ترتیب و پیشکش

کتاب : ذات کا عرفان

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=6532

اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے 1991ء میں مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی مدظلہ تعالیٰ کی روحانی ڈائجسٹ میں تحریروں کو ایک جگہ جمع کر کے ایک کتاب توجیہات کے نام سے آپ کی خدمت میں پیش کی۔ جو اللہ کے فضل و کرم سے بہت زیادہ مقبول ہوئی اور دوستوں نے سوال جواب کے اس طریقہ کو بہت پسند کیا۔
اب پھر مرشد کریم کی تحریروں کو روحانی ڈائجسٹ سے اکٹھا کر کے آپ کے لئے کتاب ‘‘ذات کا عرفان’’ کے عنوان سے پیش خدمت ہے۔
میں اپنی اس کوشش میں کتنا کامیاب ہوا ہوں مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔ میں نے شروع دن سے سلسلہ کی ترویج اور ترقی کے لئے اور انسانیت کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے۔
مرشد کریم کی روشنی کو اس روئے زمین پر پھیلانا ہے۔ اور میں یہ کام اس وقت تک کرتا رہوں گا جب تک خود بھی اس روشنی کے اندر فنا ہو جاؤں اور آنے والی نسل مجھے خواجہ صاحب کا ایک دیوانہ قرار دے کر مجھے یاد کیا کرے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
‘‘ اور ذکر کیا کرو اپنے رب کے نام کا اور سب سے قطع تعلق کر کے اسی طرف متوجہ رہو۔’’
مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین فرماتے ہیں کہ یہ آیت ہمیں مراقبہ کا اصول اور طریقہ بتاتی ہے۔ مراقبہ کے لئے دو باتیں بڑی واضح طور پر بتائی گئی ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا ذکر اور سب سے قطع تعلق کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر اس کے ذکر میں مشغول ہو جان۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:
من عرف نفسہ فقد عرفہ ربہ
‘‘جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا۔’’
یہاں نفس سے مراد روح ہے۔ جو اپنی روح سے واقف ہو جاتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل ہو جاتا ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل ہو جاتا ہے۔ وہ اس بات سے واقف ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے سے کیا چاہتا ہے اور اس کی تخلیق کا مقصد کیا ہے، ایسے بندہ کو اللہ تعالیٰ کی توجہ حاصل ہو جاتی ہے۔ بندہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اختیارات منتقل ہو جاتے ہیں۔کائنات اس کے تابع ہو جاتی ہے۔ اس لئے قرآن پاک میں 750(ساڑھے سات سو) مرتبہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں تفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں تفکر کرتے ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کی مخفی حکمتیں منکشف ہوتی چلی جاتی ہیں۔ دنیا کی تمام تر ترقی کا دارومدار اسی تفکر یعنی (Research) پر ہے۔ کائنات کے راز ان ہی لوگوں پر کھل رہے ہیں جنہوں نے تفکر کو اپنا لیا ہے۔
تفکر ہی کے نتیجہ میں ریل گاڑی، ہوائی جہاز، موٹر کار، ٹیلی فون، ٹیلی ویژن، کمپیوٹر وغیرہ وجود میں آئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا یہ قانون سب کے لئے ہے۔ جو بھی اس پر عمل کرے۔ اسے فوائد حاصل ہو جائیں گے۔ مسلم اور غیر مسلم کی اس میں تحصیص نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے مرشد کریم کے روحانی فیض سے سرفراز فرمائے۔
میں نیواں میرا مرشد خواجہ عظیمی اُچّا
تے میں سنگ اُچیاں دے نال لائی
صدقے جاواں انہاں اُچیاں کولوں
جنہاں نیویاں نال نبھائی
میاں مشتاق احمد عظیمی
روحانی فرزند
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی
مراقبہ ہال (جامعہ عظیمیہ)
آہلوروڈ نزد کاہنہ نو لاہور
فون:7243541
تاریخ اشاعت
17۔ اکتوبر2003 ؁ء

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 7 تا 10

ذات کا عرفان کے مضامین :

ِ ترتیب و پیشکش  ِ 1 - ذات روح اور جسم  ِ 2 - روشنی کی رفتار  ِ 3 - ٹیلی پیتھی کیا ہے؟  ِ 4 - خواب کا علم  ِ 8 - عالم اعراف کی سیر  ِ 5 - عذاب قبر سے مراد  ِ 6 - اپنی سوچ بدلیں  ِ 7 - دنیا آخرت کی کھیتی  ِ 9 - اللہ کو پہچانئے  ِ 10 - اللہ کا امین  ِ 12 - مرد حق  ِ 11 - ذات مطلق کی شناخت  ِ 13 - تعویذ اور ہندسے کیا کام کرتے ہیں؟  ِ 15 - جنات کی حقیقت  ِ 14 - عالم اعراف اور عالم برزخ میں فرق  ِ 16 - اہرام مصر کیا ہیں؟  ِ 17 - اللہ کی جان  ِ 20 - روح امر الٰہی ہے  ِ 18 - اللہ ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے  ِ 19 - نفس کی خواہش  ِ 22 - روشنی + نور = نور مطلق  ِ 23 - کرامات اور سائنس  ِ 24 - ذات کا عرفان  ِ 21 - حضور غوث پاک  ِ 25 - خواب میں مستقبل کا انکشاف ہوتا ہے  ِ 27 - مراقبہ کی تعریف  ِ 26 - میری ڈائری  ِ 28 - شک کیا ہے  ِ 29 - وسط ایشیا میں نظام خانقاہی کا کردار  ِ 30 - دوبئی میں کتاب تجلیات کی رونمائی کے موقع پر  ِ 31 - انگلینڈ میں خطاب  ِ 32 - بی بی سی کے لئے ایک انٹرویو  ِ 33 - خواب اور بیداری  ِ 34 - مسلمان اور تسخیر کائنات  ِ 35 - علم الاسماء کیا ہیں؟  ِ 36 - روحانی استاد اور ٹیلی پیتھی  ِ 37 - تلاوت اور توجہ  ِ 38 - روحانیت اور قلب  ِ 39 - قرآن کانفرنس  ِ 40 - کمزور بچے کیوں؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)