جن نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلدی چلو

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=13062

سواد بن قاربؓ اسلام قبول کرنے سے پہلے ایک عامل کی حیثیت سے شہرت رکھتے تھے۔ ان کے قبضے میں ایک جن تھا جو غیب کی خبریں ان تک پہنچاتا تھا۔ قاربؓ کہتے ہیں کہ ایک رات میرے مطیع جن نے مجھے نیند سے بیدار کیا اور کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سواد اٹھو!

میری بات غور سے سنو۔

عقل مند ہو تو عقل سے کام لو۔

بلا شبہ نبی کی بعثت ہوچکی ہے۔

وہ خدائے واحد کی طرف بلاتے ہیں۔

پھر جن نے جھوم جھوم کر اشعار کہے:

’’ میں جنوں کے دور دراز سفر کے لئے بوریا بستر باندھنے پر تعجب کررہا ہوں۔ اگر تم ہدایت کے طلب گار ہو تو مکہ معظمہ کی طرف جلدی چلو۔ یاد رکھو سچا جن جھوٹے جن کی طرح نہیں ہوتا۔ جلدی کر بنو ہاشم کے اس چہرۂ جمیل کا دیدار کرلے جو تو نے آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘‘

 

سودا بن قاربؓ نے جن کو اپنے پاس سے بھگا دیا۔ اگلی رات جن پھر آیا اور دعوتِ سفر دی۔ تیسری رات جن نے سودا بن قاربؓ کو جھنجوڑ کر اٹھا دیا اور کہا:

’’بنو ہاشم کے عظیم فرد کی زیارت سے اپنا دل روشن کر لے۔‘‘

جن نے گذشتہ دو راتوں کی طرح یہ شعر دہرایا۔

’’ میں حیران ہوں کہ جنات اونٹوں پر کجاوے کس کر مکہ ہدایت پانے کے لئے بیقراری کے عالم میں دوڑے جا رہے ہیں۔‘‘

سودا بن قاربؓ بے چین ہو گئے، رات بھر نیند نہیں آئی، صبح ہوتے ہی تیز رفتار سواری کا انتظام کیا اور سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں دیکھتے ہی فرمایا:

’’مرحبا اے سودا بن قارب! ہمیں معلوم ہے کہ تم کس لئے یہاں آئے ہو۔ ’’ سودا بن قارب کو جن کی صداقت پر یقین آ گیا اور وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔

اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ انسان اورجنات کی دنیا ایک جیسی ہے۔ جس طرح انسان، اونٹوں پر سوار ہوکر سفر کرتے ہیں جنات کی دنیا میں بھی اونٹ ہیں۔ انسان جس طرح ہدایت کے متلاشی ہیں اور اللہ کی توفیق کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے اسی طرح جنات بھی گروہ در گروہ مسلمان ہوتے ہیں۔ جس طرح مسلمان سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے نورانی چہرہ پر عاشق اور حضورؐ پر جان نثار ہونا اپنے لئے سب سے بڑی سعادت سمجھتے ہیں، جنات بھی حضور علیہ الصلوۃ والسلام پر جان نثار کرنے کو اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 204 تا 206

محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم کے مضامین :

ِ یا صاحب الجمال  ِ دیباچہ  ِ 1 - قرآن اور آسمانی کتابیں  ِ 2.1 - ستارے قریب آئے  ِ 2.2 - پنگوڑے میں چاند  ِ 2.3 - مائی حلیمہ  ِ 2.4 - دو اجنبی  ِ 3.1 - بادلوں کا سایہ  ِ 3.2 - بارش کا وسیلہ  ِ 3.3 - درخت، پتھر سجدے میں گر گئے  ِ 3.4 - نبیوں کا درخت  ِ 4 - تبت یدا  ِ 5 - دو کمانوں سے کم فاصلہ  ِ 6 - ہجرت کی رات  ِ 7.1 - دو سردار  ِ 7.2 - نگاہ مرد حق آگاہ  ِ 8.1 - جب چاند دو ٹکڑے ہوا  ِ 8.2 - تابع فرمان سورج  ِ 9 - پہاڑ نے حکم مانا  ِ 10 - پتھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے موم ہو گئے  ِ 11 - سنگریزوں نے کلمہ پڑھا  ِ 12 - باطل مٹ گیا  ِ 13 - درخت کی گواہی  ِ 14 - حنین جذع کا واقعہ  ِ 15.1 - کھجور کی تلوار  ِ 15.2 - لاٹھی قندیل بن گئی  ِ 15.3 - لکڑی میں روشنی  ِ 16.1 - اونٹ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں سر رکھا  ِ 16.2 - اونٹ نے شکایت کی  ِ 16.3 - ہرنی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی  ِ 17 - اور آپؐ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک  ِ 18.1 - مستجاب الدعٰوۃ  ِ 18.2 - شیر آیا  ِ 18.3 - پانی برسا  ِ 18.4 - ابو ہریرہؓ کی ماں  ِ 18.5 - اندھی آنکھ میں بینائی  ِ 18.6 - کھانے میں برکت  ِ 19 - جنگ خندق  ِ 20 - حضرت عائشہؓ کی برأت  ِ 21 - حدیبیہ میں کنواں  ِ 22.1 - کعبہ کی کنجی  ِ 22.2 - بائیکاٹ  ِ 22.3 - سراقہ اور کنگن  ِ 23 - دست رحمت  ِ 24 - جن نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلدی چلو  ِ 25.1 - بچانے والا اللہ ہے  ِ 25.2 - مغربی حاجی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)