تصوف مکمل علم ہے

کتاب : خطبات ملتان

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=13124

اعوذباللہ من الشیطن الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
عزیز طالبات اور طلبا!
تصوف ایک علم ہے، بالکل اسی طرح جس طرح دنیا کے اور دوسرے علوم ہیں۔ جیسے طبیعات، مابعد طبیعات، سائیکالوجی، پیراسائیکالوجی، انجینئرنگ اور میڈیکل سائنس۔ دنیا کے اور بے شمار علوم کی طرح تصوف بھی ایک مکمل علم ہے۔ علوم میں کچھ ایسے علوم بھی ہیں جو کتابوں میں نہیں ملتے یا اگر ملتے ہیں تو الہامی کتابوں میں موجود ہیں۔ وید، تورات، انجیل اور آخری کتاب قرآن کریم میں ان علوم کا تذکرہ ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے اور حضرت جبرائیل ؑ کے ذریعے اللہ کے محبوب بندے حضرت محمد رسول اللہﷺ پر وحی کے ذریعے نازل ہوا۔
ہمیں معلوم ہے کہ فرشتے ہیں، جنات ہیں، انسان ہیں۔ جس طرح ہم انسان کی تعریف بیان کرتے ہیں، انسان کی زندگی کا تجزیہ کرتے ہیں یا انسان کے جسم کے اندر جو مشینری اللہ تعالیٰ نے فٹ کی ہے اس کو کھول کر دیکھ سکتے ہیں، دل گُردے، پھیپھڑے وغیرہ یا انسانوں کی عمروں کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس طرح ہم فرشتوں اور جنات کے بارے میں تفصیلی بات نہیں جانتے۔ ہم فرشتوں اور جنات کے بارے میں تفصیلات اس لئے نہیں جانتے کہ اس علم پر ہمیں عبور حاصل نہیں ہے۔

یہ ایسی بات ہے کہ ایک آدمی Scientistہے اس نے فزکس پڑھی ہے لیکن تجربات میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ یہ آدمی کوئی چیز ایجاد نہیں کر سکتا تو اسے آپ Scientistنہیں کہتے۔
تصوف ان علوم کی پردہ کشائی کرتا ہے جو غیب سے متعلق ہیں۔ ایک صوفی اس بات کو جانتا ہے کہ انسان کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی کون کون سی صفات کام کر رہی ہیں یا انسان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے۔ انسان جب پیدا نہیں ہوا تھا وہ کہاں تھا اور اس دنیا کی زندگی گزارنے کے بعد جب وہ مر جاتا ہے تو کس عالم میں چلا جاتا ہے۔
آدمی جب تک پیدا نہیں ہوتا تو عالم ارواح میں رہتا ہے۔ جہاں روحیں قیام کرتی ہیں اور آدمی جب مر جاتا ہے تو آخرت کی دنیا میں چلا جاتا ہے۔ لیکن یہ جاننا، اس لئے نہیں ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد کی زندگی کے شب و روز کیا ہیں۔ مرنے کے بعد کی زندگی یا مرنے کے بعد کی دنیا کیا ہے؟ کیا وہاں سورج نکلتا ہے؟ وہاں چاند نکلتا ہے؟ کیا وہاں بھی زمین ہے جس پر مکانات بنتے ہیں؟ اس کے بارے میں ہمارا علم لاعلمی ہے۔ پیدا ہونے سے پہلے ہم کہاں تھے؟ اس کا بھی ہمیں پتہ نہیں ہے۔ ہم سب کہتے ہیں کہ سات آسمان ہیں، عرش و کرسی ہے لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم آسمان کی حقیقت کو جانتے ہیں کہ پہلا آسمان کیا ہے، دوسرا آسمان کیا ہے، ساتواں آسمان کیا ہے، عرش کیا ہے؟
جب کوئی آدمی تصوف کے اسکول میں داخل ہو کر تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ اس بات سے آگاہ ہو جاتا ہے کہ زمین کیا ہے، سات آسمان کیا ہیں، عرش کیا ہے، فرشتے کیا ہیں، جنات کی دنیا کیسی دنیا ہے۔ انسان کو جس طرح انسان کے بارے میں معلومات ہوتی ہیں اسی طرح فرشتوں اور جنات کے بارے میں معلومات حاصل ہو جاتی ہیں۔
کوئی انسان جو تھوڑا سا بھی باشعور ہے اس بات سے واقف ہے کہ اس کا اس دنیا میں آنا اس کا ذاتی اختیار یا ذاتی وصف نہیں ہے۔ کوئی آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے اس بات کا علم تھا کہ میں خان صاحب کے یہاں پیدا ہوں گا یا چوہدری صاحب کے گھر پیدا ہوں گا یا چمار میرا باپ ہو گا یا بادشاہ کے یہاں میری ولادت ہو گی۔
تصوف میں پڑھایا جاتا ہے کہ پیدائش سے پہلے بچہ کے دماغ میں کمپیوٹر نصب کر دیا جاتا ہے اور اس میں ایسے Chipsڈال دیئے جاتے ہیں کہ اگر اس کی عمر 80سال کی ہے تو اسے ادراک ہو سکتا ہے کہ بچے نے اس 80سال کی زندگی میں کیا کچھ کرنا ہے۔ تصوف میں مہارت حاصل ہو جائے تو اسے غیب کی دنیا اور مستقبل کے بارے میں معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔ جیسے پیغمبروں نے مستقبل کے بارے میں پیشن گوئیاں کیں اور وہ پوری ہوئیں۔ اولیاء اللہ سے بھی بہت سی کرامات سرزد ہوئیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کا خواب سن کر ۱۴ سال کے غیب کا انکشاف فرمایا۔

عام آدمی پیغمبر نہیں ہو سکتا لیکن پیغمبرانہ طرز فکر حاصل کر کے ان کے علوم کا امین ضرور بن جاتا ہے اور پیغمبروں کی نسبت سے اس کے اوپر بہت سی باتیں روشن ہو جاتی ہیں۔ تصوف انسان کی زندگی کے اس حصے کو روشن کرتا ہے جو زندگی کا باطن ہے۔

ہر انسان کی زندگی کے دو رُخ ہیں۔ ایک رُخ ظاہر ہے اور ایک رُخ باطن ہے۔ ظاہر رُخ یہ ہے کہ ہم بیٹھے ہوئے ہیں، چھوٹے سے بڑے ہو رہے ہیں، اسکول و کالج جا رہے ہیں، علوم حاصل کر رہے ہیں، ملازمت کر رہے ہیں، کاروبار کر رہے ہیں۔باطنی زندگی میں سب سے پہلے کا عالم، عالم ارواح ہے یعنی جہاں سے ہماری روحیں چل کر اس دنیا میں مادی وجود میں ظاہر ہوئیں، پھر ہم نے اچھے یا برے اعمال کئے۔ اعمال کی بھی دو قسمیں ہیں۔ آدمی نیکی کرتا ہے یا برائی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق نیکی کی جزا اور برائی کی سزا ہے۔ اگر اس نے اچھے کام کئے تو اللہ کی طرف سے جزا ملتی ہے اور اگر برائی سرزد ہوئی تو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق اس کی سزا مقرر ہے۔

ٍٍہر انسان جو اس دنیا میں موجود ہے اس کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک حیثیت اس کا مادی وجود ہے، ایک حیثیت اس کا روحانی وجود ہے۔ یعنی انسان دو وجود سے مرکب ہے۔ کوئی انسان دو وجود کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس کی مثال یہ ہے، میں آپ کے سامنے لیکچر دے رہا ہوں، آپ میرے وجود کو دیکھ رہے ہیں، جس میں سے آواز نکل رہی ہے۔ میرا ایک مادی دماغ ہے جو سوچ رہا ہے کہ میں نے آپ کو کیا لیکچر Deliverکرنا ہے۔ میری طرح آپ کا بھی ایک مادی دماغ ہے۔ آپ اس دماغ سے میری بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ایک بات بہت زیادہ غور طلب ہے کہ یہ مادی وجود جو بول رہا ہے یا وہ مادی وجود جو سن رہے ہیں، ان کی حیثیت ثانوی ہے، ان کو اولیت حاصل نہیں ہے۔
اس کی مثال یوں ہے کہ میں بیٹھے بیٹھے ابھی مر جاتا ہوں، ہارٹ اٹیک ہو جائے یا میں Comaمیں چلا جاؤں تو میں بول نہیں سکتا۔ آپ کہیں گے، یہ بندہ مر گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ میرے اندر دماغ ہے، میرے ہاتھ پیر ہیں، میں بیٹھا ہوا بھی ہوں پھر میرا بولنا یا میرا کچھ کہنا کیوں منقطع ہو گیا؟ یہی صورت سامعین کی ہے۔ آپ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ اچانک آپ کے اوپر موت وارد ہو جائے۔۔۔۔۔۔(اللہ سب کی عمر دراز کرے) یہ کوئی ڈرنے کی بات نہیں ہے میں سمجھانے کے لئے کہہ رہا ہوں۔ میں کتنا بھی بولتا رہوں آپ کی سمجھ میں کچھ نہیں آئے گا، آپ سنیں گے۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ کے کان ہیں، دماغ ہے، آپ میری بات کیوں نہیں سن سکتے؟
اس کا ایک ہی جواب ہے کہ روح جسم میں سے نکل گئی، روح نے جسم سے رشتہ توڑ لیا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ انسان کی زندگی دو رُخوں سے مرکب ہے۔ اگر جسم نہ ہو تو روح کی آوازسننا ممکن نہیں ہے اور اگر روح نہ ہو تو جسم آواز نہیں سنتا۔ جسمانی وجود کی اہمیت کم ہے اور نہ ہونے کے برابر ہے۔ روح کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اس لئے کہ روح کے بغیر کوئی انسان نہ سوچ سکتا ہے، نہ سن سکتا ہے، نہ چل سکتا ہے، نہ پھر سکتا ہے، نہ کھا سکتا ہے، نہ پی سکتا ہے اور نہ حرکت کر سکتا ہے۔
سمجھ میں یہ بات آئی کہ انسان ایک وجود نہیں دو وجود ہیں۔ ایک مادی وجود (Physical Body) اور ایک روحانی وجود۔ یہ دونوں جب اکٹھے ہوتے ہیں تب انسانی وجود میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔ اگر یہ دونوں اکٹھے نہ ہوں، الگ الگ ہو جائیں تو روح کی حرکت تو رہتی ہے لیکن جسمانی وجود Dead Bodyبن جاتا ہے۔ اس کی حیثیت ایک مردے یا ایک لاش کی بن جاتی ہے۔ میڈیکل سائنس میں علم الابدان پڑھایا جاتا ہے۔ جیسے علم، علم الابدان ہے اسی طرح علم الروح بھی ہے۔ جب ہم دو وجود تسلیم کر رہے ہیں تو ہمیں دو علوم بھی تسلیم کرنا ہوں گے۔ روح کا علم الگ ہے اور جسمانی وجود کا علم الگ ہے۔
دنیا میں جتنے بھی علوم رائج ہیں وہ سب کے سب جسمانی وجود کے تابع ہیں اور روحانی علوم جتنے ہیں وہ روح کے تابع ہیں۔ یہ علوم ہمیں پیغمبروں کے ذریعے حاصل ہوئے ہیں۔
ماہرین نے جب تحقیق کی تو نتیجے میں نئے نئے علوم ہمارے سامنے آ گئے۔ علم کوئی بھی ہو اس کا فائدہ ہوتا ہے۔
تصوف ان علوم پر بحث کرتا ہے جو روح کے وجود سے متعلق ہیں۔ اگر روح کے وجود سے ہم انکار کرتے ہیں تو یہ بات عقل کے خلاف ہے۔ اس لئے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب تک روح ہمارے جسم سے اپنا رشتہ قائم رکھتی ہے ہم چلتے پھرتے ہیں، تمام حرکات و سکنات کرتے ہیں، ہم علم بھی سیکھتے ہیں اور جب روح مادی وجود سے رشتہ توڑ لیتی ہے تو حرکت ختم ہو جاتی ہے۔
تصوف کے بارے میں بہت سارے لوگوں کے خدشات بھی ہیں، بہت سارے لوگ تصوف کو اچھا نہیں سمجھتے۔ اس کی وجہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، یہ ہے کہ ابھی تک تصوف کی جانب صحیح توجہ نہیں دی گئی۔
تصوف کی صحیح تعریف یہ ہے کہ تصوف ایک علم ہے اور سیکھنے سکھانے کا علم ہے۔ دانشور کہتے ہیں کہ ہر آدمی روحانی نہیں ہو سکتا۔ کیوں نہیں ہو سکتا بھئی؟ روح کے بغیر تو کوئی آدمی زندہ ہی نہیں رہ سکتا۔ جب روح کے بغیر میں زندہ نہیں رہ سکتا تو میں روح کا علم کیوں نہیں سیکھ سکتا؟
دیکھئے! آپ تھیوری پڑھتے ہیں پھر پریکٹیکل کرتے ہیں۔ اسی طرح روح کے علم کی بھی تھیوری ہے اور پریکٹیکل بھی ہے۔ روح کی تھیوری کے بارے میں روحانی اساتذہ بتاتے ہیں کہ روح امر ربی ہے۔ امر ربی سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ “کُن”۔ ساری روحیں وجود میں آ گئیں۔ پھر روحیں عالم دنیا میں آ گئیں، اس کو عالم ناسوت بھی کہتے ہیں۔ پھر روحیں ناسوت سے آخرت میں چلی گئیں یعنی عالم اعراف میں چلی گئیں۔
امر ربی سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک مخصوص علم ہے “کُن” (ہوجا) یہ بات غور طلب ہے کہ “کُن” یعنی ہو جا۔۔۔۔۔۔کیا ہو جا؟ سیدھی سی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذہن میں کوئی پروگرام تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے کہا “ہو جا” وہ ہو گیا۔ لیکن کیا ہو جا؟ اللہ کے ذہن میں ایک مکمل پروگرام تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جب کہا ہو جا تو انسان کے اندر سماعت پیدا ہوئی، بصارت پیدا ہوئی، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوئی، جذبات پیدا ہوئے، محبت اور غضب دونوں کا اسے ادراک ہوا، بھوک کے احساسات اس کے اندر پیدا ہوئے، خواہشات پیدا ہوئیں، پانچ حواس پیدا ہوئے۔ “کُن” کا مطلب ہے کہ انسانی حواس اور جذبات سے متعلق مکمل علم انسان کے اندر منتقل ہو گیا۔ اس میں سننا بھی ہے، دیکھنا بھی ہے، سوچنا سمجھنا بھی ہے، پکڑنا بھی ہے، چھونا بھی ہے، رونا بھی ہے، خوش ہونا بھی ہے، نفرت اور محبت بھی ہے، طاقت کا استعمال بھی ہے اور عفو و درگزر بھی ہے۔
“ہوجا” کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ بس “ہوجا”۔۔۔۔۔۔”ہوجا” کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذہن میں کائنات کے بارے میں جو پروگرام تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے وجود بخش دیا اور جیسے ہی اللہ تعالیٰ نے “کُن” کہا جو کچھ اللہ تعالیٰ چاہتے تھے اس کا مظاہرہ ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے انسان کو اپنی صفات پر پیدا کیا۔ صفات سے مراد اللہ تعالیٰ کا علم ہے۔ یعنی انسان کے لئے یا کائنات کی تخلیق کے لئے اللہ تعالیٰ کے علم کا مظاہرہ ہوا۔ جب ہم سورج کی طرف دیکھتے ہیں تو یہ بھی علم ہے۔ سورج کے بارے میں یہ کہہ کر ہم مطمئن نہیں ہو سکتے کہ سورج، سورج ہے۔ سورج اتنا بڑا علم ہے کہ اگر کوئی انسان کئی صدیوں تک زندہ رہے تب بھی سورج کے بارے میں اس کا علم محدود رہے گا۔ ایسے ہی چاند ہے۔ چاند جب چڑھتا ہے تو پانی میں جوار بھاٹا آ جاتا ہے اور سمندر اچھلنے لگتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ چاند اور سمندر کا آپس میں ایک تعلق ہے جس کی بنیاد پر سمندر میں تلاطم پیدا ہو جاتا ہے۔ اس ربط کو ہم کیسے ڈھونڈیں گے؟ یہ ایک علم ہے۔۔۔۔۔۔علم حاصل ہو جائے گا تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ چاند کیا ہے۔ یہی حال زمین، آسمان اور کائنات کا ہے۔ جتنا آپ اس علم کو پڑھ لیں گے اسی مناسبت سے کائنات کے گوشے آپ پر کھل جائیں گے۔
سائنسدانوں نے ستاروں اور سیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں۔ پہاڑوں کے بارے میں تحقیق کی ہے۔ آدمی کسی شئے کی کنہ کے بارے میں سوچتا ہے کائنات کے گوشوں کا سراغ لگاتا ہے۔ کوئی انسان آگ تلاش کر لیتا ہے اور کسی نے بجلی دریافت کی ہے۔ یہ سب دراصل لاشعور میں چھپی ہوئی صلاحیتوں کی تلاش ہے اور شعور سے لاشعور میں اتر جانا اس کے اندر سے ایجادات کے علوم کو ڈھونڈ نکالنا اللہ کی نشانیاں ہیں۔ اس لئے یہ ساری تلاش، تحقیق اور تفکر تصوف کے دائرہ کار میں آتی ہیں۔ تصوف کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک مخصوص لباس پہن لیا جائے، گیر و رنگ کی چادر اوڑھ لی جائے، گدڑی پوش بن جائیں یا دنیا بیزار ہو کر جنگل میں جا کر بیٹھ جائیں۔ اگر آپ کسی درخت کے اوپر ریسرچ کرتے ہیں، کسی درخت کی جڑوں سے کوئی دوا ایجاد کر لیتے ہیں تو یہ بھی تصوف کا ایک حصہ ہے۔ تصوف ایک حکمت ہے جو اللہ تعالیٰ بندے کو روح کی معرفت سکھاتا ہے۔ جو لوگ تصوف کے بارے میں سوچ بچار کرتے ہیں وہ کائنات سے واقف ہو جاتے ہیں اور انہیں اللہ کے فضل و کرم سے اللہ کا عرفان حاصل ہو جاتا ہے۔( پروف -8 کتاب)
اولیاء اللہ کی تعلیمات کے بارے میں جب ہم سوچتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ کتنے بڑے عالم تھے۔ دو سو سال پہلے شاہ ولی اللہؒ دہلی میں پیدا ہوئے۔ شاہ ولی اللہؒ کی تعلیمات کا لوگوں نے مذاق اڑایا۔ انہیں طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں۔ ان کے دونوں ہاتھ توڑ دیئے گئے۔ ان کے قتل کے منصوبے بنائے۔ تقریباً دو سو سال پہلے انہوں نے یہ بتا دیا تھا کہ ہر انسان کے مادی وجود کے اوپر ایک اور انسان ہے اور وہ روشنیوں کا بنا ہوا ہے۔ انہوں نے اس کا نام “نسمہ” رکھا۔ شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ نے بھی اس روشنیوں کے انسان کا تذکرہ کیا ہے۔ انہوں نے اس کا نام “جسم مثالی” رکھا ہے۔ شاہ ولی اللہؒ کا دوسرا گناہ یہ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے قرآن پاک کا فارسی میں ترجمہ کر دیا تھا۔ ان کے اوپر کفر کا فتویٰ لگایا۔ جب کہ آج ہر مدرسے اور اسکول میں قرآن کا ترجمہ پڑھایا جا رہا ہے۔
شاہ ولی اللہؒ نے بتایا کہ ہر انسان کے اوپر ایک اور انسان ہوتا ہے۔ جبکہ آج کے سائنٹسٹ نے اب ریسرچ کی کہ انسان کے اوپر ایک روشنیوں کا بنا ہوا انسان ہے۔ روشنیوں کے انسان کے ری فلیکشن Re-flectionکا نام انہوں نے Auraرکھا۔
ہم نے اپنے اسلاف کا جنہوں نے تصوف کو، روحانیت کو ایک علم بنا کر ہمیں سکھانا چاہا، قدر نہیں کی اور ان سے بیزاری کا اظہار کیا۔ اب بھی یہی ہو رہا ہے۔ ہوشیار لوگوں نے پیری مریدی کو ذریعہ معاش بنا لیا ہے۔۔۔۔۔۔تصوف کاروبار نہیں ہے۔ تصوف ایک علم ہے۔ جس کو پڑھ کر انسان اللہ کی کتاب قرآن کریم کی حکمت سے واقف ہو جاتا ہے اور ٹائم اینڈ اسپیس کی حقیقت سے واقف ہو جاتا ہے۔تصوف پڑھ کر آدمی کے اندر کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ جس طرح انسان کی جسمانی آنکھ ہے اسی طرح انسان کے اندر روحانی آنکھ بھی ہے۔ جب انسان مادی آنکھوں سے دیکھتا ہے تو محدود دیکھتا ہے اور جب انسان روحانی آنکھ سے دیکھتا ہے تو لامحدود دیکھتا ہے۔
سوال: محترم عظیمی صاحب! سوال یہ ہے کہ روح جب وجود میں آئی تو کچھ روحیں مرد بن گئیں اور کچھ روحیں عورتیں بن گئیں۔ عورت کی روحDifferentlyکام کرتی ہے اور مرد کی روح Differentlyکام کرتی ہے۔ تو کیا عالم ارواح میں تخصیص ہو چکی تھی یا مردانہ جسم اور زنانہ کا جسم بعد میں بنا؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے:
“ہم نے ہر چیز کو جوڑے جوڑے بنایا ہے۔”
ایک اور جگہ فرمایا:
“ہم نے ہر چیز کو جوڑے جوڑے بنایا اور جوڑے دوہرے بنائے۔”
ایک مذکر ایک مؤنث۔ یہ مؤنث اور مذکر بھی جوڑے جوڑے ہیں۔
جوڑے جوڑے کا مطلب یہ ہوا کہ ہر مرد کے بھی دو وجود ہیں اور ہر عورت کے بھی دو وجود ہیں۔ مرد کے اندر غالب رخ مرد کا ہے اور مغلوب رخ عورت کا ہے۔ عورت کے اندر غالب رخ عورت کا ہے اور مغلوب رخ مرد کا ہے۔ جنسی کشش کا قانون یہ ہے کہ مرد عورت کی طرف کھنچتا ہے، عورت مرد کی طرف کھنچتی ہے۔ مرد کے اندر کیونکہ ایک اور رخ عورت کا ہے جو مغلوب ہے اور عورت کے اندر مرد کا رخ ہے جو مغلوب ہے۔ مغلوب رخ غالب رخ سے مل کر اپنی تکمیل چاہتا ہے۔ اس کو آپ جنسی کشش کا قانون کہہ سکتے ہیں۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے “کُن” کہا تو اس وقت سب پیدا ہوئے لیکن جوڑے جوڑے پیدا ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے ایک تخلیقی نظام قائم کیا ہے کہ مرد کے اندر عورت کا رخ مغلوب ہے اور عورت کے اندر مرد کا رخ مغلوب ہے۔ اب رہ گئی صلاحیت کی بات کہ عورت کی صلاحیت الگ اور مرد کی صلاحیت الگ الگ ہے۔ اس کی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ دونوں کے کام الگ الگ ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“مرد عورتوں پر قوام ہیں اس بنا پر کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔”
اس کے برعکس عورت کی یہ ڈیوٹی ہے وہ گھر کو سنبھالے، پیدائش کے عمل سے گزرے، بچوں کی تربیت کرے۔ دونوں کی ڈیوٹی الگ ہو گئیں تو دونوں میں امتیاز ہو گیا۔ لیکن ایسی بات نہیں ہے کہ اگر کوئی عورت مردوں کا کام کرنا چاہے اور وہ نہ کر سکتی ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، ایمان والے مرد اور ایمان والیاں، فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، سچے مرد، سچی عورتیں، صبر کرنے والے مرد، صبر کرنے والی عورتیں اور عاجزی کرنے والے مرد، عاجزی کرنے والی عورتیں، خیرات کرنے والے مرد، خیرات کرنے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرد، روزے رکھنے والی عورتیں، اپنی عصمتوں کی حفاظت کرنے والے مرد، اپنی عصمتوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے مرد اور اللہ کو بہت یاد کرنے والی عورتیں ان سب کے لئے اللہ تعالیٰ نے بخشش اور بڑا اجر تیار رکھا ہے۔”
سوال: سر! “قوام” کے حوالے سے قرآن کریم نے یہ وجہ بتائی ہے کہ مرد قوام اس لئے ہے کہ وہ نان نفقہ ادا کرتا ہے۔ اگر عورت معاش کا کام کرنے لگے اور کمائی میں مرد سے سبقت لے جائے تو کیا عورت قوام بن سکتی ہے؟
جواب: میری بیٹی! اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا کہ اگر کوئی عورت کمائی کرتی ہو تو اس میں مرد کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ مرد اس سے پیسے نہیں لے سکتا۔ اگر عورت بچے کو دودھ پلائے اور اپنے شوہر سے کہے مجھے اس کے پیسے چاہئیں تو شوہر کے اوپر لازم ہے کہ بچے کو دودھ پلانے کے پیسے دے۔ نان نفقہ پورا کرے۔ آج کلPositionبڑی عجیب ہے، اس میں علماء حق کو اجتہاد کرناچاہئے کہ میاں کی تنخواہ تین ہزار ہے اور بیگم کی تنخواہ آٹھ ہزار ہے۔ زمانے کے تغیر کے حساب سے ہمارے دانشوروں اور علماء کو مل جل کر ان مسائل کو حل کرنا چاہئے۔ خدا کرے ایسا وقت آ جائے ہمارے مذہبی دانشور متحد ہو کر اللہ کی مخلوق اور حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی امت کو مایوسیوں سے باہر لے آئیں۔ مسلمان قوم کو ایک پلیٹ فارم مہیا کریں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور اللہ کی رسی کو متحد ہو کر مضبوط پکڑ لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔”
آج امت مسلمہ کی جو ابتر زندگی ہے اس کی وجہ آپس میں اتحاد نہ ہونا ہے۔ لندن میں میرے پاس ایک انگریز آیا اس نے کہا میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ آپ مجھے کون سا مسلمان کریں گے۔ دیوبندی، بریلوی، شیعہ یا سنی۔ ظاہر ہے اس نے بات طنزیہ کہی تھی۔ لیکن میرے پاس خاموشی کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا۔
سوال: اللہ تعالیٰ نے لفظ “کُن” فرمایا اور کائنات تخلیق ہو گئی یہ اللہ تعالیٰ نے کیسے فرمایا؟ کیونکہ جب ہم کوئی لفظ ادا کرتے ہیں تو اس کے لئے منہ کا ہونا ضروری ہوتا ہے، زبان ہلتی ہے، میں پوچھنا چاہ رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ “کُن” کیسے فرمایا؟
جواب: آپ کو مختلف خیالات آتے ہیں ناں! خدانخواستہ Accidentکے بارے میں خیال آ گیا، آپ ڈر جاتی ہیں، آپ کو پسینہ آ جاتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ بتایئے آواز کہاں سے آئی؟۔۔۔۔۔۔میں یہاں یونیورسٹی کے ہال میں بیٹھا ہوں مجھے خیال آیا کہ میں باہر نکلوں گا تو میری ٹانگ ٹوٹ جائے گی۔ خیالات کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آدمی ڈر جاتا ہے۔
آپ کے کان میں گونجار پیدا ہوئی، یہ کس منہ کی آواز ہے؟ آواز کا تعلق منہ سے نہیں ہے، دیکھنے کا تعلق مادی آنکھ سے نہیں ہے۔ اگر دیکھنے کا تعلق مادی آنکھ سے ہوتا تو مرنے کے بعد بھی آدمی دیکھتا۔ اگر سننے کا تعلق مادی کانوں سے ہوتا تو مرنے کے بعد بھی آدمی سنتا۔ اگر بولنے کا تعلق مادی ہونٹوں اور زبان سے ہوتا تو مرنے کے بعد بھی آدمی بولتا۔ وہ کہتا مجھے کیوں قبر میں اتار رہے ہو؟ اجاڑ جگہ میں کیوں دبا رہے ہو؟ ہمارا شعور محدود ہے۔ ہم چونکہ واقفیت نہیں رکھتے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ منہ ہو گا تو بولیں گے۔ ایسا نہیں ہے، ہوا چلتی ہے، ہوا کی بھی آواز ہوتی ہے۔ ہوا کا منہ ہوتا ہے یا نہیں ہوتا، ہمیں نہیں معلوم۔ پانی کی آواز ہوتی ہے۔ آپ کہیں گے کہ پانی ایک دوسرے سے ٹکرا رہا ہے۔ ٹھیک ہے لیکن سمندر کا منہ تو نہیں ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مخلوق کی صفات سے ماوراء ہیں لیکن وہ سنتے بھی ہیں اور دیکھتے بھی ہیں۔
سوال: روح پاکیزہ کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
جواب: لیکچر میں آپ سن چکے ہیں کہ دو چیزوں کے بغیر ہمارے وجود کا قیام نہیں ہے۔ ایک روح ہے اور دوسرا جسم۔ میرے خیال میں آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ روح کا علم حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہے۔ روح کا علم سیکھنے کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ ہمارے اندر یہ یقین ہو کہ ہمارے جسم کی کوئی حرکت روح کے بغیر نہیں ہوتی ہے۔ روح چاہے گی تو ہمارا جسم حرکت کرے گا۔ روح نہیں چاہے گی تو ہمارا جسم حرکت نہیں کرے گا۔ جب آپ کو اس بات کا یقین ہو جائے گا کہ ہماری کوئی حرکت روح کے بغیر نہیں ہے یا ہر حرکت روح کے تابع ہے تو آپ کا ذہن روح کی طرف متوجہ ہو گا کہ روح کیا ہے۔۔۔۔۔۔جیسے جیسے آپ کا ذہن روح کی طرف متوجہ ہو گا آپ روح سے واقف ہوتے چلے جائیں گے اور اس کا بہترین طریقہ جو اولیاء اللہ، انبیاء علیہم السلام نے بتایا ہے وہ مذہبی فرائض پورے کر کے مراقبہ کرنا ہے۔ مراقبہ میں جتنا انہماک ہو جائے گا اسی مناسبت سے انسان اپنی روح کا علم حاصل کر لے گا۔
سوال: صوفی کا علم غیب سے قریب تر ہے اور صوفی تمام غیر مرئی علوم سیکھ سکتا ہے۔ کیا صوفی حضورﷺ سے بڑھ کر عالم ہو سکتا ہے؟
جواب: یہ سوال بالکل غلط ہے۔۔۔۔۔۔استغفار پڑھیں۔۔۔۔۔۔نعوذ باللہ! کوئی بندہ جو رسول اللہﷺ کو خاتم النبیین نہیں سمجھتا اور حضور پاکﷺ کو سب سے بڑا معلم نہیں سمجھتا وہ ہرگز صوفی نہیں ہے۔ صوفی اسے کہتے ہیں جو رسول اللہﷺ پر، ان کی رسالت پر ایمان رکھتا ہو، مشرک نہ ہو اور حضور پاکﷺ کے بتائے ہوئے احکامات پر صدق دل اور یقین کے ساتھ عمل کرتا ہو۔
سوال کنندہ: کیا حضور پاکﷺ کو علم غیب تھا؟
عظیمی صاحب: آپ بتایئے! حضرت جبرائیل ؑ غیب ہیں یا ظاہر ہیں؟
سوال کنندہ: غیب ہیں۔
عظیمی صاحب: حضرت جبرائیل ؑ حضورﷺ سے باتیں کرتے تھے؟
سوال کنندہ: جی ہاں۔
سوال کنندہ: قرآن کیا کہتا ہے اس بارے میں؟
عظیمی صاحب: دیکھئے! واقعہ معراج کو قرآن نے بیان کیا ہے۔ سورۃ نجم میں ہے:
“دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی کم اور ہم نے اپنے بندے سے جو دل چاہا باتیں کیں۔ دل نے جو دیکھا جھوٹ نہیں دیکھا۔”
استغفراللہ! ایسا نہیں ہے کہ حضورﷺ نے کوئی خواب دیکھ لیا ہو یا خیال آ گیا ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“ہم نے (پیغمبر ﷺ )تمھیں عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔”
اگر حضور پاکﷺ کو عالمین کا علم نہیں ہو گا تو رحمت کیسے ہوں گے؟ یعنی رسول اللہﷺ تمام عالمین کے لئے رحمت ہیں۔ اس بات سے پتا چلتا ہے کہ ہماری دنیا کی طرح کروڑوں اربوں دنیائیں ہیں۔ جس طرح حضورﷺ اس دنیا کے آخری پیغمبر ہیں اسی طرح تمام عالمین کے لئے آخری پیغمبر ہیں۔
سوال کنندہ: کیا حضور پاکﷺ عالم الغیب ہیں؟
عظیمی صاحب: میرے دوست! یہ آپ کس قسم کے سوال کر رہے ہیں؟ بہرحال میں عرض کرتا ہوں۔ عالم الغیب تو اللہ ہے لیکن اللہ نے جس کو جو علم دے دیا وہ اس علم کا عالم الغیب ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے علم سکھایا تو وہاں فرشتے بھی تھے، انہوں نے کہا کہ۔۔۔۔۔۔یہ تو خون خرابہ کرے گا، فساد برپا کر دے گا۔
اللہ نے فرشتوں سے کہا کہ ہم جو جانتے ہیں وہ تم نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے کہا کہ جو میں نے تجھے علم سکھایا ہے، وہ فرشتوں کے سامنے بیان کر۔ آدم علیہ السلام نے وہ علم بیان کر دیا۔ جب آدم علیہ السلام نے علم بیان کر دیا تو فرشتوں نے کہا کہ ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا آپ نے ہمیں سکھا دیا ہے۔
میرے عزیز! آپ غیب سے یہ مراد کیوں لیتے ہیں کہ غیب کا علم سیکھنے کے بعد کوئی انسان نعوذ باللہ! اللہ تعالیٰ بن جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے غیب کے علوم سکھا سکتا ہے، جو علوم نوع انسانی کے لئے غیب ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے حضرت محمدﷺ کے لئے غیب اس لئے نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو وہ علوم سکھا دیئے ہیں۔
یہ تو ہو گئی حضور پاکﷺ کی بات، اب حضرت مریم ؑ کے بارے میں غور فرمایئے۔ فرشتہ آیا، اس نے کہا:”اللہ کہتا ہے، تمہارے بیٹا ہو گا اور وہ ہمارا برگزیدہ بندہ ہو گا۔” انہوں نے کہا۔ “یہ کیسے ہو سکتا ہے؟” فرشتے نے کہا۔ “اللہ جو چاہتا ہے وہ ہو جاتاہے۔”
کیوں بھائی بتایئے! حضرت مریم ؑ نے فرشتہ دیکھا یا نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔فرشتے کی بات سنی، حضرت مریم ؑ نے کہا۔ میں تو کنواری ہوں یہ تم کیسی انہونی بات کر رہے ہو، مجھے تو کسی نے ہاتھ ہی نہیں لگایا۔ فرشتے نے کہا۔ جو اللہ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے۔ اللہ نے پیغام دیا ہے کہ تیرے بچہ ہو گا۔۔۔۔۔۔کیسے ہو گا؟ اب یہ اس کی قدرت ہے۔ حضرت مریم ؑ نے فرشتے کو دیکھا اور اس سے باتیں کیں۔ فرشتے نے انہیں اطمینان دلایا۔
سوال کنندہ: فرشتے کی آواز بھی تو آسکتی ہے۔
عظیمی صاحب: نہیں نہیں! آپ قرآن پڑھیں، فرشتہ کا سراپا حضرت مریم ؑ کے سامنے آ گیا تھا۔
عزیز دوست! آپ کا شکریہ لیکن میں آپ کا بزرگ اور آپ کا استاد ہونے کے رشتے سے کہتا ہوں جہاں اللہ کے محبوبﷺ، اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور کتابوں کا تذکرہ ہو رہا ہو، وہاں بے ادبی اور گستاخی کبھی بھی نہ کرنا، قلندر بابا اولیاءؒ نے مجھے پہلا سبق یہ دیا تھا:
“با ادب، بانصیب۔۔۔۔۔۔بے ادب، بے نصیب”
*****

علم تصوف كى اہميت
بسم اللہ الرحمن الرحیم

کل کے لیکچر میں یہ بات سمجھنے کی کوشش کی گئی تھی کہ تصوف کیا ہے اور اس بات پر مختلف مثالوں اور دلیلوں سے بتایا گیا تھا کہ تصوف ایک علم ہے۔ جس طرح دنیا میں اور بہت سارے علوم ہیں۔ اس میں انجینئرنگ ہے، میڈیسن ہے، فزکس ہے وغیرہ وغیرہ۔ ان علوم کو پڑھ کر ایک حد تک آدمی شعوری طور پر بالغ ہوتا ہے اور انہی علوم کی بنیاد پر اپنی معیشت اور معاشرت کو درست کرتا ہے۔
اگر یونیورسٹی کی تعلیمات کے نتیجے میں ملازمت کا حصول ممکن نہ ہو یا آدمی یونیورسٹی سے فارغ ہو کر کاروبار کرنے کے قابل نہ ہو تو یونیورسٹی میں کوئی بندہ پڑھنے نہیں آئے گا اور جتنے لوگ پڑھنے آئیں گے ان کی تعداد اتنی کم ہو گی کہ پھر ہم یونیورسٹی کو یونیورسٹی نہیں کہیں گے۔ ہم یہاں جو دنیاوی علوم پڑھ رہے ہیں اس کے پیچھے۔۔۔۔ ( بات تلخ ہے، بری لگتی ہے ) ہماری دنیاوی آسائشیں زیادہ ہیں اور خالصتاً علم کا حصول کم ہے۔
ہم دنیا کے علوم سیکھتے ہیں تو ہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ پڑھیں اور سیکھیں۔ ان کو پڑھنے کے بعد ہمیں اچھی ملازمت ملے اور کاروبار کے مواقع فراہم ہوں۔ اس کی مثال اس طرح ہے کہ:
پچھلے سالوں میں کمپیوٹر نظام آیا۔ اس نظام میں سب سے بڑی کشش یہ تھی کہ لوگوں کو ملازمت کے مواقع فراہم ہو رہے تھے تو لوگ کمپیوٹر سیکھنے میں لگ گئے۔ اس سے پہلے انجینئرنگ میں Scopeتھا تو ہر بچہ انجینئر ہی بننا چاہ رہا تھا۔ ڈاکٹری M.B.B.Sمیں اسکوپ زیادہ نظر آیا تو لوگ ڈاکٹری سیکھنے میں لگ گئے۔
ہم دنیاوی علوم اس لئے سیکھتے ہیں کہ دنیاوی آسائش و آرام کی اہمیت زیادہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب دنیاوی علوم پڑھ کر ہم دنیاوی آسائش حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں کہ تصوف پڑھنے کے بعد ہمیں کیا حاصل ہو گا؟ ہمیں کیا دنیاوی آسائش حاصل ہوگی؟ تصوف کی ڈگری اگر ہمیں مل بھی گئی تو ہم کون سا اچھا کاروبار کر لیں گے یا تصوف پڑھنے کے بعد ہمیں کہاں ملازمت مل جائے گی؟۔۔۔۔۔۔بات ٹھیک ہے ہمیں کہیں ملازمت نہیں ملے گی۔ لیکن تصوف پڑھنے کے بعد اگر ان لوگوں کا تجزیہ کیا جائے جو روحانی انسان گزر چکے ہیں یا موجود ہیں تو یہ بات بہت روشن نظر آتی ہے کہ اس علم کو سیکھنے والے لوگوں کے اندر سکون ہوتا ہے۔ اس علم کو سیکھنے والے بندوں کے اندر ڈر اور خوف نہیں ہوتا۔ اس علم کے ماہر جتنے بھی ہوئے ہیں ان کی عمریں زیادہ ہوتی ہیں۔ ان کی گفتگو میں شیرینی ہوتی ہے۔ بڑے بڑے بادشاہ ان کے سامنے جھکتے ہیں۔ ان کی خانقاہوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق کی ریل پیل ہوتی ہے۔ ہزاروں انسان ان کے دسترخوان سے کھانا کھاتے ہیں۔
لوگ ترستے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی آئے اور ہم سے کوئی بات کرے۔ یورپ میں یہ بہت زیادہ ہے۔ وہاں تو باقاعدہ ملازمتیں ملتی ہیں کہ جو بے کار لوگ ہیں ان کے پاس جا کر وقت گزاری کرو ان کا دل بہلاؤ۔ لیکن جب کسی روحانی بندے کے بارے میں آپ سوچتے ہیں یا دیکھتے ہیں تو مخلوق کا اتنا رجوع ہوتا ہے کہ وہ تنگ آ جاتا ہے۔ اس کے اندر آسودگی ہوتی ہے۔ مثلاً ایک کروڑ پتی آدمی کے ہاں لنگر کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ایک روحانی آدمی کے ہاں لنگر کا تصور یہ ہے کہ وہ روحانی آدمی سمجھا ہی نہیں جاتا جس کے ہاں لنگر نہ ہو۔ لاہور میں دو مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔ جہانگیر کا مقبرہ بھی ہے اور داتا صاحب کا مزار بھی ہے۔ جہانگیر کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ ہندوستان کا بادشاہ تھا۔ حضرت داتا گنج بخشؒ کے دربار کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ان کے لنگر سے روزانہ ہزاروں آدمی کھانا کھاتے ہیں۔ جس کا دل چاہے لاہور جا کر دیکھ سکتا ہے۔
روحانی انسان دنیاوی اعتبار سے آسودہ حال ہوتا ہے اور اس کو قلبی سکون نصیب ہوتا ہے۔ اتنا سکون ہوتا ہے کہ اس کے پاس بیٹھنے والے لوگوں کو بھی سکون ملتا ہے۔ روحانی آدمی اپنی زندگی کے مقصد کو حاصل کر لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں کیوں پیدا کیا ہے؟ ایک کروڑ پتی آدمی کی زندگی کا مقصد اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کما لیا جائے۔ زیادہ پیسہ کمانے اور دولت جمع کرنے میں اسے جو مسائل پیش آتے ہیں، اس سے عام آدمی واقف ہی نہیں ہے۔ مجھے مالدار لوگوں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ ان کی زندگی میں چین، سکون اور راحت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ بظاہر نظر آتا ہے کہ ان کے پاس بڑی بڑی گاڑیاں ہیں، کوٹھیاں ہیں، ملیں ہیں، فیکٹریاں ہیں۔ لیکن یہ لوگ اندر سے کھوکھلے ہوتے ہیں جیسے کسی درخت کو دیمک لگ جاتی ہے۔ بنگہ، کار، کاروبار، بینک بیلنس ان کے پاس ہوتے ہیں۔ رات کو ڈرتے ہیں اور دن کو بے آرام رہتے ہیں۔ گولیاں کھا کر کھانا کھاتے ہیں، گولیاں کھا کر کھانا ہضم کرتے ہیں اور گولیاں کھا کر سوتے ہیں اور بیدار ہو کر کاہلی دور کرنے کے لئے گولیاں کھاتے ہیں۔
علم روحانیت سے انسان کے اندر ایسی صلاحیتیں بیدار اور متحرک ہو جاتی ہیں جن صلاحیتوں کو استعمال کر کے انسان بہترین زندگی گزارتا ہے۔ آخرت کی زندگی کے بارے میں بھی اس کے تصورات واضح اور روشن ہوتے ہیں۔ یہاں خوش رہتا ہے، آخرت میں بھی خوش رہتا ہے۔ جبکہ دنیا کی زندگی میں آدمی جتنا اپنے آپ کو مصروف کر لیتا ہے، اسی مناسبت سے اس کے اندر سے خوشی کم ہو جاتی ہے۔ یہ ایسی بات ہے جو تجربہ سے آدمی سیکھتا ہے یا مایا جال میں پھنس کر اسے دیکھتا ہے۔
ہر انسان کو یہاں سے جانا ہے۔ پیدا ہونے کے بعد یہاں سے جانے تک کی زندگی کا اگر تجزیہ کیا جائے تو مشکل سے 80سال میں 10فیصد وقت ایسا گزرتا ہو گا جس کو وہ صحیح معنوں میں خوشی کا نام دے سکے۔ باقی ساری زندگی مسائل میں گزر جاتی ہے۔ ملازم پیشہ آدمی کتنا ہی بڑا ملازم ہو وہ اس پریشانی میں ہے کہ Bossناراض ہو گیا تو نوکری کا کیا بنے گا۔ کاروباری آدمی نفع نقصان کے چکر میں مبتلا رہتا ہے۔ حفاظت کے لئے گارڈ رکھتا ہے۔ گارڈ سے بھی ڈرتا ہے کہ کہیں اس کی نیت خراب نہ ہو جائے۔
جس طرح ہم دنیاوی علوم سیکھنے کے بعد ملازمت اور کاروبار کے حصول میں آسانی محسوس کرتے ہیں اور اس کاروبار کو اچھی طرح کر لیتے ہیں، اسی طرح تصوف سیکھنے کے بعد انسان اس دنیا اور آخرت کی زندگی کا راز پا لیتا ہے۔ اسے اس بات کا علم ہو جاتا ہے کہ میں اچھی دنیا سے اس بری دنیا میں کیوں آیا؟ عالم ارواح کی زندگی اس دنیا سے اچھی ہے اور اس بری زندگی کو گزارنے کے بعد میں جس دنیا میں جاؤں گا وہاں میرے پاس آسائش و آرام کے لئے کیا سامان ہے؟
یہ بات بھی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ دنیا میں کتنے بھی دن آدمی زندہ رہے، اس کی ایک حد ہے۔ 60سال، 70سال، 80سال۔ لیکن مرنے کے بعد کی زندگی کی کوئی حد متعین نہیں کہ آدمی وہاں 100سال رہے گا یا 200سال رہے گا۔ ہابیل قابیل کا واقعہ ہم سب کو معلوم ہے۔ کروڑوں سال ہو گئے ہیں، ایک بھائی جزا کے مزے لوٹ رہا ہے۔ ایک بھائی سزا بھگت رہا ہے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہے۔۔۔۔۔۔آسمانی صحائف، آسمانی کتابیں، قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ دنیا عارضی جگہ ہے۔ بہرحال یہاں سے جانا ہے۔ ہر چیز فانی ہے اور فنائیت سے گزر کر ایک ایسی دنیا میں جانا ہے جہاں ماہ و سال کا کوئی حساب ہمیں معلوم نہیں۔
روحانیت سیکھنے کے بعد انسان اچھی زندگی گزارتا ہے اس کے اندر قناعت آ جاتی ہے، توکل پیدا ہو جاتا ہے۔ اس بات کا یقین کامل ہو جاتا ہے کہ رازق اللہ ہے۔ جو کچھ اللہ دیتا ہے بندہ وہی خرچ کرتا ہے۔ اس کو بتایا جاتا ہے کہ جب تم پیدا ہوئے غذا کے حصول کے لئے، زندگی گزارنے کے سامان کے لئے، تم نے کچھ بھی نہیں کیا تھا۔ تم پیدا ہوئے تو پہلے سے تمہارے لیے کپڑے موجود تھے۔ پہلے سے تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے ماں کے سینے کو دودھ سے بھر دیا تھا۔ ماں باپ کے دلوں میں تمہارے لئے شفقت ڈال دی تھی۔ تم بیس20سال تک بغیر محنت مزدوری کئے اچھے سے اچھا کھانا کھاتے رہے، اچھے سے اچھا لباس پہنتے رہے۔ اللہ نے ماں کے دل میں مامتا اور باپ کے دل میں شفقت ڈال دی۔
یہاں جتنے اسٹوڈنٹ ہیں انہیں معاش کی کوئی فکر نہیں ہے جو کچھ کر رہے ہیں، سب ماں باپ کر رہے ہیں۔ جب کوئی آدمی تصوف کو سیکھتا ہے اور سیڑھی بہ سیڑھی آگے بڑھتا ے تو اس کے اوپر یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ رزق دینے والا اللہ ہے اور رزق کا سارا پروگرام انسان کی پیدائش سے پہلے بن چکا ہے۔ کوئی نہیں جانتا اسے بڑے ہو کر کیا کرنا ہے؟ اب سے 76سال پہلے، میرے بارے میں کس کو پتا تھا کہ میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں لیکچرDeliverکروں گا۔ اس وقت تو پاکستان بھی نہیں بنا تھا۔ ہندوستان میں پیدا ہوا۔ قدرت کی طرف سے میری پیدائش سے پہلے ہی سارا پروگرام مرتب ہو چکا تھا۔ آپ نے اپنے بزرگوں سے سنا ہو گا کہ ہر چیز جو یہاں ہو رہی ہے، پہلے ہو چکی ہے، سب لوح محفوظ پر موجود ہے۔ جب لوح محفوظ پر موجود ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ میرا پلک جھپکنا، انگلی ہلانا بھی۔۔۔۔۔۔لوح محفوظ پر ریکارڈ ہے۔ جو کچھ یہاں ہو رہا ہے اور جو کچھ ہم کر رہے ہیں، جو کچھ ہمیں نظر آ رہا ہے وہ ایک فلم کی طرح ہے۔
میرے دوستو!
یہ دنیا ایک اسکرین ہے اور اس اسکرین پر وہی فلم Displayہو رہی ہے جو لوح محفوظ پر پہلے سے بنی ہوئی ہے۔ اب رہ گئی یہ بات کہ انسان کا اختیار کیا ہے۔ یہ الگ ایک موضوع ہے۔
میں بتانا یہ چاہ رہا تھا کہ جب ہم روحانیت پڑھتے ہیں تو ہمارے اوپر زندگی کے بارے میں، زمین کے جغرافیے کے بارے میں، آسمانوں کے بارے میں، عرش کے بارے میں، جنات کے بارے میں، فرشتوں کے بارے میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے، وہ ہمارے سامنے ایک روشن کتاب ہے۔ ہم یہ بات تو جانتے ہیں کہ فرشتہ ہے اور اس بات کا ہمیں یقین بھی ہے۔ لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ فرشتہ کیسا ہوتا ہے؟ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ سات آسمان ہیں لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ سات آسمانوں کا کیا مطلب ہے؟ کیا سماوات کوئی سات چھتیں ہیں، سات منزلیں ہیں، سات بلڈنگیں ہیں، سات زون ہیں؟ اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔ لیکن جب روحانیت آپ پڑھیں گے آپ کے اوپر آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ کے رموز کھلتے چلے جائیں گے اور یہ بات واضح ہو جائے گی کہ فرشتہ کیا ہوتا ہے؟ جنات کی مخلوق کیسی ہوتی ہے؟ تقدیر کیا ہے؟ تدبیر کیا ہے؟ عقل کیا ہے؟ فہم کیا ہے؟ بصارت اور بصیرت کسے کہتے ہیں؟ تزکیۂ نفس کیا ہے اوردیدار الٰہی سے ہم کس طرح لطف اندوز ہوتے ہیں؟
دنیاوی علوم پڑھنے کے بعد اس کا تھوڑا سا اندازہ تو ہو جاتا ہے لیکن پوری طرح اس کا ادراک نہیں ہوتا۔ مثلاً آپ پوچھیں کہ عقل کیا چیز ہے؟
میرا خیال ہے کوئی بھی آدمی عقل کی تشریح نہیں کر سکتا۔ عقل کوئی چڑیا ہے، عقل اکسیر کی پُڑیا ہے، عقل میں کوئی وزن ہے، کیا چیز ہے عقل؟ لیکن ایک روحانی آدمی عقل کی تشریح کر دیتا ہے۔ اگر اس کے اوپر اللہ کا انعام ہو اور اس نے کچھ سیکھ لیاہو۔
بتایا جاتا ہے کہ عقل ایک اضافی حس ہے۔ اضافی حس کے کیا معنی ہیں؟ حسیات اضافی نہیں ہوتیں۔ پانچ حسوں یا پانچ حواس کو ہم کسی بھی طرح اضافی نہیں کہہ سکتے۔ شہد کی مکھی، چڑیا، چیونٹی سے لے کر ہاتھی تک ہر فرد میں عقل موجود ہے اور اس عقل کا اظہار بھی ہوتا رہتا ہے۔
عقل میں کمی بیشی کو اور جسم کے بغیر عقل کی موجودگی کو ہم اضافی نہیں کہہ سکتے۔ ایک ہاتھی کے پیر کے نیچے ایک لاکھ چیونٹیاں آ جاتی ہیں لیکن جس طرح ہاتھی میں عقل ہے اس طرح ایک لاکھ چیونٹیوں میں عقل ہے۔ اگر عقل کا تعلق دماغ سے ہے تو ہر متحرک شئے میں دماغ ہے۔ بہت بڑا دماغ، چھوٹا دماغ اور بہت چھوٹا دماغ۔
تصوف پڑھا ہوا آدمی دنیا کو بہترین طریقہ پر برتتا ہے اور دنیا میں رہتے ہوئے اسے پرسکون زندگی نصیب ہو جاتی ہے۔ اگر انسان کے پاس کروڑوں روپیہ ہے اور اسے سکون نہیں ہے تو ان کروڑوں روپوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اگر انسان کے پاس کم سرمایہ ہے اور اس کی ساری ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں اور اسے سکون ہے تو وہ کروڑ پتی انسان سے بہتر ہے۔ جب انسان کو سکون نہیں ملتا تو اس کی نیند بھی اڑ جاتی ہے۔ اس کا معدہ خراب ہو جاتا ہے، اعصابی نظام خراب ہو جاتا ہے۔ بیمار ہو جاتا ہے، نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔ ایک پرسکون آدمی اس آدمی سے بہت زیادہ اچھا ہے جو بے سکون ہے۔
آج کی دنیا میں سب سے بڑا مسئلہ، سب سے بڑی پریشانی بنی نوع انسان کے لئے یہ ہے کہ آسائش و آرام کے وسائل کے باوجود سکون نہیں ہے۔ جس آدمی سے بات کی جائے وہ کہتا ہے مجھے سکون نہیں ہے، پریشانی ہے، نیند نہیں آتی۔ السر ہو گیا ہے، گردے فیل ہو گئے ہیں، کینسر چمٹ گیا ہے، دل کا عارضہ لاحق ہو گیا ہے۔
رونا رویا جاتا ہے کہ والدین اور بچوں کے درمیان Generation Gapآ گیا ہے۔ ایک عجیب افراتفری اور پریشانی ہے۔ اچھا لباس ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کھانے کے لئے اچھی غذا ہے، اچھا گھر ہے، دوست ہیں، احباب ہیں، دنیا کی ساری نعمتیں ہمیں میسر ہیں۔ پھر بے سکون ہونے کا کیا مطلب ہے؟
بے سکون ہونے کی وجوہات روحانی مکتبہ فکر سے معلوم ہوتی ہیں کہ انسان کی زندگی میں یقین ہے تو وہ پرسکون ہے اور اگر انسان کی زندگی میں شک ہے تو وہ کتنا ہی بڑا عالم و فاضل، علامہ، کروڑ پتی، جاگیردار، Land Lordبن جائے اسے سکون نہیں ملے گا۔
یقین سے مراد یہ ہے کہ ذہن میں یہ بات راسخ ہو جائے کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں وہ صحیح کر رہا ہوں۔ اگر انسان کے اندر یقین نہیں ہو گا تو وہ غیب کی دنیا کو نہیں سمجھ سکتا۔ اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ میں فرماتے ہیں:
“یہ کتاب ایسی کتاب ہے جس میں شک نہیں ہے۔”
انسان کے اندر اگر شک ہو گا تو وہ قرآن سے استفادہ نہیں کر سکتا۔ اللہ کی کتاب سے جب کوئی بندہ استفادہ نہیں کر سکتا تو وہ اللہ تک کیسے پہنچے گا؟ مخلوق کا خالق سے رشتہ کس طرح استوار ہو گا؟
روحانی علوم انسان کو اس پلیٹ فارم پر کھڑا کر دیتے ہیں جہاں یقین ہے، خوشی ہے، راحت و آرام ہے، پیار و محبت ہے، نفرت و حسد نہیں ہے، خود غرضی نہیں ہے، چھوٹوں پر شفقت ہے، والدین کا احترام ہے، لوگوں سے والہانہ تعلق خاطر ہے۔ یہ بڑی اہم بات ہے اور آپ سب لوگوں کو یاد رکھنی چاہئے کہ قرآن پاک کی رو سے جنت میں صرف اور صرف وہ بندہ جائے گا جو خوش رہتا ہے۔ جو بندہ اللہ پر یقین رکھتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کے احکامات پر عمل کرتا ہے۔ اگر بندہ ناخوش ہے قرآنی تعلیمات کے مطابق عمل نہیں کرتا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:
“اللہ کے دوستوں کو خوف اور غم نہیں ہوتا۔”
ظاہر ہے جنت کے مستحق وہی لوگ ہیں جو اللہ کے دوست ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 1 تا 23

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message