خالق اور خالقین کی تعریف

کتاب : خطبات ملتان

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=13144

کرم فرما بزرگو، اساتذہ کرام، طلبا و طالبات!
السلام علیکم
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
“میں تخلیق کرنے والوں میں بہترین خالق ہوں۔”
آیت مبارکہ ہماری راہ نمائی کرتی ہے کہ تخلیق کا وصف اللہ تعالیٰ مخلوق کو بھی عطا کرتا ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق میں کوئی ان کا ثانی نہیں ہے؟ اللہ تعالیٰ نے جب تخلیق کا ذکر فرمایا ہے تو اس میں جمع کا لفظ استعمال کیا ہے۔ سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو عالمین کا رب ہے۔ رب سے مراد یہ ہے کہ عالمین میں جتنی بھی مخلوقات ہیں، ان مخلوقات کو پیدا کرتا ہے اور پیدا کرنے کے بعد ان کو زندہ رہنے کے لئے وسائل فراہم کرتا ہے۔
مخلوق ایک نہیں ہے۔ بے شمار مخلوقات ہیں۔۔۔۔۔۔عالمین میں کتنی مخلوقات ہیں؟ اس کا کوئی شمار نہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ دوبارہ کیسے زندہ کریں گے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہیں یقین نہیں ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا۔ یقین تو ہے دل کا اطمینان چاہتا ہوں۔ اللہ نے فرمایا کہ چار پرندے لو، ان کو اپنے آپ سے مانوس کرو، ان کوذبح کر کے ایک پہاڑی پر رکھ دو اور کہو کہ اللہ کے حکم سے اڑ کر آؤ۔ جب تم بلاؤ تمہارے پاس آ جائیں گے اور اللہ کے حکم سے پرندے زندہ ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آ گئے۔
حضور قلندر بابا اولیاءؒ اس کی تشریح کرتے ہیں کہ چار پرندوں کا گوشت ہڈی سمیت ایک جگہ ذبح کر کے رکھ دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان پرندوں کو بلایا، چار پوائنٹ بن گئے۔ مثلاً یوں سمجھئے۔ ایک مور ہے ایک کبوتر ہے ایک مرغی ہے ایک چڑیا ہے۔ چار پرندوں کے گوشت اور ہڈیاں اٹھ کر ایک ایک پوائنٹ پر آ کر جمع ہوتی گئیں اور چاروں پرندے زندہ ہو گئے۔
اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو تخلیق کا اختیار دیا ہے۔ لیکن وہ وسائل کا پابند ہو کر تخلیق کرتا ہے۔ اللہ کے علاوہ جتنے تخلیق کرنے والے ہیں وہ اللہ کے علم کے تحت کسی تخلیق کو وسائل کے ساتھ بنانے پر مجبو رہیں۔ وسائل کی موجودگی کے بغیر کوئی تخلیق نہیں ہو سکتی۔ جبکہ اللہ تعالیٰ وسائل کے پابند نہیں ہیں۔ اللہ کی تخلیق میں وسائل بھی خود بخود تخلیق ہوتے ہیں۔
اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا کہ تمہیں یقین نہیں ہے کہ مرنے کے بعد ہم دوبارہ زندہ کر دیں گے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا۔ مجھے یقین ہے لیکن میں اطمینان قلب چاہتا ہوں۔ اگر کوئی بندہ اللہ کی تخلیق میں تصرف کرنے کے لئے یا اللہ کی کائنات میں کسی چیز کو دیکھنے کے لئے اپنا اطمینان چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے منع نہیں کرتے۔ اگر اللہ تعالیٰ منع کرتے تو یہ نہ کہتے کہ کیا تمہیں یقین نہیں ہے۔ اس امر سے اللہ تعالیٰ کا مزاج اقدس اور اللہ تعالیٰ کی عادت شریف کا پتہ چلتا ہے کہ اگر بندہ کائنات کی کھوج میں اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اسے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
سائنٹسٹ جب کسی چیز کی تلاش میں لگ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی عطا کرتا ہے۔ انسانوں کے لئے عام دعوت ہے۔ جو بھی کھوج لگائے اللہ تعالیٰ کا قانون اس کی مدد کرے گا۔ ہر انسان کے دماغ میں کمپیوٹر نصب ہے۔ اس کمپیوٹر کو جو بھی چلانا چاہے، کمپیوٹر چل پڑے گا۔
حضرت محمدﷺ کے اوپر کائناتی دستاویز اور تسخیر کائنات کی کتاب قرآن حکیم نازل کی گئی ہے۔ دین و دنیا کی چھوٹی سے چھوٹی بات اور بڑی سے بڑی بات قرآن پاک میں وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔
خالقین کے لفظ میں اتنی وسعت ہے کہ اگر انسان غور کرے تو اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کے ایسے علوم منکشف ہوتے ہیں کہ جن علوم کو سیکھ کر اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت سے انسان واقف ہو سکتا ہے۔ تعویذ لکھنا، جادو کا توڑ کرنا، جن بھوت اتارنا، روحانیت نہیں ہے۔ یہ ایک ماورائی علم ہے۔ جو ہر انسان مشق کر کے سیکھ سکتا ہے۔ روحانیت یہ ہے کہ کائنات کے تخلیقی فارمولے آپ کے اوپر منکشف ہوں۔ اگر تخلیقی فارمولے انسان کے اوپر منکشف نہیں ہوئے تو انسان روحانیت سے واقف نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
“ہم نے زمین میں آسمانوں میں جو کچھ ہے سب کا سب تمہارے تابع کر دیا ہے، چاند کو، سورج کو، ستاروں کو۔”
ہمارے مفسرین اور دانشور علماء اپنی تفسیروں میں تسخیر کا مطلب بتاتے ہیں کہ سورج اور چاند کو دھوپ اور روشنی پر مامور کر دیا گیا ہے، وہ خدمت کرتے ہیں۔ سورج دھوپ اور روشنی دیتا ہے اور چاند زمین کو چاندنی سے منور کرتا ہے۔ سورج کی ڈیوٹی ہے کہ وہ کھیتیاں پکائے اور چاند کی ڈیوٹی ہے کہ وہ مٹھاس پیدا کرے۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ اگر مسخر ہونے کا مطلب یہی ہے تو گھوڑا بھی دھوپ سینک رہا ہے۔
گھوڑا بھی دن کی روشنی میں دیکھ رہا ہے۔ سورج کی شعاعوں سے ہاتھی اور چیونٹی بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
تسخیر کا مطلب ہے کہ انسانوں کے علم میں یہ بات آ جائے کہ چاند، سورج، ستارے، زمین و سموات اور موالید ثلثہ کی تخلیق میں کون سے عناصر کام کر رہے ہیں۔ اس تخلیق میں کتنا نور اور روشنی کام کر رہی ہے۔
حضور قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں کہ روحانیت کا ایک ہی منشا ہے۔ وہ یہ کہ بندہ اللہ کو کتنا جانتا ہے اللہ سے کس حد تک اس کا رابطہ ہے؟
روحانیت یہ ہے کہ اللہ سے بندہ کو قربت حاصل ہو جائے۔ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ، حضور پاکﷺ کا جبہ شریف لے کر حضرت اویس قرنیؓ کی خدمت میں تشریف لے گئے۔ حضرت علیؓ خاموش رہے۔ حضرت عمرؓ نے تین باتیں ان سے عرض کیں۔
حضور پاکﷺ نے فرمایا ہے کہ آپ دعا کریں اور یہ جبہ مبارک آپ کو بھجوایا ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا۔ آپ کو اللہ کے رسولﷺ سے اتنی قربت ہے کبھی آپؓ حضورﷺ کی زیارت کے لئے نہیں آئے۔
یہ بات حضرت اویس قرنیؓ کو پسند نہیں آئی۔ انہوں نے پوچھا۔ اے عمرؓ تم نے حضرت محمدﷺ کو دیکھا ہے؟
حضرت عمرؓ نے کہا۔ ہاں میں نے دیکھا ہے۔
حضرت اویس قرنیؓ نے کہا۔ بتاؤ حضور پاکﷺ کی بھنویں ملی ہوئی ہیں یا الگ الگ ہیں؟
حضرت عمرؓ خاموش رہے۔
حضرت اویس قرنیؓ نے کہا۔ ملی ہوئی ہیں۔
حضرت عمرؓ نے نذرانہ پیش کرنا چاہا۔ حضرت اویس قرنیؓ نے فرمایا۔ میرے پاس دو دینار ہیں۔ اگر تم اس بات کی ضمانت دیتے ہو کہ دو دینار ختم ہونے سے پہلے میں مروں گا نہیں تو میں قبول کر لیتا ہوں۔ حضرت عمرؓ رونے لگے اور کہا کاش! میری خلافت کو کوئی دو پیسے میں خرید لے۔ حضرت اویس قرنیؓ نے فرمایا۔ اے عمرؓ! جس چیز کو چھوڑا جاتا ہے اس کی قیمت نہیں لگاتے، اسے پھینک دیتے ہیں۔
حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ کوئی نصیحت فرمایئے۔
حضرت اویس قرنیؓ نے فرمایا کہ اے عمرؓ! تم اللہ کو جانتے ہو؟ حضرت عمرؓ نے عرض کیا۔ جی ہاں میں اللہ کو جانتا ہوں۔
پوچھا۔ کیا اللہ تمہیں جانتا ہے؟
جواب دیا۔ جی ہاں، اللہ مجھے جانتا ہے۔
حضرت اویس قرنیؓ نے فرمایا۔ اب تمہیں نصیحت کی ضرورت نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم روحانیت کے صحیح اصول، روحانیت کے صحیح طریقے، روحانیت کے صحیح نتائج کو سمجھیں اور پھر سبقاً سبقاً روحانیت پڑھیں۔ روحانی علوم سیکھنے کے لئے وقت نکالیں، روحانی علوم کی قیمت لگا لیں، اس لئے کہ کوئی علم وقت دیئے بغیر نہیں آتا۔
اس وقت عالم یہ یہ کہ جس کو دیکھو روحانی بنا ہوا ہے۔ جن اتارنے والے روحانی بابا ہیں۔ غیب کا انکشاف کرنے والے اور جھوٹی سچی بات کرنے والے بابا ہیں۔ پیروں مریدوں کا بھی ایک گروہ ہے۔ کون روحانی ہے؟ اس کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ روحانی بندہ اللہ سے واقف ہوتا ہے، اللہ اس کو جانتا ہے۔ روحانی بندہ کا اللہ کے اوپر یقین ہوتا ہے کہ وہی پیدا کرتا ہے وہی رزق دیتا ہے وہی موت و حیات پر قدرت رکھتا ہے۔ اگر انسان کا اللہ سے تعلق قائم نہ ہو اور وہ اللہ کی معرفت نہ سوچتا ہو تو وہ روحانی انسان نہیں ہے۔
سوال: درخواست ہے کہ فرشتوں کے بارے میں وضاحت فرمائیں؟
جواب: حضرت قلندر بابا اولیاءؒ اپنی کتاب لوح و قلم میں فرماتے ہیں:
مقرب فرشتوں کی پرواز جہاں تک ہے اس حد کا نام “سدرۃ المنتہیٰ” ہے۔ ملائکہ مقربین سدرۃ المنتہیٰ سے آگے نہیں جا سکتے۔ سدرۃ المنتہیٰ سے نیچے ایک اور بلندی ہے۔ اس بلندی کی وسعتوں کو بیت المعمور کہتے ہیں۔
سدرۃ المنتہیٰ اور بیت المعمور کی حد میں رہنے والے اور پرواز کرنے والے فرشتے تین گروہوں پر مشتمل ہیں۔ ایک گروہ اللہ تعالیٰ کے سامنے رہ کر تسبیح میں مشغول ہے۔ دوسرا گروہ اللہ تعالیٰ کے احکام عالم تک پہنچاتا ہے اور تیسرا گروہ ان فرشتوں کا ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکامات کو اپنے حافظے میں رکھتے ہیں۔
فرشتوں کی تعریف اس طرح ہے۔
1۔ ملائکہ مقربین یا ملاء اعلیٰ
2۔ ملائکہ روحانی
3۔ ملائکہ سماوی
4۔ ملائکہ عنصری
اساتذہ کرام، طلبا و طالبات کا بہت شکریہ۔
(خدا حافظ)

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 200 تا 205

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)