تابع فرمان سورج

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=12977

حضور علیہ الصّلوٰة والسّلام خیبر سے ایک منزل کے فاصلے پر صہبا کے مقام پر حضرت علیؓ کی گود میں سر رکھے آرام فرما رہے تھے۔ آفتاب غروب ہو گیا تو حضورؐ نے حضرت علیؓ سے دریافت فرمایا، ” اے علی! کیا تم نے نماز عصر قائم کرلی ہے ؟ “ حضرت علیؓ خاموش رہے۔ حضور علیہ الصّلوٰة والسّلام نے بارگاہ الٰہی میں عرض کی، ” اے اللہ! علی ؓ تیری اطاعت اور تیرے رسول کی اطاعت میں مصروف تھا، تو اس کے لئے سورج کو پھیر دے۔ “ غروب ہونے والا سورج پلٹ آیا اور زمین پر دھوپ پھیل گئی۔

**********************

قدیم زمانہ میں سورج کی پرستش ہوتی تھی۔ مصریوں نے سورج کو راء یونانیوں نے ہیلیوس اور رومن قوم نے اسے سول کا نام دیا ہے۔ کہکشاں میں سورج ایک اوسط درجے کا ستارہ ہے۔ جو کہکشاں کے مرکز سے دو تہائی باہر، دو گھومتے ہوئے دائروں کے درمیان واقع ہے۔ ہماری کہکشاں (Spirel Milky Way Galaxy) کے اردگرد بیس (۲۰) کہکشائیں ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ کائنات پندرہ یا بیس ارب سال پہلے وجود میں آئی۔ کائنات میں ایک سو ارب کہکشائیں ہیں اور ہر کہکشاں میں ایک سو ارب ستارے ہیں۔
سائنس دان اس پر متفق ہیں کہ کائنات کا تخلیقی مادّہ ہائیڈروجن کے ایٹموں پر مشتمل ہے۔ علم فلکیات کے ماہرین نے کائنات کی وسعت کا اندازہ پندرہ ارب نوری سال لگایا ہے۔ روشنی ایک سیکنڈ میں تقریباً تین لاکھ کلومیٹر فاصلہ طے کرتی ہے۔ اس رفتار سے ایک سال میں جتنا فاصلہ روشنی طے کرتی ہے وہ نوری سال کہلاتا ہے۔ سورج ملکی وے گلیکسی (Milky Way Galaxy)کے مرکز سے تیس ہزار نوری سال کے فاصلہ پر ہے۔

قدیم نظریہ کے مطابق زمین کو کائنات میں مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ اہلِ بابل کا خیال تھا کہ زمین ایک قرص کی مانند ہے جو سمندر کے پانی سے چاروں طرف سے گھری ہوئی ہے اور آسمان پیالے کی مانند چپٹی زمین کے اوپر الٹا رکھا ہوا ہے۔ چاند سورج اور دیگر ستارے زمین کے گرد گھومتے ہیں۔ یونانی فلسفیوں کا خیال تھا کہ آسمان نے ایک کھوکھلے گلوب کی مانند زمین کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے اور ستارے نگینوں کی طرح آسمان سے جڑے ہوئے ہیں۔ آسمان محور کے اوپر کھڑا ہے جو زمین کے وسط میں گاڑ دیا گیا ہے۔ آسمان روزانہ مغرب کی طرف حرکت کرتا ہے۔
رومی سلطنت کے زوال کے بعد مسلمانوں نے اپنے دور میں علمِ نجوم اور علم ریاضی کو ترقی دی۔ ستاروں کی رفتار کا صحیح حساب لگایا، رصدگاہیں قائم کیں۔ تاہم کائنات کے بارے میں قدیم نظریات کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

جدید تحقیقات کی روشنی میں جو کائنات آج ہمارے سامنے ہے وہ پرانے زمانے یا قرونِ وسطٰی کی تحقیق سے بہت مختلف ہے۔ چونکہ تحقیق و تلاش اور تفکر کا عمل جاری ہے اس لئے آئندہ کائنات کی تصویر اس سے بالکل مختلف ہوگی جو آج ہمارے سامنے ہے۔

علم فلکیات کی بنیادی معلومات یہ ہیں کہ سیارے، ستاروں کے گرد گردش کرتے ہیں۔ ستارے (Stars)اپنے نور سے منور ہیں اور سیارے (Planets)روشنی کے انعکاس کی وجہ سے نظر آتے ہیں۔
سیاروں کو بحیثیت سرد اجسام کے شناخت کیا گیا ہے۔ سورج اپنے (۹) معلوم سیاروں اور ان کے چاندوں، ڈیڑھ ہزار سے زائد سیارچوں (Astroids)ان گنت دم دار تاروں (Comets)اور بے شمار شہابیوں کے ہمراہ ملکی وے گلیکسی کے مرکز کے اطراف گھوم رہا ہے۔ ایک چکر مکمل کرنے کے لئے بیس کروڑ سال کا عرصہ لگتا ہے۔ گیسوں کا مرکب ہونے کی وجہ سے سورج کی محوری حرکت یکساں نہیں ہے۔ خطِ استواء پر اپنے محور پر سورج۲۷ دن میں ایک چکر پورا کرتا ہے۔ جبکہ قطبین پر اس کا چکر ۳۴ دن میں پورا ہوتا ہے۔ سورج کے گرد اس کے سیارے بیضوی مدار (Elliptical Orbits)میں حرکت کررہے ہیں۔

سائنسدانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ سورج کی سطح کا قطر آٹھ لاکھ ساٹھ ہزار میل سے زیادہ ہے۔ درجہ حرارت۶۰۰۰ درجہ سینٹی گریڈ ہے۔ ٹیلی اسکوپ کی مدد سے سورج کی سطح پر داغ دیکھے گئے ہیں۔ اوسطاً گیارہ سال کے بعد سورج کے دھبے بڑی تعداد میں ظاہر ہوئے ہیں۔ سورج کے دھبوں کا مرکزی حصہ امبرا کہلاتا ہے۔ یہ چھ ہزار چار سو درجے فارن ہائیٹ درجہء حرارت کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے اطراف کا حصہ کم سیاہ نظر آتا ہے۔ یہاں کی سفید گرم گیسوں کی تپش ۱۱۰۰۰ درجے فارن ہائیٹ ہے۔ یہ شدید مقناطیسی طاقت کے مقامات ہیں۔ تین سو۱۰۰۰ کلومیٹر کی رفتار سے برقبار ذرّوں کی حامل شمسی ہوا زمین کے قطبین کے مابین قائم مقناطیسی میدان میں جب داخل ہوتی ہے تو شمسی ہوا کے برقبار ذرّے زمین کے مقناطیسی میدان سے تعامل کرتے ہیں اور روشنی کی چمکدار لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ جنہیں انوار قطبی یا ارورا (Aurorae)کہتے ہیں۔

نظام شمسی میں گردش کرنے والے اجرام کو سورج کی توانائی (Radiant Energy)منتقل ہوتی رہتی ہے۔ ماہرین کے معلوم کردہ نو سیارے اپنے چاندوں کے ہمراہ انٹی کلاک وائز (Anti Clock (Wiseسورج کے گرد اپنے اپنے مداروں میں گردش کر رہے ہیں۔ زمین سے سورج کا فاصلہ نو کروڑ تیس لاکھ میل ہے۔ زمین سورج کے گرد ۳۰ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔ سورج کے اطراف اپنی مدار میں زمین کا ایک چکر، ایک سال میں پورا ہوتا ہے۔ اس گردش سے زمین پر موسم تبدیل ہوتے ہیں۔ سورج کے گرد گھومنے کے ساتھ ساتھ زمین اپنے محور پر گھوم رہی ہے۔ یہ محوری گردش ۲۳ گھنٹے اور ۵۶ منٹ میں مکمل ہوتی ہے۔ محموری گردش دن کو رات سے بدل دیتی ہے اور رات کو دن میں تبدیل کر دیتی ہے۔ زمین کا جو حصہ سورج کی طرف ہوتا ہے۔ وہاں دن ہوتا ہے اور جو حصہ سائے میں ہوتا ہے وہاں رات کا اندھیرا پھیل جاتا ہے۔

سائنس دانوں کی تحقیق و تلاش اور زمین اور سورج کے بارے میں ان کے نظریات سے اس لئے اتفاق نہیں کیا جاسکتا کہ موجودہ زمانے کی تحقیق و تلاش اور قرونِ وسطٰی کی تحقیق و تلاش مختلف ہے اور آئندہ اور زیادہ مختلف ہوگی۔ لیکن سائنس نے جتنی تحقیق و تلاش کی ہے اس کا سہرا بلا شبہ سائنس دانوں کے سر پر سجا ہوا ہے۔ سائنس جو کچھ کہتی ہے اس کا تعلق مادّیت کے زیر اثر مشاہدے سے ہے۔ جیسے جیسے تلاش آگے بڑھتی ہے اور اس تلاش میں تفکر گہرا ہوتا ہے تو مشاہدات میں تبدیلی واقع ہوتی رہتی ہے۔ جب ہم نظریاتی مشاہدے کا تذکرہ کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ مادّی وسائل کو بروئے کار لا کر کسی چیز کو سمجھا گیا ہے۔ یعنی جو چیز بھی دیکھی گئی اس کے دیکھنےکے عمل میں مادّیت کا عمل دخل ہے جبکہ مادّیت بجائے خود ایک مفروضہ ہے۔ مفروضہ سے مراد یہ نہیں ہے کہ کوئی نتیجہ مرتب نہیں ہوتا۔ نتیجہ ضرور مرتب ہوتا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ نتائج میں حقائق کا کتنا عمل دخل ہے اور حقیقتِ ثابتہ پر سے کتنا پردہ اٹھا ہے۔ مشاہدہ یہ ہے کہ لکڑی کو جب سلگایا جاتا ہے تو آگ بن جاتی ہے۔ لیکن جب ہم لکڑی کی پیدائش پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ زمین کے اوپر موجود ہر شئے اور لکڑی کی تخلیق میں براہ راست پانی کا غالب عمل دخل ہے۔ پانی جو بجھانے والی شئے سمجھی جاتی ہے اس کے اندر بھی آگ کا عنصر ہے۔ سائنسی ایجاد اور ترقی سے انکار نہیں لیکن یہ بات بہرحال اپنی جگہ اہم ہے کہ سائنسی تحقیق و تلاش کا رجحان جس قدر فکشن کی طرف ہے اس کا عشرِعشیر بھی حقیقت کو پانے کے لئے نہیں ہے۔
زمانہء قدیم کے ماہرینِ فلکیات ہوں یا زمانہء جدید کے ماہرین ان کا کہنا ہے کہ سورج میں روشنی ہے، تپش ہے۔ علمائے باطن کہتے ہیں کہ سورج میں روشنی نہیں ہے۔ اصل میں زمین روشن ہے۔ زمین محوری اور طولانی حرکت مین گردش کر رہی ہے۔ روشن زمین کا انعکاس سورج کے اوپر ہوتا ہے اور سورج کا انعکاس دھوپ ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا ہے:

ترجمہ:
’’قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی اور قسم ہے چاند کی جب سورج کے پیچھے آئے اور قسم ہے دن کی جب ظاہر کرے اس کو اور رات کی جب ڈھانک لے اس کو ۔‘‘
( الشمس۱۔۴)

زمین ایک گلوب ہے جو اپنے مدار پر ہر وقت متحرک رہتا ہے۔ زمین کے دو وجود ہیں۔ ایک وجود ظاہری ہے اور زمین کا دوسرا وجود باطنی ہے۔ زمین کا باطنی وجود ایسی ماورائی لہروں سے بنا ہوا ہے جو براہ راست نور سے فیڈ ہوتی ہیں۔ یہ روشنیاں ماورائے بنفشی شعاعوں سے بھی زیادہ لطیف ہیں۔ کسی بھی مادی وسیلے سے نظر نہ آنے والی روشنیاں سورج کے اوپر منعکس ہوتی رہتی ہیں۔ سورج ایک ایسا سیاہ طباق ہے یا توے کی طرح ہے جس میں اتنی تاریکی اور سیاہی ہے کہ دنیا میں لاکھوں سال میں رائج الفاظ میں اس تاریکی کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس سیاہ توے یا سورج پر جب لطیف روشنیاں پڑتی ہیں تو سورج سے منعکس ہو کر زمین پر آتی ہیں اور یہی وہ روشنی ہے جس کو دھوپ کہتے ہیں۔
شعوری دنیا کے اوپر تفکر کرنے سے یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ زمینی دنیا میں ہر مخلوق دو شعور رکھتی ہے یا دو حواس رکھتی ہے یا زندگی گزارنے کی دو طرزیں متعین ہیں۔ حواس کی ایک قسم یہ ہےکہ آدمی کھلی آنکھوں، حاضر اور غیر حاضر دماغ اور مادّی وجود کی حرکت کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ زندگی گزارنے کی دوسری طرز یہ ہے کہ ہر مخلوق بند آنکھوں، غیر حاضر دماغ اور جسمانی اعضاء کی حرکت کے بغیر زندگی گزارتی ہے اور ان دونوں زندگیوں مین کوئی فرق نہیں ہے۔ مخلوق جو زندگی شعور میں گزارتی ہے اس کو اللہ تعالی نے نہار یا دن کہا ہے اور مخلوق جو زندگی شعور سے باہر ہو کر گزارتی ہے اس کو قرآن نے لیل یا رات کہا ہے۔
باطن الوجود میں ایک ایجنسی ہے جو اطلاعات کو قبول کرتی ہے، تبدیل کرتی ہے یا رد کر دیتی ہے۔ ایجنسی جس پر اطلاعات میں معانی پہنانے کا دارومدار ہے جب شعوری حواس کا غلبہ ہوتا ہے تو انسان کی نگاہ ان کو دیکھتی ہے اور جب معانی پہنانے والی ایجنسی پر شعور کا غلبہ ختم ہوجاتا ہے اور لاشعوری تحریکات شروع ہوجاتی ہیں تو انسان رات دیکھتا ہے۔
آدمی کسی بھی لمحے حواس سے آزاد نہیں ہوتا۔ جب شعوری حواس کا غلبہ نہیں رہتا تو لاشعوری حواس غالب ہو جاتے ہیں۔

ترجمہ:

  1. ’’ہم داخل کرتے ہیں رات کو دن میں اور داخل کرتے ہیں دن کو رات میں‘‘۔
  2. ’’ اور ہم نکالتے ہیں رات کو دن میں سے اور نکال لتے ہیں دن سے رات‘‘۔
  3. ’’ہم ادھیڑ لیتے ہیں رات پر سے دن کو‘‘۔

 

اللہ تعالی کے ان ارشادات میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ رات اور دن دو حواس ہیں یعنی ہماری زندگی دو حواسوں میں سفر کرتی ہے۔ ایک حواس کا نام دن ہے دوسرے حواس کا نام رات ہے۔ دن کے حواس میں ہم زمان و مکاں کے پابند ہیں اور رات کے حواس میں ہم زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوجاتے ہیں۔
اللہ تعالٰی نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کائنات پر حاکمیت عطا کی ہے۔ حاکمیت سے مراد یہ ہے کہ دن، رات، چاند، سورج اور ستاروں پر بھی سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام حکمراں ہیں۔

ترجمہ:
’’اس نے تمہارے لئے رات اور دن کو اور سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے اور سب ستارے بھی اس کے حکم سے مسخر ہیں۔ اس میں بہت نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔‘‘
( النحل۔۱۲)

ترجمہ:
’’کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اس نے وہ سب کچھ تمہارے لئے مسخر کر رکھا ہے جو زمین میں ہے اور اسی نے کشتی کو قاعدے کا پابند بنایا ہے کہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے اور وہی آسمان کو اس طرح تھامے ہوئے ہے کہ اس کے اذن کے بغیر وہ زمین پر نہیں گر سکتا۔ بے شک اللہ لوگوں کے حق میں بڑا شفیق اور رحیم ہے۔‘‘
( الج ۔۶۵)

ترجمہ:
’’کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمانوں اورزمین کی ساری چیزیں تمہارے لئے مسخر کر رکھی ہیں اور اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں تم پر تمام کر رکھی ہیں اور انسانوں میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی علم ہو یا ہدایات ہو یا کوئی روشنی دکھانے والی کتاب ہو ۔‘‘
(لقمٰن۔۳۰)

ترجمہ:

’’وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے سمندر کو مسخر کیا تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں اس میں چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور شکر گزار ہو۔ اس نے آسمانوں اور زمین کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے، سب کچھ اپنے پاس سے، اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔‘‘
(الجاثیہ۔۱۳۔۱۲)

حضرت علیؓ کی نماز قضاء ہوئی اور ابوجہل اور یہودی عالم نے شق القمر کے معجزے کے بارے میں کہا تو حاکمِ کائنات سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام نے ان اختیارات کا استعمال کیا جو اللہ نے انہیں سورج کو مسخر کرنے، چاند کو مسخر کرنے اور کائنات کو مسخر کرنے کے لئے عطا فرمائے ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 62 تا 73

محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم کے مضامین :

ِ یا صاحب الجمال  ِ دیباچہ  ِ 1 - قرآن اور آسمانی کتابیں  ِ 2.1 - ستارے قریب آئے  ِ 2.2 - پنگوڑے میں چاند  ِ 2.3 - مائی حلیمہ  ِ 2.4 - دو اجنبی  ِ 3.1 - بادلوں کا سایہ  ِ 3.2 - بارش کا وسیلہ  ِ 3.3 - درخت، پتھر سجدے میں گر گئے  ِ 3.4 - نبیوں کا درخت  ِ 4 - تبت یدا  ِ 5 - دو کمانوں سے کم فاصلہ  ِ 6 - ہجرت کی رات  ِ 7.1 - دو سردار  ِ 7.2 - نگاہ مرد حق آگاہ  ِ 8.1 - جب چاند دو ٹکڑے ہوا  ِ 8.2 - تابع فرمان سورج  ِ 9 - پہاڑ نے حکم مانا  ِ 10 - پتھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے موم ہو گئے  ِ 11 - سنگریزوں نے کلمہ پڑھا  ِ 12 - باطل مٹ گیا  ِ 13 - درخت کی گواہی  ِ 14 - حنین جذع کا واقعہ  ِ 15.1 - کھجور کی تلوار  ِ 15.2 - لاٹھی قندیل بن گئی  ِ 15.3 - لکڑی میں روشنی  ِ 16.1 - اونٹ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں سر رکھا  ِ 16.2 - اونٹ نے شکایت کی  ِ 16.3 - ہرنی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی  ِ 17 - اور آپؐ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک  ِ 18.1 - مستجاب الدعٰوۃ  ِ 18.2 - شیر آیا  ِ 18.3 - پانی برسا  ِ 18.4 - ابو ہریرہؓ کی ماں  ِ 18.5 - اندھی آنکھ میں بینائی  ِ 18.6 - کھانے میں برکت  ِ 19 - جنگ خندق  ِ 20 - حضرت عائشہؓ کی برأت  ِ 21 - حدیبیہ میں کنواں  ِ 22.1 - کعبہ کی کنجی  ِ 22.2 - بائیکاٹ  ِ 22.3 - سراقہ اور کنگن  ِ 23 - دست رحمت  ِ 24 - جن نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلدی چلو  ِ 25.1 - بچانے والا اللہ ہے  ِ 25.2 - مغربی حاجی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)