خود غرضی

کتاب : روحانی ڈاک (جلد اوّل)

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=24820

سوال: میری بڑی بہن کی عمر14یا 15سال تھی اور نویں جماعت میں پڑھ رہی تھیں۔ انہوں نے ایک بار شکایت کی کہ پیچھے درختوں سے آوازیں آتی ہیں پھر وہ بڑی پر اسرار آوازوں کا ذکر کرنے لگیں۔ ایک روز والد کو بتایا کہ قریبی دکانوں پر بیٹھے ہوئے لوگ اسے گالیاں دے رہے تھے۔ اس بات کا یقین اس لیے نہیں آیا کہ ہمارے محلے کے دوکاندار بہت شریف ہیں۔ والدین نے بہن کی یہ بات سن کر اسے گھر میں بٹھا لیا۔ اس وقت کے بعد میری بہن پر کئی دور آئے۔ بیماری نے کئی نئے روپ اختیار کئے۔

یہ تو میں آپ کو بتاتا بھول ہی گئی کہ اس وقت سے پہلے میری بہن نہایت حیادار، تمیزدار خاموش طبیعت اور سمجھ دار مشہور تھی۔ خاندان میں اس کی مثالیں دی جاتی تھیں۔

پہلے اسے وہم ہوا کہ سب گھر والے اس کے دشمن ہیں اور اسے برا بھلا کہتے ہیں۔ ایک بار اس نے میری امی اور ابا کے نئے سلے ہوئے کپڑے اس طرح کاٹ دیئے کہ وہ دوبارہ پہننے کے قابل نہ رہے۔ پھر آہستہ آہستہ اس کی حرکتوں کی وجہ سے مار پیٹ بھی کرنا پڑی۔ ہر قسم کے علاج کئے گئے۔ ڈاکٹر، حکیم، پیر فقیر کوئی نہ چھوڑا لیکن کچھ نہ بنا۔ ایک بار چند دنوں کے لئے دماغی امراض کے ہسپتال میں داخل کرانا پڑا۔

پھر چند برس کے بعد کچھ عرصہ ایسا آیا جب وہ بالکل تو نہیں کافی حد تک نارمل ہو گئیں لیکن کسی کسی وقت ان کے منہ سے ایسی بات نکل جاتی ہے کہ ہم سب شرمندہ ہو جاتے ہیں۔اس عرصے میں والدین اس کے لئے رشتے کی کوششیں بھی کرتے رہے لیکن یہ کام آسان نہ تھا کیونکہ ان کی توقعات بہت زیادہ تھیں اور وہ اپنے سے کمتر رشتے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں۔ آخر کار ایک پڑھے لکھے اور خوش شکل اور مناسب ملازمت والے لڑکے نے سب حالات جانتے ہوئے بھی اپنی چاہت سے رشتہ طلب کیا ۔ کافی توقف کے بعد اور بہن کی رضامندی سے ان کا نکاح کر دیا گیا لیکن بعض مصلحتوں کی بناء پر رخصتی نہ کی گئی۔ لڑکا ہمارے گھر آنے جانے لگا بعد میں کسی غلط فہمی کی وجہ سے بہن اپنے شوہر کے خلاف ہو گئی اور اس کی صورت سے نفرت کرنے لگیں۔ اس لڑکے کے بہنوئی اور میرے والدین نے بھرپور کوشش کی کہ کسی طرح سے میری بہن راضی ہو جائے لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ آخر کار رشتہ ٹوٹ گیا جس سے میرے ماں باپ کو سخت صدمہ پہنچا۔ اس بات کا میں ذکر ضرور کروں گی کہ بہن کا نکاح بہت شان و شوکت سے کیا گیا تھا تا کہ وہ خوش ہو جائے اور اس لئے بھی کہ وہ میرے ماں باپ کی سب سے بڑی اولاد تھی۔

میرا بھائی اور میں جو بہن سے چھوٹے ہیں اس وقت تک شادی کی عمر کو پہنچ چکے تھے لیکن ماں باپ میری بہن سے پہلے ہماری شادیاں نہیں کرنا چاہتے تھے تا کہ وہ محسوس نہ کریں۔ اب جبکہ ان کو طلاق ہو گئی ہے اور دوسری جگہ شادی کا امکان نہیں رہا تو انہوں نے ہم دونوں بھائی بہن کی شادی کر دی۔

ہم دونوں سے اور خصوصاً مجھ سے وہ بہت حسد کرتی ہیں۔ والدین کی کوشش ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ مجھ سے بہتر ان سے سلوک کیا جائے تا کہ وہ محسوس نہ کریں لیکن وہ مجھے میرے میاں اور بچوں کو بہت برا سمجھتی ہیں حالانکہ ہم لوگ ان سے بہت محبت کرتے ہیں لیکن وہ ہماری شکلیں بھی دیکھنا پسند نہیں کرتیں۔

اب تین چار سالوں سے ان کی حالت بگڑتی جا رہی ہے۔ پہلے وہ کچھ عزیزوں، رشتہ داروں کو پسند کرتی تھیں اور کچھ کو نہیں لیکن اب کسی سے بھی ملنا اور بات کرنا پسند نہیں کرتیں۔

پہلے اپنے لباس کا خیال رکھتی تھیں اور فیشن کے مطابق ملبوس ہوتی تھیں۔ اب بھی وہ سمجھتی ہیں کہ میرا لباس میک اپ فیشن کے مطابق ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

بیماری کے دوران ان کی ایک صلاحیت نے بہت جلا پائی ہے۔ انہیں پینٹنگ کا شوق ہوا اور پاکستان کے ایک نامور مصور سے انہوں نے تربیت حاصل کی۔ آرٹس کونسل میں بہت عرصہ تک جاتی رہیں اور اس میدان میں بہت نام پایا ہے۔ پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں ان کی بنائی ہوئی تصویروں کی نمائش بھی کی گئی۔ ایک بات یہ ہے کہ کہنے کو تو بیمار ہیں لیکن بے حد خود غرض ہو گئی ہیں۔ اپنے کھانے اور اپنے آرام و آسائش کا پورا خیال رکھتی ہیں اور ہر وقت اپنے حقوق کے لئے لڑتی رہتی ہیں۔ والدین بھی یہی چاہتے ہیں کہ اس سے برابری سے بڑھ کر سلوک ہو لیکن وہ ہمیشہ یہی سمجھتی ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔ ان کے اس طرز عمل اور ہر وقت کے لڑائی جھگڑے نے پورے گھر کا سکون برباد کر دیا ہے۔

جواب: آپ کی بہن نفسیاتی مریضہ ہیں۔ علاج یہ ہے۔ ان کے بالائی جسم کا ایک بڑے سے بڑا فوٹو بنوا کر صبح صادق کے وقت اس فوٹو پر پنسل سے دائرے بنائے جائیں اور دائرے اس طرح سے بنائے جائیں کہ سر اور سینہ دائروں کے اندر آ جائے۔ دائرہ کے اوپر دائرہ آئے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ پنسل کا سکہ نہ تو زیادہ سخت ہو اور نہ زیادہ نرم ہو کیونکہ سخت ہو گا تو فوٹو پر خراشیں پڑ جائیں گے اور نرم ہو گا تو پنسل ٹوٹ جائے گی اور اس طرح عمل میں خلل واقع ہو جائے گا۔ عمل کی مدت روزانہ پندرہ منٹ، چالیس روز ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 145 تا 147

روحانی ڈاک (جلد اوّل) کے مضامین :

ِ انتساب  ِ ترتیب و پیشکش  ِ 1 - اولاد نہیں ہوتی  ِ 2 - الرجی کا علاج  ِ 3 - ایک سو پچاس چھینکیں  ِ 4 - اداسی  ِ 5 - انگلیاں کشش کا ذریعہ  ِ 6 - اولاد نرینہ  ِ 7 - اولاد نہیں ہوئی  ِ 8 - اندرونی بخار  ِ 9 - احساس کمتری  ِ 10 - استغناء اور کیلوریز  ِ 11 - انسانی وولٹیج  ِ 12 - ایک لاکھ خواہشات  ِ 13 - ایب نارمل زندگی  ِ 14 - اجمیر شریف کی حاضری  ِ 15 - آوارہ لڑکا  ِ 16 - آنکھوں کے سامنے نقطے  ِ 17 - آنکھ میں آنسو  ِ 18 - آدھے جسم میں درد  ِ 19 - آسمان  ِ 20 - آنتیں  ِ 21 - آپریشن  ِ 22 - آٹھ علاج  ِ 23 - انا للہ و انا الیہ راجعون  ِ 24 - اسلامی لباس کا تصور  ِ 25 - آرزو  ِ 26 - اندھی محبت  ِ 27 - استخارہ  ِ 28 - ایک عجیب بیماری  ِ 29 - اجتماعی خود کشی  ِ 30 - اجتماعی سکون  ِ 31 - اُم الصبیان  ِ 32 - آوازیں آتی ہیں  ِ 33 - اندرونی مریض  ِ 34 - ایمان کی روشنی  ِ 35 - اقتدار کی جنگ  ِ 36 - اولاد  ِ 37 - برص کا علاج  ِ 38 - برے خیالات  ِ 39 - بجلی کے جھٹکے  ِ 40 - بیوہ عورت  ِ 41 - بچپن کا خواب  ِ 42 - بیٹی نہیں بیٹا  ِ 43 - بے وفا شوہر  ِ 44 - بہرے پن کا علاج  ِ 45 - بخار  ِ 46 - بچوں کی نفسیات  ِ 47 - بدعقیدہ  ِ 48 - بھوت  ِ 49 - بیہوشی  ِ 50 - بزدلی کی تصویر  ِ 51 - برقی رو کا ہجوم  ِ 52 - بارونق چہرہ  ِ 53 - بھینگا پن  ِ 54 - بڑا سر  ِ 55 - بسم اللہ کی زکوٰۃ  ِ 56 - بے جوڑ شادی  ِ 57 - بال خورے کا علاج  ِ 58 - پراگندہ ذہنی  ِ 59 - پریشانیوں کا حل  ِ 60 - پرانی پیچش  ِ 61 - پولیو کا علاج  ِ 62 - پڑھنے میں دل نہ لگنا  ِ 63 - پر اسرار بیماری  ِ 64 - پیٹ کی تکلیف  ِ 65 - پسینہ آنا  ِ 66 - پیدائشی دماغی معذور  ِ 67 - پسند کی شادی  ِ 68 - پیلیا  ِ 69 - پرانی پیچش  ِ 70 - پیر صاحب  ِ 71 - پیر وہ نہیں ہوتا جو مرید بنا دیتے ہیں  ِ 72 - پرابلم  ِ 73 - پرکشش چہرہ  ِ 74 - پیر سو جاتے ہیں  ِ 75 - پچہتر ہزار روپیہ  ِ 76 - ترقی نہیں ہوتی  ِ 77 - تقدیر  ِ 78 - تیسری آنکھ  ِ 79 - تصور شیخ  ِ 80 - تخلیقی فارمولے  ِ 81 - تنہائی کا احساس  ِ 82 - ٹائی فائیڈ کے اثرات  ِ 83 - ٹیڑھا منہ  ِ 84 - ٹانگیں کپکپاتی ہیں  ِ 85 - ٹیلی پیتھی  ِ 86 - ٹیوشن  ِ 87 - ٹانگیں کمزور ہیں  ِ 88 - ٹونسلز  ِ 89 - ٹرانس پیرنٹ  ِ 90 - جادو کا توڑ(۱)  ِ 91 - جوڑوں کادرد  ِ 92 - جسم میں کرنٹ لگنا  ِ 93 - جادو کا توڑ(۲)  ِ 94 - جسم چھوٹا سر بڑا  ِ 95 - جلد بازی  ِ 96 - جسم میں آگ  ِ 97 - جنسی مسائل  ِ 98 - جادو ختم کرنے کیلئے  ِ 99 - جگر کا متاثر ہونا  ِ 100 - جسم اچھل اچھل جاتا ہے  ِ 101 - جن  ِ 102 - جھنجلاہٹ کیسے دور ہو  ِ 103 - جہیز کا مسئلہ  ِ 104 - چوکور کاغذ  ِ 105 - چمگاڈر  ِ 106 - چاند گرہن  ِ 107 - چہرے پر دانے  ِ 108 - چہرے پر چھائیاں  ِ 109 - چھپکلی کا خوف  ِ 110 - چھوٹی بیگم  ِ 111 - چہرے پر بال  ِ 112 - حضرت خضرؑ سے ملاقات  ِ 113 - حسد کی عادت  ِ 114 - حروف مقطعات  ِ 115 - حالات کی ستم ظریفی  ِ 116 - حسد  ِ 117 - حسب منشاء شادی کیلئے  ِ 118 - حقیقت آگاہی  ِ 119 - خوف  ِ 120 - خود سے باتیں کرنا  ِ 121 - خون کی بوند  ِ 122 - خوفناک شکلیں نظر آتی ہیں  ِ 123 - خیالی پلاؤ  ِ 124 - خون میں کمزوری  ِ 125 - خود ترغیبی  ِ 126 - خود غرضی  ِ 127 - خون کی کلیاں(۱)  ِ 128 - خالہ کی روح  ِ 129 - خلفشار  ِ 130 - خون کی الٹیاں(۲)  ِ 131 - خشکی کا علاج  ِ 132 - خشک خارش  ِ 133 - خواب اور ہماری زندگی  ِ 134 - دماغی خلئے اور پیدائش  ِ 135 - دل میں سوراخ  ِ 136 - دنیا بیزاری  ِ 137 - دماغی امراض  ِ 138 - دماغ کے اوپر خول چڑھ گیا ہے  ِ 139 - دستخط کیجئے اور مسئلہ حل  ِ 140 - دوپٹہ میں جوئیں  ِ 141 - دل میں درد  ِ 142 - دمہ  ِ 143 - دریا اور سبزہ زار  ِ 144 - دواؤں کا ری ایکشن  ِ 145 - دوائیں  ِ 146 - دماغ کے اعصاب  ِ 147 - دانت پیسنا  ِ 148 - دوسری شادی  ِ 149 - دماغی توازن  ِ 150 - دکھی لڑکی  ِ 151 - درخت بولتے ہیں  ِ 152 - دھوکہ  ِ 153 - ڈراؤنے خواب  ِ 154 - ذہنی سکون  ِ 155 - ذہنی مریضہ  ِ 156 - ذہنی الجھنیں  ِ 157 - ذہنی مریض  ِ 158 - روح سے ملاقات  ِ 159 - رنگ و نور کا شہر  ِ 160 - روح کا الارم  ِ 161 - روحانی غذا  ِ 162 - رشتہ کی تلاش  ِ 163 - روشن مستقبل  ِ 164 - روح اور اسلام  ِ 165 - رات بھر روتی ہوں  ِ 166 - زنانی آواز  ِ 167 - زندگی کا ساتھی  ِ 168 - زبان ساتھ نہیں دیتی  ِ 169 - زبان کھل جائے گی  ِ 170 - سکون کی تلاش  ِ 171 - سر اور معدہ  ِ 172 - سوتے میں پیشاب نکل جاتا ہے  ِ 173 - سایہ  ِ 174 - سیپ کی پوٹلی  ِ 175 - سر کے بال گر رہے ہیں  ِ 176 - سانس کی بیماری  ِ 177 - سینے میں درد  ِ 178 - سانس رک جاتا ہے  ِ 179 - سانولا رنگ  ِ 180 - سردی میں پسینہ  ِ 181 - سوچ میں ڈوبے رہنا  ِ 182 - سیاہ رنگ چہرہ  ِ 183 - سائیکالوجی  ِ 184 - سیلاب اور سیمنٹ  ِ 185 - سکون  ِ 186 - سیرت طیبہؐ  ِ 187 - شادی کے مسائل  ِ 188 - شادی  ِ 189 - شوہر لندن میں ہیں  ِ 190 - شباب آمیز کہانیاں  ِ 191 - شوہر شکل نہیں دیکھتا  ِ 192 - شفا ء دینا اللہ کا کام ہے  ِ 193 - شیطانی وسوسے  ِ 194 - شادی اور شرم  ِ 195 - شوہر کا مزاج  ِ 196 - شوہر نے آنکھیں بدل لیں  ِ 197 - شکی شوہر  ِ 198 - شادی روکنے کیلئے  ِ 199 - شوہر کی محبت  ِ 200 - شریعت اور طریقت  ِ 201 - شجر ممنوعہ کی روحانی تفسیر  ِ 202 - شکوہ  ِ 203 - ضدی بچہ  ِ 204 - طلبہ متوجہ ہوں  ِ 205 - طلسمی سانپ  ِ 206 - عقیدہ کی خرابی  ِ 207 - عشق کا سمندر  ِ 208 - علوم اور صلاحیت  ِ 209 - علاج کی ضرورت نہیں ہے  ِ 210 - عملیات کا شوق  ِ 211 - غلطی کا اعتراف  ِ 212 - فریج میں رکھا ہوا کھانا  ِ 213 - فحش خیالات  ِ 214 - فالج  ِ 215 - قلب کی سیاہی  ِ 216 - قوت ارادی  ِ 217 - قبض اور گیس  ِ 218 - قرض  ِ 219 - کر بھلا ہو بھلا  ِ 220 - کنجوس سسرال  ِ 221 - کرایہ دار  ِ 222 - کلر تھراپی  ِ 223 - کشف القبور  ِ 224 - کثرت اولاد سے پریشانی  ِ 225 - کانوں میں سیٹیاں  ِ 226 - گھر کا فساد  ِ 227 - گوشت  ِ 228 - گردوں میں پتھری  ِ 229 - گیس کا مرض  ِ 230 - لانبے بال  ِ 231 - لکنت  ِ 232 - لنگڑی کا درد  ِ 233 - ملازمت میں ترقی  ِ 234 - مستقل خارش  ِ 235 - مالی پریشانیاں  ِ 236 - مردے نظر آنا  ِ 237 - موت کے خوف سے نجات  ِ 238 - مراقبہ کی شرائط  ِ 239 - مرض کا علاج شادی  ِ 240 - منگیتر کی نفرت  ِ 241 - موت کا خیال  ِ 242 - نیند میں جھٹکے لگنا  ِ 243 - نفسیاتی بیماری  ِ 244 - نماز پڑھنے کو دل نہیں چاہتا  ِ 245 - نعمت یا زحمت  ِ 246 - نیند نہیں آتی  ِ 247 - وظیفہ کی رجعت  ِ 248 - وٹّہ سٹّہ کی شادی  ِ 249 - ہرجائی شوہر  ِ 250 - ہڈیوں کی بیماری  ِ 251 - ہمزاد اور جنات  ِ 252 - ہاتھ لگائے کھجلی ہوتی ہے  ِ 253 - ہیروئن  ِ 254 - ہڈیوں کا پنجر  ِ 255 - ہمنوا دل  ِ 256 - ہونٹوں پر داغ  ِ 257 - یہ مست اور ملنگ بندے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message