حنین جذع کا واقعہ

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=12983

عربی میں حنین مشتاق کی اس آواز کو کہتے ہیں جو محبوب کے فراق میں اس کے منہ سے نکلے اور جذع کھجور کے کٹے ہوئے تنے کو کہتے ہیں۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں جمعہ کے روز کھجور کے خشک درخت سے ٹیک لگا کر خطاب فرماتے تھے۔ ایک انصاری صحابیہ نے بہترین لکڑی سے منبر تیار کراکے مسجد نبوی میں بھیجا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درخواست پیش کی کہ خطبہ کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس منبر پر رونق افروز ہوں۔ جمعہ کے روز جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے تو کھجور کا تنا رونے لگا۔ اس کا رونا ایسا درد ناک تھا جیسے اونٹنی اپنے بچے سے بچھڑ کربلکتی ہے، کوئی بچہ اپنی ماں سے جدا ہوکر روتا ہے۔ اس کی فریاد اتنی غم ناک تھی کہ لگتا تھا کہ شدتِ غم سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔ مسجد نبوی میں موجود تمام صحابہؓ نے اس آواز کو سنا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اتر آئے، درخت پر اپنا دستِ شفقت رکھا اور پھر اسے اپنے سینے سے لگایا۔ کھجور کا تنا چپ ہوگیا۔ مگر روتے ہوئےبچے کی طرح ہچکی لگی ہوئی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:

’’اگر تو پسند کرے تو میں تیرے لئے دعا کروں اور اللہ تعالٰی تجھے جنت الفردوس میں اس مقام پر جگہ دے جہاں میں ہوں۔ تو وہاں ابدالآباد تک رہے۔ انبیاء اور اولیاء تیرے پھل کھایا کریں‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے جواب میں کھجور کے تنے نے کہا۔ ’’ایسا ضرور فرمائیے۔‘‘ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے اس تنے کو مسجد میں دفن کرادیا۔

نباتات زندہ ہونے کے ساتھ ساتھ باشعور بھی ہیں۔ وہ مکمل حواس رکھتی ہیں۔ وہ ہماری محبت و نفرت کو پہچانتی ہیں اور اس سے متاثر ہوتی ہیں۔ انتقالِ خیال کے علوم سے پودے پوری طرح واقف ہیں۔ پودے دیکھتے ہیں، بولتے ہیں، سوچتے ہیں، یاد رکھتے ہیں اور ہمارے مخفی خیالات پڑھ لیتے ہیں۔

سائنسی تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ پودے شعور رکھتے ہیں اور اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہیں۔ درخت اور پودے پاک طینت لوگوں کی قربت سے خوش ہوتے ہیں۔ پیچیدہ اور منفی خیالات رکھنے والے افراد کی قربت انہیں ناگوار گزرتی ہے۔ کرلین فوٹوگرافی کے تجربات سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ محبت کا ہاتھ پھیرنے سے پودے خوش ہوتے ہیں اور ان کے اردگرد موجود روشن ہالہ کی طاقت بڑھ جاتی ہے۔ پودوں کے لئے دل میں پیار و محبت کے جذبات رکھنے والا فرد جب پودا لگاتا ہے، اس کی آبیاری اور دیکھ بھال کرتا ہے تو پودوں کے بڑھنے اور پھلنے پھولنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ کیلی فورنیا میں ایک نرسری کے مالک نے برسوں کی محنت سے تھور(Cactus) کی ایک قسم پیدا کی۔ جس پر کانٹے نہیں ہوتے۔ نرسری کے مالک نے پودوں سے مخاطب ہو کر انہیں تسلی دی کہ وہ پودے کی حفاظت کرے گا۔ اس کی ہر طرح کی ضروریات کا خیال رکھے گا۔ پودے کو اب کانٹے اگانے کی ضرورت نہیں۔ طویل عرصے تک وہ پودے کو یقین دلاتا رہا۔ وہ پودے سے محبت بھرے انداز میں بات کرتا تھا۔ اس کی آبیاری اور صفائی وغیرہ کا خیال رکھتا تھا۔ جب پودے کو یقین و اطمینان ہوگیا تو بغیر کانٹوں والی نئی قسم پیدا ہو گئی۔

کینیڈا کے سائنسدانوں نے اوٹاوا یونیورسٹی میں تجربات کئے کہ اگر گندم کے بیجوں کو Herts 5000کی آواز سنائی جائے تو وہ بہت جلد اگتے ہیں۔ پودوں پر موسیقی کے اثرات پر تجربات کئے گئے تو یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ اونچی آواز والی موسیقی کے شور سے پودے میوزک کے منبع کی مخالف سمت جھک جاتے ہیں، جبکہ نرم و لطیف موسیقی پودوں میں سرشاری اور مستی کی کیفیت پیدا کرتی ہے۔

ملزموں کے نفسیاتی تجزیہ کرنے کے لئے ایک مشین ایجاد ہوئی ہے۔ جسے جھوٹ پکڑنے والی مشین کہا جاتا ہے۔ یہ مشین جھوٹ یا سچ بولنے کی صورت میں جسم میں ہونے والی تبدیلیوں مثلاً خون کے دباؤ، تنفس کی رفتار، نسوں اور پٹھوں کے کھچاؤ، تناؤ اور جلد پر دوڑنے والے خفیف کرنٹ میں ہونے والی تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک محقق نے پودے کے اندر ہونے والی تبدیلیوں کو ریکارڈ کرنے کے لئے یہ مشین استعمال کی۔ اس نے مشین کی تاریں پودے سے جوڑ دیں اور تبدیلیوں کے اتار جڑھاؤ کے اثرات پولی گراف مشین پر گراف کی صورت میں حاصل کئے۔ پودے کو پانی دیا گیا۔ گراف پر پودے کے احساسات پُرسکون لکیروں کی صورت میں ظاہر ہوئے۔ محقق کے ذہن میں خیال آیا کہ پتّے کو جلانا چاہیئے۔ خیال پودے پر منکشف ہوا اور پودے نے خوف کا اظہار کیا۔ پولی گراف کا پن یکدم گراف کی بلندی پر پہنچ گیا۔ لیکن جب اس نے جھوٹ موٹ ماچس جلائی تو پودے نے کسی ردِعمل کا اظہار نہیں کیا۔ اس محقق کا پودوں سے لگاؤ اور تعلق اس قدر تھا کہ ایک مرتبہ اس کی انگلی زخمی ہوئی۔ زخم کی تکلیف اور درد کو پودے نے محسوس کیا اور گراف پر اپنا رد عمل ظاہر کر دیا۔

پریزیڈنسی کالج کلکتہ میں فزکس کے پروفیسر ریڈیو ریسرچ کے ماہر تھے۔ دھات ( مادے کی سخت ترین قسم ) اور گوشت کے پٹھوں (مادے کی نرم قسم ) کے تناؤ پر تحقیق کے دوران انہیں پودوں کے Tissuesپر تحقیق کرنے کا خیال آیا۔ تحقیق سے انہوں نے ثابت کیا کہ پودے کے ٹشوز پر بھی تناؤ کھنچاؤ کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کلوروفام سونگھنے سے بے ہوش ہوجاتے ہیں اور تازہ ہوا انہیں ہوش میں لے آتی ہے۔ پودے چھیڑ چھاڑ سے تھکن محسوس کرتے ہیں۔

قازقستان یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے جب دھاتوں کی تلاش کے لئے پودوں سے تعاون چاہا تو انہیں ہدایت کی کہ مٹی میں کوئی دھات موجود ہو تو وہ بجلی کی طرح جھٹکا دیں۔ یہ تجربہ کامیاب رہا۔

پودوں پر ریسرچ کرنے والے ایک ماہر نے تجربات سے ثابت کیا کہ انسان اور نباتات کے اطلاعاتی نظاموں کے درمیان تعلق ہے۔ اطلاعاتی نظام بظاہر ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں۔ قرآن میں ہے:

ترجمہ:

’’کیا تو نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین میں ہر مخلوق اللہ کی تسبیح کرتی ہے اور اڑتے ہوئے پرندے اور ہر ایک کو اپنی اپنی نماز اور تسبیح معلوم ہے اور اللہ کو ان سب کے اعمال کا پورا پورا علم ہے۔‘‘( النور۔ ۴۱)

ترجمہ :

’’ساتوں آسمانوں اور زمین مین جتنی بھی موجودات ہیں اللہ کی تسبیح کرتی ہیں اور کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو۔ لیکن تم لوگ ان کی تسبیح کرنے کو سمجھتے نہیں۔ (اس لئے کہ تم اس کے بارے میں تدبر نہیں کرتے) تحقیق وہ ہے تحمل والا بخشنے والا ۔‘‘ ( بنی اسرائیل ۔ ۴۴)

ترجمہ:

’’ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ کی تسبیح کرتے ہیں۔ اس کی حکمت ہر چیز پر غالب ہے۔ آسمان اور زمین اس کی ملکیت ہیں۔ حیات و ممات اور ہر چیز پر قادر ہے، وہی ابتداء ہے، وہی انتہا ہے، وہی ظاہر ہے، وہی باطن ہے۔ وہ ہر چیز کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے‘‘۔ ( الحدید ۱۔۳)

قرآن پاک میں کئی جگہ اللہ نے یہ بتایا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں موجود ہر شئے باشعور ہے اور انہیں اپنی نماز اور تسبیح بیان کرنے کا طریقہ معلوم ہے۔ سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام رحمت اللعالمین ہونے کی حیثیت سے آسمانوں اور مین کی ہر مخلوق سے واقف ہیں۔ ہر مخلوق یہ مانتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے رحمت ہیں۔ درخت نے جب یہ دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے ہیں تو اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی شاق گزری اور اس نے بلک بلک کر رونا شروع کردیا۔ رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا دریائے رحمت جوش میں آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکڑی کے تنے پر دستِ شفقت پھیرا اور اس سے فرمایا ۔

’’ اگر تو چاہے تو میں تیرے لئے دعا کروں اور اللہ تعالٰی تجھے جنت الفردوس میں اس مقام پر جگہ دے، جہاں میں ہوں۔ تو وہاں ابدالآباد تک رہے۔ انبیاء اور اولیاء تیرے پھل کھایا کریں۔‘‘

باشعور درخت کا تنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عنایت پر چپ ہوگیا۔ اس معجزہ سے منکشف ہوتا ہے کہ ہر درخت بولتا ہے، سنتا ہے، اس کے اندر قربت اور دوری کا احساس ہے۔ انسانوں کی طرح درخت خوش ہوتا ہے اور روتا ہے اور دعا کی درخواست بھی کرتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 98 تا 104

محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم کے مضامین :

ِ یا صاحب الجمال  ِ دیباچہ  ِ 1 - قرآن اور آسمانی کتابیں  ِ 2.1 - ستارے قریب آئے  ِ 2.2 - پنگوڑے میں چاند  ِ 2.3 - مائی حلیمہ  ِ 2.4 - دو اجنبی  ِ 3.1 - بادلوں کا سایہ  ِ 3.2 - بارش کا وسیلہ  ِ 3.3 - درخت، پتھر سجدے میں گر گئے  ِ 3.4 - نبیوں کا درخت  ِ 4 - تبت یدا  ِ 5 - دو کمانوں سے کم فاصلہ  ِ 6 - ہجرت کی رات  ِ 7.1 - دو سردار  ِ 7.2 - نگاہ مرد حق آگاہ  ِ 8.1 - جب چاند دو ٹکڑے ہوا  ِ 8.2 - تابع فرمان سورج  ِ 9 - پہاڑ نے حکم مانا  ِ 10 - پتھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے موم ہو گئے  ِ 11 - سنگریزوں نے کلمہ پڑھا  ِ 12 - باطل مٹ گیا  ِ 13 - درخت کی گواہی  ِ 14 - حنین جذع کا واقعہ  ِ 15.1 - کھجور کی تلوار  ِ 15.2 - لاٹھی قندیل بن گئی  ِ 15.3 - لکڑی میں روشنی  ِ 16.1 - اونٹ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں سر رکھا  ِ 16.2 - اونٹ نے شکایت کی  ِ 16.3 - ہرنی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی  ِ 17 - اور آپؐ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک  ِ 18.1 - مستجاب الدعٰوۃ  ِ 18.2 - شیر آیا  ِ 18.3 - پانی برسا  ِ 18.4 - ابو ہریرہؓ کی ماں  ِ 18.5 - اندھی آنکھ میں بینائی  ِ 18.6 - کھانے میں برکت  ِ 19 - جنگ خندق  ِ 20 - حضرت عائشہؓ کی برأت  ِ 21 - حدیبیہ میں کنواں  ِ 22.1 - کعبہ کی کنجی  ِ 22.2 - بائیکاٹ  ِ 22.3 - سراقہ اور کنگن  ِ 23 - دست رحمت  ِ 24 - جن نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلدی چلو  ِ 25.1 - بچانے والا اللہ ہے  ِ 25.2 - مغربی حاجی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)