جنگ خندق

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=13054

سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام جس وقت مدینۂ منورہ میں رونق افروز ہوئے اس وقت مدینہ کا رقبہ تقریباً تیس (۳۰) کلومیٹر تھا۔ شہر میں بہتر(۷۲)قلعے تھے۔ جن میں انسٹھ (۵۹) قلعے یہودیوں کے تھے اور تیرہ (۱۳) قلعے مدینہ کے اعراب کے تھے۔ آبادیاں قبیلوں میں بٹی ہوئی تھیں۔ یہودیوں کے تین بڑے قبیلے تھے۔ ایک قبیلہ زرگر تھا، دوسرے قبیلہ کے لوگ کاشتکار تھے اور تیسرا قبیلہ چرم سازی میں مہارت رکھتا تھا۔

سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس یہودی علماء حاضر ہوئے، انہیں جب یقین ہو گیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، ان کے اندر عصبیت عود کر آئی۔ بنی اسرایل کے علاوہ کسی اور قوم میں آخری نبی کا ظہور یہودیوں کے لئے جان لیوا تصور تھا۔

اعراب کے دو قبائل کے درمیان زمین کی ملکیت کا تنازع چل رہا تھا۔ ایک قبیلے کے سربراہ عبداللہ بن ابی نے تصفیہ کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ جس کی وجہ سے اس کی قدر و منزلت بڑھ گئی تھی۔ عبداللہ بن ابی مدینہ کے سارے قبیلوں کا سربراہ بننا چاہتا تھا۔ لیکن لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ امین و صادق پیغمبرِاسلام مدینہ تشریف لا رہے ہیں تو انہوں نے اسے سربراہ بنانے کا ارادہ ترک کر دیا ۔ اس کا عبداللہ بن ابی کو بہت قلق تھا۔

سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام ان سب باتوں سے واقف تھے۔ آپؐ نے مدینہ کے یہودیوں سے رواداری، امن، مذہبی آزادی، عدل و انصاف، تعاون اور باہمی تعلقات میں خیرخواہی کا معاہدہ کیا اور مدینہ میں بسنے والے تمام لوگوں کےلئے آئین مرتب کیا جو میثاقِ مدینہ کہلاتا ہے۔

قریشِ مکہ نے مدینہ کے اعراب اور یہودیوں کو الگ الگ خط بھیجے۔ جن میں مسلمانوں کی حمایت سے دست بردار ہونے اور سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام کو مکہ والوں کے حوالے کر دینے کا مطالبہ تھا اور مطالبہ نہ ماننے کی صورت میں دھمکی دی گئی تھی کہ مدینہ پر حملہ کر دیا جائے گا جس سے املاک کی تباہی، قتل و غارتگری اور عزت و ناموس کی پائمالی کی ذمہ داری اہل مدینہ پر ہوگی۔

یہودیوں نے اگرچہ قریشِ مکہ کا ساتھ نہیں دیا تھا لیکن ان کی سرشت میں شامل شر اور فساد زیادہ عرصہ چھپا نہ رہ سکا۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی فتح اور اس کے بعد اثر و رسوخ میں اضافہ سے وہ در پردہ سازشیں کرنے لگے۔ معرکۂ بدر کے بعد یہودیوں کے دو شاعر جنہیں فصاحت و بلاغت میں ملکہ حاصل تھا ملک پہنچ گئے۔ وہ اشعار اور لمبی بحر کی غزلیں مجمع میں سناتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف کفارِمکہ کے جذبات کو بھڑکاتے تھے۔ یہی سلسلہ مدینہ کے بازاروں اور محفلوں میں بھی شروع کر دیا گیا۔

کلام الٰہی، تعلیمات رسول اور سیرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہجو آمیز اشعار سے مسلمانوں کو بہت دکھ ہوا اور وہ اس ہرزہ سرائی سے رنجیدہ خاطر ہوگئے۔ یہودیوں کی شرانگیزی اتنی بڑھی کہ مدینہ میں کشت و خون کا اندیشہ پیدا ہوگیا۔ سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام بنفس نفیس یہودی زعماء کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں میثاقِ مدینہ کی پاسداری کرنے کو کہا۔ یہودیوں نے نہ صرف عہد سے روگردانی کی بلکہ دیوار سے پتھر گرا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جان سے مار دینے کی کوشش بھی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لےآئے اور یہودیوں کو مدینہ سے نکل جانے کا حکم صادر فرما دیا۔ یہودیوں کو آلاتِ حرب کے علاوہ اپنا سارا مال اسباب لے جانے کی اجازت تھی۔ زرگروں اور کاشتکار یہودیوں کے قبائل مدینہ بدر کر دئیے گئے۔

جنگ احد کے بعد کفارِمکہ کے حوصلے بڑھ گئے تھے۔ مسلمانوں سے اہل یہود کی عداوت اور میثاقِ مدینہ سے روگردانی سے قریش واقف تھے۔ مسلمانوں کی صفوں میں منافقوں کی موجودگی کا انہیں علم تھا۔ اس صورتحال سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کے لئے قریش نے یہودیوں اور منافقوں سے ساز باز کرکے مسلمانوں کا محاصرہ کرنے کا پروگرام بنایا۔

مدینہ کے اطراف میں آباد قبائل اور یہودیوں نے کفارِمکہ کے اتحاد سے پروگرام بنایا کہ مسلمانوں کو معاشی طور پر ختم کردیا جائے اور تجارتی قافلوں کی ناکہ بندی کردی۔ مدینہ کی معیشت پر اس کا بہت گہرا اثر مرتب ہوا۔ اس سے پہلے کہ معاشی طور پر مسلمان بدحال ہو جائیں سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام ایک ہزار جونواں کے ہمراہ دومتہ الجندل کی طرف روانہ ہوئے تاکہ تجارتی قافلوں کا راستہ کھلنے کےلئے مذاکرات کئے جائیں۔

یہود و قریش کے معاہدہ میں طے پایا تھا کہ جنگ کے اخراجات کا بڑا حصہ خیبر کے یہودی برداشت کریں گے۔ دس ہزار فوجیوں کا لشکر جمع ہوگیا۔ انٹیلی جنس نے اس صورت حال کی اطلاع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔

منافقین قریشِ مکہ کو اطلاع دے چکے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں موجود نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اچانک واپسی پر منافقین کو حیرت ہوئی۔ کفار کا پروگرام یہ تھا کہ مدینہ پر حملہ اس وقت کیا جائے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں موجود نہ ہوں۔ سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام نے مسلمانوں کو جمع کیا اور دس ہزار مسلح فوج کا مقابلہ کرنے کے لئے صلح مشورہ کیا۔ حضرت سلمان فارسیؓ نے مدینہ کے دفاع کا مشورہ دیا اور مدینہ کے گرد خندق کھودنے کی تجویز پیش کی۔ سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس حکمت عملی کو پسند فرمایا اور خندق کی کھدائی شروع کردی گئی۔ مدینہ کے مضافات میں پھیلے ہوئے کھیت اور باغات کی ساری پیداوار گوداموں میں ذخیرہ کردی گئی۔ بچوں والی عورتوں کو قلعوں میں بھیج دیا گیا۔ خندق کے قریب گھروں کو خالی کروادیا گیا۔ خندق کے لئے ہر دس آدمیوں کے ذمہ چالیس گز زمین کھودنا متعین ہوا۔ مدینہ کا ہر مرد، ہر عورت، حتٰی کہ جو بھی بیلچہ اٹھانے اور کدال چلانے کے قابل تھا خندق کھودنے میں مصروف ہوگیا۔ چھ دن کی شبانہ روز محنت سے پندرہ فٹ چوڑی، پندرہ فٹ گہری اور چھ کلو میٹر طویل خندق تیار ہوگئی۔

خندق کی کھدائی کے دوران اعجازِ نبوت کے کئی واقعات ظہور پذیر ہوئے۔ حضرت جابر بن عبداللہ نے بکری ذبح کی اور ڈھائی کلو جو پیس کر آٹا گوندھا۔ سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا۔ ’’تھوڑا سا کھانا تیار کرایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے چلیں‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خندق کو پکار کر فرمایا۔ ’’جابر نے تمہارے لئے کھانا تیار کیا ہے، سب آجاؤ۔ ایک ہزار افراد حضرت جابرؓ کےگھر پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنڈیا اور آٹے پر کپڑا ڈھک دیا۔ دس دس افراد کی جماعت دستر خوان پر آتی اور شکم سیر ہو کر اٹھ جاتی تھی۔ یہاں تک کہ ایک ہزار آدمی پیٹ بھر کر کھانا کھا کر فارغ ہوگئے ۔

ایک روز حضرت بشیر بن سعد کی بیٹی کو ماں نے بلایا اور مٹھی بھر کھجوریں دے کر کہا کہ یہ کھجوریں اپنے باپ اور ماموں کو دے آؤ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے دیکھ کر اپنے پاس بلایا اور پوچھا کیوں آئی ہو؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لڑکی نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری والدہ نے میرے والد اور ماموں کے لئے کھجوریں بھیجی ہیں۔ سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام نے دسترخوان بچھانے کا حکم دیا۔ لڑکی کے ہاتھ سے کھجوریں لےکر دسترخوان پر بکھیر دیں۔ اہل خندق کو کھانے کے لئے بلایا گیا اور ارشاد ہوا کہ کھانے کے لئے ایک ایک جماعت آئے۔ جماعت در جماعت اہل خندق دسترخوان پر جمع ہوتے رہے اور سب نے خوب سیر ہوکر کھجوریں کھائیں۔

خندق کی کھدائی کے دوران ایک سختت چٹان آگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ پڑھ کر چٹان پر کدال ماری تو ایک شعلہ نکلا اور ایک تہائی چٹان ٹوٹ گئی۔ سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:

’’اللہ اکبر! مجھے ملک شام کی کنجیاں دی گئیں۔ اللہ کی قسم میں اس وقت شام کے سرخ محلات دیکھ رہا ہوں۔‘‘

پھر سیدنا علیہ والصلوۃ والسلام نے دوسری بار کدال ماری تو چٹان کی دوسری تہائی ٹوٹ گئی اور ساتھ ہی کدال کے نیچے سے ایک اور شعلہ نکلا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’اللہ اکبر! مجھے فارس کی کنجیاں دی گئیں۔ خدا کی قسم! میں اس وقت کسریٰ کا سفید محل دیکھ رہا ہوں۔‘‘

تیسری بار کدال چٹان پر لگی۔ تب شعلہ نمودار ہوا۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:

’’اللہ اکبر! مجھے یمن کی کنجیاں دی گئیں۔ خدا کی قسم! میں یہاں سے صنعاء کے دروازے دیکھ رہا ہوں۔‘‘

حضرت سلمان فارسیؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑے تھے۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے فرمایا، ’’ اے سلمان! میری امت روم و شام اور یمن و فارس کو فتح کرے گی۔‘‘

خندق مدینہ منورہ کے شمال کی جانب کھودی گئی تھی۔ قریش اپنے اتحادیوں کے ہمراہ مدینہ کے قریب پہنچ گئے تھے۔ سبقت کے زعم میں مبتلا منکرین اونٹ اور گھوڑے سرپٹ دوڑاتے ہوئے مدینہ کی حدود میں پہنچے تو حیرت و استعجاب کی تصویر بن گئے۔ دفاع کا یہ حیرت انگیز طریقہ اس سے پہلے انہوں نے دیکھا، نہ سنا تھا۔ جنگی ساز و سامان سے لیس لشکر خندق کے پار پڑاؤ ڈالنے پر مجبور ہوگیا۔ اتحادی یہ سوچ کر آئے تھے کہ ایک ہی روز میں مسلمانوں کو تہِ تیغ کرکے فتح حاصل کرلیں گے۔ مگر اہلِ مدینہ اور ان کے درمیان حائل خندق نے ان کو بےبس کردیا۔ جس وقت مشرکین کی فوج مدینہ پہنچی تھی موسم بدل رہا تھا۔ سپاہیوں کو خیموں میں سردی لگ رہی تھی۔ فوج کو محاصرہ کرنا پڑا جس کے لئے وہ پہلے سے تیار نہ تھے۔

سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ساتھیوں کے ہمراہ خندق کے سامنے موجود تھے۔ مشرک سردار روزانہ خندق تک آتے، ایک سرے سے دوسرے سرے تک گھوڑے دوڑاتے تھے۔ مگر خندق پار کرنے کا کوئی راستہ انہیں نہیں ملتا تھا۔ غیظ و غضب کے عالم میں وہ مسلمانوں کی طرف تیروں کی بوچھاڑ کرتے، جواب میں مسلمان تیر انداز ان پر تیر برساتے تھے۔

محاصرہ کی طوالت سے فوج میں بے چینی پھیل گئی۔ موسم کی سختی برداشت کرنے کی ان میں ہمت نہ رہی تو فوج کے سربراہوں نے واپس لوٹ جانے کا پروگرام بنایا۔ لیکن اتنی بڑی تعداد میں فوج کو دوبارہ اکھٹا کرنا ممکن نظر نہیں آرہا تھا۔ یہودیوں نے مدینہ میں آباد بنوقریظہ سے رابطہ کیا اور انہیں میثاق مدینہ توڑنے کی ترغیب دی۔ دوسری طرف لشکر اسلام میں موجود منافقین نے مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کی مہم شروع کر دی۔

ترجمہ :

’’ اور جب کہنے لگے منافق اور جن کے دلوں میں روگ ہے، جو وعدہ دیا تھا ہم کو اللہ نے اور اس کے رسول نے سب فریب تھا۔ اور جب کہنے لگا ایک گروہ ان میں، اے یثرب والوں تم کو ٹھکانا نہیں سو پھر چلو اور رخصت مانگنے لگا ایک گروہ نبی سے، کہنے لگے ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں، اور وہ کھلے نہیں پڑے۔ دراصل وہ بھاگنا چاہتے تھے۔ اور اگر شہر میں کوئی داخل ہوجاوے کناروں سے، پھر ان سے چاہے دین سے پھر جانا تو لے لیں اور ڈھیل نہ کریں اس میں مگر تھوڑی ۔‘‘( احزاب ۱۳۔۱۴)

منافقوں کے پروپیگنڈے اور حلیف قبیلہ کی جانب سے عہد توڑنے کی خبروں سے مسلمانوں کو تشویش ہوئی اور انہوں نے بارگاہ رسالت میں دست بدستہ عرض کیا کہ ہمیں منافقوں کی ریشہ دوانیوں اور یہود کی بد عہدی کا خطرہ لاحق ہے۔ سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام نے انتہائی سکون اور یقین سے فرمایا، ’’ مشرکوں کو یہودیوں کی کمک پر بھروسہ ہے جبکہ میں اللہ کی مدد پر یقین رکھتا ہوں۔ یقین رکھو! اللہ ہمیں بے یارومدد گار نہیں چھوڑے گا‘‘۔

سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے فرمان سے مسلمان فوج میں نیا حوصلہ اور ولولہ پیدا ہوگیا اور انہیں اللہ کی مدد و نصرت کا یقین ہوگیا۔

ترجمہ :

’’ اور جب دیکھیں مسلمانوں نے فوجیں، بولے یہ وہی جو وعدہ دیا تھا ہم کو اللہ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور بڑھا یقین اور اطاعت کرنا۔‘‘ (احزاب ۔۲۲)

خندق کے پار دس ہزار فوج دو ہفتے سے سردی میں ٹھٹھر رہی تھی اور جب غذا اور مویشیوں کی خوراک کا مسئلہ کھڑا ہوا تو فوج کا سپہ سالار بغاوت کے خدشہ سے پریشان ہوگیا۔ دس ہزار فوج جمع کرنے والے قریش، یہودی اور ان کے اتحادی قبائل بے بسی کے عالم میں خندق کے پار سے مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے۔ مسلمانوں میں موجود منافقوں کی ساز باز بھی ان کے کسی کام نہ آئی اور وہ مسلمانوں کے حلیف قبائل کو عہد توڑنے پر رضا مند نہ کرسکے تھے۔

 

 

ترجمہ :

’’ اے ایمان والوں! یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر جب آئیں تم پر فوجیں، پھر ہم نے بھیجی ان پر ہوا اور وہ فوجیں جو تم نے نہیں دیکھیں اور ہے اللہ جو کچھ کرتے ہو دیکھتا۔‘‘ (احزاب ۔ ۹)

باطل پر اتحاد کرنے والے ابھی کسی فیصلے پر متفق نہیں ہوئے تھے کہ رات کو اتنی تیز آندھی آئی کہ خیمے ہوا میں غباروں کی طرح اڑنے لگے۔ لشکر میں روشن الاؤ بجھ گیا۔ شدید بارش سے سردی بڑھ گئی۔ سپاہیوں کے ہاتھ پیر سن ہوگئے۔ لشکر نے جہاں پڑاؤ ڈالا تھا وہ جگہ سیلاب کے پانی سے بھر گئی۔ ابوسفیان ناگہانی آفات سے گھبرا کر کھونٹے سے بندھے ہوئے اونٹ پر سوار ہوگیا۔ اونٹ بھگانے کے لئے پے در پے وہ تازیانے مار رہا تھا وہ اتنا گھبرایا ہوا اور خوف زدہ تھا کہ اس کے ذہن سے یہ بات بھی نکل گئی کہ اونٹ بندھا ہوا ہے بالآخر، مشرکوں کی فوج مدینے کا محاصرہ چھوڑ کر الٹے پاؤں بھاگ گئی۔

**********************

تغیرات میں مقناطیسی عمل کارفرما ہے۔ حدت یا گرمی ایک قابلِ پیمائش حرکت یا تھر تھراہٹ ہے ۔ کیمیائی عمل ہو، برقی حرارت ہو یا سورج کی شعاعیں ہوں ان میں حرکت ایک بنیادی عنصر ہے۔

ہرمخلوق کی زندگی میں پانی کی طرح ہوا کا بھی عمل دخل ہے۔ ہوا سورج کی مدد سے بخارات کو بلندی کی طرف اڑاتی ہے اور ان بخارات کو ذرہ ذرہ کر کے بادل بناتی ہے۔ پھر ان بادلوں کو فضا میں ادھر ادھر چلاتی پھرتی ہے اور یہ بخارات بارش کے قطرے بن کر زمین کوسیراب کرتے ہیں۔

امام غزالیؓ کہتے ہیں:

مشرقی ہوا بادلوں کو اوپر کی طرف لے جاتی ہے ۔ شمالی ہوا بادلوں کے ٹکڑوں کو یکجا کرتی ہے۔ جنوبی ہوا بادلوں کو ٹپکنے کے قابل بناتی ہے اور مغربی ہوا قطرات کو بارش میں تبدیل کرکے زمین کو سیراب کرتی ہے۔

ترجمہ :

’’ ہم ہی ہوا کو بھیجتے ہیں جو کہ بادل کو پانی سے بھر دیتی ہے۔ پھر ہم ہی آسمان سے پانی برساتے ہیں۔ پھر وہ پانی تم کو پینے کو دیتے ہیں اور تم اتنا پانی جمع کر کے نہیں رکھ سکتے تھے۔‘‘

ہوا بادلوں کو اڑا کر جب مختلف مقامات پر لے جاتی ہے تو کاشتکار زمین میں غلہ اگاتے ہیں۔ سمندر میں کشتیاں بھی ہوا کے دوش پر چلتی ہیں۔ ہوا ان کو ایک ملک سے دوسرے ملک لے جاکر انسانی ضروریات کا سامان فراہم کرتی ہے۔ ہوا گردوغبار اور ریت اڑا کر باغوں میں لاتی ہے اور اس سے درخت توانائی حاصل کرتے ہیں۔ ہوا کے دوش پر بے شمارچیزیں ساحلِ سمندر پر آجاتی ہیں اور لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہوا اشرف المخلوقات انسان اور انسان کےلئے تخلیق کردہ ذیلی مخلوقات کو متحرک اور مستعد رکھتی ہے۔

علمائے باطن کہتے ہیں کہ روح کی آنکھ دیکھتی ہے کہ :

ہوا ایک مخلوق ہے۔ اس مخلوق میں تناسل کا سلسلہ جاری ہے۔ ہوا بچپن کا دور گزار کر جوان ہوتی ہے اور جوانی کے بعد اس پر انحطاط بھی ہوتا ہے۔ ہوا ایک جرثومہ ہے جو ثابت مسور کی دال کی طرح ہے۔ یہ گول، چپٹا اور چکنا جرثومہ بیکٹیریا سے زیادہ چھوٹا اور بیکٹیریا سے زیادہ تیزی سے نشوونما پاتا ہے۔ ہوا کی تخلیق کے زون کھلے ریگستان اور سمندر کی اندرونی سطح ہے۔

زمین کے اندر ایک مخلوق ٹڈی (Grass Hopper)ہے۔ ٹڈی زمین میں سے نکل کر جب فضا میں اڑتی ہے تو اتنی زیادہ تعداد میں ہوتی ہے کہ سورج اور زمین کے درمیان پردہ بن جاتی ہے۔ اور زمین پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ہوا کی مخلوق ٹرانسپیرنٹ ہوتی ہے اور ہوا کے جرثومے اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ وہ مادی آنکھ اور دوسرے خوردبینی آلات سے نظر نہیں آتے۔ لیکن جب ان کی رفتار میں شدت ہوتی ہے تو وہ آندھی اور ہوائی طوفان بن جاتے ہیں۔ بڑی بڑی فلک بوس عمارتوں اور دیوہیکل مشینوں اور بڑے بڑے شہروں کو سیکنڈوں میں نیست و نابود کردیتے ہیں۔ ہوا کی مخلوق پر سبز رنگ غالب ہے لیکن جب ہوا میں شدت آجاتی ہے تو سرخ رنگ غالب ہوجاتا ہے۔ ہوا میں وہ تمام رنگ بھی موجود ہیں جو دوسری مخلوقات میں ہیں۔

ہوا کے اندر توانائی اتنی زیادہ ہے کہ وہ تیس چالیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے اور بعض اوقات ہوا کی رفتار ایک سو بیس میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ سمندروں میں طوفانِ بادوباراں دو سو چالیس کلو میٹر فی گھنٹہ کے حساب سے گھومتے ہوئے، بیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھتا ہے۔ سمندروں کی لہروں کی طاقت اور رفتار میں براہ راست ہوا کا عمل دخل ہے۔

غزوۂ بدر میں جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مٹھی بھر مٹی پھینکی تو ہوا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کی اس ہی طرح غزوۂ احزاب کے موقع پر تیز آندھی آئی۔ آسمان پر بادل چھا گئے۔ بارش نے میدانِ کارزار کو جل تھل کردیا ۔ تیز و تند بارش اور ہوا نے، لشکر کے اعصاب کو منجمد کردیا اور خوف و دہشت میں باطل فوج کے پیراکھڑ گئے اور وہ سراسیمہ ہوکر بھاگ گئے۔

ترجمہ :

’’ہونی شدنی۔ کیا ہے وہ ہونی شدنی؟ اور تم کیا جانو وہ کیا ہے ہونی شدنی۔ ثمود اور عاد نے اس اچانک ٹوٹ پڑنے والی آفت کو جھٹلایا تو ثمود ہلاک کئے گئے حد سے گزری چنگھاڑ سے اور عا د ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کردئیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو مسلسل سات رات اور آٹھ دن ان پر مسلط رکھا۔ دیکھو بچھڑے ہوئے گویا وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں۔ اب کیا ان میں سے کوئی تمہیں باقی بچا نظر آتا ہے۔‘‘ ( الحاقہ)

سورۃ الحاقہ کی آیت نمبر ۶ میں بتایا گیا ہے کہ قوم عاد ایک شدید جما دینے والی یخ بستہ آندھی کے ذریعہ تباہ کردی گئی تھی۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 135 تا 149

محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم کے مضامین :

ِ یا صاحب الجمال  ِ دیباچہ  ِ 1 - قرآن اور آسمانی کتابیں  ِ 2.1 - ستارے قریب آئے  ِ 2.2 - پنگوڑے میں چاند  ِ 2.3 - مائی حلیمہ  ِ 2.4 - دو اجنبی  ِ 3.1 - بادلوں کا سایہ  ِ 3.2 - بارش کا وسیلہ  ِ 3.3 - درخت، پتھر سجدے میں گر گئے  ِ 3.4 - نبیوں کا درخت  ِ 4 - تبت یدا  ِ 5 - دو کمانوں سے کم فاصلہ  ِ 6 - ہجرت کی رات  ِ 7.1 - دو سردار  ِ 7.2 - نگاہ مرد حق آگاہ  ِ 8.1 - جب چاند دو ٹکڑے ہوا  ِ 8.2 - تابع فرمان سورج  ِ 9 - پہاڑ نے حکم مانا  ِ 10 - پتھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے موم ہو گئے  ِ 11 - سنگریزوں نے کلمہ پڑھا  ِ 12 - باطل مٹ گیا  ِ 13 - درخت کی گواہی  ِ 14 - حنین جذع کا واقعہ  ِ 15.1 - کھجور کی تلوار  ِ 15.2 - لاٹھی قندیل بن گئی  ِ 15.3 - لکڑی میں روشنی  ِ 16.1 - اونٹ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں سر رکھا  ِ 16.2 - اونٹ نے شکایت کی  ِ 16.3 - ہرنی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی  ِ 17 - اور آپؐ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک  ِ 18.1 - مستجاب الدعٰوۃ  ِ 18.2 - شیر آیا  ِ 18.3 - پانی برسا  ِ 18.4 - ابو ہریرہؓ کی ماں  ِ 18.5 - اندھی آنکھ میں بینائی  ِ 18.6 - کھانے میں برکت  ِ 19 - جنگ خندق  ِ 20 - حضرت عائشہؓ کی برأت  ِ 21 - حدیبیہ میں کنواں  ِ 22.1 - کعبہ کی کنجی  ِ 22.2 - بائیکاٹ  ِ 22.3 - سراقہ اور کنگن  ِ 23 - دست رحمت  ِ 24 - جن نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلدی چلو  ِ 25.1 - بچانے والا اللہ ہے  ِ 25.2 - مغربی حاجی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message