بے سکونی کیوں ہے؟

کتاب : آگہی

مصنف : خواجہ شمس الدۤین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=11676

مورخہ 2مارچ 2001 ؁ء جمعتہ المبارک
دنیا میں ساڑھے گیارہ ہزار مخلوقات آباد ہیں۔ جن میں انسان اشرف المخلوقات ہے۔ مخلوق کی بے شمار قسمیں ہیں۔ ضروریات سب کی یکساں ہیں۔ سب کے گھر ہیں۔ سب کو علم ہے کیا کھانا چاہئے، کیا نہیں کھانا چاہئے۔ مخلوق بیمار ہوتی ہے، صحت مند بھی ہوتی ہے، پیدا ہوتی ہے اور دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے۔

آدمی کہتا ہے میں عقلمند ہوں لیکن بکری میں بھی عقل ہوتی ہے۔ بکری کی تخلیق ایسی نہیں ہے کہ وہ گاڑی چلا سکے جبکہ آدمی کی ساخت ایسی ہے کہ وہ گاڑی چلا سکتا ہے۔ آدمی اور جانور میں فرق صرف عقل و شعور کے استعمال کا ہے۔ آدمی کی فضیلت صرف علم کی بنیاد پر ہے۔ آج کا آدمی پریشان کیوں ہے؟

جب اللہ تعالیٰ نے کائنات بنانے کا ارادہ کیا تو فرمایا ’’کن‘‘ اور ’’فیکون‘‘ ہو گیا۔ کائنات میں تمام مخلوقات شامل ہیں۔ انسان، فرشتے، جنات، نباتات، جمادات اور حیوانات وغیرہ۔

اللہ تعالیٰ نے تعارف اس طرح کرایا ہے۔۔۔

’’میں تمہارا رب ہوں۔‘‘

(سورۃ الاعراف۔ آیت ۱۷۲)

مخلوق نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا، اللہ تعالیٰ کی آواز سنی اور پہچان کر کہا۔۔۔

’’جی ہاں! آپ ہمارے رب ہیں۔‘‘

(سورۃ الاعراف۔ آیت ۱۷۲)

اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو حواس بخشے۔

یہ ساری باتیں عالم ارواح میں ہوئیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو خصوصی علم سکھایا۔
مثال

آپ یہاں 50افراد بیٹھے ہیں، سب مجھے دیکھ رہے ہیں کہ عظیمی صاحب تقریر کر رہے ہیں۔ آپ میں سے میں ایک آدمی کو علم سکھاتا ہوں۔ وہ بندہ جس کو علم سکھایا وہ علم سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو کیا ہو گا؟

وہ محروم رہے گا اور محرومی اسے بے سکون کر دے گی۔انسان کو چاہئے کہ اپنی زندگی مسافر کی طرح گزارے اور علم حاصل کرے۔ علم میں اولیت روحانی علوم کی ہے۔ آج آدمی کیوں پریشان ہے؟

جبکہ باقی مخلوق بے سکون نظر نہیں آتی۔ مگر آدمی بے سکون ہے۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ آدم دوسری مخلوقات کے مقابلے میں زیادہ سکون سے زندگی گزارتا۔

ہر مخلوق اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے۔ ہر مخلوق اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے۔ کبوتر غٹرغوں کرتا ہے، طوطا ٹائیں ٹائیں کرتا ہے۔ مختلف جانور اپنی اپنی بولی بولتے ہیں۔ صبح آپ کسی جنگل میں یا ویرانے میں یا کسی باغ میں چلے جائیں۔ چڑیوں کی چہکار سنائی دیتی ہے۔ سب مخلوق اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے۔ درخت حمد و ثناء کرتے ہیں۔ لاکھوں مخلوق تسبیح کرتی ہے۔ پرندے شام کو گھونسلے میں چلے جاتے ہیں اور مغرب کے بعد بالکل خاموشی چھا جاتی ہے۔

حضور قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں کہ۔۔۔

’’پرندے جلد سو جاتے ہیں اور آدھی رات کو اٹھ کر مراقبہ کرتے ہیں۔ صبح اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں اور اپنے کاموں پر نکل جاتے ہیں۔‘‘

ہمیں نماز میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں، بعض اوقات تو ایک رکعت بھی صحیح طور پر ادا نہیں ہوتی۔ حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جو خصوصی علم عطا کیا ہے آدمی اگر اس علم کو سیکھ لے تو وہ پرسکون اور یکسو رہتا ہے اور انسان کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ انسان نے عالم ازل میں اللہ تعالیٰ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ مخلوق ہیں، اللہ تعالیٰ اس کے رب ہیں، ہر آدمی یہ جانتا ہے کہ وہ پیدا ہوتا ہے، جوان ہوتا ہے، خورد و نوش کا انتظام کرتا ہے۔ آدمی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس بات کو تلاش کرے اسے کس نے پیدا کیا ہے اور وہ اپنی مرضی سے دنیا میں کیوں نہیں رہ سکتا۔ اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہے۔ ہم اس وعدے سے انحراف کر رہے ہیں اس لئے بے سکون اور پریشان ہیں۔

 

 
لیکچر6

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 243 تا 245

آگہی کے مضامین :

ِ انتساب  ِ پیش لفظ  ِ 1 - روحانی اسکول میں تربیت  ِ 2 - با اختیار بے اختیار زندگی  ِ 3 - تین سال کا بچہ  ِ 4 - مرید کی تربیت  ِ 5 - دس سال۔۔۔؟  ِ 6 - قادرِ مطلق اللہ تعالیٰ  ِ 7 - موت حفاظت کرتی ہے  ِ 8 - باہر نہیں ہم اندر دیکھتے ہیں  ِ 9 - اطلاع کہاں سے آتی ہے؟  ِ 10 - نیند اور شعور  ِ 11 - قانون  ِ 12 - لازمانیت اور زمانیت  ِ 13 - مثال  ِ 14 - وقت۔۔۔؟  ِ 15 - زمین پر پہلا انسان  ِ 16 - خالق اور مخلوق  ِ 17 - مٹی خلاء ہے۔۔۔  ِ 18 - عورت کے دو رُخ  ِ 19 - قانون  ِ 20 - ہابیل و قابیل  ِ 21 - آگ اور قربانی  ِ 22 - آدم زاد کی پہلی موت  ِ 23 - روشنی اور جسم  ِ 24 - مشاہداتی نظر  ِ 25 - نیند اور بیداری  ِ 26 - جسمِ مثالی  ِ 27 - گیارہ ہزار صلاحیتیں  ِ 28 - خواتین اور فرشتے  ِ 29 - روح کا لباس؟  ِ 30 - ملت حنیف  ِ 31 - بڑی بیگمؓ، چھوٹی بیگمؓ  ِ 32 - زم زم  ِ 33 - خواتین کے فرائض  ِ 34 - تیس سال پہلے  ِ 36 - کہکشانی نظام  ِ 37 - پانچ حواس  ِ 38 - قانون  ِ 39 - قدرِ مشترک  ِ 40 - قانون  ِ 41 - پچاس سال  ِ 42 - زندگی کا فلسفہ  ِ 43 - انسانی مشین  ِ 44 - راضی برضا  ِ 45 - زمانے کو بُرا نہ کہو، زمانہ اللہ تعالیٰ ہے(حدیث)  ِ 46 - مثال  ِ 47 - سائنس اور روحانیت  ِ 48 - مادی دنیا اور ماورائی دنیا  ِ 49 - چاند گاڑی  ِ 50 - تین ارب سال  ِ 51 - کائناتی نظام  ِ 52 - تخلیق کا قانون  ِ 53 - تکوین  ِ 54 - دو علوم۔۔۔  ِ 55 - قانون  ِ 56 - ذات کا عرفان  ِ 57 - روحانی شاگرد  ِ 58 - ذات کی نفی  ِ 59 - پانچ کھرب بائیس کروڑ!  ِ 60 - زندگی کا تجزیہ  ِ 61 - عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ  ِ 62 - دین فطرت  ِ 63 - عید  ِ 64 - ملائکہ اعلان کرتے ہیں  ِ 65 - بچے اور رسول اللہﷺ  ِ 66 - افکار کی دنیا  ِ 67 - مثال  ِ 68 - تحقیق و تلاش  ِ 69 - Kirlian Photography  ِ 70 - قرآن علوم کا سرچشمہ ہے  ِ 71 - روشنی سے علاج  ِ 72 - روشنی کا عمل  ِ 73 - چھ نقطے  ِ 74 - قانون  ِ 75 - امراض کا روحانی علاج  ِ 76 - مشق کا طریقہ  ِ 77 - نور کا دریا  ِ 78 - ہر مخلوق عقل مند ہے  ِ 79 - موازنہ  ِ 80 - حضرت جبرائیل ؑ  ِ 81 - ڈائری  ِ 82 - ماں کی محبت  ِ 83 - حضرت بہاؤ الدین ذکریا ملتانیؒ  ِ 84 - اکیڈمی میں ورکشاپ  ِ 85 - زمین اور آسمان  ِ 86 - ورد اور وظائف  ِ 87 - آواز روشنی ہے  ِ 88 - مثال  ِ 89 - نگینوں سے علاج  ِ 90 - تقدیر کیا ہے؟  ِ 91 - مثال  ِ 92 - حضرت علیؓ کا ارشاد  ِ 93 - فرشتے، جنات اور آدم ؑ  ِ 94 - انسان اور موالید ثلاثہ  ِ 95 - سلطان  ِ 96 - مثال  ِ 97 - دو رخ  ِ 98 - سیاہ نقطہ  ِ 99 - قانون  ِ 100 - کوئی معبود نہیں مگر اللہ تعالی۔۔۔  ِ 101 - تین کمزوریاں  ِ 102 - عفو و درگذر  ِ 103 - عام معافی  ِ 104 - توازن  ِ 105 - شکر کیا ہے؟  ِ 106 - قافلہ سالار  ِ 107 - ٹیم ورک  ِ 108 - سلسلہ عظیمیہ کے ارکان کی ذمہ داری  ِ 109 - چھوٹوں کی اصلاح  ِ 110 - ایک نصیحت  ِ 111 - صبحِ بہاراں  ِ 112 - دنیا مسافر خانہ ہے  ِ 113 - روح کیا ہے؟  ِ 114 - سانس کی مشقیں  ِ 115 - من کی دنیا  ِ 116 - بے سکونی کیوں ہے؟  ِ 117 - غور و فکر  ِ 118 - روحانی علوم  ِ 119 - ہمارے بچے  ِ 120 - اللہ تعالیٰ بہت بڑے ہیں  ِ 121 - اللہ ھُو  ِ 122 - اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کو مانگو  ِ 123 - قربت  ِ 124 - ہر مخلوق باشعور ہے  ِ 125 - کامیاب زندگی  ِ 126 - انا کی لہریں  ِ 127 - صدقۂ جاریہ  ِ 128 - ادراک یا حواس
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message