حساب کتاب کیا ہوتا ہے؟

کتاب : روح کی پکار

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=13457

سوال: سنا ہے کہ مرنے کے بعد قبر میں حساب کتاب ہوتا ہے جبکہ آپ نے یہ فرمایا تھا کہ جسم روح کا لباس ہے جب روح ہی پرواز کر جاتی ہے تو لباس سے قبر میں کیا حساب کتاب ہوتا ہے؟ روحانی نقطہ نظر سے تفصیل بیان کر دیں۔

جواب: جس طرح لباس کی اپنی کوئی حرکت نہیں ہوتی اس طرح جسم بھی روح کا لباس ہے۔ جو روح کا جسم سے تعلق ختم کرنے پر بے جان ہو کر لمحہ بہ لمحہ ختم ہو جاتا ہے۔ کسی بھی قبر کو آپ دو ہفتے کے بعد کھول کر دیکھیں یا ایک مہینے کے بعد کھول کر دیکھیں تو وہاں جسم نہیں ہوتا ہڈی ہوتی ہے۔ سال بھر کے بعد کھول کر دیکھیں تو معلوم ہوا ہڈیاں بھی نہیں ہوتیں۔ جسم روح کا لباس ہے اورلباس سے تو کوئی سوال جواب ہو ہی نہیں سکتا۔ مثلاً ایک آدمی شلوار کرتا ٹوپی وغیرہ بانس کو پہنا کر کھڑا کر دیں اور اس سے آپ سوال جواب کریں یہ لباس کیا جواب دے گا۔ اس لباس کو آپ پھاڑ دیں تب بھی اس کی طرف سے کوئی مدافعت نہیں ہو گی۔ اس میں آگ لگا دیں لباس جل جائے گا لیکن ایک آہ بھی نہیں نکلے گی۔
قبر میں جسم اس لئے رکھا جاتا ہے تا کہ انسان کی بے حرمتی نہ ہو اور یہ قبر میں رکھنے کا رواج کوئی اسلامی نہیں ہے۔ یہودیوں کے زمانے سے حضرت سلیمان علیہ السّلام کے زمانے سے یہ قبریں بنتی چلی آ رہی ہیں۔ تو یہ انسانی عظمت کو خراب نہ کرنے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ دیکھیں اب ایک آدمی مر گیا، اُس کی آپ لاش چھوڑ دیجئے، اب وہ پھولے گا، سڑے گا ،اُس میں بدبو ہو گی، تعفن ہو گا، اُس میں کیڑے پڑیں گے، گِدھ کھائیں گے، کوئے کھائیں گے، چیلیں کھائیں گی، چیونٹیاں لگیں گی، بلی کتے بھیڑیئے، سب آ کر اسے کھائیں گے تو یہ آدمی کی ایک طرح سے بے عزتی ہو گی۔ تو اس بے عزتی سے بچانے کے لئے اور انسانیت کا احترام برقرار رکھنے کے لئے یہ قبر کا تصوّر قائم ہوا اور یہ حضرت آدم علیہ السّلام سے چل رہا ہے۔ ہابیل اور قابیل کا قصہ آپ نے سنا ہو گا وہاں سے یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ جسم کو اگر ہم روح کا لباس مان لیتے ہیں تو اس پر کوئی حساب کتاب نہیں ہو گا۔ اِس جسم کے اوپر ایک اور روشنیوں کا بنا ہوا جسم ہوتا ہے اور وہ اس جسم سے ۹ انچ اوپر ہوتا ہے وہ سارا حساب کتاب جزا و سزا سب اس کے اوپر ہوتا ہے، اور وہ چیز جو ہے وہ عالمِ اَعراف میں رہتی ہے۔ اب رہ گیا یہ سوال کہ روح جب عالمِ اَعراف میں چلی گئی تو قبرستان میں کیا رکھا ہے۔ وہاں تو مٹی کا ڈھیر ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ قبرستان میں کچھ بھی نہیں رکھا۔ جسم تو مٹی ہو گیا لیکن جس جگہ جسم کو ہم دفناتے ہیں آدمی کا اسی مناسبت سے اَعراف بنتا ہے۔ یعنی زمین سے ۲۰۰ میل اوپر اس کا اَعراف بنتا ہے۔ زمین سے ۲۰۰ میل اوپر ایک اور دنیا آباد ہے۔ بالکل اسی طرح کی جیسے کہ یہ دنیا ہے۔ اس کو ہم عالمِ اَعراف کہتے ہیں۔ اب اس کی مثال یوں ہے کہ ایک پلازہ ہے۔ اس کی ۲۰۰ منزلیں ہیں تو جو زندہ آدمی ہیں مثال کے طور پر وہ پہلی منزل پر رہتے ہین اور جو مرے ہوئے آدمی ہیں وہ دوسویں منزل پر رہتے ہیں تو اس کا تعلق اس زمین سے قائم ہے کہ پلازہ بغیر زمین کے قائم نہیں رہتا۔
ایک بات اور غور طلب یہ ہے کہ عالمِ اَعراف جو ہے وہ زمین کے کرہ سے باہر نہیں ہے۔ عالمِ اَعراف زمین کے کرہ میں ہے تو جہاں اس کو دفن کرتے ہیں کسی مردہ جسم کو تو اس کا وہاں سے ایک تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ اُس گھر سے، اُس قبر سے، لیکن وہ رہتا عالمِ اَعراف میں ہے۔ تو جب ہم کسی قبر پر جاتے ہیں تو ہمارا تعلق اس بندے کے ساتھ عالمِ اَعراف سے قائم ہو جاتا ہے۔ انسان جب قبرستان جاتا ہے، وہاں جا کے بیٹھتا ہے، کچھ پڑھتا ہے، اِیصالِ ثواب کرتا ہے، تو اس کے اندر وہ صلاحیت کام کرنے لگتی ہے جو صلاحیت یہاں سے ۲۰۰ میل اوپر دیکھتی ہے ۔ یعنی اِیصالِ ثواب پہنچانا اِس بات کی نشاندہی ہے کہ انسان کے اندر ایسی صلاحیت کام کر رہی ہے یا ایسی نظر کام کر رہی ہے جو ۲۰۰ میل اوپر بھی دیکھ سکتی ہے۔
حضورﷺ نے فرمایا کہ جب تم قبرستان جاؤ تو کہو ’’السّلام علیکم یا اہل القبور‘‘ (اے قبرستان میں رہنے والے السّلام علیکم)۔ ظاہر ہے حضورﷺ کی کوئی بات غلط تو ہو نہیں ہو سکتی۔ بغیر حکمت کے نہیں ہو سکتی۔ تو حضورﷺ نے جب یہ فرمایا کہ قبرستان جا کے کہو ’’السّلام علیکم یا اہل القبور‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قبر میں رہنے والے لوگ ہمارا سلام سنتے ہیں اور وہ ہمارے سلام کا جواب بھی دیتے ہیں لیکن تم سن نہیں سکتے۔ لیکن اگر ہم اس صلاحیت کو بیدار اور متحرّک کریں، یعنی لاشعوری صلاحیت کو یا روحانی صلاحیت کو، تو ہم ان کی آواز سن بھی سکتے ہیں اور انہیں دیکھ بھی سکتے ہیں۔ ان سے رابطہ بھی قائم کر سکتے ہیں اور اولیاء کا عام قاعدہ ہے… کشف القبور… تصوّف میں ایک باقاعدہ اصطلاح ہے لوگ جاتے ہیں، آنکھیں بند کر کے بیٹھتے ہیں، کچھ پڑھتے ہیں جو عالمِ اَعراف میں لوگ ہیں وہ سامنے آ جاتے ہیں۔ قبر کا جو تعلق ہے، جو گوشت پوست کا بنا ہوا جسم ہے، اس سے حساب کتاب نہیں ہوتا بلکہ اس گوشت پوست کے اوپر ایک اور روح کا بنا ہوا جسم ہوتا ہے، مکمل جسم ہوتا ہے جسے جسمِ مثالی کہا جاتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 158 تا 160

روح کی پکار کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 1 - مراقبہ کیا ہے؟  ِ 2 - زمان و مکان کیا ہے؟  ِ 3 - لوحِ محفوظ  ِ 4 - خالقِ خدا  ِ 5 - اللہ تعالیٰ نظر کیوں نہیں آتے؟  ِ 6 - اللہ تعالیٰ کی امانت کے حصول کے بعد ظالم اور جاہل کیسے؟  ِ 7 - کونسی طرزِ فکر اللہ کے قریب کرتی ہے؟  ِ 8 - روحانی طرزِ فکر کا تجزیہ  ِ 9 - روحانیت میں سب سے پہلے کیا ضروری ہے؟  ِ 10 - طرزِ فکر کی منتقلی کس قانون سے ہوتی ہے؟  ِ 11 - زمان (Time) کی حدود  ِ 12 - نفس کیا ہے؟  ِ 13 - درست طرزِ فکر کونسی ہے؟  ِ 14 - مرشد کو ظاہری آنکھ سے نہ دیکھا ہو  ِ 15 - کیا مراقبہ خواب کا تسلسل ہے؟  ِ 16 - اللہ تعالیٰ کے درمیان حجاب  ِ 17 - اللہ تعالیٰ بہترین خالق ہیں  ِ 18 - اللہ تعالیٰ ہر چیز پر محیط ہیں  ِ 19 - اللہ تعالیٰ کے علم کا عکس  ِ 20 - کائنات کے تخلیقی خدوخال  ِ 21 - کسی چیز کو سمجھنے کے لئے بنیادی عمل نظر ہے  ِ 22 - اللہ تعالیٰ کی صفات  ِ 23 - علم استدراج اور علم نوری میں فرق  ِ 24 - روحانی تصرّف کیا ہے؟  ِ 25 - اختیاری اور غیر اختیاری طرزِ فکر  ِ 26 - بخیلی اور سخاوت  ِ 27 - زندگی کی بنیاد  ِ 28 - حقیقت مُطلَقہ کیا ہے؟  ِ 29 - یقین کے کیا عوامل ہیں؟  ِ 30 - کیا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان سب مسخر کر دیا؟  ِ 31 - شُہود کی قسمیں  ِ 32 - سائنسی ایجادات  ِ 33 - علم کی حیثیت  ِ 34 - کیا قرآنی آیات پڑھنی چاہئیں؟  ِ 35 - تعویذ کے اندر کونسی طاقت ہے؟  ِ 36 - فِقہی علم کیا ہے؟  ِ 37 - سلطان کیا ہے؟  ِ 38 - مٹھاس یا نمک  ِ 39 - خیالی اور حقیقی خواب  ِ 40 - دعا آسمان سے کیوں پھینکی جاتی ہے؟  ِ 41 - مرشد کس طرح فیض منتقل کرتا ہے؟  ِ 42 - کتنی نیند کرنی چاہئے؟  ِ 43 - کیا رنگین روشنیاں غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں؟  ِ 44 - طریقت اور شریعت  ِ 45 - روح کا عرفان  ِ 46 - عام آدمی اور مؤمن میں فرق  ِ 47 - حساب کتاب کیا ہوتا ہے؟  ِ 48 - استغنائی طرزِ فکر  ِ 49 - خود ترغیبی کیا ہے؟  ِ 50 - کیفیت اور خیال میں فرق  ِ 51 - حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد  ِ 52 - تدلّیٰ اور علم الاسماء  ِ 53 - ارتقائی منازل  ِ 54 - نورِ باطن  ِ 55 - ذہن بیمار یا جسم بیمار  ِ 56 - روح کہاں جاتی ہے؟  ِ 57 - علم الغیب کیا ہے؟  ِ 58 - اللہ کا پسندیدہ بندہ  ِ 59 - فنا و بقا کیا ہے؟  ِ 60 - رنج و غم کیوں جمع ہوتے ہیں؟  ِ 61 - وَحدت الوجود اور وَحدت الشُہود  ِ 62 - دماغ میں دو کھرب خانے  ِ 63 - قلم خشک ہو گیا  ِ 64 - ترقی کا فسوں  ِ 65 - کون سا رنگ کون سا پتھر؟  ِ 66 - نماز میں حضورِقلب پیدا ہو  ِ 67 - روحانی تفسیر  ِ 68 - روح سے وُقوف حاصل کرنا  ِ 69 - نظر کا قانون  ِ 70 - زمان و مکان (Time And Space)  ِ 71 - شجرِ ممنوعہ کیا ہے؟  ِ 72 - کائنات کا بنیادی مسالہ  ِ 73 - اِرتکازِ توجّہ  ِ 74 - جسم میں لطیفے  ِ 75 - مادری زبان میں خیالات  ِ 76 - تصوّرِ شیخ  ِ 77 - کشش کیوں ہوتی ہے؟  ِ 78 - معجزہ، کرامت، اِستدراج کیا ہے؟  ِ 79 - قوّت ارادی کیا ہے؟  ِ 80 - تخلیقی اختیارات  ِ 81 - بغیر استاد کیا نقصان ہوتا ہے؟  ِ 82 - سورج بینی کا کیا فائدہ ہے؟  ِ 83 - رَحمۃَ لِّلعالمین  ِ 84 - وہاں کی زبان کو سمجھنا  ِ 85 - مراقبہ کا حکم  ِ 86 - انسانی کوشش کا عمل دخل  ِ 87 - اسفل زندگی سے نکلنا  ِ 88 - اسمِ اعظم کیا ہے؟  ِ 89 - ہر شئے دو رخوں پر ہے  ِ 90 - مؤکل کیا ہوتے ہیں؟  ِ 91 - مذہب کی حقیقت کیا ہے؟  ِ 92 - حواس کہاں سے آتے ہیں؟  ِ 93 - شرحِ صدر کیا ہے؟  ِ 94 - تفکر کی صلاحیت  ِ 95 - عشاء کا وقت افضل کیوں ہے؟  ِ 96 - سعید روح اور شَقی روح کیا ہے؟  ِ 97 - حافظے کی سطح  ِ 98 - حسبِ خواہش نتیجہ نہ ملنا  ِ 99 - نیگیٹیو بینی کیا ہے؟  ِ 100 - اس کتاب میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے  ِ 101 - یاحي یاقیوم کا کیا مطلب ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message