حقیقتِ مذاہب

کتاب : توجیہات

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=3063

سوال: کیا اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب و نظریات میں کوئی حقیقت موجود ہے؟ اگر ہے تو بتائیں۔
جواب: انسانی زندگی کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات بالوضاحت ہمارے سامنے آتی ہے کہ انسان کے لئے کسی عقیدے پر ذہنی مرکزیت رکھنا ضروری ہے۔ کوئی ہوش مند آدمی عقیدے کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی شخص ایسے عقیدے پر قائم ہو جسے بدعقیدہ کہا جاتا ہے۔ جتنے بھی مذاہب تاریخ کے صفحات میں موجود ہیں ان سب کی بنیاد یہ ہے کہ بندہ کو عقیدہ کے مضبوط اور مستحکم بندھن میں باندھ دیا جائے۔ قرآن کے متعلق سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے واشگاف الفاظ میں اس حقیقت کا انکشاف فرمایا ہے کہ میں کوئی نئی بات نہیں کہہ رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ اللہ کی سنت میں نہ تغیر ہوتا ہے اور نہ تعطل واقع ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی اس سنت کو جاری و ساری رکھنے کے لئے پیغمبر مبعوث ہوتے رہے یہاں تک کہ اللہ کی نعمتیں پوری کر دی گئیں اور دین مکمل ہو گیا لیکن ہمیشہ یہ ہوتا رہا کہ پیغمبروں کی تعلیمات کو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگ اپنی ذاتی مصلحتوں کے خوش نما پردوں میں چھپا دینے کی کوشش کرتے رہے۔ علمائے حق اولیاء اللہ نے ایسی مصلحت آمیز کوششوں کو تحریف کا نام دیا ہے۔ انجیل اور دوسری الہامی کتابوں میں جس قدر تحریف کی گئی ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ چونکہ قرآن پاک کے ایک ایک لفظ کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے ذمہ لے لیا ہے، اس لئے اس کے اصل میں کوئی قدغن نہیں لگا سکا لیکن تراجم میں کوشش جاری رکھی گئی۔ یہاں تک کہ (نعوذ باللہ) ایک نبی بھی پیدا ہو گیا۔تفاسیر کا عالم یہ ہے کہ دو چار تفسیریں پڑھ لی جائیں تو ذی فکر آدمی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ پاتا۔ بلکہ وہ بھول بھلیوں میں گم ہو جاتا ہے جبکہ خالق کائنات کا ارشاد ہے۔ ’’اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔‘‘
المیہ یہ ہے کہ ہم لوگ ہمیشہ تخریبی ذہن اور تحریف کرنے والوں سے زیادہ متاثر رہے۔ بظاہر وہ لوگ اپنے مشن میں کامیاب بھی نظر آتے ہیں۔ اب سے چالیس سال پہلے فوٹو کھنچوانا گناہ کبیرہ تھا۔ لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینا بھی جائز نہیں تھا‘ گانا لہو و لعب میں آتا تھا۔
مگر آج کے دور میں ہر بڑے اور چھوٹے رہنما کے فوٹو رسالوں اور اخباروں کی زینت بنتے ہیں اور کوئی اعتراض نہیں کرتا۔ گھر گھر گانوں کی محفلیں سجی ہوئی ہیں اور کسی کے دل کی حرکت تیز نہیں ہوتی۔ اس میں بلاشبہ وہ حضرات بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے اوپر صراط مستقیم دکھانے کی عظیم ذمہ داری لے رکھی ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ کیسے معلوم ہو کہ ہم سچے ہیں، ہمارا دین برحق ہے، ہمارے نبیﷺ اللہ کے آخر ی رسول ہیں اور آپﷺ کے اوپر تمام نعمتیں اللہ نے پوری کر دی ہیں۔
سیدھی سی بات ہے کہ آدمی جس راستے پر چلتا ہے اس کے نشیب و فراز اس کے سامنے آ جاتے ہیں۔ آدمی جس ہستی کے جتنا قریب ہوتا ہے اسی مناسبت سے اس کی طرز فکر منتقل ہو جاتی ہے۔ انبیاءؑ کی طرز فکر یہ ہے کہ وہ ارادتاً یا غیر ارادی طور پر ہر عمل، ہر کام اور ہر بات کو منجانب اللہ جانتے ہیں یعنی اس بات کا رخ اللہ کی طرف موڑ دیتے ہیں ۔ اللہ سے ان کا تعلق اس قدر مستحکم اور یقینی ہوتا ہے کہ وہ ہر آن، ہر لمحہ اور ہر سانس میں اللہ کے ساتھ وابستہ رہتے ہیں۔ اللہ ایسی ذات ہے جسے کسی قسم کی احتیاج نہیں ہے۔ اللہ پریشان اور رنجیدہ نہیں ہوتا۔ اللہ سے قربت رکھنے والے حضرات میں بھی یہ صفات پیدا ہو جاتی ہیں۔ خود اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق اللہ کے دوستوں کو خوف ہوتا ہے او رنہ غم، وہ اطمینان و سکون کی زندگی گزارتے ہیں۔ انہیں اس بات کا افسوس نہیں ہوتا کہ ماضی میں کیا گزر چکا ہے اور اس بات کا خوف نہیں ہوتا کہ مستقبل ہمارے لئے پریشانیوں اور صعوبتوں کا پیش خیمہ ہو گا۔
اگر کسی شخص کے اندر یہ صفات موجود ہیں تو بے شک وہ صحیح راستے پر گامزن ہے اور اگر ہماری زندگی میں سکون نہیں ہے تو ہمارا شمار اللہ کے دوستوں میں نہیں ہو گا۔
اسلام اور دوسرے تمام مذاہب کی حقانیت کے بارے میں عرض ہے کہ ہر وہ مذہب جو اللہ کی طرف سے وحی کی بنیاد پر نازل ہوا، حق ہے۔ ہر الہامی کتاب میں یہ بشارت دی گئی ہے کہ ایک نجات دہندہ آئے گا۔ جب یہ نجات دہندہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) آ گئے تو تمام گزرے ہوئے مذاہب کی پیش گوئی پوری ہو گئی۔
مختلف مذاہب و نظریات صدیوں سے موجود ہیں جو ایک پائیدار ہستی کا عقیدہ و تصور رکھتے ہیں۔ نظر کی گہرائی اسے مفروضہ قرار نہیں دے سکتی۔ ان مذاہب و نظریات میں حقیقت موجود ہے۔
پائیدار ہستی کا تصور جو گوناگوں صلاحیتوں کی اہل ہے اور ہر چیز پر قادر ہے، انسان ہمیشہ سے رکھتا ہے۔ شاید یہی تصور اسے صحیح راستوں پر گامزن کر دیتا ہو یا اس کی تسکین کا باعث بن جاتا ہو۔ مختلف مذاہب و نظریات کا وجود زمانہ ازل سے اس بات کا ثبوت ہے لیکن یہ تصور صرف تصور تک محدود نہیں کیا جانا چاہئے بلکہ ان تصورات کی گہرائی میں حقیقت پنہاں ہے۔ زرتشت، بدھ مت، مادہ پرست، یہودیت، عیسائیت، ہندومت، کمیونسٹ اور سینکڑوں نظریات و مذاہب خدا کی پائیداری پر مقرر ہیں۔ ہر فرقہ، ہر مذہب اور ہر نظریہ اپنے وجود کو پائیداری کے زیادہ قریب تصور کرتا ہے (یعنی خدا کے زیادہ قریب)۔ اس کا احساس آپ کو ان کے نام لیواؤں میں ملے گا۔ لیکن کیا میں سوال کر سکتا ہوں کہ کس نظریہ کو تسلیم کر کے خدا کو پہچان لیا جائے۔ یہ سوال خالی الذہن ہو کر کیا جائے تو جواب کی امید بہت کم نکلتی ہے، سب اپنے آپ کو حق جانتے ہیں۔ ان میں صحائف رکھنے والے بھی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ زرتشت کو بھی خدا مل جاتا ہے۔ ستارے، چاند، سورج پوجنے والوں کو بھی خدا مل جاتا ہے۔ سب کے نزدیک خدا ناقابل تصور صلاحیتوں سے مزین ہے۔ بات گڑگڑانے اور ایمان و عقیدے کی ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 48 تا 51

توجیہات کے مضامین :

ِ 1 - مراقبہ کیا ہے؟  ِ 2 - صاحبِ صلاحیت  ِ 3 - صاحب خدمت  ِ 4 - عقل وشعور  ِ 5 - اللہ کا نور  ِ 6 - دوسرے سیاروں کی مخلوق  ِ 7 - پر عظمت ہستی  ِ 8 - طرزِ فکر  ِ 9 - علم حضوری  ِ 10 - حقیقتِ مذاہب  ِ 11 - غیب بینی  ِ 12 - خواب کی حالت  ِ 13 - ماوراء ذات  ِ 14 - تصرف  ِ 15 - علم کا مظاہرہ  ِ 16 - علمِ حصولی  ِ 17 - اعراف کیا ہے  ِ 18 - علم کی طرزیں  ِ 19 - جسمِ مثالی  ِ 20 - روشنیوں کا ہالہ  ِ 21 - Time & Space  ِ 22.1 - حقیقت پسندانہ طرز فکر – 1  ِ 22.2 - حقیقت پسندانہ طرز فکر – 2  ِ 23 - انعام یافتہ  ِ 24 - تصورِ شیخ  ِ 25 - اللہ کی مہر  ِ 26 - اللہ کے دوست  ِ 27 - استغناء، توکل اور بھروسہ  ِ 28 - وسائل کی فراہمی  ِ 29 - خرق عادت  ِ 30 - صلاحیتوں کا ذخیرہ  ِ 31 - راسخ العلم  ِ 32 - حصول یا منتقلی  ِ 33 - ترقی اور تنزلی  ِ 34 - علم الاسماء  ِ 35 - ذاتِ مطلق  ِ 36 - بیمار درخت  ِ 37 - نیابتِ الہی  ِ 38 - رنگین دُنیا  ِ 39 - بے جا اسراف  ِ 40 - نفسِ واحدہ  ِ 41 - کام اور آرام  ِ 42 - روشنیوں کا سیب  ِ 43 - راہِ سلوک کےآداب  ِ 44 - سلطان کیا ہے  ِ 45 - مٹھاس کا استعمال  ِ 46 - رویائے صادقہ  ِ 47 - دُعا کے آداب  ِ 48 - فیض کا حاصل ہونا  ِ 49 - نماز کی اقسام  ِ 50 - بیعت کا قانون  ِ 51 - نیگٹو بینی  ِ 52 - اعتکافِ رمضان
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)