دنیا مسافر خانہ ہے

کتاب : آگہی

مصنف : خواجہ شمس الدۤین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=11668

مسافر خانہ میں جب قیام کرتے ہیں تو سامان ساتھ نہیں لے جاتے۔ سفر ختم ہوا مسافر خانہ سے باہر آ گئے۔ کچھ ساتھ نہیں لائے تھے کچھ ساتھ نہیں لے گئے۔ مسافر خانہ میں آرام کی ساری چیزیں موجود تھیں اگر کوئی چیز موجود نہیں تھی تو اس کی فکر نہیں کی۔ کیونکہ مسافرخانہ میں چند روز رہنا ہے۔ جس طرح مسافر خانہ خانہ میں رہتا ہے اور وہاں سے چلا آتا ہے اسی طرح انسان دنیا میں مہمان بن کر آتا ہے اور بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑھاپا گزار کر چلا جاتا ہے۔

مسافرخانہ میں مسافر کہیں سے آتا ہے اور مسافر خانہ چھوڑ کر کہیں چلا جاتا ہے۔ یہی حال دنیا کا ہے ہم نہیں جانتے ہم کہاں سے آئے ہیں اور نہیں جانتے کہاں چلے جائیں گے۔ پڑھے لکھے لوگ کہتے ہیں۔ آدمی عالم ارواح سے آتا ہے اور زندگی کے نشیب و فراز گزار کر عالم اعراف میں چلا جاتا ہے۔

ہمیں یہ معلوم نہیں کہ عالم ارواح کیا ہے؟ اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ عالم اعراف کیا ہے؟

جب آدمی سفر میں ہوتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے پاس کم سے کم سامان ہو۔ سامان جتنا کم ہو گا سفر اتنا آرام سے گزرے گا۔ آدمی اچھے ہوٹل میں اس لئے ٹھہرتا ہے کہ وہاں پہلے سے سامان موجود ہوتا ہے۔ وہ راحت و آرام کیلئے ہوٹل کی سب چیزیں استعمال کرتا ہے مگر جب ہوٹل چھوڑتا ہے تو سامان ساتھ نہیں لے جاتا اور اسے سامان ساتھ نہ لے جانے کا افسوس بھی نہیں ہوتا۔

ہم فرض کرتے ہیں کہ ہمارا دماغ ایک کمرہ ہے۔ کمرہ کافی کشادہ اور ہوا دار ہے۔ کمرہ میں ایک چارپائی ہے اس پر آرام دہ بستر بچھا ہوا ہے، اس کے علاوہ چند چیزیں ہیں مثلاً گرمی سے بچنے کیلئے ایک پنکھا ہے، چھوٹی سی ایک میز ہے، میز پر ضروری چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔ اس کمرہ میں ایک آدمی سوتا ہے اور صبح بیدار ہو جاتا ہے۔

اس کے برعکس ایک اور کمرہ ہے اور اس میں ایک تخت ہے۔ اس پر بستر بچھا ہوا ہے، ایک میز، ایک کرسی، ایک پنکھا، ایک بڑا قالین، بڑے قالین کے اوپر نہایت خوبصورت ایک چھوٹا قالین ہے، دو گاؤ تکیہ ہیں، ریڈیو ہے، ٹی وی ہے، DVDپلیئر ہے، ٹیلیفون ہے، الماری ہے، الماری میں کپڑے ہیں، چار پانچ جوڑی جوتے ہیں، الماری میں جیولری ہے، سو سو کے نوٹ ہیں، ایک چھوٹا فریج ہے، گھڑی ہے، دیوار پر آپ کا، بیگم کا اور بچوں کا فیملی فوٹو آویزاں ہے۔ آپ اس کمرے میں سوتے ہیں۔
اس سے بالکل الٹ جہاں صرف ایک تخت ہے اور اس کے اوپر بستر ہے۔ بستر کے اوپر دو تکیے ہیں۔ زمین پر چٹائی بچھی ہوئی ہے۔
آپ کیا سمجھے یہ کہانی کیا ہے؟

ایک آدمی خالی کمرہ میں سوتا ہے دوسرا آدمی کمرہ میں موجود پندرہ بیس چیزوں کے درمیان سوتا ہے۔آپ جب سو جاتے ہیں تو یہ سب چیزیں بظاہر آپ کو نظر نہیں آتیں لیکن ان چیزوں کا عکس آپ کے دماغ پر پڑتا رہتا ہے جب کمرہ میں بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں تو الجھی ہوئے خواب نظر آتے ہیں۔ جب کمرہ میں چیزیں نہیں ہوتیں چونکہ چیزوں کا عکس دماغ پر نہیں پڑتا اس لئے دماغ ہلکا رہتا ہے۔ نیند اچھی آتی ہے۔

آپ کہیں گے کہ زندگی گزارنے کے لئے ضروری ہے کہ یہ سب چیزیں موجود ہوں لیکن آپ اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ کمرہ میں موجود ہر چیز کا عکس آپ کے دماغ پر پڑتا ہے، اس لئے آدمی بھاری پن محسوس کرتا ہے اور اس کمرہ میں جہاں سامان کم ہوتا ہے یا ہوتا ہی نہیں ہے تو آدمی بھاری پن محسوس نہیں کرتا اور کمرہ میں نیند اچھی آتی ہے۔

قانون
یہ دنیا اور دنیا کی ہر شئے اپنا وجود رکھتی ہے۔ وجود نہیں ہو گا تو شئے نہیں ہو گی۔ شئے کی موجودگی یہ ہے کہ ہر شئے کا عکس دماغ پر پڑتا ہے۔ اگر شئے کا عکس دماغ پر نہ پڑے اور ذہن اس عکس کو قبول نہ کرے اور حافظہ اس شئے کو یاد نہ رکھے تو آدمی کیلئے یہ شئے عدم موجود ہو جائے گی۔

آدمی جب پیدا ہوتا ہے اس کے ذہن میں کچھ نہیں ہوتا لیکن جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا ہے دنیا کی چیزوں کا عکس اس کے حافظہ میں محفوظ ہوتا رہتا ہے اور جب وہ جوان ہوتا ہے دنیا کا پورا ریکارڈ اس کے حافظہ میں محفوظ ہو جاتا ہے۔

آپ قریبی دوست کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔ آپ کے پاس ایک کمرہ ہے۔ وہ سامان سے بھرا ہوا ہے اور اس میں دوسرے آدمی کے لئے جگہ نہیں ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس دوست کو کہاں رکھیں گے؟ کہاں سلائیں گے؟ اسے کیسے راحت و آرام پہنچائیں گے؟

اس کے برعکس ایک کمرہ ہے اس میں ایک پلنگ ہے، باقی جگہ خالی ہے۔ آپ کا دوست اس کمرہ میں آرام سے رہے گا اور اسے سکون ملے گا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ زندگی گزارنے کے لئے سامان ضروری نہیں ہے۔ ہم کہنا یہ چاہتے ہیں کہ سامان کمرہ میں اتنا نہ ہو کہ کمرہ کباڑ خانہ بن جائے۔ دنیا روٹین میں گزاری جائے تو دماغ ہلکا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے قربت حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق دل میں جگہ موجود ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا ہمارے لئے بنائی ہے لیکن صورتحال یہ ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم دنیا کے لئے بنے ہیں۔
آپ کا دوست آپ کو قیمتی گھڑی امانتاً دیتا ہے۔ وہ جب چاہے وہ آپ سے لے سکتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ آپ گھڑی سے محبت کرتے ہیں، گھڑی میں آپ کی جان اٹکی ہوئی ہے اور جس نے آپ کو گھڑی دی ہے اس کی طرف آپ کا ذہن ہی نہیں جاتا۔ ایسے شخص کے بارے میں آپ یقیناً یہی کہیں گے کہ یہ شخص ناشکرا اور احسان فراموش ہے۔ میں ایک فقیر بندہ ہوں۔ کہنا یہ چاہتا ہوں کہ دنیا کی ساری چیزیں استعمال کریں لیکن دنیا میں دل نہ لگائیں۔ خیال رکھیں کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے بنائی ہے۔
ہماری صورت یہ ہے کہ ہم دنیا کی ہر شئے استعمال کرتے ہیں۔ اس کی بڑی سے بڑی قیمت لگا دیتے ہیں جس نے یہ نعمت عطا کی ہے اس کا شکر ادا نہیں کرتے۔

میرے بچوں! میرے بزرگوں! دل میں دنیا کی بجائے اللہ تعالیٰ کو بسایئے۔ جب دل میں اللہ تعالیٰ بس جاتا ہے تو دنیا بہت چھوٹی ہو جاتی ہے اور بندہ کے سامنے کائنات سرنگوں ہو جاتی ہے۔

 
لیکچر نمبر2

روح کیا ہے؟

مورخہ 27فروری 2001 ؁ء بروز منگل

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 227 تا 230

آگہی کے مضامین :

ِ انتساب  ِ پیش لفظ  ِ 1 - روحانی اسکول میں تربیت  ِ 2 - با اختیار بے اختیار زندگی  ِ 3 - تین سال کا بچہ  ِ 4 - مرید کی تربیت  ِ 5 - دس سال۔۔۔؟  ِ 6 - قادرِ مطلق اللہ تعالیٰ  ِ 7 - موت حفاظت کرتی ہے  ِ 8 - باہر نہیں ہم اندر دیکھتے ہیں  ِ 9 - اطلاع کہاں سے آتی ہے؟  ِ 10 - نیند اور شعور  ِ 11 - قانون  ِ 12 - لازمانیت اور زمانیت  ِ 13 - مثال  ِ 14 - وقت۔۔۔؟  ِ 15 - زمین پر پہلا انسان  ِ 16 - خالق اور مخلوق  ِ 17 - مٹی خلاء ہے۔۔۔  ِ 18 - عورت کے دو رُخ  ِ 19 - قانون  ِ 20 - ہابیل و قابیل  ِ 21 - آگ اور قربانی  ِ 22 - آدم زاد کی پہلی موت  ِ 23 - روشنی اور جسم  ِ 24 - مشاہداتی نظر  ِ 25 - نیند اور بیداری  ِ 26 - جسمِ مثالی  ِ 27 - گیارہ ہزار صلاحیتیں  ِ 28 - خواتین اور فرشتے  ِ 29 - روح کا لباس؟  ِ 30 - ملت حنیف  ِ 31 - بڑی بیگمؓ، چھوٹی بیگمؓ  ِ 32 - زم زم  ِ 33 - خواتین کے فرائض  ِ 34 - تیس سال پہلے  ِ 36 - کہکشانی نظام  ِ 37 - پانچ حواس  ِ 38 - قانون  ِ 39 - قدرِ مشترک  ِ 40 - قانون  ِ 41 - پچاس سال  ِ 42 - زندگی کا فلسفہ  ِ 43 - انسانی مشین  ِ 44 - راضی برضا  ِ 45 - زمانے کو بُرا نہ کہو، زمانہ اللہ تعالیٰ ہے(حدیث)  ِ 46 - مثال  ِ 47 - سائنس اور روحانیت  ِ 48 - مادی دنیا اور ماورائی دنیا  ِ 49 - چاند گاڑی  ِ 50 - تین ارب سال  ِ 51 - کائناتی نظام  ِ 52 - تخلیق کا قانون  ِ 53 - تکوین  ِ 54 - دو علوم۔۔۔  ِ 55 - قانون  ِ 56 - ذات کا عرفان  ِ 57 - روحانی شاگرد  ِ 58 - ذات کی نفی  ِ 59 - پانچ کھرب بائیس کروڑ!  ِ 60 - زندگی کا تجزیہ  ِ 61 - عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ  ِ 62 - دین فطرت  ِ 63 - عید  ِ 64 - ملائکہ اعلان کرتے ہیں  ِ 65 - بچے اور رسول اللہﷺ  ِ 66 - افکار کی دنیا  ِ 67 - مثال  ِ 68 - تحقیق و تلاش  ِ 69 - Kirlian Photography  ِ 70 - قرآن علوم کا سرچشمہ ہے  ِ 71 - روشنی سے علاج  ِ 72 - روشنی کا عمل  ِ 73 - چھ نقطے  ِ 74 - قانون  ِ 75 - امراض کا روحانی علاج  ِ 76 - مشق کا طریقہ  ِ 77 - نور کا دریا  ِ 78 - ہر مخلوق عقل مند ہے  ِ 79 - موازنہ  ِ 80 - حضرت جبرائیل ؑ  ِ 81 - ڈائری  ِ 82 - ماں کی محبت  ِ 83 - حضرت بہاؤ الدین ذکریا ملتانیؒ  ِ 84 - اکیڈمی میں ورکشاپ  ِ 85 - زمین اور آسمان  ِ 86 - ورد اور وظائف  ِ 87 - آواز روشنی ہے  ِ 88 - مثال  ِ 89 - نگینوں سے علاج  ِ 90 - تقدیر کیا ہے؟  ِ 91 - مثال  ِ 92 - حضرت علیؓ کا ارشاد  ِ 93 - فرشتے، جنات اور آدم ؑ  ِ 94 - انسان اور موالید ثلاثہ  ِ 95 - سلطان  ِ 96 - مثال  ِ 97 - دو رخ  ِ 98 - سیاہ نقطہ  ِ 99 - قانون  ِ 100 - کوئی معبود نہیں مگر اللہ تعالی۔۔۔  ِ 101 - تین کمزوریاں  ِ 102 - عفو و درگذر  ِ 103 - عام معافی  ِ 104 - توازن  ِ 105 - شکر کیا ہے؟  ِ 106 - قافلہ سالار  ِ 107 - ٹیم ورک  ِ 108 - سلسلہ عظیمیہ کے ارکان کی ذمہ داری  ِ 109 - چھوٹوں کی اصلاح  ِ 110 - ایک نصیحت  ِ 111 - صبحِ بہاراں  ِ 112 - دنیا مسافر خانہ ہے  ِ 113 - روح کیا ہے؟  ِ 114 - سانس کی مشقیں  ِ 115 - من کی دنیا  ِ 116 - بے سکونی کیوں ہے؟  ِ 117 - غور و فکر  ِ 118 - روحانی علوم  ِ 119 - ہمارے بچے  ِ 120 - اللہ تعالیٰ بہت بڑے ہیں  ِ 121 - اللہ ھُو  ِ 122 - اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کو مانگو  ِ 123 - قربت  ِ 124 - ہر مخلوق باشعور ہے  ِ 125 - کامیاب زندگی  ِ 126 - انا کی لہریں  ِ 127 - صدقۂ جاریہ  ِ 128 - ادراک یا حواس
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message