تدلّٰی

کتاب : لوح و قلم

مصنف : حضور قلندر بابا اولیاءؒ

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2886

تدلّٰی اللہ تعالیٰ کی ان مجموعی صفات کا نام ہے جن کا عکس انسان کے ثابِتہ کو حاصل ہے۔ قرآنِ پاک میں جس نیابت کا تذکرہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے علمُ الاسماء کی حیثیت میں جو علم آدم کو تفویض کیا تھا اس کے اَوصاف اور اِختیار کے شعبے تدلّٰی ہی کی شکل میں وُجود رکھتے ہیں۔ کوئی شخص اگر اپنی نیابت کے اِختیارات کو سمجھنا چاہے تو اسے تدلّٰی کے اَجزاء کی پوری معلومات فراہم کرنا پڑیں گی۔
پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر اسم اللہ تعالیٰ کی ایک صفَت کا نام ہوتا ہے اور وہ صفَت جُزوی طور پر اللہ تعالیٰ کے نائب یعنی انسان کو ازل میں حاصل ہوئی تھی۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا ایک نام ہے ‘‘رحیم’’۔ اس کی صفَت ہے تخلیق یعنی پیدا کرنا۔ چنانچہ پیدائش کی جس قدر طرزیں مَوجودات میں استعمال ہوئی ہیں ان سب کا مُحرِّک اور خالق ‘‘رحیم’’ ہے۔ اگر کوئی شخص رحیم کی جُزوی صفَت کا فائدہ اٹھانا چاہے تو اس کو اسمِ رحیم کی صفَت کا زیادہ سے زیادہ ذخیرہ اپنے باطن میں کرنا ہو گا۔ اس کا طریقہ بھی مراقبہ ہے۔ ایک وقت مقرّر کر کے سالک کو اپنی فکر کے اندر یہ محسوس کرنا چاہئے کہ اس کی ذات کو اللہ تعالیٰ کی صفَت رحیمی کا ایک جُزو حاصل ہے۔
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے جہاں عیسیٰ علیہ السّلام کے معجزات کا تذکرہ کیا ہے، وہاں یہ بتایا ہے کہ میں نے عیسیٰ کو روح پھونکنے کا وصف بخشا ہے۔ یہ وصف میری طرف سے منتقل ہوا اور اس کے نتائج میں نے عطا کئے۔

  وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي ۖ وَتُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي ۖ وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِي ۖ (سورۂ مائدہ۔ آیت۱۱۰)

ترجمہ:

اور جب تو بناتا مٹی سے جانور کی صورت میرے حکم سے، پھر دم مارتا اس میں تو ہو جاتا جانور میرے حکم سے، اور چنگا کرتا ماں کے پیٹ کا اندھا اور کوڑھی کو میرے حکم سے، اور جب نکال کھڑے کرتا مُردے میرے حکم سے۔

الفاظ کے معانی میں اسمِ رحیم کی صفَت موجود ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 49 تا 50

لوح و قلم کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 0.02 - عرضِ احوال  ِ 1 - بسمِ اللہِ الرّحمٰن الرّحیم  ِ 2 - عالمِ رُؤیا سے انسان کا تعلق  ِ 3 - رُؤیا کی صلاحیّتوں کے مَدارِج  ِ 4 - لوحِ اوّل یا لوحِ محفوظ  ِ 5 - لوحِ دوئم  ِ 6 - عالمِ جُو  ِ 7 - کثرت کا اَجمال  ِ 8 - ‘‘جُو’’ کا واسطہ  ِ 9 - احساس کی درجہ بندی  ِ 10 - وَحدتُ الوُجود اور وَحدتُ الشُہود  ِ 11 - روحِ اعظم، روحِ انسانی، روحِ حیوانی اور لطائفِ ستّہ  ِ 12 - اسماءِ الٰہیہ  ِ 13 - اسماءِ الٰہیہ کی تعداد گیارہ ہزار ہے  ِ 14 - خواب اور بیداری  ِ 15 - لوحِ محفوظ اور مراقبہ  ِ 16 - تدلّٰی  ِ 17 - کُن فیَکون  ِ 18 - علمِ لدُنّی  ِ 19 - ہر اسم تین تجلّیوں کا مجموعہ ہے  ِ 20 - اسمِ ذات  ِ 21 - روح کی مرکزیّتیں اور تحریکات  ِ 22 - لطیفۂِ نفسی کی حرکت  ِ 23 - باصرہ اور شُہود نفسی  ِ 24 - عملِ اِسترخاء  ِ 25 - علم ‘‘لا’’ اور علم ‘‘اِلّا’’  ِ 26 - ‘‘لا’’ کا مراقبہ  ِ 27 - قوّتِ اَلقاء  ِ 28 - سالک مجذوب، مجذوب سالک  ِ 29 - نسبت کا بیان  ِ 30 - ٹائم اسپیس کا قانون  ِ 31 - زمانیت اور مکانیت کا راز  ِ 32 - کائنات کی ساخت  ِ 33 - نیابت کیا ہے؟  ِ 34 - لوحِ محفوظ کا قانون  ِ 35 - اَنا یا انسانی ذہن کی ساخت  ِ 36 - علمُ الیقین، عینُ الیقین، حقُ الیقین  ِ 37 - تخلیق کا قانون  ِ 38 - انبیاء کے مقامات  ِ 39 - تخلیق کا فارمولا  ِ 40 - ماضی اور مستقبل  ِ 41 - زمان و مکان کی حقیقت  ِ 42 - اِدراک کیا ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)