حافظے کی سطح

کتاب : روح کی پکار

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=13349

سوال: میں گزشتہ پانچ سالوں سے ایک عجیب ذہنی کیفیت سے دوچار ہوں۔ کبھی کبھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ فلاں واقعہ پہلے ہو چکا ہے اور بالکل اسی انداز سے ہو چکا ہے۔ جس وقت حافظے سے یادداشت کی فلم ذہن کی سطح پر آتی ہے تو مجھے واضح طور پر محسوس ہو جاتا ہے کہ یہ واقعہ اسی طرح ہو چکا ہے۔ اس کیفیت میں کبھی کبھی ترقی ہو جاتی ہے۔ وہ اس طرح کہ جب کوئی شخص دوسرے سے سوال کرتا ہے یا کوئی بات کرتا ہے تو اچانک مجھے یاد آتا ہے کہ دوسرا شخص یہ جواب دے گا اور پھر دوسرا شخص وہی بات کرتا ہے جو میرے ذہن میں پہلے سے آ چکی ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ بھی ذہن میں پہلے سے آ جاتا ہے کہ فلاں شخص اب یہ عمل کرے گا اور پھر واقعی وہ شخص وہی عمل کرتا ہے۔ یہ کیفیت ہر وقت طاری نہیں ہوتی بلکہ ایک ڈیڑھ ماہ کے وقفے سے اچانک کسی وقت یہ محسوسات بیدار ہو جاتے ہیں اور پھر چند منٹ کے بعد ختم ہو جاتے ہیں۔ میں اس عجیب و غریب کیفیت کی علمی توجیہ کے ساتھ ساتھ یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر یہ کوئی روحانی صلاحیت ہے تو کیا اسے بڑھایا جا سکتا ہے اور اس کے لئے مجھے کیا کرنا چاہئے؟

جواب: شعوری اعتبار سے ہم زمانے کی تین حالتوں سے واقف ہیں۔
ماضی، حال اور مستقبل۔۔۔۔۔۔
اس تعارف کی بنیاد پر ہم کسی بھی واقعے کو ماضی، حال اور مستقبل کے خانوں میں رکھ کر محسوس کرتے ہیں۔ لیکن علمِ روحانیت کے مطابق اصل زمانہ ماضی ہے باقی دو زمانے ماضی کی شعوری تقسیم کا نام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ماضی کے علاوہ اس کائنات میں کوئی چیز نہیں ہے۔ ہم جس چیز کو حال اور مستقبل سمجھتے ہیں وہی ماضی کے لمحات سے کسی وقفے میں متعارف ہونا یا نہ ہونا ہے۔ شعوری اعتبار سے بھی غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ حال اور مستقبل کی کڑیاں ماضی کی زنجیر سے وابستہ ہیں۔ مرشدِ کریم ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاءؒ نے شعوری تقسیم کو ایک مثال کے ذریعے کتاب ’’لوح و قلم‘‘ میں یوں بیان فرمایا ہے:
’’ماہر فلکیات کہتے ہیں کہ ہمارے نظام شمسی سے الگ کوئی نظام ایسا نہیں ہے جس کی روشنی ہم تک چار برس سے کم عرصہ میں پہنچتی ہو۔ وہ ایسے ستارے بھی بتاتے ہیں جن کی روشنی ہم تک ایک کروڑ سال میں پہنچتی ہے۔ تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہم اس سیکنڈ میں جس ستارے کو دیکھ رہے ہیں وہ ایک کروڑ سال پہلے کی ہیئت ہے۔ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ موجودہ لمحہ ایک کروڑ سال پہلے کا لمحہ ہے۔ یہ غور طلب ہے کہ ان دونوں لمحوں کے درمیان جو ایک اور بالکل ایک ہیں، ایک کروڑ سال کا وقفہ ہے… یہ ایک کروڑ سال کہاں گئے؟۔۔۔۔۔۔معلوم ہوا کہ یہ ایک کروڑ سال فقط طرزِ ادراک ہیں۔ طرزِ ادراک نے صرف ایک لمحہ کو ایک کروڑ سال پر تقسیم کر دیا ہے۔ جس طرح طرزِ ادراک گزشتہ ایک کروڑ سال کو موجودہ لمحہ کے اندر دیکھتی ہے۔ اسی طرح طرزِ ادراک آئندہ ایک کروڑ سال کو موجودہ لمحہ کے اندر دیکھ سکتی ہے۔ اسی طرح یہ تحقیق ہو جاتا ہے کہ ازل سے ابد تک کا تمام وقفہ ایک لمحہ ہے جس کو طرزِ ادراک نے ازل سے ابد تک کے مراحل پر تقسیم کر دیا ہے۔ ہم اس ہی تقسیم کو مکان (Space) کہتے ہیں۔ گویا ازل سے ابد تک کا تمام وقفہ مکان ہے اور جتنے حوادث کائنات نے دیکھنے ہیں وہ سب ایک لمحہ کی تقسیم کے اندر مقید ہیں۔ یہ ادراک کا اعجاز ہے کہ جس نے ایک لمحہ کو ازل تا ابد کا روپ عطا کر دیا ہے۔‘‘
وہ لمحہ جس میں کائنات کے تمام حوادث موجود ہیں۔ ایک ریکارڈ ہے اور یہ ریکارڈ ہر لمحہ موجود ہے۔ انسان کا ذہن اسی ریکارڈ کو پڑھتا ہے اور پڑھنے میں طرزِ ادراک واقعات کو ماضی حال اور مستقبل کی نسبت سے محسوس کرتی ہے۔ چونکہ ریکارڈ ہر وقت موجود ہے اس لئے روحانیت میں اسے ماضی کہا جاتا ہے اس لئے کہ یہ وقوع پذیر ہو چکا ہے۔
قدرت نے انسان کے ذہن میں طرزِ ادراک کی ایک ایسی سطح رکھی ہے جس میں وہ زمانیت اور مکانیت کا پابند نہیں ہے۔ وہ ایک لمحہ میں وقوع پذیر ریکارڈ کو کہیں سے بھی پڑھ سکتا ہے یعنی وہ شعوری اعتبار سے لاکھوں سال پہلے کے واقعات دیکھ سکتا ہے اور لاکھوں سال بعد کے واقعات کا بھی مشاہدہ کر سکتا ہے۔ یہی طرزِ ادراک انسان پر یہ بات بھی منکشف کر دیتا ہے کہ جو کچھ بحالت موجودہ ہو رہا ہے، آئندہ ہو گا۔ وہ ایک لمحہ میں تمام کا تمام ہو چکا ہے اور جو کچھ ہو چکا ہے اسی کو ہم حال اور مستقبل کی صورت میں محسوس کر رہے ہیں۔ کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے ذہن کی سطح پر اس طرزِ ادراک کا ہلکا سا عکس پڑ جاتا ہے اس وقت ذہن یہ بات محسوس کر لیتا ہے کہ وہ ماضی کا ریکارڈ دیکھ رہا ہے اور آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ فلاں واقعہ ہو چکا ہے۔ کبھی کبھی اس عکس میں گہرائی آ جاتی ہے اور ذہن ماضی کے اندر موجود مستقبل کو پڑھ لیتا ہے۔ آپ اس بات سے واقف ہو جاتے ہیں کہ وہ شخص کیا کہے گا یا اس سے کیا عمل سرزد ہو گا۔
روحانی اصطلاح میں یہ صلاحیت کشف کا ایک درجہ ہے۔ کشف کے بہت سے درجات ہیں۔ کشف ہی سے ترقی کر کے کوئی روحانی طالب علم الہام، معائنہ، شُہود، سیر اور فتح کے درجات تک پہنچتا ہے۔ ان روحانی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے لئے کسی کامل روحانی استاد کی رہنمائی اور نگرانی اشد ضروری ہے۔
آپ اپنے اندر موجود اس صلاحیت کو متحرّک اور مستحکم کرنے کے لئے حسب ذیل مراقبہ کریں۔
صبح سورج نکلنے سے پہلے آہستہ آہستہ چند گہری سانسیں لیں اور کسی آرام دہ نشست میں بیٹھ کر آنکھیں بند کر لیں۔ ذہن کو ہر قسم کے خیالات سے آزاد کر کے اپنے دل کی گہرائی میں جھانکیں۔ تقریباً بیس منٹ تک یہ مراقبہ کریں۔
جو کچھ وارِدات و کیفیات ہوں انہیں ڈائری کی صورت میں لکھتے جائیں اور پندرہ روزہ رپورٹ بھیجتے رہیں۔ لفافہ کے اوپر ایک کونے پر جلی حرفوں سے لفظ ’’کیفیات مراقبہ‘‘ لکھ دیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 253 تا 256

روح کی پکار کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 1 - مراقبہ کیا ہے؟  ِ 2 - زمان و مکان کیا ہے؟  ِ 3 - لوحِ محفوظ  ِ 4 - خالقِ خدا  ِ 5 - اللہ تعالیٰ نظر کیوں نہیں آتے؟  ِ 6 - اللہ تعالیٰ کی امانت کے حصول کے بعد ظالم اور جاہل کیسے؟  ِ 7 - کونسی طرزِ فکر اللہ کے قریب کرتی ہے؟  ِ 8 - روحانی طرزِ فکر کا تجزیہ  ِ 9 - روحانیت میں سب سے پہلے کیا ضروری ہے؟  ِ 10 - طرزِ فکر کی منتقلی کس قانون سے ہوتی ہے؟  ِ 11 - زمان (Time) کی حدود  ِ 12 - نفس کیا ہے؟  ِ 13 - درست طرزِ فکر کونسی ہے؟  ِ 14 - مرشد کو ظاہری آنکھ سے نہ دیکھا ہو  ِ 15 - کیا مراقبہ خواب کا تسلسل ہے؟  ِ 16 - اللہ تعالیٰ کے درمیان حجاب  ِ 17 - اللہ تعالیٰ بہترین خالق ہیں  ِ 18 - اللہ تعالیٰ ہر چیز پر محیط ہیں  ِ 19 - اللہ تعالیٰ کے علم کا عکس  ِ 20 - کائنات کے تخلیقی خدوخال  ِ 21 - کسی چیز کو سمجھنے کے لئے بنیادی عمل نظر ہے  ِ 22 - اللہ تعالیٰ کی صفات  ِ 23 - علم استدراج اور علم نوری میں فرق  ِ 24 - روحانی تصرّف کیا ہے؟  ِ 25 - اختیاری اور غیر اختیاری طرزِ فکر  ِ 26 - بخیلی اور سخاوت  ِ 27 - زندگی کی بنیاد  ِ 28 - حقیقت مُطلَقہ کیا ہے؟  ِ 29 - یقین کے کیا عوامل ہیں؟  ِ 30 - کیا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان سب مسخر کر دیا؟  ِ 31 - شُہود کی قسمیں  ِ 32 - سائنسی ایجادات  ِ 33 - علم کی حیثیت  ِ 34 - کیا قرآنی آیات پڑھنی چاہئیں؟  ِ 35 - تعویذ کے اندر کونسی طاقت ہے؟  ِ 36 - فِقہی علم کیا ہے؟  ِ 37 - سلطان کیا ہے؟  ِ 38 - مٹھاس یا نمک  ِ 39 - خیالی اور حقیقی خواب  ِ 40 - دعا آسمان سے کیوں پھینکی جاتی ہے؟  ِ 41 - مرشد کس طرح فیض منتقل کرتا ہے؟  ِ 42 - کتنی نیند کرنی چاہئے؟  ِ 43 - کیا رنگین روشنیاں غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں؟  ِ 44 - طریقت اور شریعت  ِ 45 - روح کا عرفان  ِ 46 - عام آدمی اور مؤمن میں فرق  ِ 47 - حساب کتاب کیا ہوتا ہے؟  ِ 48 - استغنائی طرزِ فکر  ِ 49 - خود ترغیبی کیا ہے؟  ِ 50 - کیفیت اور خیال میں فرق  ِ 51 - حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد  ِ 52 - تدلّیٰ اور علم الاسماء  ِ 53 - ارتقائی منازل  ِ 54 - نورِ باطن  ِ 55 - ذہن بیمار یا جسم بیمار  ِ 56 - روح کہاں جاتی ہے؟  ِ 57 - علم الغیب کیا ہے؟  ِ 58 - اللہ کا پسندیدہ بندہ  ِ 59 - فنا و بقا کیا ہے؟  ِ 60 - رنج و غم کیوں جمع ہوتے ہیں؟  ِ 61 - وَحدت الوجود اور وَحدت الشُہود  ِ 62 - دماغ میں دو کھرب خانے  ِ 63 - قلم خشک ہو گیا  ِ 64 - ترقی کا فسوں  ِ 65 - کون سا رنگ کون سا پتھر؟  ِ 66 - نماز میں حضورِقلب پیدا ہو  ِ 67 - روحانی تفسیر  ِ 68 - روح سے وُقوف حاصل کرنا  ِ 69 - نظر کا قانون  ِ 70 - زمان و مکان (Time And Space)  ِ 71 - شجرِ ممنوعہ کیا ہے؟  ِ 72 - کائنات کا بنیادی مسالہ  ِ 73 - اِرتکازِ توجّہ  ِ 74 - جسم میں لطیفے  ِ 75 - مادری زبان میں خیالات  ِ 76 - تصوّرِ شیخ  ِ 77 - کشش کیوں ہوتی ہے؟  ِ 78 - معجزہ، کرامت، اِستدراج کیا ہے؟  ِ 79 - قوّت ارادی کیا ہے؟  ِ 80 - تخلیقی اختیارات  ِ 81 - بغیر استاد کیا نقصان ہوتا ہے؟  ِ 82 - سورج بینی کا کیا فائدہ ہے؟  ِ 83 - رَحمۃَ لِّلعالمین  ِ 84 - وہاں کی زبان کو سمجھنا  ِ 85 - مراقبہ کا حکم  ِ 86 - انسانی کوشش کا عمل دخل  ِ 87 - اسفل زندگی سے نکلنا  ِ 88 - اسمِ اعظم کیا ہے؟  ِ 89 - ہر شئے دو رخوں پر ہے  ِ 90 - مؤکل کیا ہوتے ہیں؟  ِ 91 - مذہب کی حقیقت کیا ہے؟  ِ 92 - حواس کہاں سے آتے ہیں؟  ِ 93 - شرحِ صدر کیا ہے؟  ِ 94 - تفکر کی صلاحیت  ِ 95 - عشاء کا وقت افضل کیوں ہے؟  ِ 96 - سعید روح اور شَقی روح کیا ہے؟  ِ 97 - حافظے کی سطح  ِ 98 - حسبِ خواہش نتیجہ نہ ملنا  ِ 99 - نیگیٹیو بینی کیا ہے؟  ِ 100 - اس کتاب میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے  ِ 101 - یاحي یاقیوم کا کیا مطلب ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message