حق بات کہنے پر پتھر مارے گئے

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد اوّل

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=344

واقعۂ معراج کے بعد سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تبلیغ کے لئے مکہ کے قرب و جوار کی بستیوں کا انتخاب کیا۔ اۤپؐ طائف تشریف لے گئے۔ وہاں اۤپؐ کے دادا عبد المطلب کا چچا زاد بھائی ”عبد یالیل” سکونت پذیر تھا۔ جب اس کو پتا چلا کہ سیّدناعلیہ الصلوٰۃ والسلام اس سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تو اس نے ملنے سے انکار کردیا۔

سیّدناعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے طائف کے سرداروں سے ملاقات کی اور انہیں حق و صداقت کا پیغام دیا۔ لیکن انہوں نے حق و صداقت کا پیغام قبول کرنے سے انکار کردیا اور اۤپؐ کے پیچھے وہاں کے اوباش لڑکوں کو لگادیا۔ جو اۤپؐ پر اۤوازیں کستے، تالیاں پیٹتے اور گالیاں دیتے تھے۔ انہوں نے اتنے پتھر مارے کہ اۤپؐ کی نعلین مبارک خون سے بھر گئی۔ جبرائیلِ امین حاضر ہوئے اور کہا کہ اگر اۤپؐ اجازت دیں تو بستی والوں پر پہاڑ الٹ دئے جائیں۔

رحمت اللعالمین نے فرمایا:

”میں مخلوق کے لئے زحمت نہیں رحمت بناکر بھیجا گیا ہوں۔ میں امید کرتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ ان کی نسلوں سے ایسے بندے پیدا فرمائے گا جو صرف ایک اﷲ کی عبادت کریں گے۔”

زخموں سے چور اۤپؐ نے ایک باغ میں پناہ لی۔ اس باغ کے مالک دو بھائی عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ تھے۔ سیّدناعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو لہو لہان دیکھ کر انہوں نے اپنے نصرانی غلام کے ہاتھ اۤپؐ کی خدمت میں انگور کا خوشہ بھیجا۔ اۤپؐ نے بسم اﷲ کہ کر انگور لے لیا۔ مسیحی غلام نینوا کا باشندہ تھا۔ اس نے اۤپؐ سے ان کلمات کی بابت دریافت کیا۔ اۤپؐ نے فرمایا۔ تم میرے بھائی یونس بن متیٰ کے شہر کے رہنے والے ہو۔ وہ بھی میری طرح خدا کے پیغمبر تھے۔ یہ سن کر ابن ربیعہ کا غلام ”عداس” اۤپؐ کے قدموں میں جھک گیا۔ عداس نے کہا، ”اگرچہ میرے اۤقا عتبہ نے مجھے یہ کہا ہے کہ اۤپؐ کو انگور پیش کروں لیکن میں جانتا ہوں کہ وہ اۤپؐ کو اس باغ میں پناہ نہیں دے گا۔ میں اتنا ضرور کرسکتا ہوں کہ لوگوں کی نظروں بچا کر اۤپؐ کو طائف سے باہر لے جاؤں۔

مسیحی خدمتگار عداس نے اپنے وعدے پر عمل کیا اور جیسے ہی رات گہری ہوئی پیغمبرِ اسلام حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو طائف کے شہر سے باہر لے اۤیا اور بولا، ”خدا کے برگزیدہ بندے! اس شہر سے دور نکل جائیے کہ یہاں کے لوگ اۤپؐ کی جان کے دشمن ہیں۔ ”

حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام صحرا میں پیدل چلتے ہوئے ایک ایسی جگہ پہنچے جسے ”بطن نخلہ” کہتے ہیں۔ رات کا سماں تھا اور ساری کائنات خاموشی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ وہاں پہنچ کر پیغمبرِ اسلام حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انتہائی سوز و گداز کے ساتھ قراۤن کی تلاوت شروع کردی۔ جنّات نے جب سوز و گداز سے بھر پور نورانی اۤواز میں قراۤن سنا تو ان کی ایک جماعت حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اسلام قبول کیا۔ قراۤنِ پاک کی چھیالیسویں سورۃ میں ارشاد ہے:

ترجمہ:

”اور وہ وقت اۤن پہنچا جب ہم نے جنّوں کی ایک جماعت کو تمہاری جانب بھیجا تاکہ وہ قراۤنی اۤیات کو سنیں اور جب وہ حاضر ہوگئے تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ خاموش ہوکر سنو۔ پھر وہ اپنی قوم کی طرف عذاب سے ڈرانے والے بن کر پلٹے۔ ” (احقاف۔۲۹ )

زخم زخم جسم، بھوک سے نڈھال اور خستہ حال محمدؐ طائف کے شہریوں سے مایوس ہوکر مکہ لوٹ اۤئے۔ حضورؐ نے یہ جان لیا تھا کہ طائف مسلمانوں کی پناہ گاہ نہیں بن سکتا، لیکن کسی قبیلے سے منسلک ہونا ضروری تھا۔ لہٰذا انہوں نے قبیلہ زہرہ کے سربراہ ”اخنس بن شریق” کے پاس پیغام بھیجا کہ وہ اس سے حقِ جوار چاہتے ہیں۔ اخنس بن شریق نے جواب بھجوایا کہ اگر اس کی یہ خواہش ہے کہ وہ محمدعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو جوار (پناہ) دے لیکن وہ ایسا کرنے سے معذور ہے کیونکہ اس نے قبیلہ قریش کے ساتھ معاہدہ کر رکھا ہے۔

حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے سہیل بن عمرو کو پیغام بھجوایا اور اس سے کہا کہ وہ انہیں اپنے قبیلے میں جگہ دے۔ سہیل بن عمرو قبیلہ قریش سے دور پرے کا تعلق رکھتا تھا۔ لہٰذا اس نے بھی حضورؐ کو پناہ دینے سے انکار کردیا۔

مطعم بن عدی نے سیّدناعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیغام کا مثبت جواب دیا اور اپنی قوم کو جمع کرکے ہتھیار باندھے۔ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام مکہ میں داخل ہوئے اور مسجد الحرام میں حاضر ہوکر طواف کیا۔ مطعم بن عدی اپنی سواری پر سوار تھا۔ اس نے اعلان کیا کہ، ”قریش کے لوگوں! میں نے محمدؐ کو پناہ دے دی ہے۔ ” مطعم بن عدی اور اس کے لڑکوں نے سیّدناعلیہ الصلوٰۃ والسلامکے گرد حلقہ بنا رکھا تھا۔ کعبہ میں حاضری کے بعد اۤپؐ اپنے گھر تشریف لے گئے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 95 تا 99

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)