یہ تحریر العربية (عربی) میں بھی دستیاب ہے۔

خدا کی تعریف

کتاب : تجلیات

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2982

’’اے پیغمبر(صلی اللہ علیہ و سلم ) آپ فرما دیجئے اللہ یکتا ہے، اللہ کسی سے کوئی احتیاج نہیں رکھتا، نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کا باپ ہے، اس کا کوئی خاندان بھی نہیں ہے۔‘‘ سورۃ الاخلاص
اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی پانچ صفات کا تذکرہ فرمایا ہے:
وہ یکتا ہے، بے نیاز ہے، ماں باپ یا اولاد کے رشتے سے مبرّا ہے۔ اس کا کوئی کفو، خاندان، کنبہ یا برادری نہیں ہے۔
خالق کی تعریف کے برعکس
(۱) مخلوق یکتا نہیں ہوتی، مخلوق کا کثرت میں ہونا ضروری ہے۔
(۲) مخلوق کے ہونے کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ ہر قدم پر محتاج ہوتی ہے۔
(۳) اگر مخلوق کا باپ نہ ہو تو مخلوق کا وجود ہی زیر بحث نہیں آتا۔
(۴) مخلوق کی پیدائش میں بنیادی عمل ماں باپ کا ہوتا ہے۔
(۵) مخلوق کی پہچان کا اصل ذریعہ ہی اس کا خاندان ہے۔ دراصل ہر نوع ایک پورا کنبہ اور خاندان ہے۔
آیئے تلاش کریں کہ اللہ کی صفات میں ہم بحیثیت مخلوق کس کس رشتہ سے وابستہ ہیں۔
اللہ ایک ہے، مخلوق کثرت ہے۔ اللہ کسی کی اولاد نہیں ہے، مخلوق اولاد ہوتی ہے۔ مخلوق باپ یا ماں ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس سے ماورائی ہیں۔ مخلوق معاشرتی طور پر ایک خاندان میں رہ کر زندگی گزارتی ہے اور اللہ تعالیٰ خاندانی جھمیلوں سے پاک اور مبرّا ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ ان پانچ صفات میں سے صرف ایک صفت ایسی ہے کہ مخلوق تمام مخلوق سے رشتے منقطع کر کے ہمہ تن متوجہ ہو کر اللہ کی صفت میں اپنا ذہن مرکوز کر سکتا ہے اور وہ صفت ہے بے نیازی کی صفت یعنی مخلوق اپنا ذہن دنیاوی تمام وسائل سے ہٹا کر اللہ کے ساتھ وابستہ کر لیتی ہے اور جب ایسا ہو جاتا ہے تو مخلوق کے اوپر یہ بات منکشف ہو جاتی ہے کہ ہمارا خالق اور رازق اللہ اور صرف اللہ ہے۔
اس یقین کے ساتھ زندگی گزارنے والے بندے جب زندگی میں جدوجہد اور کوشش کرتے ہیں تو کہتے اور سمجھتے ہیں کہ ہم یہ کوشش اور جدوجہد اس لئے نہیں کر رہے کہ کوشش کے نتائج ہمارے ارادوں کے تابع ہیں بلکہ اس لئے کوشش کرتے ہیں کہ اللہ چاہتا ہے کہ کائنات متحرک رہے۔ رنگ روپ میں بنی سنوری یہ کائنات اپنے محور پر گردش کرتی رہے تا آنکہ اسے اپنی منزل مل جائے اور یہ کُن سے پہلے کے عالم میں داخل ہو جائے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 74 تا 76

یہ تحریر العربية (عربی) میں بھی دستیاب ہے۔

تجلیات کے مضامین :

ِ 1 - قرآن  ِ 2 - زمین پر اندھیرا  ِ 3 - آسمانوں میں اعلان  ِ 4 - ہماری تصویر  ِ 5 - تسخیرِ کائنات  ِ 6 - دولت کی محبت بت پرستی ہے  ِ 7 - ترقی کا محرم غیر مسلم؟  ِ 8 - کفن دفن  ِ 9 - آگ کا سمندر  ِ 10 - روح کی آنکھیں  ِ 11 - سوکھی ٹہنی  ِ 12 - پرخلوص دل  ِ 13 - تبلیغ  ِ 14 - مشعل راہ  ِ 15 - تخلیقی فارمولے  ِ 16 - توبہ  ِ 17 - بھلائی کا سرچشمہ  ِ 18 - عظیم احسان  ِ 19 - طرزِ فکر  ِ 20 - حج  ِ 21 - شیریں آواز  ِ 22 - دو بیویاں  ِ 23 - صراط مستقیم  ِ 24 - ماں باپ  ِ 25 - محبت  ِ 26 - خود داری  ِ 27 - بیداری  ِ 28 - قطرۂ آب  ِ 29 - خدا کی تعریف  ِ 30 - زندگی کے دو رُخ  ِ 31 - علم و آگہی  ِ 32 - جھاڑو کے تنکے  ِ 33 - رزق  ِ 34 - مُردہ قوم  ِ 35 - پیغمبر کے نقوشِ قدم  ِ 36 - نیکی کیا ہے؟  ِ 37 - ضدی لوگ  ِ 38 - سعید روحیں  ِ 39 - توفیق  ِ 40 - سورج کی روشنی  ِ 41 - رب کی مرضی  ِ 42 - دُنیا اور آخرت  ِ 43 - بیوی کی اہمیت  ِ 44 - خود شناسی  ِ 45 - دماغ میں چُھپا ڈر  ِ 46 - روزہ  ِ 47 - مناظر  ِ 48 - دُعا  ِ 48 - مساجد  ِ 50 - علیم و خبیر اللہ  ِ 51 - مایوسی  ِ 52 - ذخیرہ اندوزی  ِ 53 - بھائی بھائی  ِ 54 - اللہ کی کتاب  ِ 55 - اونگھ  ِ 56 - انسان کے اندر خزانے  ِ 57 - اللہ کی صناعی  ِ 58 - ناشکری  ِ 59 - آئینہ  ِ 60 - مُردہ دلی  ِ 61 - خدا کی راہ  ِ 62 - غرور  ِ 63 - رمضان  ِ 64 - قبرستان  ِ 65 - قرآن اور تسخیری فارمولے  ِ 66 - اچھا دوست  ِ 67 - موت سے نفرت  ِ 68 - خطاکار انسان  ِ 69 - دوزخی لوگوں کی خیرات  ِ 70 - معاشیایات  ِ 71 - آدابِ مجلس  ِ 72 - السلامُ علیکُم  ِ 73 - گانا بجانا  ِ 74 - مخلوق کی خدمت  ِ 75 - نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم  ِ 76 - صبر و استقامات  ِ 77 - مہمان نوازی  ِ 78 - مسکراہٹ  ِ 79 - بلیک مارکیٹنگ  ِ 80 - دوست  ِ 81 - مذہب اور نئی نسل  ِ 82 - معراج  ِ 83 - انسانی شُماریات  ِ 84 - جائیداد میں لڑکی کا حصہ  ِ 85 - دعوتِ دین  ِ 86 - فرشتے نے پوچھا  ِ 87 - سونے کا پہاڑ  ِ 88 - مچھلی کے پیٹ میں  ِ 89 - بچوں کے نام  ِ 90 - صدقہ و خیرات  ِ 91 - اپنا گھر  ِ 92 - غیب کا شہُود  ِ 93 - حقوق العباد  ِ 94 - فقیر دوست  ِ 95 - بے عمل داعی  ِ 96 - عید  ِ 97 - جذب وشوق  ِ 98 - موت کا خوف  ِ 99 - فرشتوں کی جماعت  ِ 100 - اعتدال  ِ 101 - مشن میں کامیابی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message