دماغ میں دو کھرب خانے

کتاب : روح کی پکار

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=12790

سوال: میں نے پڑھا ہے کہ انسان کے دماغ میں دو کھرب خانے ہوتے ہیں جن میں سے صرف دو سو متحرّک اور باعمل ہوتے ہیں اور اگر دو سو سے زیادہ خانے متحرّک ہو جائیں تو ہمیں غیب کی چیزیں نظر آ سکتی ہیں اور لاکھوں سال پہلے اور بعد میں ہونے والے واقعات نظر آ سکتے ہیں۔ مجھے آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا ایک عام آدمی میں یہ صلاحیت پیدا ہو سکتی ہے کہ اگر وہ دیکھنا چاہے کہ میرا فلاں دوست جو ہزاروں میل دور ہے وہ کیا کر رہا ہے یا فلاں رشتہ دار یا عزیز کس حال میں ہے یا کوئی ماضی یا مستقبل کا واقعہ دیکھنا چاہے تو دیکھ سکتا ہے یا نہیں؟ اگر میں یہ سب دیکھنا چاہوں تو مجھے کیا عمل کرنا ہو گا؟

جواب: تصوّف نورِ باطن ہے۔ نورِ باطن نام ہے ایسے خالص ضمیر کا جس میں آلائش قطعاً نہیں ہوتی۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اپنے سامنے دیکھنے کے بجائے پیچھے دیکھتے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اگر مقصود صرف پیچھے دیکھنا ہوتا تو آنکھیں پیشانی پر ہونے کے بجائے سر کے پچھلے حصے میں ہوتیں۔
ہمارے تمام تر عقائد و طرزِ فکر کی بنیاد ماضی پر ہے جہاں کہیں ہمارا ذہن اٹکتا ہے۔ ہم بجائے اس کے کہ جو کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے یا جو کچھ ہمارے اپنے تجربے میں ہے اس کی روشنی میں نتائج اخذ کرتے ہیں اور یقین کر لیتے ہیں، چاہے وہ صحیح ہوں یا غلط، جس کا لازماً نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری آزاد طرزِ فکر پر ضرب شدید پڑتی ہے اور بالآخر تواہم اور وسوسوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یقین مجروح ہوتا ہے ذہن منتشر ہوتا ہے اور اس طرح آدمی کے اندر دُوربینی کی صلاحیتیں مجروح اور معدوم ہو جاتی ہیں۔
اگر مستقبل بینی کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کیا جائے تو پہلے ہمیں مفروضہ حواس اور شکوک و وَسواس سے خود کو آزاد کرنا ہو گا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ کسی ایسے استاد کی رہنمائی میں سفر کا آغاز کیا جائے جو مستقبل بینی کے علم سے پوری طرح آگاہ ہو۔ قدرت نے ہر آدمی کے اندر یہ صلاحیت وُدیعت کی ہے کہ وہ دُور دراز کی چیزوں کا مشاہدہ کر سکے اور ہزاروں میل دُور رہنے والے دوستوں اور رشتہ داروں سے ہم کلامی کر سکے۔ مادّی دنیا میں اس کی مثال سائنس کی ترقی ہے۔ ہمارے ارد گرد بہت سی آوازیں پھیلی ہوئی ہیں ان کے قُطر بہت چھوٹے اور بہت بڑے ہوتے ہیں جن کو انگریزی میں ویولینتھ (Wave Length) کہتے ہیں۔ سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ چار سو قُطر سے نیچے کی آوازیں آدمی نہیں سن سکتا۔ سولہ سو قُطر سے زیادہ اونچی آوازیں بھی آدمی نہیں سن سکتا۔ چار سَو (400) ویولینتھ سے نیچے کی آوازیں برقی رَو کے ذریعہ سنی جا سکتی ہیں اور ایک ہزار چھ سو ویولینتھ کی آوازیں بھی برقی رَو کے ذریعہ سنی جا سکتی ہیں۔ یہ ایک قسم کا حسی عمل ہے جو دماغی خلیے بناتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق:
’’اللہ آسمانوں اور زمین کی روشنی ہے۔‘‘
روشنی فی الواقع برقی رَو ہے۔ برقی رَو جب دماغ کے خلیوں میں دور کرتی ہے تو آسمانوں اور زمین میں موجود نظام کو دیکھنے کے لئے غیب بینی کی صلاحیت بیدار اور متحرّک ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی انسان تفکر کے ذریعہ روشنی (برقی رَو) کا مطالعہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ کائنات میں کوئی شئے دیکھنے کے عمل میں مزاحمت نہیں کر سکتی اس لئے کہ خالق کائنات نے ہر شئے کو انسان کے لئے مسخر کر دیا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 189 تا 191

روح کی پکار کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 1 - مراقبہ کیا ہے؟  ِ 2 - زمان و مکان کیا ہے؟  ِ 3 - لوحِ محفوظ  ِ 4 - خالقِ خدا  ِ 5 - اللہ تعالیٰ نظر کیوں نہیں آتے؟  ِ 6 - اللہ تعالیٰ کی امانت کے حصول کے بعد ظالم اور جاہل کیسے؟  ِ 7 - کونسی طرزِ فکر اللہ کے قریب کرتی ہے؟  ِ 8 - روحانی طرزِ فکر کا تجزیہ  ِ 9 - روحانیت میں سب سے پہلے کیا ضروری ہے؟  ِ 10 - طرزِ فکر کی منتقلی کس قانون سے ہوتی ہے؟  ِ 11 - زمان (Time) کی حدود  ِ 12 - نفس کیا ہے؟  ِ 13 - درست طرزِ فکر کونسی ہے؟  ِ 14 - مرشد کو ظاہری آنکھ سے نہ دیکھا ہو  ِ 15 - کیا مراقبہ خواب کا تسلسل ہے؟  ِ 16 - اللہ تعالیٰ کے درمیان حجاب  ِ 17 - اللہ تعالیٰ بہترین خالق ہیں  ِ 18 - اللہ تعالیٰ ہر چیز پر محیط ہیں  ِ 19 - اللہ تعالیٰ کے علم کا عکس  ِ 20 - کائنات کے تخلیقی خدوخال  ِ 21 - کسی چیز کو سمجھنے کے لئے بنیادی عمل نظر ہے  ِ 22 - اللہ تعالیٰ کی صفات  ِ 23 - علم استدراج اور علم نوری میں فرق  ِ 24 - روحانی تصرّف کیا ہے؟  ِ 25 - اختیاری اور غیر اختیاری طرزِ فکر  ِ 26 - بخیلی اور سخاوت  ِ 27 - زندگی کی بنیاد  ِ 28 - حقیقت مُطلَقہ کیا ہے؟  ِ 29 - یقین کے کیا عوامل ہیں؟  ِ 30 - کیا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان سب مسخر کر دیا؟  ِ 31 - شُہود کی قسمیں  ِ 32 - سائنسی ایجادات  ِ 33 - علم کی حیثیت  ِ 34 - کیا قرآنی آیات پڑھنی چاہئیں؟  ِ 35 - تعویذ کے اندر کونسی طاقت ہے؟  ِ 36 - فِقہی علم کیا ہے؟  ِ 37 - سلطان کیا ہے؟  ِ 38 - مٹھاس یا نمک  ِ 39 - خیالی اور حقیقی خواب  ِ 40 - دعا آسمان سے کیوں پھینکی جاتی ہے؟  ِ 41 - مرشد کس طرح فیض منتقل کرتا ہے؟  ِ 42 - کتنی نیند کرنی چاہئے؟  ِ 43 - کیا رنگین روشنیاں غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں؟  ِ 44 - طریقت اور شریعت  ِ 45 - روح کا عرفان  ِ 46 - عام آدمی اور مؤمن میں فرق  ِ 47 - حساب کتاب کیا ہوتا ہے؟  ِ 48 - استغنائی طرزِ فکر  ِ 49 - خود ترغیبی کیا ہے؟  ِ 50 - کیفیت اور خیال میں فرق  ِ 51 - حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد  ِ 52 - تدلّیٰ اور علم الاسماء  ِ 53 - ارتقائی منازل  ِ 54 - نورِ باطن  ِ 55 - ذہن بیمار یا جسم بیمار  ِ 56 - روح کہاں جاتی ہے؟  ِ 57 - علم الغیب کیا ہے؟  ِ 58 - اللہ کا پسندیدہ بندہ  ِ 59 - فنا و بقا کیا ہے؟  ِ 60 - رنج و غم کیوں جمع ہوتے ہیں؟  ِ 61 - وَحدت الوجود اور وَحدت الشُہود  ِ 62 - دماغ میں دو کھرب خانے  ِ 63 - قلم خشک ہو گیا  ِ 64 - ترقی کا فسوں  ِ 65 - کون سا رنگ کون سا پتھر؟  ِ 66 - نماز میں حضورِقلب پیدا ہو  ِ 67 - روحانی تفسیر  ِ 68 - روح سے وُقوف حاصل کرنا  ِ 69 - نظر کا قانون  ِ 70 - زمان و مکان (Time And Space)  ِ 71 - شجرِ ممنوعہ کیا ہے؟  ِ 72 - کائنات کا بنیادی مسالہ  ِ 73 - اِرتکازِ توجّہ  ِ 74 - جسم میں لطیفے  ِ 75 - مادری زبان میں خیالات  ِ 76 - تصوّرِ شیخ  ِ 77 - کشش کیوں ہوتی ہے؟  ِ 78 - معجزہ، کرامت، اِستدراج کیا ہے؟  ِ 79 - قوّت ارادی کیا ہے؟  ِ 80 - تخلیقی اختیارات  ِ 81 - بغیر استاد کیا نقصان ہوتا ہے؟  ِ 82 - سورج بینی کا کیا فائدہ ہے؟  ِ 83 - رَحمۃَ لِّلعالمین  ِ 84 - وہاں کی زبان کو سمجھنا  ِ 85 - مراقبہ کا حکم  ِ 86 - انسانی کوشش کا عمل دخل  ِ 87 - اسفل زندگی سے نکلنا  ِ 88 - اسمِ اعظم کیا ہے؟  ِ 89 - ہر شئے دو رخوں پر ہے  ِ 90 - مؤکل کیا ہوتے ہیں؟  ِ 91 - مذہب کی حقیقت کیا ہے؟  ِ 92 - حواس کہاں سے آتے ہیں؟  ِ 93 - شرحِ صدر کیا ہے؟  ِ 94 - تفکر کی صلاحیت  ِ 95 - عشاء کا وقت افضل کیوں ہے؟  ِ 96 - سعید روح اور شَقی روح کیا ہے؟  ِ 97 - حافظے کی سطح  ِ 98 - حسبِ خواہش نتیجہ نہ ملنا  ِ 99 - نیگیٹیو بینی کیا ہے؟  ِ 100 - اس کتاب میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے  ِ 101 - یاحي یاقیوم کا کیا مطلب ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message