جب چاند دو ٹکڑے ہوا

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=12976

اعلانِ نبوت کو آٹھ سال گزر چکے تھے۔ ایک رات ابوجہل ایک بہت بڑے یہودی عالم اور اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور تلوار لہراتے ہوئے کہا، ’’تم سے پہلے نبیوں نے معجزات دکھائے ہیں تم بھی کوئی معجزہ دکھاﺅ‘‘۔ یہ سن کر حضور علیہ الصّلوٰة والسّلام نے فرمایا، ’’کیا تم معجزہ دیکھ کر ایمان لے آﺅ گے۔ بولو! کیا دیکھنا چاہتے ہو‘‘؟ ابوجہل سوچ میں پڑگیا تو یہودی عالم نے کہا، آسمان پر جادو نہیں چلتا۔ اور ابوجہل نے آسمان کی طرف دیکھا۔ چودھویں کا چاند پوری آب و تاب کے ساتھ آسمان پر چمک رہا تھا۔ ابوجہل نے کہا چاند کے دو ٹکڑے اس طرح کردو کہ چاند کا ایک ٹکڑا جبل ابو قیس اور دوسرا ٹکڑا جبل قیقعان پر آجائے۔ رسول اکرمؐ نے انگشت شہادت سے چاند کی طرف اشارہ کیا۔ چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ ایک ٹکڑا جبل ابو قیس پر اور دوسرا ٹکڑا جبل قیقعان پر نمودار ہوا۔ حضورؐ نے انگشت شہادت سے دوبارہ اشارہ کیا تو چاند کے دونوں ٹکڑے پھر آپس میں مل گئے۔ یہودی عالم یہ معجزہ دیکھ کر ایمان لے آیا۔ مگر ابوجہل نے کہا، ” محمد نے جادو سے ہماری نظر باندھ دی ہے۔ “ شق القمر کی گواہی قافلے کے مسافروں نے بھی دی جو مکہ کی طرف سفر کر رہے تھے۔

**********************

اجرامِ فلکی میں سے چاند، زمین سے قریب ترین ہے۔ زمین سے چاند کا فاصلہ دو لاکھ چالیس ہزار میل ہے۔ چاند کا قطر کم و بیش اکیس سو میل ہے۔ چاند کے مادّے کی مقدار (Mass)زمین کے مادّے کی مقدار سے۸۰ گنا کم بتائی جاتی ہے۔ جبکہ زمین کی کششِ ثقل چاند کے مقابلے میں چھ گنا ہے۔
سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ تقریباً پانچ ارب سال پہلے چاند اور زمین ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔ شروع میں زمین کو اپنے محور کے گرد گھومنے میں ۴ گھنٹے ۴۵ منٹ کا وقت لگتا تھا، اب ۲۴ گھنٹے میں گھومتی ہے۔
چاند زمین کے گرد گردش کے دوران مختلف مدارج سے گزرتا ہے۔ گردش کے ابتدائی ایام میں چاند کا جتنا حصہ سورج کی روشنی سے منور ہوتا ہے اسے ہلال کہتے ہیں۔ ہر رات اس کے روشن حصہ میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کے ۱۴ دنوں میں چاند پورا ہوجاتا ہے۔ رفتہ رفتہ چاند گھٹنا شروع ہوتا ہے اور بالآخر آسمان پر سے غائب نظر آتا ہے۔ یہ پورا چکر تقریبا ً ساڑھے ۲۹ دنوں میں پورا ہوتا ہے اور ہر ماہ نیا چاند مغربی افق پر نمودار ہو جاتا ہے۔
چاند کی سطح جو انسانی آنکھ سے اوجھل رہتی ہے، مصنوعی سیاروں کی مدد سے اس کی تصاویر حاصل کی گئی ہیں۔ چاند کی یہ سطح زیادہ تر پہاڑوں پر مشتمل ہے۔
انسانی آنکھ سے روشن چاند کی سطح پر نظر آنے والے داغ دھبے دراصل ہموار ریگستانی میدان ہیں جو گردوپیش کی اونچائیوں سے نیچی سطح پر واقع ہیں اور روشنی کا انعکاس نہ کرنے کی وجہ سے یہ تاریک نظر آتے ہیں۔
اپالو مشن کی پروازوں کے دوران مئی۱۹۶۷ء میں Orbiter-4 راکٹ سے چاند کے چھپے ہوئے رخ کی تین ہزار کلومیٹر کی بلندی سے تصاویر لی گئیں۔ ان تصویروں میں۲۴۰ کلومیٹر طویل اور کئی مقامات پر ۸ کلومیٹر چوڑی دراڑ دیکھی گئی ہے۔
چاند کی کشش سے سمندر کی لہروں میں مدوجزر اٹھتے ہیں۔ چاند، سورج سے ۴۰۰ گنا چھوٹا ہے۔ زمین کے گرد اپنے بیضوی مدار پر گردش کرتے ہوئے چاند جب زمین کے قریب سے گزرتا ہے اور زمین اور سورج کے بیچ میں آجاتا ہے تب سورج کی روشنی زمین تک نہیں پہنچ پاتی، یہ سورج گرہن ہے۔ چاند گرہن کے وقت زمین سورج اور چاند کے بیچ میں آ جاتی ہے۔
روحانی آنکھ سے نظر آنے والا چاند اس کے برعکس ہے جو ٹیلی اسکوپ دیکھتی ہے۔ روحانی آنکھ سے نظر آتا ہے کہ چاند پر پہاڑ، جھیلیں، تالاب اور ریگستان ہیں۔ تالاب اور جھیلوں کے پانی میں پارے کا عنصر غالب ہے اور یہ پانی پارے کی طرح چمکدار ہے۔ چاند پر جناّت کی مخلوق کی آمدورفت رہتی ہے۔
چاند کی فضاء میں گیس کی بُو ایسی ہے جیسے ویلڈنگ کرتے وقت بُو آتی ہے۔ چاند کی زمین پر چہل قدمی کرتے وقت جسم لطیف محسوس ہوتا ہے۔ اتنا لطیف جو ہوا میں آسانی سے اڑ سکتا ہے۔ لیکن لطیف ہونے کے باوجود جسم ٹھوس ہوتا ہے۔ چاند پر کوئی مستقل آبادی نہیں ہے۔ چاند ایک سیرگاہ ہے جہاں جسم مثالی جاسکتا ہے۔ دنیا کا کوئی فرد اس وقت تک چاند میں داخل نہیں ہوسکتا جب تک کہ جسم مثالی سے واقف نہ ہو۔ نہ صرف یہ کہ جسم مثالی سے واقف ہو بلکہ اپنے ارادے اور اختیار سے جسم مثالی کے ساتھ سفر کرسکتا ہو۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 59 تا 62

محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم کے مضامین :

ِ یا صاحب الجمال  ِ دیباچہ  ِ 1 - قرآن اور آسمانی کتابیں  ِ 2.1 - ستارے قریب آئے  ِ 2.2 - پنگوڑے میں چاند  ِ 2.3 - مائی حلیمہ  ِ 2.4 - دو اجنبی  ِ 3.1 - بادلوں کا سایہ  ِ 3.2 - بارش کا وسیلہ  ِ 3.3 - درخت، پتھر سجدے میں گر گئے  ِ 3.4 - نبیوں کا درخت  ِ 4 - تبت یدا  ِ 5 - دو کمانوں سے کم فاصلہ  ِ 6 - ہجرت کی رات  ِ 7.1 - دو سردار  ِ 7.2 - نگاہ مرد حق آگاہ  ِ 8.1 - جب چاند دو ٹکڑے ہوا  ِ 8.2 - تابع فرمان سورج  ِ 9 - پہاڑ نے حکم مانا  ِ 10 - پتھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے موم ہو گئے  ِ 11 - سنگریزوں نے کلمہ پڑھا  ِ 12 - باطل مٹ گیا  ِ 13 - درخت کی گواہی  ِ 14 - حنین جذع کا واقعہ  ِ 15.1 - کھجور کی تلوار  ِ 15.2 - لاٹھی قندیل بن گئی  ِ 15.3 - لکڑی میں روشنی  ِ 16.1 - اونٹ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں سر رکھا  ِ 16.2 - اونٹ نے شکایت کی  ِ 16.3 - ہرنی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی  ِ 17 - اور آپؐ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک  ِ 18.1 - مستجاب الدعٰوۃ  ِ 18.2 - شیر آیا  ِ 18.3 - پانی برسا  ِ 18.4 - ابو ہریرہؓ کی ماں  ِ 18.5 - اندھی آنکھ میں بینائی  ِ 18.6 - کھانے میں برکت  ِ 19 - جنگ خندق  ِ 20 - حضرت عائشہؓ کی برأت  ِ 21 - حدیبیہ میں کنواں  ِ 22.1 - کعبہ کی کنجی  ِ 22.2 - بائیکاٹ  ِ 22.3 - سراقہ اور کنگن  ِ 23 - دست رحمت  ِ 24 - جن نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلدی چلو  ِ 25.1 - بچانے والا اللہ ہے  ِ 25.2 - مغربی حاجی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message