خیال آئے بغیر کوئی عمل ممکن نہیں

کتاب : خطبات ملتان

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=13136

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آج کی نشست میں پیراسائیکالوجی کے متعلق گفتگو ہو گی۔ پیراسائیکالوجی یا مابعد النفسیات کا روحانیت میں کیا مقام ہے؟
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں دنیا میں بہت سارے علوم رائج ہیں۔ علم کے تین باب ہیں۔ طبیعات، نفسیات اور مابعد النفسیات یا فزکس، سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی۔ دنیا میں جتنے بھی علوم رائج ہیں وہ کسی نہ کسی طرح علم کے انہی تین دائروں کے اندر گھومتے ہیں۔ کوئی بھی علم ہو، کسی بھی شعبے سے متعلق ہو وہ ان تین دائروں سے باہر نہیں ہے یعنی فزکس، سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی، تمام علوم کو Coverکرتے ہیں۔
فزکس کے بارے میں آپ جانتے ہیں، سائیکالوجی کے بارے میں بھی آپ جانتے ہیں۔ البتہ پیراسائیکالوجی ایسا علم ہے جس کا تعلق براہ راست ریسرچ اور تحقیق سے ہے۔ جتنی بھی سائنسی ایجادات ہوئی ہیں، ہو رہی ہیں یا آئندہ ہوں گی ان کا مخزن و منبع پیراسائیکالوجی ہے۔ نفسیات کی اصطلاح میں ان تین دائروں کو شعور، لاشعور اور ورائے لاشعور کہا جاتا ہے۔
تمام علوم اور حرکات و سکنات جو انسان کی زندگی میں پیش آتے ہیں یا جن حرکات و سکنات سے کوئی انسان، حیوان، شجر، حجر باہر نہیں ہو سکتا وہ شعور کے دائرے میں آتے ہیں۔ یعنی زندگی گزارنے کے لئے تقاضے اور ان تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے جتنے بھی حواس ہیں وہ شعور کے دائرے میں آتے ہیں۔ شعور ایسا دائرہ ہے کہ جس میں انسان اپنی زندگی کا عملی مظاہرہ کرتا ہے۔ مثلاً آدمی پانی پیتا ہے، یہ ایک عمل ہے۔
پرندے بھی پانی پیتے ہیں، چوپائے بھی پانی پیتے ہیں، درخت بھی پانی پیتے ہیں، سبزیاں، ترکاریاں بھی پانی پیتی ہیں۔ یہ ایک شعوری عمل ہوا لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بڑی اہم ہے کہ پانی پینے کا عمل ذاتی عمل نہیں ہے۔ پانی پینے کا خیال آئے گا تو پانی پینے کا تقاضا پیدا ہو گا۔
یہ دو باتیں ہو گئیں، پانی پینا اور پانی پینے کا خیال آنا۔ انسان کے اندر تین حصے پانی ہے، اس میں کمی ہو جاتی ہے تو آدمی پانی پیتا ہے۔ انر میں کوئی ایجنسی ہے جو اس طرف متوجہ کرتی ہے کہ پانی پینا ضروری ہے، اس کا نام ہم نے پیاس رکھا ہواہے۔ پانی آدمی اس لئے پیتا ہے کہ اسے پانی پینے کی اطلاع دی جا رہی ہے۔ پانی پینا شعوری عمل ہے اور پانی پینے کا خیال آنا لاشعوری عمل ہے۔
بات پوری نہیں ہوئی۔ ابھی دو باتیں سامنے آئی ہیں۔ پانی پینا اور پانی پینے کا خیال آنا۔ تیسری بات یہ ہے کہ پانی پینے کا خیال کہاں سے آیا؟ یہ تیسرا دائرہ ہے۔ تیسرے دائرے کا نام ورائے لاشعور ہے۔

پانی پینے کا خیال کہاں سے آیا؟
چونکہ پانی پینے کا خیال لاشعور سے آیا اس لئے یہ لاشعوری عمل، لاشعوری اطلاع یا انفارمیشن ہوئی۔ لیکن اصل Source of Informationورائے لاشعور ہے۔
وضاحت کی جائے تو یوں کہیں گے کہ کوئی کام اس وقت تک ممکن نہیں ہے۔ جب تک اس کام کو کرنے سے متعلق آپ کو انفارمیشن نہ ملے۔
كوئی انسان اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اسے سونے کی اطلاع نہ ملے۔ سونے کی اطلاع کے بہت سارے طریقے ہیں۔ آپ کا جسم ٹوٹنے لگے گا، اعصاب مضمحل ہونے لگیں گے اور آپ کے ذہن میں یہ بات آئے گی کہ اب سونا چاہئے، نیند آ رہی ہےRelaxہونے کی ضرورت ہے۔ جب آپ کو سونے کی اطلاع ملے گی تو آپ سو جائیں گے۔ اسی طرح جب تک کہ آپ کو بیدار ہونے کی اطلاع نہیں ملے گی۔ آپ بیدار نہیں ہونگے۔
ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم رات کو سو گئے صبح کو اٹھ گئے۔ ایسا نہیں ہے۔ ہم اطلاع کے بغیر سو بھی نہیں سکتے اور اطلاع کے بغیر نیند سے بیدار بھی نہیں ہو سکتے۔
یہ بات طلبا و طالبات اور اساتذہ کرام کو یاد رکھنی چاہئے کیونکہ اس فارمولے سے آئندہ بڑے بڑے مسائل حل ہونگے۔ جب بھی کوئی آدمی سو کر بیدار ہوتا ہے، اسے یقیناً کوئی نہ کوئی خیال آتا ہے۔ ایسا ممکن نہیں ہے کہ آپ سو کر اٹھیں اور آپ کو کوئی خیال نہ آئے۔ اس کی پریکٹس اس طرح ہو گی کہ جب آپ سو کر اٹھیں تو یاد کریں کہ آپ کو پہلا خیال کیا آیا تھا۔ اس سے آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اٹھتے ہی سب سے پہلے کوئی نہ کوئی خیال آتا ہے۔ مثلاً ہو سکتا ہے چائے پینے کا خیال آئے، ہو سکتا ہے دفتر کا خیال آئے، ہو سکتا ہے کسی عزیز کا خیال آ جائے یا دنیاوی کوئی کام یاد آ جائے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ بیدار ہوتے وقت کوئی خیال نہ آئے۔
جب ہم سوتے ہیں تو ہم اس زون میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں شعوری خیالات کے قبول کرنے کا سلسلہ معطل ہو جاتا ہے اور جب ہم بیدار ہوتے ہیں تو شعوری خیالات کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس طرح یہ دو زون بن گئے۔ ایک میں شعوری خیالات معطل ہو جاتے ہیں اور دوسرے میں لاشعوری خیالات متحرک ہو جاتے ہیں۔
قرآن پاک کی تعلیمات کے مطابق دو زون ہیں۔ ایک وہ زون ہے جہاں آدمی خیالات سے آزاد ہو جاتا ہے۔ مثلاً آپ ہر وقت سوچتے رہتے ہیں، پریشان ہیں، خوش ہیں، لیکن جب آپ سوئیں گے تو خیالات کی یلغار ختم ہو جائے گی یعنی نیند میں بیداری کے خیالات سے آدمی آزاد ہو جاتا ہے۔
آدمی بیدار ہونے کے بعد پھر اس زون میں داخل ہو جاتا ہے جہاں خیالات کا ہجوم ہے۔ آپ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ اچھے خیالات کیوں آتے ہیں، برے خیالات کیوں آتے ہیں، جب کہ ہر انسان پر سکون رہنا چاہتا ہے تو اس کو ایسے خیالات کیوں آتے ہیں کہ وہ اضطراب و بے چینی میں مبتلا رہتا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ہر انسان دو زون میں رد و بدل ہو رہا ہے۔ ایک زون وہ ہے جہاں وہ خیالات میں گھرا رہتا ہے اور ایک زون وہ ہے جہاں وہ دنیاوی خیالات سے آزاد ہو جاتا ہے۔
آپ نے سائیکک کیس دیکھے ہوں گے۔ سائیکک کیس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان کسی ایک خیال میں اتنا زیادہ مشغول ہو جاتا ہے کہ اسے دوسرا خیال نہیں آتا۔ مثلاً کسی کو یہ خیال آتا ہے کہ میرے اوپر جادو کر دیا گیا ہے لیکن اس کی کوئی تصدیق نہیں ہے کہ جادو ہوا ہے یا نہیں ہوا۔ بس وہ اس خیال میں مصروف رہتا ہے کہ کسی نے جادو کرا دیا ہے۔ لیکن اگر آپ اس کو Sleeping Pillsدے دیں، یا نیند کا Injectionلگا دیں تو اسے معکوس خیالات نہیں آئیں گے۔ یہ جتنے سائیکک کیس ہوتے ہیں ان میں جو دوائیں دی جاتی ہیں وہ تقریباً سب نیند آور ہوتی ہیں۔ ہیروئن کا نشہ ختم کرنے کے لئے ایک اور نشہ دیتے ہیں جس نشے سے وہ ہیروئن کے تقاضے کو بھول جاتا ہے۔ نشے کی پوری کیفیات اس کے اوپر ہوں گی، اس کی رال بھی ٹپکے گی، وہ سونے جاگنے کی حالت میں بھی ہو گا۔ اگر مریض کو ایک ہفتے تک سلائے رکھیں، ایک ہفتے تک وہ ہیروئن نہیں پئے گا۔ کیوں؟۔۔۔۔۔۔
اس لئے کہ خیالات کے انتشار کو روک دیا گیا ہے۔ اس کو اس زون سے نکال لیا گیا ہے۔ جس زون میں خیالات میں انتشار ہے، اضطراب ہے، بے چینی ہے، بے سکونی ہے، پریشانی ہے، وہ سوچنے پر بے بس ہے وہ اس سوچ کو ہٹا نہیں سکتا۔ سلیپنگ پلز سے وہ یہ سب بھول جاتا ہے۔
دو زون میں انسان رد و بدل ہو رہا ہے، ایک زون بیداری کا ہے اور ایک زون خواب کا ہے۔ جب تک انسان بیداری کے زون میں رہتا ہے، شعور میں رہتا ہے اور جب بیداری کے زون سے نکلتا ہے لاشعور میں چلا جاتا ہے۔ اب اس بات کو ہم اس طرح کہیں گے کہ انسان دو دائروں (Zone) میں سفر کر رہا ہے، ابھی میں نے تین دائروں کا تذکرہ کیا تھا، آپ کہیں گے یہ تین سے دو کیسے ہو گئے؟
جو دائرہ ہر وقت انسان کو کسی نہ کسی خیال میں مصروف رکھے وہ شعوری دائرہ ہوتا ہے۔ مثلاً ایک آدمی رات کو دس بجے سوتا ہے اور صبح چھ بجے بیدار ہوتا ہے تو وہ آٹھ گھنٹے تک سویا ہے۔ آٹھ گھنٹے تک اسے کوئی خیال نہیں آیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم کتاب پڑھتے ہیں، Concentrationکی وجہ سے ہمیں کوئی خیال نہیں آیا۔ وقت کا بھی احساس نہیں ہوتا، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ خیال سے آزاد ہو گئے ہیں۔ آپ نے سارے خیالات سے خود کو آزاد کر کے کسی ایک خیال میں اپنے آپ کو مصروف کر دیا۔ خیال تو آیا لیکن بہت سارے خیالات نہیں آئے۔
قانون:
کسی بھی خیال کی عمر زیادہ سے زیادہ 15سیکنڈ ہوتی ہے۔ 15سیکنڈ کے بعد ایک خیال کی فریکوئنسی لہروں کی شکل میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
ایک بیداری کا زون ہے جس میں آدمی ہمہ وقت خیال میں مصروف رہتا ہے۔ اس کا نام قرآن کریم نے دن رکھا ہے اور جس زون میں انسان خیالات سے آزاد ہو جاتا ہے، اس کا نام لیل رکھا ہے۔ قرآن پاک کے نقطۂ نظر سے ہر انسان رات اور دن میں رد و بدل ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم رات کو دن میں سے نکال لیتے ہیں اور دن کو رات میں سے نکال لیتے ہیں۔ دن پر سے رات کو ادھیڑ لیتے ہیں اور رات پر سے دن کو ادھیڑ لیتے ہیں۔ یعنی ہر انسان دوزون میں رد و بدل ہو رہا ہے۔ ایک بیداری کا زون ہے اور دوسرا خواب کا زون ہے۔ بیداری کا زون شعور کا زون ہے اور خواب کا زون لاشعور کا زون ہے۔ روحانیت یا دنیا کا کوئی بھی علم ان دو دائروں سے آزاد نہیں ہے۔
دن کے حواس ہوں یا رات کے حواس ہوں، انسان ان دونوں زون میں کبھی خیالات سے آزاد نہیں ہوتا۔ اب ہم یوں کہیں گے کہ جب انسان دن کے حواس میں ہوتا ہے تو اس کی سوچ کی استعداد کم سے کم ہو جاتی ہے۔ یعنی وہ ٹائم اسپیس میں بند ہو جاتا ہے۔ ٹائم اسپیس میں بند ہو کر جب خیالات آتے ہیں ان کا نام دن کے حواس ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ خواب کے اندر داخل ہوتا ہے، ٹائم کی رفتار تیز ہو جاتی ہے اور اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ شعور کی گرفت سے باہر ہو جاتی ہے۔ شعور اسے پکڑ نہیں سکتا۔
الحمداللہ! میں عاجز بندہ محمد رسول اللہﷺ کی سیرت پر چوتھی جلد لکھ رہا ہوں۔ آپ سب بچوں سے، بزرگوں سے، اساتذہ سے درخواست ہے کہ دعا کریں کہ یہ کام پورا ہو جائے۔ اس کتاب میں ٹائم کی رفتار اور اسپیس کے پھیلاؤ کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے۔ ٹائم کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ لیلتہ القدر کے حواس کی رفتار ایک ہزار مہینوں سے زیادہ ہے۔ اس حساب سے لیلتہ القدر کے حواس کی رفتار چودہ کروڑ چوالیس لاکھ میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ خواب میں ٹائم کی رفتار اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ انسان کی نظر اس کو نہیں پکڑتی۔
مثلاً آپ ریل میں بیٹھے ہیں، ریل 150میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے۔ اب تو ریلیں تین تین سو میل کی رفتار سے چل رہی ہیں۔ آپ ریل میں کھڑکی کے پاس بیٹھے ہیں، باہر درخت ہیں، تار کے کھمبے ہیں۔ لیکن آپ ان کھمبوں کو گن نہیں سکتے۔
کیوں نہیں گن سکتے؟
اس لئے نہیں گن سکتے کہ شعور کی رفتار 150میل فی گھنٹہ کی رفتار سے کم ہے۔ کھمبا آپ دیکھ رہے ہیں، جتنے درخت آپ کی نظروں کے سامنے سے گزر رہے ہیں وہ بھی آپ دیکھ رہے ہیں۔ لیکن آپ اس درخت کی شناخت نہیں کر سکتے کہ یہ درخت کون سا ہے۔
آپ ریل میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ کے پاس ایک گیند ہے۔ گاڑی دو سو میل کی رفتار سے چل رہی ہے۔ آپ گیند ریل کی دیوار پر مارتے ہیں۔ گیند آپ کے ہاتھ میں آ جاتی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟ گاڑی تو آگے جا رہی ہے۔ گیند آپ کے ہاتھ میں کیسے واپس آ گئی؟ اصل بات یہ ہے کہ شعوری سیٹ اپ دو رخوں میں کام کر رہا ہے۔ ڈبے کے اندر کا سیٹ اپ اور ریل کی ڈبے سے باہر کا سیٹ اپ الگ الگ ہے۔ ڈبے کے اندر کی اسپیس محدود ہے لیکن باہر کی اسپیس کا پھیلاؤ زیادہ ہے۔ آپ کا شعوری سیٹ اپ جب باہر کے منظر کو دیکھتا ہے تو درخت اتنی تیزی سے گزر رہے ہیں کہ ان درختوں کو گنا نہیں جا سکتا۔ اندر کا سیٹ اپ ایسا نہیں ہے اس لئے کہ آپ کو دیوار بھی نظر آ رہی ہے، مسافر بھی نظر آ رہے ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جیسے ہی زاویۂ نظر بدلتا ہے Visionمیں تبدیلی آ جاتی ہے۔
جب ہم بیدار ہوتے ہیں تو ہماری آنکھ کا Visionتین میل فی گھنٹے کا ہوتا ہے اور جب ہم مراقبے میں ہوتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ ہمارا Visionایک منٹ میں تین میل کا ہو جائے اور ہو سکتا ہے کہ ہمارا Visionایک منٹ میں ایک ہزار میل کا ہو جائے یا اور زیادہ کو ہو جائے۔ اسی طرح جب ہم خواب میں داخل ہوتے ہیں تو Visionتبدیل ہو جاتا ہے۔ زاویۂ نظر بدل جاتا ہے اور زاویۂ نظر کی تبدیلی سے ہر نقش و نگار ہمیں تبدیل نظر آتا ہے جبکہ وہ تبدیل نہیں ہوتے۔
آپ ایک بلڈنگ کے سامنے کھڑے ہو کر بلڈنگ کو دیکھیں تو اور طرح نظر آئے گی۔ آپ بلڈنگ کے کونے پر کھڑے ہو کر دیکھیں تو اور طرح نظر آئے گی۔ Three Dimensionsمیں نظر آئے گی۔ آپ چھت کے اوپر سے بلڈنگ کو دیکھیں تو اور طرح نظر آئے گی۔
بلڈنگ وہی ہے چونکہ اسپیس تبدیل ہو رہی ہے اس وجہ سے بلڈنگ مختلف نظر آ رہی ہے۔
خواب میں آدمی کا تعلق بیداری کے ماحول سے کٹ جاتا ہے اور رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ خواب ہو یا بیداری، مرنا ہو یا جینا، اس دنیا کی زندگی ہو یا مرنے کے بعد عالم اعراف کی زندگی ہو، کسی بھی لمحہ کوئی انسان خیالات سے آزاد نہیں ہوتا۔
تیسرا دائرہ Source of Informationہے۔ جہاں سے آپ کو انفارمیشن مل رہی ہے۔ یہ دائرہ ورائے پیراسائیکالوجی کے زمرے میں آتا ہے۔ کسی روحانی انسان کے لئے یہ از بس ضروری ہے کہ وہ اپنے کردار اپنے افعال، اپنے اعمال و وظائف کے بارے میں اس بات کی تحقیق کر لے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے، کہاں سے ہو رہا ہے، کس طرح ہو رہا ہے۔ عام بات ہے کہ آدمی پانی پئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا لیکن وہ یہ سوچتا ہی نہیں کہ پیاس کیا چیز ہے، پیاس کیوں لگتی ہے۔ کون سا سسٹم ہے جس سسٹم کے تحت جسمانی مشینری میں تقاضے پیدا ہو رہے ہیں۔ Bodyمیں ایسی Chemical Changesآ جاتی ہیں، جس کی وجہ سے آدمی پانی پینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
روحانی نقطۂ نظر سے اگر انسان کے اندر ریسرچ اور تفکر نہیں ہو گا تو آدمی روحانیت نہیں سیکھ سکتا۔ بالکل اسی طرح اگر سائنٹسٹ کے اندر ریسرچ اور تفکر نہیں ہو گا تو کوئی ایجاد نہیں ہو گی۔
اس لیکچر کا خلاصہ یہ ہے کہ کائناتی علوم ہوں یا دنیاوی علوم، تین دائروں میں قائم ہیں۔ تین دائروں میں سفر کر رہے ہیں اور تین دائروں میں ہی ان کا ارتقا ہو رہا ہے اور تین دائروں کے علم کی محرومی سے ہی کوئی قوم محروم ہو کر ذلیل و خوار ہوتی ہے اور تین دائروں کے علوم حاصل کر کے ہی کوئی قوم عروج پاتی ہے اور ترقی کرتی ہے۔
سوال: انسان کو خیالات آتے ہیں، کچھ خیالات نیک ہوتے ہیں، کچھ برے ہوتے ہیں۔ ان برے خیالات سے چھٹکارا کس طرح ممکن ہے جبکہ پورے ماحول میں برائی پھیلی ہوئی ہے؟
جواب: انسان اور حیوان کی تخلیق پر اگر غور کیا جائے تو تخلیق میں ہمیں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ جس طرح ہم اپنے ماں باپ سے پیدا ہوتے ہیں، اسی طرح حیوانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ یہ بالکل الگ بات ہے، کوئی پیٹ سے پیدا ہوتا ہے، کوئی انڈے سے پیدا ہوتا ہے۔ انسانی ضروریات اور انسانی تقاضے بھی وہی ہیں جو حیوانات میں ہیں۔ مثلاً بھوک لگنا، پیاس لگنا، سونا، بیدار ہونا، معاش کے لئے جدوجہد کرنا، تلاش کرنا، اپنے بچوں سے پیار کرنا، بچوں کی تربیت کرنا۔ ایک بات حیوانات میں اور انسان میں مشترک نہیں ہے۔ اور وہ ہے اچھائی اور برائی کا تصور۔ انسان کو اچھائی اور برائی کا تصور دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔ کائنات میں موجود تمام مخلوقات سے انسان کو جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ اچھائی اور برائی سے واقفیت ہے۔
اگر کسی انسان کے اندر سے اچھائی اور برائی کا تصور نکل جائے تو بکری اور انسان میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔ اس پر کوئی قانون بھی نافذ نہیں ہوتا۔ آدمی اگر باشعور نہیں ہے تو اس پر مقدمہ نہیں چلتا۔ اچھائی اور برائی کا تصور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں منتقل کیا ہے۔
انسان کو جسم قسم کا ماحول میسر آتا ہے وہ اس سے متاثر ضرور ہوتا ہے کم یا زیادہ اور پاکستان اور اسلامی ممالک میں صحیح معنوں میں اسلام نافذ ہو جائے تو پورا ماحول پاکیزہ ہو جائے گا۔ ہر آدمی کو اچھے ہی اچھے خیالات آئیں گے اور اگر برے خیالات بھی آئیں گے تو ان کی Percentageاتنی کم ہو گی کہ اچھائی کے خیالات ان کو دبا لیں گے۔
مٹی کے تیل کا ایک ڈپو ہے، آپ وہاں جائیں، کچھ بھی نہ کریں، دو منٹ کھڑے ہو کر آ جائیں۔ جب آپ واپس آئیں گے تو آپ کے کپڑوں میں سے مٹی کے تیل کی بدبو آئے گی حالانکہ آپ نے تیل کو ہاتھ نہیں لگایا۔ دوسرا بندہ عطر کی دکان میں جاتا ہے نہ وہ عطر کا پھویا لیتا ہے، نہ عطر کی شیشی کو ہاتھ لگاتا ہے، تھوڑی دیر کھڑا ہو کر واپس آ جاتا ہے۔ اس کے کپڑوں میں خوشبو بس جائے گی۔
سوال: خراب ماحول سے ہم کس طرح بچیں اور اپنی اصلاح کیسےکریں؟
جواب: خود کو ماحول سے آزاد کر کے ایسا وقت متعین کیا جائے کہ جس میں اللہ کا ذکر کریں اور مراقبہ کریں۔ رات کو دنیا کے جھمیلوں سے آزاد ہو کر اپنا محاسبہ کریں۔ سارے دن گناہوں کی جمع کی ہوئی گٹھڑی کو کھولیں اور ایک ایک کر کے کوتاہی کو یاد کریں۔ نماز قائم کریں۔
سوال: موت کے بعد انسان کس جگہ جاتا ہے۔ کیا ہم اسے خواب کے زون سے تشبیہہ دے سکتے ہیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“تم روز مر جاتے ہو، صبح کو ہم زندہ کر دیتے ہیں۔”
تو خواب اور موت میں فرق یہ ہے کہ خواب میں آدمی دوبارہ اس دنیا میں منتقل ہو جاتا ہے۔ موت کے بعد کوئی انسان اس جسمانی وجود کے ساتھ دنیا میں نہیں آتا۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 118 تا 127

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)