ 4.26 - بچوں کا مٹی کھانا  ِ 4.27 - بالوں کا ازوقت سفیدہونا  ِ 4.28 - بخار  ِ 4.46 - پیچش  ِ 4.47 - پیشاب کا تکلیف سے آنا  ِ 4.48 - سوتے میں پیشاب نکل جانا  ِ 4.49 - پیشاب کا باربار آنا  ِ 4.50 - پیشاب میں شکر آنا۔ ذیابیطس شکری  ِ 4.51 - تپ دق  ِ 4.52 - ڈائریا (تخمہ)  ِ 4.53 - جریان  ِ 4.54 - جلق (مادہ تولید کو ہاتھ سے ضائع کرنا)  ِ 4.55 - جسم کا بہت زیادہ دبلا ہونا  ِ 4.56 - جسم کے کسی حصے کا پھول جانا  ِ 4.57 - جسم کے کسی حصہ کاسن ہوجانا  ِ 4.58 - جسم پر آبلے  ِ 4.59 - جسم پرورم  ِ 4.60 - چھیپ ۔چنبل  ِ 4.61 - چیچک  ِ 4.62 - چوٹ  ِ 4.63 - چڑچڑاپن  ِ 4.64 - حیض  ِ 4.65 - حمل  ِ 4.66 - حملِ کاذب  ِ 4.67 - حبسِ ریاح (گیس)  ِ 4.68 - خناق  ِ 4.69 - خصیوں کی سوجن یافوطوں میں پانی آنا  ِ 4.70 - خون کی کمی  ِ 4.71 - ہائی بلڈپریشر  ِ 4.72 - لوبلڈپریشر  ِ 4.73 - خنازیر  ِ 4.74 - خارش  ِ 4.75 - داد  ِ 4.76 - دست  ِ 4.77 - دانتوں کے امراض  ِ 4.78 - دمہ  ِ 4.79 - دل میں درد  ِ 4.80 - دماغ کی تکان  ِ 4.81 - دماغ کا ورم  ِ 4.82 - ڈکاریں  ِ 4.83 - کھٹی ڈکاریں  ِ 4.84 - رقت یا مادۂ تولید میں پتلا پن  ِ 4.85 - رسولی  ِ 4.86 - رعشہ  ِ 4.87 - زکام ۔ نزلہ  ِ 4.88 - سیلان الرحم (لیکوریا)  ِ 4.89 - سر کا درد  ِ 4.90 - سینے کی جلن  ِ 4.91 - سر کے بال  ِ 4.92 - سکتہ  ِ 4.93 - سردی کی وجہ سے سوجن  ِ 4.94 - سرخبادہ  ِ 4.95 - سفید کوڑھ ۔ برص  ِ 4.96 - سوزاک  ِ 4.97 - سرطان۔کینسر  ِ 4.98 - سل  ِ 4.99 - سرسام  ِ 4.100 - سرعت  ِ 4.101 - شہوت کی زیادتی  ِ 4.102 - صفرا کی زیادتی  ِ 4.103 - صفرا کی وجہ سے قے  ِ 4.104 - فالج  ِ 4.105 - قولنج  ِ 4.106 - قبض  ِ 4.107 - قے  ِ 4.108 - کان کے امراض  ِ 4.109 - کوڑھ ۔ جذام  ِ 4.110 - کمزوری۔کاہلی  ِ 4.111 - کٹ جانا  ِ 4.112 - پاگل کتے کے کاٹے کا علاج  ِ 4.113 - خشک کھانسی  ِ 4.114 - تر کھانسی  ِ 4.115 - گردوں کا ورم  ِ 4.116 - گلے کا درد، گلے کی سوزش  ِ 4.117 - گنج  ِ 4.118 - گٹھیا  ِ 4.119 - لقوہ  ِ 4.120 - موتی جھرہ  ِ 4.121 - ملیریا  ِ 4.122 - منہ سے خون آنا  ِ 4.123 - منہ میں چھالے  ِ 4.124 - مثانے میں پتھری  ِ 4.125 - مالیخولیا۔مراق  ِ 4.126 - معدہ میں جلن  ِ 4.127 - مسّے  ِ 4.128 - مرگی  ِ 4.129 - موٹاپا کم کرنے کےلئے  ِ 4.130 - ناف ٹلنا  ِ 4.131 - نقرس اور فیل پاء  ِ 4.132 - نیند نہ آنا۔بے خوابی  ِ 4.133 - نمونیہ  ِ 4.134 - ناسور  ِ 4.135 - نکسیر  ِ 4.136 - وجع المفاصل  ِ 4.137 - نفرت، حسد اور سنگدلی  ِ 4.138 - ہاضمے کی کمزوری  ِ 4.139 - ہیضہ  ِ 4.140 - ہاتھ پیروں کا پھٹنا اور ہاتھ پیروں کی اینٹھن  ِ 4.141 - ہاتھ پیروں کا ٹھنڈا رہنا  ِ 4.142 - یرقان  ِ 5 - امراض اور مفید غذائیں  ِ 5.1 - معدہ اور آنتوں کے امراض  ِ 5.2 - استسقاء  ِ 5.3 - ٹی بی  ِ 5.4 - جگر کے امراض  ِ 5.5 - گُردہ کے امراض  ِ 5.6 - بواسیر  ِ 5.7 - ذیابیطس  ِ 5.8 - کمزوریٔ قلب اور اختلاج  ِ 5.9 - حاملہ اور حمل کی حفاظت  ِ 5.10 - حیض  ِ 5.11 - لیکوریا  ِ 5.12 - ماں کے دودھ میں کمی  ِ 5.13 - جریان۔احتلام۔سرعت  ِ 5.14 - جلدی امراض  ِ 5.15 - رَعشہ، فالج اور لقوہ  ِ 5.16 - حافظہ کی کمزوری  ِ 5.17 - ذہنی کمزوری، دماغی خشکی، مالیخولیا اور جنون  ِ 5.18 - گٹھیا  ِ 5.18 - ہائی بلڈ پریشر۔لو بلڈ پریشر  ِ 5.19 - پِتَّہ کی پتھری۔ گردوں اور مثانہ میں پتھری  ِ 5.20 - دمہ  ِ 5.21 - یرقان  ِ 5.22 - کمزوری اعصاب  ِ 6.1 - دائرۃ الحاضرات۔ پتھروں کی تاثیر معلوم کرنے کا روحانی طریقہ  ِ 6.2 - نام کے مطابق پتھر اور نگینے  ِ 6.3 - پتھر اورانسانی زندگی  ِ 6.4 - موتی  ِ 6.5 - مرجان  ِ 6.6 - فیروزہ  ِ 6.7 - لعل  ِ 6.8 - کہربا  ِ 6.9 - لاجورد  ِ 6.10 - یشب  ِ 6.11 - زمرد  ِ 6.12 - ہیرا  ِ 6.13 - پُکھراج  ِ 6.14 - یاقوت  ِ 6.15 - عقیق  ِ 6.16 - نیلم  ِ 6.17 - لہسنیا  ِ 6.18 - سنگ سلیمانی  ِ 6.19 - مُون اسٹون  ِ 6.20 - دھانِ فرہنگ  ِ 7 - تجربات  ِ 7.1 - بخار  ِ 7.2 - پیچش  ِ 7.3 - جانور اور رنگین علاج  ِ 7.4 - فوڈ پوائزن  ِ 7.5 - مثانہ کی پتھری  ِ 7.6 - آگ سے جلنا  ِ 7.7 - گِلٹی  ِ 7.8 - ایلوپیتھی ڈاکٹر اور کینسر  ِ 7.9 - رنگوں سے تبِ دِق کا علاج  ِ 7.10 - شعاعوں کے ذریعہ انجکشن تیار کرنا اور بجلی کے رنگین بلب  ِ 8 - رنگین شعاعوں کے تیل
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)