جنّت و دوزخ کے طبقات

کتاب : پیرا سائیکالوجی

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=7929

اللہ کریم نے اپنے محبوبﷺ سے فرمایا کہ یہ لوگ تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپﷺ کہہ دیجئے کہ روح میرے رب کے امر سے ہے اور جو کچھ تمہیں علم دیا گیا ہے وہ قلیل ہے یعنی روح کا علم تو دیا گیا ہے لیکن اللہ کے علم کے مقابلے میں اس کی حیثیت قلیل ہے۔
یہاں ایک نقطہ زیر بحث آتا ہے۔ اللہ خود ماوراء ہے اللہ کا علم لامحدود، لاتغیّر، لامُتناہی اور ماوراء الماوراء ہے۔ لامُتناہی علم کا قلیل سے قلیل جزو بھی لاتناہیت کے دائرے میں آتا ہے…. اِس لئے اُس کو بھی…. اور لامُتناہی کے قلیل جزو کو بھی، لامُتناہی علم ہی کہا جائے گا۔
اس آیت مبارکہ کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہے کہ روح کا علم نہیں دیا گیا۔ رسول اللہﷺ کے نائب اولیاء اللہ کو بھی یہ علم منتقل ہوا ہے۔ یہ علم کس کو کس قدر منتقل ہوا ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ بہرحال لامُتناہی علم کا چھوٹے سے چھوٹا جزو بھی لامُتناہی ہوتا ہے۔
روحانی نقطہ نظر سے زندگی اور موت کی تشریح کی جائے تو یہ کہا جائے گا کہ روح کے بنائے ہوئے جسمِ مثالی نے مٹی کے جسم کو اس طرح چھوڑ دیا کہ مٹی کے جسم سے اپنا رشتہ کلیتاً توڑ لیا اور اس ناسوتی عالم کے تقریباً دو سو میل اوپر کی فضامیں بکھری ہوئی روشنیوں سے ایک اور جسم تخلیق کر لیا۔ ناسوتی فضا سے دو سو میل اوپر فضا میں جو عالَم موجود ہے اس عالَم کو عالمِ اَعراف کہا جاتا ہے۔ یہی وہ عالمِ اَعراف ہے جہاں آدم سے لے کر اب تک اور قیامت تک لوگ مرنے کے بعد منتقل ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ جسمِ مثالی کو روح جس طرح ہر وقت اور ہر آن متحرّک رکھتی ہے اس طرح عالمِ اَعراف میں بھی روشنیوں کا جسم ہر وقت اور ہر آن متحرّک رہتا ہے۔
عالمِ اَعراف کے بعد ایک اور عالَم ہے اس عالَم میں بھی جسم متحرّک رہتا ہے۔ اس عالَم کو ‘‘عالَمِ حشر و نشر‘‘ کہتے ہیں۔ عالَمِ حشر و نشر کی فضا عالمِ ناسُوت اور عالمِ اَعراف سے یکسر مختلف ہے۔ وہاں روشنیوں کا ہالہ عالمِ اَعراف سے زیادہ طاقتور ہے۔ عالَمِ حشر و نشر میں ذہنی رفتار اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ جسمِ مثالی کی ریکارڈ کی ہوئی زندگی سامنے آ جاتی ہے۔
عالَمِ حشر و نشر کے بعد عالَمِ یَومُ المیزان ہے۔ عالَمِ یَومُ المیزان میں روشنیوں کے بنے ہوئے اجسام کے اوپر نور کا ہالہ بن جاتا ہے یہی وہ نور ہے جس نور سے کوئی بندہ اللہ کریم کا دیدار کر سکتا ہے۔
لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ …. (سورۃ الانعام – آیت نمبر 103)
ترجمہ: ‘‘کوئی آنکھ ادراک نہیں کر سکتی اللہ خود ادراک بن جاتا ہے۔’’
جب کوئی بندہ اللہ کے ادراک سے دیکھتا ہے تو اس کی نظر عالَمِ یَومُ المیزان پر پڑتی ہے۔ عالَمِ یَوم المیزان کے بعد جنّت یا دوزخ کے عالمین ہیں۔ جنّت کے بھی بہت سارے طبقات ہیں اور دوزخ کے بھی بہت سارے طبقات ہیں۔ جنّت اور دوزخ کا تذکرہ اس بات کی شہادت ہے کہ آدمی دوزخ میں تکلیف محسوس کرے گا اور جنّت میں آرام و آسائش سے لطف اندوز ہو گا۔ اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ لطف و آسائش اور آرام روح کو حاصل ہوتا ہے اور اس آرام سے روح فائدے اٹھاتی ہے تو پھر یہ بھی کہنا پڑے گا کہ دوزخ کا عذاب بھی روح کے اوپر ہوتا ہے اور یہ بات کسی بھی طرح صحیح نہیں ہے کیونکہ روح فی الواقع اللہ کا ایک حصّہ ہے۔ ایسا حصّہ جو لاتجزاء ہے۔ ایسا جو لامُتناہی ہے اور جو ماوراء الماوراء ہے۔ روح نقش و نگار میں محدود نہیں ہے۔ روح یہ جانتی ہے کہ خالقِ کائنات کی مشیئت کیا ہے۔ خالقِ کائنات کی مشیئت اور منشاء کے مطابق خود کو نئے نئے لباسوں میں ظاہر کرتی ہے اور ہر لباس کو اس کی موجودگی اور اس کی انا سے مطلع کرتی رہتی ہے۔ یہی وہ اطلاع (Information) ہے جس کے اندر معانی پہنانا ‘‘اختیار‘‘ ہے۔ سزا ہو یا جزا دونوں کا تعلق اطلاع (Information) سے ہے اور اطلاع کا نزول روح کے تخلیق کردہ جسم پر ہوتا ہے۔ روح جزا و سزا تکلیف و راحت سے مبرأ ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 114 تا 117

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)