خندق والی جنگ

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد اوّل

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=396

دومۃ الجندل کے حکمران نے شام اور بین النہرین کو جانے والے مدینہ کے کاروانوں پر پابندی عائد کرکے اہلِ مدینہ کا اقتصادی گلا جکڑ رکھا تھا۔ حضور علیہ الصلٰوۃوالسلام ایک ہزار افراد کے ساتھ دومۃ الجندل کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں قبیلہ غطفان کے سربراہ سے ملاقات کی تاکہ جنگ کی صورت میں اسے غیر جانبدار رہنے کی ترغیب دے سکیں۔رئیس نے کہا کہ وہ قریشِ مکہ اور خیبر کے یہودیوں کا اتحادی ہے۔ معاہدہ کے تحت وہ مدینہ پر ہونے والے متوقع حملہ میں اپنے سپاہیوں کے ساتھ ان کی مدد کرے گا۔ حضور علیہ الصلٰوۃوالسلام نے انکوائری کروائی اور جب معلوم ہوا کہ یہ اطلاع درست ہے تو اۤپؐ مدینہ واپس تشریف لے اۤئے۔ جنگی سازوسامان سے لیس قریش کی فوج دس ہزار تھی۔ معزز صحابی سلمان فارسیؓ نے بتایا کہ عجم میں قلعے یا شہر کا دفاع کرنے کے لئے اس کے گردونواح میں خندق کھودی جاتی ہے۔ خندق کی گہرائی اور چوڑائی اتنی ہوتی ہے کہ دشمن کی پیادہ یا سوار فوج اسے پھلانگ نہ سکے حضور علیہ الصلٰوۃوالسلام نے خندق کھودنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور حکم دیا کہ مدینہ شہر اور مدینہ کے مضافات میں پھیلے ہوئے کھیت اور باغات کی ساری پیداوار مدینہ کے گوداموں میں ذخیرہ کردی جائے۔ مدینہ کے تمام مسلمان مرد اور عورتیں حتٰی کہ جواں سال لڑکے اور لڑکیاں اور جوبھی بیلچہ اور کدال اٹھانے کے قابل تھے خندق کھودنے میں مصروف ہوگئے۔چھ کلو میٹر لمبی خندق کھودنے کے لئے مسلمانوں نے روز و شب محنت کرکے ایثار و وفاداری کا بے مثال مظاہرہ کیا۔خود حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے بھی دن رات کام کیا اور دوسروں کا ہاتھ بٹایا۔ کبھی کدال چلاتے اور کبھی مٹی ڈھونے میں مصروف ہوجاتے۔ مسلمان دس دس کی ٹولیوں میں خندق کھود رہے تھے۔ جب دس افراد اپنا مقررہ کام قبل ازوقت پورا کرلیتے تو رضاکارانہ طور پر دوسروں کے کام میں شریک ہوجاتے تھے۔

خدا وحدہ لاشریک کی منکر دس ہزار جنگجو سپاہیوں پر مشتمل مکہ کی فوج جب مدینہ کے قریب پہنچی تو خندق مکمل ہوچکی تھی۔ مشرکین کی فوج مدینہ پہنچی تو موسم بدل رہا تھا۔ سپاہیوں کو خیموں میں سردی لگ رہی تھی ۔ مسلمان بھی جو خندق کے مختلف مقامات پر نگہبانی کے فرائض انجام دے رہے تھے سردی کی وجہ سے تکلیف میں تھے۔ ابوسفیان خندق سے گزرنے اور مدینہ پر حملہ کرنے میں جب ناکام رہا تو اس نے یہودیوں سے رابطہ قائم کرلیا۔مسلمانوں کو جب پتہ چلاکہ بنوقریظہ اور قریشِ مکہ کے درمیان جنگی معاہدہ ہونے والا ہے تو انہیں تشویش ہوئی۔ حضورعلیہ الصلٰوۃوالسلام سے عرض کیا’ یا رسول اللہ ؐ ! ہم خطرے میں ہیں۔اگربنو قریظہ پشت سے اور قریش سامنے سے حملہ کردیں تو ہمیں بہت نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ہوسکتا ہے ہم فتح حاصل نہ کرسکیں۔ حضور علیہ الصلٰوۃوالسلام نے انتہائی سکون اور یقین سے فرمایا۔ ” مشرکوں کو یہودیوں کی کمک پر بھروسہ ہے۔ جبکہ میں اللہ کی مدد پر یقین رکھتا ہوں۔ یقین رکھو ! اللہ ہمیں بے یارو مددگار نہیں چھوڑے گا۔” حالات کچھ ایسے بنے کے بنوقریظہ اور قریش کے درمیان بدگمانی اور عدم اعتماد کی فضا پیدا ہوگئی اور مسلمانوں کے خلاف متحد نہیں ہوسکے۔

خندق کے پار’ جب دس ہزار فوج کو پڑے ہوئے دو ہفتے گزر گئے تو غذا اور مویشیوں کی خوراک کا مسئلہ کھڑا ہوگیا۔ فوج کا سپہ سالار پریشان تھا کہ اگر خوراک کا انتظام نہ ہوا تو بغاوت ہوجائے گی اور سپاہی اۤپس میں لڑمریں گے۔ ابھی مسئلہ کا کوئی حل سامنے نہیں اۤیا تھا کہ رات کو اتنی تیز اۤندھی اۤئی کہ خیمے اکھڑ گئے۔خیمے ہوا میں غباروں کی طرح اڑنے لگے۔ اۤگ بجھ گئی تو شدید سردی ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے موسلادھار بارش برسنے لگی۔اتنی زیادہ بارش ہوئی کہ پانی کا سیلاب اۤگیا۔ ابوسفیان پر ایسا خوف طاری ہوا کہ اس نے کوچ کرنے کا حکم دے دیا۔ خود ابو سفیان کو بھاگنے کی اتنی جلدی تھی کہ جب وہ اونٹ پر بیٹھا تو اسے اتنا ہوش نہیں تھاکہ اونٹ بندھا ہوا ہے۔ وہ اونٹ کو بھگانے کے لئے پے در پے تازیانے مار رہا تھا۔ مشرکوں کی فوج مدینے کا محاصرہ چھوڑ کر الٹے پاؤں بھاگ گئی۔

اگرچہ جنگ ختم ہوچکی تھی ۔ دشمنانِ اسلام کی فوج جاچکی تھی۔ لیکن مدینہ کا اقتصادی اور معاشی محاصرہ جاری تھا۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 137 تا 140

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)