یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

دعوتِ حق

کتاب : بچوں کے محمد ﷺ (جلد اول)

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=31112

نبوت کے ابتدائی سالوں میں حضرت محمد ﷺ نے نہایت محتاط طریقے سے اللہ تعالیٰ کا پیغام اپنے قریبی رشتہ داروں کو پہنچایا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ سے فرمایا:

ترجمہ: آپ کو جس چیز کا حکم دیا گیا ہے اسے خوب کھول کر بیان کیجئے اور مشرکوں کی پرواہ نہ کیجئے۔(سورۃ الحجر۔۹۴)

یہ آیت نازل ہونے کے بعد حضرت محمدﷺ  اعلانیہ اسلام کی دعوت دینے میں مصروف ہوگئے۔ایک روز حضرت محمدﷺ نے مکہ کے لوگوں کو دعوت دی کہ وہ صفا کی پہاڑی پر جمع ہو جائیں میں ایک اہم بات لوگوں کو سنانا چاہتا ہوں۔سب لوگ جن میں حضرت محمدﷺ کے قریبی رشتہ دار بھی شامل تھے پہاڑ پر جمع ہو گئے۔

حضرت محمد ﷺ نے لوگوں سے فرمایا:

“اے لوگو! اگر میں تم سے کہوں کہ پہاڑ کے پیچھے سے دشمن کا ایک لشکر ہے، جو تم پر حملہ کرنے کے لیے آرہا ہے تو کیا تم میری بات کا یقین کر و گے؟”

مکہ کے تمام لوگ یہ بات جانتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ صادق اور امین ہیں اس لیے سب نے جواب دیا”جی ہاں ہم یقین کر لیں گے۔”

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:

“اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے چُن لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے  نبوت سے سرفراز فرمایا ہے  تاکہ میں تمہیں دعوت دوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔اگر تم نے اللہ کی اطاعت کو قبول نہیں کیا اور بت پرستی میں لگے رہے تو یقین کرو، تم پر اللہ کا عذاب ہو گا۔”

حضرت محمد ﷺ کی یہ بات سن کر آپ ﷺ کے چچا ابو لہب نے غصہ میں چیخ کر کہا:

“اے محمد) ﷺ(! کیا تو نے نے یہی بات سنانے کے لیے ہمیں یہاں بلایا ہے۔ان باتوں کی اتنی اہمیت نہیں کہ ہم اپنا قیمتی وقت اور اپنا کاروبار چھوڑ کر تمہاری بات سُنیں۔”

پھر ابو لہب نے لوگوں سے کہا ” محمد (ﷺ) کی باتوں پر توجہ نہ دو اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ”۔ مشرکین وہاں سے چلے گئے۔اس واقعہ کے بعد حضرت محمد ﷺ کے قریبی رشتہ داروں نے آپ ﷺ کی مخالفت شروع کر دی۔

پیارے بچو!

جس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو نبوت عطا کی اس وقت دنیا میں جہالت کا یہ عالم تھا کہ قتل و غارت گری اور لوٹ مار عام تھی۔لوگوں کو پکڑ کرغلام بنا لیتے تھے اور ان کی خرید و فروخت کے لیے باقاعدہ منڈیاں لگتی تھیں۔ لوگ اپنی معصوم بچیوں کو زمین میں زندہ دفن کر دیتے تھے۔ ایک دوسرے کا حق مارتے تھے۔ ذہنی پستی کی انتہا یہ تھی کہ لوگ بتوں کو پوجتے تھے۔

حضرت محمد ﷺ چاہتے تھے کہ لوگ ان سب برائیوں کو چھوڑ کر ایک اللہ کی عبادت کریں اور کسی کو اللہ کا شریک نہ بنائیں۔

مکہ کے اُمراء، رؤسا اور صاحب اختیار حکمرانوں نے جب دیکھا کہ اسلام  ۔۔۔۔۔ معصوم بچوں کے قتل سے  روکتا ہے ۔۔۔۔۔ غلاموں کے حقوق کے تحفط کا حکم دیتا ہے ۔۔۔۔۔ غریب اور امیر کا امتیاز ختم کرتا ہے ۔۔۔۔۔ اسلام انسانیت کے لیے تحفظ فراہم کرتا ہے تو اہل مکہ کو اپنا اقتدار خطرے میں نظر آیا۔انہوں نے سوچا اس طرح تو ہمارا اختیار ختم ہو جائے گا سب کو برابر کے حقوق ملیں گے تو ہم اپنی من مانی نہیں کر سکیں گے۔

ان وجوہات کی بناء پر مکہ کے لوگ حضرت محمد ﷺ کے مخالف ہو گئے اور انہوں نے حضرت محمدﷺ کی مخالفت کے لیے طرح طرح کے منصوبے بنانے شروع کر دئیے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 22 تا 24

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)