تکوین

کتاب : آگہی

مصنف : خواجہ شمس الدۤین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=11416

آدم کی نیابت و خلافت کی نشان دہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں کی گئی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ:

ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے اجتماع میں تقریر کر رہے تھے کہ کسی شخص نے سوال کیا۔

’’اے اللہ تعالیٰ کے رسول اس زمانے میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

’’مجھے اس سرزمین پر سب سے زیادہ علم دیا گیا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’تمہارا منصب یہ تھا کہ تم اس سوال کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیتے اور پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی کہ جہاں دو سمندر ملتے ہیں وہاں ہمارا ایک بندہ ہے جو علم میں تجھ سے زیادہ دانا و بینا ہے۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا۔

’’پروردگار عالم! تیرے اس بندے تک رسائی کا کیا طریقہ ہے؟‘‘

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’مچھلی کو اپنے توشہ دان میں رکھ لے جس مقام پر وہ غائب ہو جائے اسی جگہ وہ شخص ملے گا۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام مچھلی کو توشہ دان میں رکھ کر اپنے خلیفہ یوشع بن نون کے ساتھ اس بندے کی تلاش میں روانہ ہو گئے۔ ایک مقام پر پہنچ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام پتھر پر سر رکھ کر آرام فرمانے لگے۔ قدرت خدا سے مچھلی زندہ ہو کر سمندر میں چلی گئی، مچھلی پانی میں جس جگہ تیرتی ہوئی گئی اور جہاں تک گئی وہاں پانی نے برف کی طرح منجمد ہو کر ایک پگڈنڈی کی شکل اختیار کر لی۔
یہ واقعہ یوشع نے دیکھ لیا، لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس کا تذکرہ کرنا بھول گئے، بیدار ہونے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی یوشع بن نون نے پھر سفر شروع کر دیا۔

دوسرے دن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تکان محسوس کی اور فرمایا:

’’اے یوشع! مچھلی لے آ تا کہ کچھ کھا پی کر تکان دور کر لی جائے۔‘‘

یوشع نے کہا:

’’یا کلیم اللہ! میں یہ بات آپ کو بتانا بھول گیا کہ جس وقت آپ سو رہے تھے، اللہ تعالیٰ کی قدرت سے مچھلی میں زندگی کے آثار پیدا ہوئے اور وہ سمندر میں چلی گئی اور جیسے جیسے وہ آگے بڑھتی رہی سمندر میں راستہ بنتا رہا۔‘‘

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

’’جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا تھا کہ ’’میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں، ورنہ میں ایک زمانۂ دراز تک چلتا ہی رہوں گا۔ پس جب وہ ان کے سنگم پر پہنچے تو اپنی مچھلی سے غافل ہو گئے اور وہ نکل کر اس طرح دریا میں چلی گئی جیسے کہ کوئی سرنگ بن گئی ہو۔‘‘

آگے جا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا۔

’’لاؤ ہمارا ناشتہ، آج کے سفر میں ہم تھک گئے ہیں۔‘‘

خادم نے عرض کیا۔

’’آپ نے دیکھا یہ کیا ہوا؟ جب ہم اس چٹان کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اس وقت مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کر دیا کہ میں اس کا ذکر (آپ سے کرنا) بھول گیا۔ مچھلی عجیب طریقے سے نکل کر دریا میں چلی گئی۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ ’’اسی جگہ کی ہمیں تلاش تھی۔‘‘

چنانچہ وہ دونوں واپس ہوئے۔

’’اور وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنی طرف سے ایک خاص علم عطا کیا تھا۔‘‘(سورۃ الکہف۔ آیت ۶۰ تا ۶۵)

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس بندہ سے فرمایا کہ

اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کے ساتھ رہ کر وہ علم سیکھوں جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے سکھایا ہے۔

اس بندہ نے کہا کہ آپ میرے ساتھ نہیں ٹھہر سکیں گے اور ٹھہر بھی کیسے سکتے ہیں جبکہ اس علم کا سمجھنا آپ کی فہم سے باہر ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ انشاء اللہ آپ مجھے ثابت قدم پائیں گے اور میں آپ کی حکم عدولی نہیں کروں گا۔
اس بندے نے کہا اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو کسی بات کے بارے میں مجھ سے اس وقت تک سوال نہ کریں جب تک کہ میں خود آپ کو نہ بتا دوں، اس عہد و پیمان کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا خصوصی علم عطا فرمایا تھا دونوں چل پڑے یہاں تک کہ دونوں ایک کشتی میں سوار ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کے بندے نے کشتی میں سوراخ کر دیا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔

آپ نے کس قدر عجیب اور انوکھی بات کی ہے کہ کشتی میں سوراخ کر دیا تا کہ اس میں بیٹھے ہوئے لوگ ڈوب جائیں۔
اس بندے نے کہا۔ کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکیں گے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، میری بھول پر مواخزہ نہ کیجئے اورمیرے معاملے میں سخت گیری سے کام نہ لیجئے۔
اس بندے نے درگزر کر دیا اور پھر دونوں چل پڑے یہاں تک کہ ملاقات ہوئی ایک لڑکے سے جس کو اس بندہ خدا نے مار ڈالا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے صبر نہ ہو سکا اور فرمایا!

یہ آپ نے کس قدر نامعقول بات کی ہے آپ نے قتل کر دیا ایک جان کو جس نے کوئی قتل نہیں کیا یعنی آپ نے بغیر قصاص کے ایک جان ضائع کر دی۔

اللہ تعالیٰ کے بندے نے کہا۔ میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ آپ میری باتوں پر صبر نہیں کر سکیں گے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر اس کے بعد میں آپ سے کوئی بات پوچھوں تو پھر آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئے گا۔

اس بندے نے درگزر سے کام لیا اور دونوں چل پڑے یہاں تک کہ پہنچے ایک گاؤں میں وہاں کچھ کھانا چاہا مگر گاؤں والوں نے ان کو کھانا نہیں دیا۔ وہاں اللہ تعالیٰ کے بندے نے ایک دیوار کو بنا دیا جو گر رہی تھی۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا!

اگر آپ چاہتے تو مزدوری لے سکتے تھے (یعنی ہم اس بستی میں بھوکے اور بطور مسافر داخل ہوئے مگر بستی والوں نے ہمیں نہ ٹھہرنے کو جگہ دی اور نہ ہمیں کھانا دیا۔ آپ نے اجرت لئے بغیر دیوار بنا دی۔ اگر اجرت طے کر لیتے تو کھانے پینے کا انتظام ہو جاتا۔)
اس بندے نے کہا۔

اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہے، ہاں جن باتوں پر آپ صبر نہیں کر سکے آپ کو ان کی حقیقت بتا دیتا ہوں۔
سب سے پہلے کشتی کا معاملہ درپیش ہوا۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کشتی چند مسکینوں کی تھی اور اس کشتی پر ان کی معاش کا انحصار ہے۔ کشتی والے جس طرف بڑھ رہے تھے اطراف میں ایک بادشاہ ہے جب وہ کوئی نئی اور اچھی کشتی دیکھتا ہے تو اس پر قبضہ کر لیتا ہے، میں نے اس میں سوراخ اس لئے کر دیا کہ کشتی میں عیب دیکھ کر بادشاہ اس پر قبضہ نہ کرے۔

اور لڑکے کا معاملہ یہ ہے کہ اس کے ماں باپ راست باز اور مومن ہیں، میں ڈرا کہ یہ لڑکا بڑا ہو کر اللہ تعالیٰ سے سرکشی کر کے اپنے والدین کے لئے اذیت اور تکلیف کا سبب بنے گا۔ پس میں نے ارادہ کیا کہ پروردگار اس لڑکے سے بہتر لڑکا انہیں عطا کرے جو اللہ تعالیٰ کا پرستار اور رحم کرنے والا ہو۔

دیوار درست کرنے میں یہ راز ہے کہ وہ جگہ یتیم لڑکوں کی ہے، جس کے نیچے خزانہ دفن ہے، ان بچوں کا باپ ایک مرد صالح تھا، پس پروردگار نے ارادہ کیا کہ دونوں لڑکے اپنی جوانی کو پہنچ کر اپنا خزانہ حاصل کر لیں۔ ان لڑکوں کے حال پر اللہ تعالیٰ کی یہ مہربانی تھی جو اس طرح ظہور میں آئی۔

اے موسیٰ! یاد رکھئے، میں نے یہ سب کچھ اپنی طرف سے نہیں کیا۔ یہ راز ہے ان باتوں کا جن پر آپ صبر نہیں کر سکے۔
قرآن پاک کے بیان کردہ اس واقعہ سے عرفان نفس کی قدریں متعین ہوتی ہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام صاحب شریعت رسول ہیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ

’’ہم نے جو علم تم کو دیا ہے اس کے علاوہ اور بھی علم ہے جو تم کو نہیں دیا گیا۔‘‘

غور طلب بات یہ ہے کہ یہ  بندہ نہ رسول ہے اور نہ پیغمبر، وہ علم اللہ تعالیٰ نے اپنی عطائے خاص سے اسے عنایت فرمایا ہے۔‘‘

 

 

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 110 تا 116

آگہی کے مضامین :

ِ انتساب  ِ پیش لفظ  ِ 1 - روحانی اسکول میں تربیت  ِ 2 - با اختیار بے اختیار زندگی  ِ 3 - تین سال کا بچہ  ِ 4 - مرید کی تربیت  ِ 5 - دس سال۔۔۔؟  ِ 6 - قادرِ مطلق اللہ تعالیٰ  ِ 7 - موت حفاظت کرتی ہے  ِ 8 - باہر نہیں ہم اندر دیکھتے ہیں  ِ 9 - اطلاع کہاں سے آتی ہے؟  ِ 10 - نیند اور شعور  ِ 11 - قانون  ِ 12 - لازمانیت اور زمانیت  ِ 13 - مثال  ِ 14 - وقت۔۔۔؟  ِ 15 - زمین پر پہلا انسان  ِ 16 - خالق اور مخلوق  ِ 17 - مٹی خلاء ہے۔۔۔  ِ 18 - عورت کے دو رُخ  ِ 19 - قانون  ِ 20 - ہابیل و قابیل  ِ 21 - آگ اور قربانی  ِ 22 - آدم زاد کی پہلی موت  ِ 23 - روشنی اور جسم  ِ 24 - مشاہداتی نظر  ِ 25 - نیند اور بیداری  ِ 26 - جسمِ مثالی  ِ 27 - گیارہ ہزار صلاحیتیں  ِ 28 - خواتین اور فرشتے  ِ 29 - روح کا لباس؟  ِ 30 - ملت حنیف  ِ 31 - بڑی بیگمؓ، چھوٹی بیگمؓ  ِ 32 - زم زم  ِ 33 - خواتین کے فرائض  ِ 34 - تیس سال پہلے  ِ 36 - کہکشانی نظام  ِ 37 - پانچ حواس  ِ 38 - قانون  ِ 39 - قدرِ مشترک  ِ 40 - قانون  ِ 41 - پچاس سال  ِ 42 - زندگی کا فلسفہ  ِ 43 - انسانی مشین  ِ 44 - راضی برضا  ِ 45 - زمانے کو بُرا نہ کہو، زمانہ اللہ تعالیٰ ہے(حدیث)  ِ 46 - مثال  ِ 47 - سائنس اور روحانیت  ِ 48 - مادی دنیا اور ماورائی دنیا  ِ 49 - چاند گاڑی  ِ 50 - تین ارب سال  ِ 51 - کائناتی نظام  ِ 52 - تخلیق کا قانون  ِ 53 - تکوین  ِ 54 - دو علوم۔۔۔  ِ 55 - قانون  ِ 56 - ذات کا عرفان  ِ 57 - روحانی شاگرد  ِ 58 - ذات کی نفی  ِ 59 - پانچ کھرب بائیس کروڑ!  ِ 60 - زندگی کا تجزیہ  ِ 61 - عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ  ِ 62 - دین فطرت  ِ 63 - عید  ِ 64 - ملائکہ اعلان کرتے ہیں  ِ 65 - بچے اور رسول اللہﷺ  ِ 66 - افکار کی دنیا  ِ 67 - مثال  ِ 68 - تحقیق و تلاش  ِ 69 - Kirlian Photography  ِ 70 - قرآن علوم کا سرچشمہ ہے  ِ 71 - روشنی سے علاج  ِ 72 - روشنی کا عمل  ِ 73 - چھ نقطے  ِ 74 - قانون  ِ 75 - امراض کا روحانی علاج  ِ 76 - مشق کا طریقہ  ِ 77 - نور کا دریا  ِ 78 - ہر مخلوق عقل مند ہے  ِ 79 - موازنہ  ِ 80 - حضرت جبرائیل ؑ  ِ 81 - ڈائری  ِ 82 - ماں کی محبت  ِ 83 - حضرت بہاؤ الدین ذکریا ملتانیؒ  ِ 84 - اکیڈمی میں ورکشاپ  ِ 85 - زمین اور آسمان  ِ 86 - ورد اور وظائف  ِ 87 - آواز روشنی ہے  ِ 88 - مثال  ِ 89 - نگینوں سے علاج  ِ 90 - تقدیر کیا ہے؟  ِ 91 - مثال  ِ 92 - حضرت علیؓ کا ارشاد  ِ 93 - فرشتے، جنات اور آدم ؑ  ِ 94 - انسان اور موالید ثلاثہ  ِ 95 - سلطان  ِ 96 - مثال  ِ 97 - دو رخ  ِ 98 - سیاہ نقطہ  ِ 99 - قانون  ِ 100 - کوئی معبود نہیں مگر اللہ تعالی۔۔۔  ِ 101 - تین کمزوریاں  ِ 102 - عفو و درگذر  ِ 103 - عام معافی  ِ 104 - توازن  ِ 105 - شکر کیا ہے؟  ِ 106 - قافلہ سالار  ِ 107 - ٹیم ورک  ِ 108 - سلسلہ عظیمیہ کے ارکان کی ذمہ داری  ِ 109 - چھوٹوں کی اصلاح  ِ 110 - ایک نصیحت  ِ 111 - صبحِ بہاراں  ِ 112 - دنیا مسافر خانہ ہے  ِ 113 - روح کیا ہے؟  ِ 114 - سانس کی مشقیں  ِ 115 - من کی دنیا  ِ 116 - بے سکونی کیوں ہے؟  ِ 117 - غور و فکر  ِ 118 - روحانی علوم  ِ 119 - ہمارے بچے  ِ 120 - اللہ تعالیٰ بہت بڑے ہیں  ِ 121 - اللہ ھُو  ِ 122 - اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کو مانگو  ِ 123 - قربت  ِ 124 - ہر مخلوق باشعور ہے  ِ 125 - کامیاب زندگی  ِ 126 - انا کی لہریں  ِ 127 - صدقۂ جاریہ  ِ 128 - ادراک یا حواس
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message