حضرت سعیدہ بی بیؒ

کتاب : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2862

سعیدہ بی بیؒ ابدال حق حضرت قلندر بابا اولیاءؒ کی والدہ ماجدہ ہیں۔ قلندر بابا اولیاءؒ کے نانا حضرت بابا تاج الدینؒ اکثر ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے۔ قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں: “جس زمانے میں والد صاحب دلی ٹول ٹیکس میں محرر تھے، ہمارے مکان کی ایک دیوار بارش میں گر گئی، مکان دار بارش میں مکان کی مرمت کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔”

نانا تاج الدینؒ نے والد کو خط لکھا کہ بیٹی سعیدہ کو ناگپور پہنچا دو۔ ان ایام میں وہ مہاراجہ رگھوراؤ کے پاس مقیم تھے۔ ہم لوگوں کے لئے شطرنج پورہ میں انتظام کیا گیا، روزانہ یا دوسرے دن نانا اپنی گھوڑا گاڑی میں تشریف لاتے، گھنٹوں ہمارے ساتھ گزارتے اکثر ارد گرد کی آبادی کے لوگوں کا آنا جانا رہتا۔ نانا ان کے معاملات میں غور کرنے میں اتنا دماغ صرف کر دیتے کہ حواس ماؤف ہو جاتے۔ ایک بار بے خیالی میں دروازے کی طرف جانے کے بجائے وہ دیوار کے پیچھے کھڑی گھوڑا گاڑی کی طرف بڑھتے چلے گئے اور ٹھوس دیوار سے گزر کر سڑک پر نکل گئے۔ غالباً! یہ کرامت ان سے غیر ارادی طور پر صادر ہوئی تھی، لوگوں کے معاملات کے متعلق سوچنے میں ان کا ذہن تجلی الٰہی میں تحلیل ہو گیا اور جسم ذہن کے تابع ہونے کی وجہ سے ثقل کی منزل سے آگے نکل گیا۔

ہمارے گھر میں ایک بڑا اژدھا تھا جو درخت کے نیچے صحن میں پڑا رہتا تھا۔ رات کو جب چاند شباب پر ہوتا چاندنی پتوں سے چھن چھن کے زمین پر بکھر جاتی تھی۔ پتوں میں سے چھن کر چاند کا روپہلا عکس عجیب نقش و نگار پیش کرتا تھا۔ لگتا تھا کہ زمین پر کہکشاں اتر آئی ہے۔ صحن کا فرش کچی زمین تھی اور حضرت شیر دل خان(حضور قلندر بابا اولیاءؒ ) کے والدصحن میں دریائی ریت ڈلوا دیتے تھے۔ اژدھا بھی وہاں پڑا رہتا جو موصل کی طرح موٹا تھا اور اس کا قد ساڑھے پانچ فٹ تھا۔ گھر میں جب مہمان آتے تو سعیدہ بی بی اژدھے سے کہتیں”جاؤ کمرے میں جا کر سو جاؤ، باہر نہ آنا”اور اژدھا کمرے میں چلا جاتا۔

ایک روز سعیدہ بی بی نے دیکھا کہ درخت کے تنے پر ایک ناگ پھنکار رہا ہے۔ اس کے سر پر تاج تھا۔ زبان بار بار باہر نکل رہی تھی۔ انہیں خیال آیا کہ کالا ناگ کہیں بچوں کو نقصان نہ پہنچا دے۔ بھرپور طریقے سے سانپ کو دیکھا اور اس کے اوپر نظریں جما دیں۔ حضور قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں کہ وہ سانپ درخت سے چپک گیا اور اس کے ٹکڑے ہو کر زمین پر گرے۔

اللہ نے سعیدہ بی بیؒ کے رزق میں اتنی برکت دی تھی کہ گھر مہمانوں سے بھرا رہتا تھا۔ نانا تاج الدینؒ نے سعیدہ بی بی کو سبز مرہم نام کی کوئی چیز عطا فرمائی تھی وہ کیا چیز تھی کسی کو علم نہیں ہو سکا۔ غیبی فتوحات کو اس کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔

لوگوں کو لینا دینا اور لنگر عام تھا، گھر میں کھانے پینے کی اشیاء سے اسٹور بھرا رہتا تھا۔ نہایت سخی، فیاض اور مہمان نواز خاتون تھیں۔

حکمت و دانائی

* عورت کے لئے شوہر اس کا تاج ہے شوہر کے بعد عورت اجڑ جاتی ہے۔

* ماں کو چاہئے کہ وہ بچوں کو اللہ تعالیٰ سے پیار کرنا سکھائے۔

* بچوں کی ہر ضد پوری نہیں کرنی چاہئے۔

* بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانا ماں باپ دونوں پر فرض ہے۔

* قیامت کے دن اللہ یہ نہیں پوچھے گا کہ تم نے بچوں کو کیا کھلایا پلایا تھا اللہ تربیت کے بارے میں پوچھے گا۔

* بزرگ مرد اور بزرگ خواتین سے اپنے سروں پر ہاتھ رکھواؤ اور ان سے دعائیں لو۔

* شوہر میں کوئی کمزوری ہو تو بیوی کے اوپر لازم ہے کہ اسے چھپائے، عورتوں میں ظاہر نہ کرے، شوہر کی عیب جوئی اپنی ذات کی عیب جوئی ہے۔

* گھر سے باہر اولاد کی برائی کبھی نہیں کرنی چاہئے اس برے عمل سے اولاد نافرمان ہو جاتی ہے۔

* کوشش کرنی چاہئے کہ شادی کے بعد بہو بیٹا الگ گھر میں رہیں، ہر پرندہ اپنا گھونسلہ الگ بناتا ہے۔

* اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا خالق، مالک اور رازق ہے۔ رزق کی پرواہ مت کرو، مخلوق کا کام صرف تدبیر کے ساتھ محنت کرنا ہے۔ رزق اللہ فراہم کرتا ہے۔

* لینے سے دینا اچھا ہے کھلا ہاتھ رزق میں فراوانی کا وسیلہ ہے

* زردار اور سرمایہ پرست لوگوں کی نسبت غریب اور نادار لوگوں کا زیادہ خیال کرو۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 319 تا 322

ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین کے مضامین :

ِ انتساب  ِ 1 - مرد اور عورت  ِ 2 - عورت اور نبوت  ِ 3 - نبی کی تعریف اور وحی  ِ 4 - وحی میں پیغام کے ذرائع  ِ 5 - گفتگو کے طریقے  ِ 6 - وحی کی قسمیں  ِ 7 - وحی کی ابتداء  ِ 8 - سچے خواب  ِ 10 - حضرت محمد رسول اللہﷺ  ِ 10 - زمین پر پہلا قتل  ِ 11 - آدم و حوا جنت میں  ِ 12 - ماں اور اولاد  ِ 13 - حضرت بی بی ہاجرہؑ  ِ 14 - حضرت عیسیٰ علیہ السلام  ِ 15 - نبی عورتیں  ِ 16 - روحانی عورت  ِ 17 - عورت اور مرد کے یکساں حقوق  ِ 18 - عارفہ خاتون ‘‘عرافہ’’  ِ 19 - تاریخی حقائق  ِ 20 - زندہ درگور  ِ 21 - ہمارے دانشور  ِ 22 - قلندر عورت  ِ 23 - عورت اور ولایت  ِ 24 - پردہ اور حکمرانی  ِ 25 - فرات سے عرفات تک  ِ 26 - ناقص العقل  ِ 27 - انگریزی زبان  ِ 29 - عورت کو بھینٹ چڑھانا  ِ 29 - بیوہ عورت  ِ 30 - شوہر کی چتا  ِ 31 - تین کروڑ پچاس لاکھ سال  ِ 32 - فریب کا مجسمہ  ِ 33 - لوہے کے جوتے  ِ 34 - چین کی عورت  ِ 35 - سقراط  ِ 36 - مکاری اور عیاری  ِ 37 - ہزار برس  ِ 38 - عرب عورتیں  ِ 39 - دختر کشی  ِ 40 - اسلام اور عورت  ِ 41 - چار نکاح  ِ 42 - تاریک ظلمتیں  ِ 43 - نسوانی حقوق  ِ 44 - ایک سے زیادہ شادی  ِ 45 - حق مہر  ِ 46 - مہر کی رقم کتنی ہونی چاہئے  ِ 47 - عورت کو زد و کوب کرنا  ِ 48 - بچوں کے حقوق  ِ 49 - ماں کے قدموں میں جنت  ِ 50 - ذہین خواتین  ِ 51 - علامہ خواتین  ِ 52 - بے خوف خواتین  ِ 53 - تعلیم نسواں  ِ 54 - امام عورت  ِ 55 - U.N.O  ِ 56 - توازن  ِ 57 - مادری نظام  ِ 58 - اسلام سے پہلے عورت کی حیثیت  ِ 59 - آٹھ لڑکیاں  ِ 60 - انسانی حقوق  ِ 61 - عورت کا کردار  ِ 62 - دو بیویوں کا شوہر  ِ 63 - بہترین امت  ِ 64 - بیوی کے حقوق  ِ 65 - بے سہارا خواتین  ِ 66 - عورت اور سائنسی دور  ِ 67 - بے روح معاشرہ  ِ 68 - احسنِ تقویم  ِ 69 - ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین  ِ 70 - ایک دوسرے کا لباس  ِ 71 - 2006ء کے بعد  ِ 72 - پیشین گوئی  ِ 73 - روح کا روپ  ِ 74 - حضرت رابعہ بصریؒ  ِ 75 - حضرت بی بی تحفہؒ  ِ 76 - ہمشیرہ حضرت حسین بن منصورؒ  ِ 77 - بی بی فاطمہ نیشاپوریؒ  ِ 78 - بی بی حکیمہؒ  ِ 79 - بی بی جوہربراثیہؒ  ِ 80 - حضرت اُم ابو سفیان ثوریؒ  ِ 81 - بی بی رابعہ عدویہؒ  ِ 82 - حضرت اُمّ ربیعۃ الرائےؒ  ِ 83 - حضرت عفیرہ العابدؒ  ِ 84 - حضرت عبقرہ عابدہؒ  ِ 85 - بی بی فضہؒ  ِ 86 - اُمّ زینب فاطمہ بنتِ عباسؒ  ِ 87 - بی بی کردیہؒ  ِ 88 - بی بی اُم طلقؒ  ِ 89 - حضرت نفیسہ بنتِ حسنؒ  ِ 90 - بی بی مریم بصریہؒ  ِ 91 - حضرت ام امام بخاریؒ  ِ 92 - بی بی اُم احسانؒ  ِ 93 - بی بی فاطمہ بنتِ المثنیٰ ؒ  ِ 94 - بی بی ست الملوکؒ  ِ 95 - حضرت فاطمہ خضرویہؒ  ِ 96 - جاریہ مجہولہؒ  ِ 97 - حبیبہ مصریہؒ  ِ 98 - جاریہ سوداؒ  ِ 99 - حضرت لبابہ متعبدہؒ  ِ 100 - حضرت ریحانہ والیہؒ  ِ 101 - بی بی امتہ الجیلؒ  ِ 102 - بی بی میمونہؒ  ِ 103 - فاطمہ بنتِ عبدالرحمٰنؒ  ِ 104 - کریمہ بنت محمد مروزیہؒ  ِ 105 - بی بی رابعہ شامیہؒ  ِ 106 - اُمّ محمد زینبؒ  ِ 107 - حضرت آمنہ رملیہؒ  ِ 108 - حضرت میمونہ سوداءؒ  ِ 109 - بی بی اُم ہارونؒ  ِ 110 - حضرت میمونہ واعظؒ  ِ 111 - حضرت شعدانہؒ  ِ 112 - بی بی عاطفہؒ  ِ 113 - کنیز فاطمہؒ  ِ 114 - بنت شاہ بن شجاع کرمانیؒ  ِ 115 - اُمّ الابرارؒ (صادقہ)  ِ 116 - بی بی صائمہؒ  ِ 117 - سیدہ فاطمہ ام الخیرؒ  ِ 118 - بی بی خدیجہ جیلانیؒ  ِ 119 - بی بی زلیخاؒ  ِ 120 - بی بی قرسم خاتونؒ  ِ 121 - حضرت ہاجرہ بی بیؒ  ِ 122 - بی بی سارہؒ  ِ 123 - حضرت اُم محمدؒ  ِ 124 - بی بی اُم علیؒ  ِ 125 - مریم بی اماںؒ  ِ 126 - بی اماں صاحبہؒ  ِ 127 - سَکّو بائیؒ  ِ 128 - عاقل بی بیؒ  ِ 129 - بی بی تاریؒ  ِ 130 - مائی نوریؒ  ِ 131 - بی بی معروفہؒ  ِ 132 - بی بی دمنؒ  ِ 133 - بی بی حفضہؒ  ِ 134 - بی بی حفصہؒ بنت شریں  ِ 135 - بی بی غریب نوازؒ (مائی لاڈو)  ِ 136 - بی بی یمامہ بتولؒ  ِ 137 - بی بی میمونہ حفیظؒ  ِ 138 - بی بی مریم فاطمہؒ  ِ 139 - امت الحفیظؒ (حفیظ آپا)  ِ 140 - شہزادی فاطمہ خانمؒ  ِ 141 - بی بی مائی فاطمہؒ  ِ 142 - بی بی راستیؒ  ِ 143 - بی بی پاک صابرہؒ  ِ 144 - بی بی جمال خاتونؒ  ِ 145 - بی بی فاطمہ خاتونؒ  ِ 146 - کوئل  ِ 147 - مائی رابوؒ  ِ 148 - زینب پھوپی جیؒ  ِ 149 - بی بی میراں ماںؒ  ِ 150 - بی بی رانیؒ  ِ 151 - بی بی حاجیانیؒ  ِ 152 - اماں جیؒ  ِ 153 - بی بی حورؒ  ِ 154 - مائی حمیدہؒ  ِ 155 - لل ماجیؒ  ِ 156 - بی بی سائرہؒ  ِ 157 - مائی صاحبہؒ  ِ 158 - حضرت بی بی پاک دامناںؒ  ِ 159 - بی بی الکنزہ تبریزؒ  ِ 160 - بی بی عنیزہؒ  ِ 161 - بی بی بنت کعبؒ  ِ 162 - بی بی ستارہؒ  ِ 163 - شمامہ بنت اسدؒ  ِ 164 - ملّانی جیؒ  ِ 165 - بی بی نور بھریؒ  ِ 166 - مائی جنتؒ  ِ 167 - بی بی سعیدہؒ  ِ 168 - بی بی وردہؒ  ِ 169 - بی بی عائشہ علیؒ  ِ 170 - بی بی علینہؒ  ِ 171 - اُمّ معاذؒ  ِ 172 - عرشیہ بنت شمسؒ  ِ 173 - آپا جیؒ  ِ 174 - حضرت سعیدہ بی بیؒ  ِ 175 - طلاق کے مسا ئل
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)