درخت کی گواہی

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=12982

مکہ میں ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے صحابہ کرامؓ سے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص جنات سے ملاقات کرنا چاہتا ہے وہ آج رات میرے پاس آجائے۔ ابن مسعودؓ کے سوا اور کوئی نہیں آیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ساتھ لے کر مکہ کی ایک اونچی پہاڑی پر پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حصار کھینچ کر فرمایا کہ تم حصار سے باہر نہ آنا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ کھڑے ہو کر قرآن پڑھنا شروع کردیا ۔ کچھ دیر بعد ایک جماعت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح گھیر لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بیچ چھپ گئے۔ جنات کے گروہ نے کہا کہ تمہارے پیغمبر ہونے کی کون گواہی دیتا ہے۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ درخت گواہی دیگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درخت سے پوچھا میں کون ہوں۔ درخت نے گواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے فرستادہ بندے اور آخری نبی ہیں۔ یہ دیکھ کر سارے جنات ایمان لے آئے۔

**********************

ہر جسمانی وجود کے اوپر ایک اور جسم ہے۔ اس جسم کو علمائے باطن ہیولٰی کہتے ہیں۔ روحانی آنکھ اس جسم کے طول و عرض اور جسم میں تمام خدوخال ہاتھ، پیر، آنکھ، دماغ کا بھی مشاہدہ کرتی ہے۔ نہ صرف مشاہد کرتی ہے بلکہ ان کے اندر روشنیوں کے ٹھوس پن کو بھی محسوس کرتی ہے۔

تخلیق کا قانون ہمیں بتاتا ہے کہ پہلے روشنیوں سے بنا ہوا جسم تخلیق ہوتا ہے۔ پھر مادی وجود کی تخلیق عمل میں آتی ہے۔ لیکن دونوں میں ٹھوس پن موجود ہے۔ ہم مفرد اور مرکب لہروں کی وضاحت کرچکے ہیں۔ مفرد لہر ایسی حرکات کا مجموعہ ہے جو ایک سمت سے دوسری سمت میں جاری و ساری ہے۔ اگر مخالف سمت سے ایک سمت سے دوسری سمت لہر مفرد لہروں میں پیوست ہوجائے اور اس کے اوپر نقش و نگار بن جائیں تو اس کا نام انسان اور انسان کی دنیا ہے۔ لیکن اگر مفرد لہریں ایک دوسرے سے پیوست ہوجائیں اس طرح کہ پیوست بھی رہیں اور فاصلہ بھی ختم نہ ہو اور اس بساط پر نقش و نگار بن جائیں تو اس کا نام جنات اور جنات کی دنیا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ مفرد لہروں کے اوپر نقش و نگار یعنی آنکھ، ناک، کان، ہاتھ، پیر وغیرہ کی دنیا، جنات کی دنیا ہے اور مرکب لہروں پر نقش و نگار یعنی ہاتھ، پیر اور دوسرے اعضاء اگر نقش ہوں تو مادی وجود کی دنیا ہے۔

مادی وجود کی دنیا میں جس طرح انسان کے علاوہ اور بے شمار مخلوقات ہیں۔ اسی طرح جنات کی دنیا میں بھی زمین، آسمان، چاند، سورج، ستارے اور وہ تمام مخلوقات موجود ہیں جو ہمیں زمین پر نظر آتی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ انسان مرکب لہروں کی تخلیق ہے۔ جبکہ جنات مفرد لہروں سے بنے ہوئے ہیں۔ جس طرح مرکب لہروں کی تخلیق میں پانچ حسیں کام کرتی ہیں. اسی طرح مفرد لہروں کی مخلوق میں بھی پانچ حسیں کام کرتی ہیں۔ جنات بولتے بھی ہیں، جنات سنتے بھی ہیں، جنات کی دنیا میں کھیتی باڑی بھی ہوتی ہے اور جنات کی دنیا میں سائنسی ایجادات کا بھی عمل دخل ہے۔

جنات کی دنیا ایسی دنیا ہے جو ہماری زمین کے گلوب کی حدود میں ہے اور زمین سے تقریباً دس لاکھ چھپن ہزار فٹ خلاء میں جنات کی دنیا کی حدود شروع ہوجاتی ہیں۔ اس کی مثال اس طرح ہے کہ جیسے بہت بڑی زمین کے رقبے پر چھت ڈال دی جائے اور چھت پر کھیتی باڑی بھی کی جائے، مکان بھی بنائے جائیں، درخت بھی لگائے جائیں اور وہاں مخلوق بھی آباد ہو۔ چھت پر موجود مخلوق کو نہ تو زمین سے انسان دیکھ سکتا ہے اورنہ ہی چھت پر سے جنات انسان کو دیکھ سکتے ہیں۔ نہ دیکھنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم جس ٹھو مادیت سے واقف ہیں اور وہ ٹھوس مادیت جس پر روشنی کا غلبہ ہے، الگ الگ ہیں۔انسانی دنیا میں ماں کے بطن سے بچہ نو ماہ میں پیدا ہوتا ہے اور جنات کی دنیا میں ماں کے بطن سے بچہ انسانی اعداد و شمار کے مطابق نو سال میں پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح ان کی عمر کا تعین بھی ہے ۔

جنات اور انسان دونوں مکلًف مخلوق ہیں۔ دونوں دنیاوی علوم کی طرح روحانی علوم سیکھ سکتے ہیں۔ کائنات میں جتنی چیزیں، جتنے رنگ اور جتنے روپ ہیں ان کے لئے ایک مخصوص طولِ حرکت مقرر ہے۔ جس چیز کے لئے جو مقداریں معین کردی گئی ہیں ان میں کمی بیشی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں دو مکلًف مخلوق کا تذکرہ کیا ہے۔

ترجمہ:

’’ اے گروہِ جنات اور گروہِ انسان! تم زمین اور آسمان کے کناروں سے نکل کر دکھاؤ، تم نہیں نکل سکتے مگر سلطان سے ۔‘‘ ( الرحمن)

سلطان کا مطلب روحانی صلاحیتیں ہیں۔ اگر کوئی انسان یا جن روحانی صلاحیت کو بیدار اور متحرک کر لے تو آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل کر غیب کی دنیا کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔

جتنے بھی انبیاء تشریف لائے ان سب کی تعلیمات کا حاصل یہ ہے کہ انسان مادی وجود میں رہتے ہوئے اللہ تعالی کا عرفان حاصل کرے اور اللہ کا عرفان حاصل کرنے کے لئے غیب کی دنیا میں داخل ہونا ضروری ہے جو سلطان ( روح) کے ذریعہ ممکن ہے۔ اس لئے کہ ازل میں روح اللہ کی آواز سن چکی ہے۔ اللہ کو دیکھ چکی ہے اور پورے ہوش و حواس کے ساتھ اللہ کو دیکھ کر اللہ کی ربوبیت کا اقرار کرچکی ہے۔ انسان کے عالمِ وجود میں یا جنات میں، انسان پر یا جن پر ایسا پردہ پڑ جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ نور یا روشنی کی دنیا کو نہیں دیکھ سکتا اور جب یہ وجودی پردہ ہٹ جاتا ہے تو انسان کو اپنی روح کا ادراک ہوتا ہے اور روح ازل میں اللہ کو دیکھ چکی ہے۔ اللہ کی آواز سن چکی ہے اور اللہ کی ربوبیت کا اقرار کرچکی ہے۔ سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام جب پہاڑ پر تشریف لے گئے اور آپؐ نے قرآن پاک کی تلاوت فرمائی تو آیتوں کے انوار جن کو نورانی مفرد لہریں کہتے ہیں متحرک ہوگئے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس جنات کی مخلوق آ گئی۔ حضرت ابن مسعودؓ نے بھی یہ دنیا دیکھی۔ حضرت ابن مسعودؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تشریف لے گئے تھے، آیاتِ مبارکہ کے انوار جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان سے ظاہر ہوئے ان انوار سے حضرت ابن مسعودؓ کے اندر روحانی صلاحیتیں بیدار ہوگئیں یعنی نورِ نبوت سے ان کا باطن نہ صرف روشن ہوگیا بلکہ ان کے اندر انوار کا ذخیرہ اتنا زیادہ ہوگیا کہ انہوں نے جنات کی دنیا کو دیکھ لیا۔ درخت کا گواہی دینا اس بات کی سند ہے کہ جنات کی دنیا کے تمام افراد نے اور تمام مخلوقات نے سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی رسالت و نبوت کا اقرار کیا اور جنات مسلمان ہوگئے۔

علمائے باطن کے مطابق اب بھی جنات کی دنیا میں اربوں کی تعداد میں مسلمان ہیں۔ جس طرح مادی وجود کا مسلمان بندہ نماز، روزہ، حج، زکوۃ ادا کرتا ہے اسی طرح جنات کی دنیا میں بھی مسلمان جن اور ان کی خواتین نماز، روزہ، حج، زکوۃ ادا کرتی ہیں۔ کوئی شخص اعتراض کر سکتا ہے کہ جنات نظر کیوں نہیں آتے تو ہم یہ سوال کرنے کی جرأت کرتے ہیں کہ انسان کو وائرس کیوں نظر نہیں آتا؟ بیکٹریا کیوں نظر نہیں آتا؟ لیکن اگر کوئی Sensitive Device بنالی جائے تو اس سے بیکٹریا یا وائرس کا ادراک ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر انسان مفرد لہروں کا علم حاصل کرلے تو وہ جنات کو اور جنات کی دنیا کو دیکھ سکتا ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اعجاز ہے کہ انہیں مرکب لہروں، مفرد لہروں، نورانی لہروں اور ماورائے نور لہروں کا علم بدرجۂ اتم حاصل ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 92 تا 97

محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم کے مضامین :

ِ یا صاحب الجمال  ِ دیباچہ  ِ 1 - قرآن اور آسمانی کتابیں  ِ 2.1 - ستارے قریب آئے  ِ 2.2 - پنگوڑے میں چاند  ِ 2.3 - مائی حلیمہ  ِ 2.4 - دو اجنبی  ِ 3.1 - بادلوں کا سایہ  ِ 3.2 - بارش کا وسیلہ  ِ 3.3 - درخت، پتھر سجدے میں گر گئے  ِ 3.4 - نبیوں کا درخت  ِ 4 - تبت یدا  ِ 5 - دو کمانوں سے کم فاصلہ  ِ 6 - ہجرت کی رات  ِ 7.1 - دو سردار  ِ 7.2 - نگاہ مرد حق آگاہ  ِ 8.1 - جب چاند دو ٹکڑے ہوا  ِ 8.2 - تابع فرمان سورج  ِ 9 - پہاڑ نے حکم مانا  ِ 10 - پتھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے موم ہو گئے  ِ 11 - سنگریزوں نے کلمہ پڑھا  ِ 12 - باطل مٹ گیا  ِ 13 - درخت کی گواہی  ِ 14 - حنین جذع کا واقعہ  ِ 15.1 - کھجور کی تلوار  ِ 15.2 - لاٹھی قندیل بن گئی  ِ 15.3 - لکڑی میں روشنی  ِ 16.1 - اونٹ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں سر رکھا  ِ 16.2 - اونٹ نے شکایت کی  ِ 16.3 - ہرنی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی  ِ 17 - اور آپؐ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک  ِ 18.1 - مستجاب الدعٰوۃ  ِ 18.2 - شیر آیا  ِ 18.3 - پانی برسا  ِ 18.4 - ابو ہریرہؓ کی ماں  ِ 18.5 - اندھی آنکھ میں بینائی  ِ 18.6 - کھانے میں برکت  ِ 19 - جنگ خندق  ِ 20 - حضرت عائشہؓ کی برأت  ِ 21 - حدیبیہ میں کنواں  ِ 22.1 - کعبہ کی کنجی  ِ 22.2 - بائیکاٹ  ِ 22.3 - سراقہ اور کنگن  ِ 23 - دست رحمت  ِ 24 - جن نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلدی چلو  ِ 25.1 - بچانے والا اللہ ہے  ِ 25.2 - مغربی حاجی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)