بے سکونی کا سبب

کتاب : وقت؟

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=19767

پناہ مانگتا ہوں میں اللہ سے شیطان مردود کے بچھائے ہوئے جال میں گرفتار ہونے سے……
یہ دنیا کب بنی؟…… کتنے قرن اس پر جنات کی حکمرانی رہی؟…… اس دور میں زمین پر کتنے کانٹے بکھیرے گئے؟…… اور کتنے پھول کھلے؟…… خزاں کے کتنے دور آئے؟…… اور زمین نے بہار کے کتنے موسم دیکھے؟…… کتنے سیلاب آئے اور سمندری طوفانوں نے زمین کا کیا حشر کیا؟…… زمین پر ہونے والے فسادات، قتل اور خون ریزی کی کوئی فہرست بھی انسانوں کے سامنے نہیں ہے!…… کتنے اچھے کام ہوئے؟…… مساجد، مندر، گرجا، صلوٰات Synagogueتعمیر ہوئے؟…… زمین کی تاریخ میں زمین کی سطح پر ماضی میں بنا ہوا نقشہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہاں جنات کے دور میں مصلح قوم، رشی، مُنی، اوتار، صوفی اور اس کے برعکس تخریب پسند لوگ بھی موجود رہے……
آج کل سائنسی علوم کا غلغلہ ہے…… سائنسی علوم کی اصطلاحات، سائنسی علوم کے نظریات اور سائنسی علوم کی روشنی نے ہر باشعور آدمی کو اپنی طرف اس طرح متوجہ کیا ہوا ہے کہ اب ہمارے بڑے بڑے جید علماء، مفکر، مقرر اور رشد و ہدایت کے دعویدار لوگ بھی مذہب اور مذہبی رموز و نکات کو سائنس سے ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں…… ہر بڑے سے بڑا عالم اس بات کی کوشش میں نادانستہ طور پر مصروف ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو سائنسی علوم سے ثابت کرے…… وہ کہتا ہے کہ اگر پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے چودہ سو سال پہلے کوئی بات کہی تھی تو سائنس اس کی تصدیق کرتی ہے…… یعنی الٰہی علوم کو سائنس کے تابع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے…… یہ عجیب اتفاق یا نادانی ہے کہ میں بھی اس گروہ میں شامل رہا ہوں……
سائنس کی ہر ایجاد، سائنس کا ہر علم، سائنس کا ہر نظریہ بہرحال انسانی دماغ کی اختراع، انسانی دماغ کی ایجاد یا انسانی دماغ کی کوشش ہے…… جس کوشش میں کسی نہ کسی طرح انسانی حواس کا عمل دخل ہے…… ایسے حواس جو ہر لمحہ تغیر پذیر ہیں…… بدلتے رہتے ہیں…… ان میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی رہتی ہے۔
مثلاً…… زمین کی عمر کے بارے میں جب ہمیں اطلاع فراہم ہوتی ہے تو کوئی سائنٹسٹ زمین کی عمر تین ارب سال بتاتا ہے۔ دوسرا سائنٹسٹ زمین کی عمر کا اندازہ کروڑوں سال میں لگاتا ہے، تیسرا سائنٹسٹ زمین کی عمر لاکھوں سال پر محیط دیکھتا ہے اور چوتھا سائنسدان بتاتا ہے کہ زمین سترہ یا اٹھارہ مرتبہ تباہ ہو کر وجود میں آئی ہے…… اس تباہی کے بارے میں کوئی سائنٹسٹ پانچ ہزار سال متعین کرتا ہے اور کوئی سائنٹسٹ زمین کی عمر دس ہزار سال بتاتا ہے……
انسان کی تخلیق کے پہلے مرحلے میں فرشتوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا تھا کہ آدم زمین پر فساد برپا کر دے گا…… خون ریزی اور قتل و غارت گری زمین کو خون سے گل رنگ کر دے گی…… آہ بکا کی آوازیں چوپایوں، پرندوں اور سننے والی ہر مخلوق کے ہر فرد کو بہرا کر دے گی…… سماعت ختم ہو جائے گی…… آنکھیں پتھر بن جائیں گی اور زمین پر فساد ختم نہیں ہو گا…… آج کے دور میں جب ہم ایٹمی بھٹیوں کو سلگتا ہوا دیکھتے ہیں اور زمین پر آہ و بکا کی آوازیں آسمان سے ٹکراتی ہیں، غم و اندوہ کی لہریں فضاؤں کو رُلاتی ہیں تو فرشتوں کا یہ کہنا کہ آدم زمین میں فساد کرے گا…… تصدیق کی کسوٹی پر پورا اُترتا ہے……
زمین کی کہانی کچھ اس طرح بیان کی جا سکتی ہے کہ زمین کے مالک و خالق نے عناصر سے زمین کو بنایا…… ان عناصر میں تخریب اور تعمیر دونوں طرح کے عناصر موجود ہیں…… زمین پر آتش فشاں بھی ہیں، زمین پر لہلہاتی کھیتیاں اور ایک پیر پر کھڑے ہوئے ہرے بھرے درخت بھی ہیں……
جنات کے بارے میں ہمارے پاس کوئی تاریخی شواہد نہیں ہے…… البتہ آدم کی تاریخ Historyہمارے پاس موجود ہے…… یہ الگ بات ہے کہ ہم تاریخ Dateکا تعین کرنے میں بالکل بے بس اور مجبور ہیں……
قتل و غارت گری، اقتدار اور حکمرانی کی خواہش، بے پناہ طاقت کا مظاہرہ، چشم زدن میں لاکھوں انسانوں کی موت اور خود غرضی…… زر پرستی، بے رحمی اور درندگی نے زمین کو پھر نزع کے عالم میں مبتلا کر دیا ہے……
اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق انسان کو تعمیر اور تخریب دونوں صلاحیتیں دی گئی ہیں…… نامعلوم تاریخ کے ادوار گزرنے کے باوجود انسان کو اللہ تعالیٰ نے تعمیر اور تخریب کی جو صلاحیتیں عطا کی ہیں، سائنس دانوں کے بقول ان کا وہ پانچ فیصد علم حاصل کر سکا ہے…… پانچ فیصد کوئی یقینی اعداد و شمار نہیں ہیں…… دوسرے لاکھوں قیاسات کی طرح یہ بھی ایک قیاس ہے…… انسانی دماغ میں دو کھرب سیلز کام کرتے ہیں…… ان دو کھرب سیلز کا پانچ فیصد لاکھوں کروڑوں سالوں میں متحرک ہونا…… یہ بجائے خود انسانی بے بضاعتی کا ثبوت ہے……
آج سائنس کا جو شور ہے…… سائنسی ایجادات کا ہجوم ہے…… سائنسی اختراعات کا جو پھیلاؤ ہے…… وہ قیاس کے پانچ فیصد سیلز کے چارج ہونے پر منحصر ہے…… جیسے جیسے سائنسی ایجادات ہو رہی ہیں…… جن کو نوع انسانی آسائش، آرام اور سکون کا ذریعہ سمجھتی ہے…… اس کے پیچھے پیچھے، اس کے ساتھ ساتھ اور اس کے ہم رکاب آرام کی نسبت بے آرامی بھی ہے…… راحت کی نسبت تکلیف زیادہ ہے…… سب کچھ ہوتے ہوئے بھی سکون نہیں ہے…… ہر آدمی بے سکون ہے، بے چین ہے، مضطرب ہے، پریشان ہے اور بیمار ہے……
اب سے دو سال پہلے چھوٹے سے چھوٹے یا بڑے سے بڑے گھر کے بجٹ میں مستقل طور پر بیماریوں کے سدباب کیلئے دواؤں کا کوئی بجٹ نہیں ہوتا تھا…… سائنسی ترقی سے پہلے گردوں کے دھونے کیلئے Dialysisکی مشینیں نہیں ہوتی تھیں…… بلاشبہ دل کی پیوند کاری قلب کی آرٹریز کے اتنے آپریشن نہیں ہوتے تھے…… آپٹکلز سینٹر یا چشموں کی دکانیں بازار میں اتنی نظر نہیں آتی تھیں…… گھر کی الماریوں اور میزوں پر کیمسٹ کی دکان کا تصور نہیں ابھرتا تھا…… معاشرے میں اتنے زیادہ بہرے Deafنہیں ہوتے تھے……
ہمارا منشاء ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم سائنسی ترقی و ایجادات کی نفی کر کے لوگوں کو اس بات کی دعوت دے رہے ہیں کہ سائنسی علوم نہ سیکھے جائیں……
ایسی کوئی بات نہیں!……
ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ علم میں اتنا اضافہ ہونے کے باوجود انسان بے سکون اور پریشان کیوں ہے!……
ڈپریشن میں کیوں مبتلا ہے؟……
دنیا کا کوئی فرد اس بات کی تکذیب نہیں کر سکتا کہ لاسلکی نظام کے تحت اللہ کی مخلوق کو ایک دوسرے سے قریب کر دینا اچھی بات ہے…… پوری دنیا کو ایک کمرے میں سمیٹ کر رکھ دینا یقیناً اچھی بات ہے…… بیماریوں کے تدارک یا حفظان صحت کے اصولوں کو وضع کر کے انسان کیلئے صحت بخش ماحول میسر کرنا عظیم خدمت ہے…… بلاشبہ یہ سب نوع انسانی کیلئے اچھے اور اعلیٰ دماغ لوگوں کا تحفہ ہے…… لیکن سوال یہ ہے…… یہ سب کچھ ہونے کے باوجود انسان کی اخلاقی حالت تباہ کیوں ہو رہی ہے؟…… وہ ڈپریشن میں کیوں مبتلا ہے؟…… اس کا سیدھا اور آسان جواب یہ ہے کہ انسان نے عارضی دنیا کی عارضی آسائش و آرام اور فانی دنیا کے فانی اسباب و وسائل کو زندگی کا مقصد بنا لیا ہے……
یہ کون نہیں جانتا کہ جواس دنیا میں آتا ہے…… کل من علیھا فان…… کے مصداق اُسے اس دنیا سے جانا ہے!…… یہ بات کوئی معمہ نہیں ہے!…… یہ ایسی بات ہے جو آدم و حوا سے لے کر اب تک ہر انسان کے مشاہدے میں ہے…… جو پیدا ہوتا ہے…… وہ بالآخر سب کچھ چھوڑ کر اپنی منشاء و مرضی کے بغیر اس دنیا سے چلا جاتا ہے……
ہم سنتے ہیں!…… کہ دادا کے پاس کئی گاؤں زمین تھی……
بیل گاڑیاں، گھوڑے، بگھیاں، محل نما گھر تھا…… مجھے یہ سوچنا ہے کہ میرے پاس کیا ہے؟……
اور اگر میرے پاس کچھ ہے تو میرے دادا اپنے ساتھ کیا لے گئے؟……
اس کے باوجود کہ انسان کے پاس اسباب و وسائل کے انبار ہیں اور آرام و آسائش کی ہر شئے مہیا ہے……
آدمی پریشان کیوں ہے؟……
پہلی بات یہ ہے کہ انسان نے عارضی اشیاء کو فانی زندگی کو اور مسافرت کے سفر کو زندگی کا مقصد بنا لیا ہے!…… جبکہ زندگی کا مقصد مسافرت نہیں…… منزل ہوتی ہے…… جس ہوٹل میں، جس سرائے میں، جس جھونپڑی میں، جس بنگلے یا جس محل میں…… میں رہتا ہوں…… اور وہ محل، وہ مقام میں چھوڑنے پر مجبور ہوں…… وہ میری منزل نہیں ہو گی…… میری منزل نہیں ہے!…… میں خود فریبی میں مبتلا ہوں…… میں ایک مسافر ہوں…… سفر میں ہوں…… کبھی جھونپڑی میں رہتا ہوں…… کبھی چار دیواری میں رہتا ہوں…… کبھی محل میں رہتا ہوں اور کبھی دھوپ میں چلتا پھرتا ہوں…… اگر انسان کو مقصد کا تعین ہو جائے…… تو وہ منزل رسیدہ ہے…… منزل کا تعین نہیں تو وہ ایک بھٹکے ہوئے مسافر کی طرح سفر میں ہی رہے گا…… سوال یہ ہے کہ مقصد کا تعین کیا ہے؟…… کیسے پتہ چلے کہ ہم مقصد کو کیسے حاصل کریں؟…… اور مقصدیت کا حصول ہمارے لئے کس طرح ممکن ہے؟……
*****
عزیزدوستو!……
آپ سب میرے دل کا سرور ہیں…… میری بجھتی ہوئی آنکھوں کا نور ہیں……
آپ سب میرے بچے ہیں……
مقصد کا تعین یہ ہے کہ آپ خود بخود نہیں بن گئے…… آپ کو کسی نے تخلیق کیا ہے…… آپ سوچتے ہیں کہ ہمیں ہمارے ماں باپ نے پیدا کیا ہے…… کوئی آپ سے پوچھے کہ ماں باپ کو کس نے پیدا کیا ہے؟…… آپ سیڑھی بہ سیڑھی آدم و حوا تک دلیل پیش کریں گے…… لیکن یہ بات اپنی جگہ قائم ہے کہ آدم و حوا کو کسی نے پیدا کیا ہے؟……
انسانی شعور کی مجبوری ہے کہ وہ اس بات کا اعتراف کرے کہ ایک واحد خالق ہے!…… ایک واحد خالق ہستی اللہ ہے…… جس نے ہمیں پیدا کیا ہے…… اس دنیا میں بھیجا ہے…… اس دنیا میں رہنے کے اسباب و وسائل مفت عطا کئے ہیں اور اس دنیا میں ہمیں مستقل سکونت کے لئے نہیں بھیجا…… ہر اس تخلیق نے جو اس دنیا میں پیدا ہوئی ہے اسے یہاں سے جانا ہے……
اس رحیم و کریم ہستی نے اس دنیا میں رہنے کیلئے ہمارے لئے قواعد و ضوابط بنائے ہیں…… ان قواعد و ضوابط میں وسائل کا استعمال بھی ہے اور آرام و آسائش کے ساتھ زندگی بسر کرنا بھی ہے…… قواعد و ضوابط میں بہت ساری باتیں ہیں جن کو بیان کرنے کے لئے یہ صفحات بھی کافی نہیں ہیں……
اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں:
’’جو لوگ غصہ پر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے احسان کرنے والے بندوں سے محبت کرتا ہے…… ‘‘
(سورۃ آل عمران۔ آیت 134)
یعنی جو لوگ غصہ کرتے ہیں وہ اپنے کنبہ، برادری اور قوم کے محسن نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے محبت نہیں کرتے……
پیارے بچو!……
عزیز دوستو!……
محترم بزرگو!……
تیس سیکنڈ کیلئے آنکھیں بند کر لیں…… اپنی صورت تصور میں لائیں…… کیا آپ خوش ہیں؟…… نرم دل ہیں؟…… آنکھوں میں شفقت ہے؟…… آواز میں نرمی ہے؟…… دیکھیں…… آپ کی صورت آپ کو کیسی نظر آتی ہے؟…… دھیرے دھیرے…… آہستہ آہستہ…… پلکیں اٹھائیں…… آنکھیں کھول دیں…… دوبارہ آنکھیں بندکر لیں…… اب تصور کریں کہ آپ کے دماغ میں جذبات کا ہجوم ہے…… آنکھیں سرخ ہیں…… چہرے پر تناؤ ہے…… آواز میں کرختگی ہے…… لہجے میں نفرت ہے……
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ غصے میں ہیں!……
اب پھر آہستہ آہستہ آنکھیں کھول دیجئے…… یہ جو آپ نے تصور میں اپنی دو صورتیں دیکھی ہیں ان کو کاغذ پر اُتار لیجئے…… اور دیکھئے یہ دونوں چہرے آپ کے ہیں……
ان دونوں میں سے کون سا چہرہ آپ کو اچھا لگتا ہے؟……
غصے والا چہرہ؟…… یا دوسروں سے پیار کرنے والا چہرہ!……
*****
میرے دوستو!……
آپ نے کوے کی آواز سنی ہے…… اور آپ کوئل کی کوک سے بھی آشنا ہیں…… ان دونوں آوازوں میں کیا فرق ہے؟…… ان دونوں آوازوں میں یہ فرق ہے کہ کوے کی آواز میں کرختگی ہے اور کوئل کی کوک میں توازن ہے…… ردہم ہے…… نرمی اور لطافت ہے……
ہوا کی بہت ساری قسمیں ہیں…… ہوا خشک ہوتی ہے…… لطیف ہوتی ہے…… بھاری ہوتی ہے…… اور ہوا باد بہار بھی ہوتی ہے…… ہوا طوفانی بھی ہوتی ہے……
قدرت کا اپنا ایک نظام Systemہے…… اس سسٹم کے دو پہلو یا دو رخ ہیں…… ہر چیز میں ایک رخ ظاہر ہے اور دوسرا رخ اس ظاہر کی Baseیا بنیاد ہے…… جس پر ظاہری رخ متحرک ہے…… جب تک Baseسے واقفیت حاصل نہیں ہو گی اس وقت تک ظاہر کے بارے میں انسان کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر سکتا…… Baseسے واقفیت کو روحانیت میں مشاہدہ کہتے ہیں……
اللہ تعالیٰ سے مشاہداتی یقین کی تسکین کیلئے آسمانوں اور زمین میں پورے پورے مواقع فراہم کئے ہیں……
چلئے!……
سمندر کے کنارے Sea Sideچلتے ہیں……
سطح سمندر پر موجیں ایک کنارے سے دوسرے کنارے پر بغیر توقف کے سفر کر رہی ہیں…… ان موجوں میں اتار چڑھاؤ یعنی مدو جزر دونوں ہیں…… ان موجوں کے اتار چڑھاؤ میں ہوا کا عمل دخل ہے…… ہوا…… اعتدال کے ساتھ ہوتی ہے تو لہروں میں اعتدال ہوتا ہے…… ہوا…… زیادہ ہو جاتی ہے تو لہروں کی اُچھل کود بڑھ جاتی ہے…… ہوا کی قوت جب زیادہ ہو جاتی ہے تو سمندر میں طغیانی آ جاتی ہے اور موجوں کی آواز اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ آس پاس کی آوازیں اس آواز میں گم ہو جاتی ہیں…… سطح پر آ کر جب آواز کی لہریں ٹوٹ کر بکھرتی ہیں تو ہماری سماعت میں یہ لہریں اس طرح داخل ہو جاتی ہیں کہ ہم ان آوازوں میں کھو جاتے ہیں……
اب آپ کسی جنگل میں چلے جائیں…… اگر آپ کے پاس فطرت پر یقین کرنے کیلئے جنگل میں جانے کا وقت نہیں ہے تو مراقبہ میں جنگل کا تصور کریں…… وہاں آپ کو خاموشی اور سناٹا محسوس ہو گا…… کبھی کبھی پتوں کی سرسراہٹ آپ کی سماعت سے ٹکرائے گی اور آپ کو ہوا میں ٹھنڈک کا بھی احساس ہو گا…… ہو سکتا ہے کہ ہوا تیز ہو جائے…… جب ہوا کی قوت بڑھ جائے گی تو درخت کی شاخوں پر لگے ہوئے پتے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے…… اس آواز میں دہشت اور خوف ہو سکتا ہے؟…… کیوں؟…… اس لئے کہ ہوا کے اندر جو توازن اور اعتدال ہونا چاہئے…… ہوا میں وہ توازن اور اعتدال نہیں رہا……
مراقبہ ختم ہوا……
ڈائری میں نوٹ کیجئے کہ متوازن ہوا اور غیر متوازن ہوا کے تاثرات کیا ہیں……
فانی دنیا کی فانی مصروفیات سے تھوڑا وقت نکالئے…… اب وقت نہیں نکالیں گے تو پھر آپ کو کبھی وقت نہیں ملے گا…… اس لئے کہ وقت گزرنے کے بعد کبھی واپس نہیں آتا……
بیابان یا ریگستان میں جایئے…… وہاں آپ کو چٹیل میدان ملیں گے اور ریگستان میں ریت کے خوبصورت ٹیلے اور خوبصورت نقش و نگار دیکھ کر آپ کا دل اللہ تعالیٰ کی صناعی سے بھر جائے گا……
ریگستان میں بھی ہوائیں چلتی ہیں…… ہوا میں توازن ہوتا ہے…… ہوا کی طاقت میں جب اضطراب نہیں ہوتا تو یہ ہوا جسم کے بارہ کھرب مسامات سے گزر کر آپ کو فرحت بخش زندگی کا احساس دیتی ہے…… آپ اپنے اندر انرجی اور توانائی کا آبشار کی طرح بہاؤ محسوس کرتے ہیں…… آپ کا انگ انگ خوشی، بے فکری، آزاد خیالی کی لطافت سے معمور ہو جاتا ہے……
ابھی آپ ریگستان میں ہیں…… ہوا میں جوش آ جائے، تیزی آ جائے اور یہ تیزی طوفانی شکل اختیار کر لے تو ریت کے بڑے بڑے تودے دیکھتے ہی دیکھتے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جائیں گے…… کیوں منتقل ہو جائیں گے؟…… اس لئے منتقل ہو جائیں گے کہ ہوا کی تیزی نے ان بڑے بڑے تودوں کو ذرات کی شکل میں توڑ کر، بکھیر کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پھینک دیا ہے…… جب ہوا کی یہ طوفان خیزی اور بڑھ جائے گی تو یہی ہوا چنگھاڑ بن جائے گی…… ایسی چنگھاڑ!…… جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام کے قصے میں بیان کیا ہے…… چنگھاڑ ایسی آواز کو کہتے ہیں کہ جو انفرادی شعور کی سکت سے اتنی زیادہ ہے کہ شعور اسے برداشت نہیں کر سکتا…… چنگھاڑ ایسی لہروں کا مجموعہ ہے جو زندگی میں کام کرنے والی لہروں کو درہم برہم کر دیتی ہے…… شعور بکھر جاتا ہے…… حواس گنگ ہو جاتے ہیں…… آدمی زمین پر سے غائب ہو جاتا ہے……
اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا لہری نظام ٹوٹ جاتا ہے تو زندگی موت میں تبدیل ہو جاتی ہے…… سسٹم کا ٹوٹنا حواس کا بکھرنا ہے…… حواس کا دباؤ سسٹم توڑنے کی طرف پہلا قدم ہے……
جب انسان غصہ کرتا ہے تو اس کے نظام زندگی میں ہلچل پیدا ہو جاتی ہے…… دوران خون تیز ہو جاتا ہے…… شریانوں اور وریدوں میں خون کا بہاؤ تیز ہونے کی وجہ سے ان کے اندر بہاؤ کو متوازن رکھنے کی استطاعت کم سے کم ہو جاتی ہے اور انسان کی زندگی میں جو کیلوریز کام کرتی ہیں وہ اتنی زیادہ سوخت ہو جاتی ہیں کہ زندگی دشوار بن جاتی ہے……
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے محبت کرتے ہیں…… اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو محبت کے ساتھ تخلیق کیا ہے…… اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو زندگی گزارنے کیلئے بھرپور مفت وسائل عطا کئے ہیں…… اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ میرے بندے خوش رہیں…… خوب کھائیں پئیں…… عیش و آرام کے ساتھ رہیں…… ایک دوسرے سے ہمدردی کریں…… اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ ساری کائنات میرا کنبہ ہے…… جب کوئی انسان غصہ کرتا ہے، چونکہ اس کی زندگی میں ترتیب اور توازن نہیں رہتا تو زندگی کی معین مقداریں درہم برہم ہو جاتی ہیں…… زندگی کی معین مقداریں جب درہم برہم ہو جاتی ہیں تو انسان بے سکون ہو جاتا ہے…… ڈپریشن میں چلا جاتا ہے…… وہ بھول جاتا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کیلئے پیدا نہیں کیا……
دنیا انسان کیلئے پیدا کی ہے!……
اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قواعد و ضوابط میں ایک ضابطہ ’غصہ نہ کرو‘…… ایک دوسرے سے نفرت نہیں کرنی…… ناجائز اقتدار کی خواہش سے آزاد ہو جاؤ…… میٹھے بول بولو…… سب کچھ دینے والے اور سب کچھ لینے والے اللہ کے رابطے میں رہو…… جب تم اللہ کے رابطے میں آ جاؤ گے…… اس حقیقت کو تسلیم کر لو گے کہ ہمیں اللہ نے بنایا ہے…… زندگی اللہ نے دی ہے…… ہماری ساری محنت اور جدوجہد اس وقت کام آتی ہے جب اس محنت اور جدوجہد کے حصول کیلئے وسائل موجود ہوں…… زمین موجود ہو…… کارخانے موجود ہوں…… کیا کارخانے مشینوں کے بغیر چل سکتے ہیں؟…… کیا مشینیں لوہے کے بغیر بن سکتی ہیں؟
میرے دوستو!……
لوہا کس نے بنایا؟…… زمین کس نے بنائی؟…… لوہے کو بھٹیوں میں پگھلا کر مشینیں بنانے کی صلاحیتیں کس نے دی؟…… دماغ کس نے بنائے؟…… اس کا ایک ہی جواب ہے ’’اللہ تعالیٰ نے‘‘……
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے……
اور ہم نے لوہا یعنی دھاتیں بنائیں ان میں انسانوں کیلئے بے شمار فائدے ہیں…… ہم نے زمین کو انسانوں کیلئے بچھونا بنایا…… ہم نے انسانوں کیلئے سورج بنائے…… چاند بنائے…… آسمانوں پر ستاروں کی قندیلیں روشن کیں…… ہم نے انسانوں کیلئے مفت ہوا فراہم کی…… ہم نے انسانوں پر پانی کا کوئی ٹیکس نہیں لگایا…… جب انسان کسی قابل نہیں تھا، کروٹ بھی نہیں لے سکتا تھا…… اس وقت ہم نے باپ کے دل میں شفقت ڈالی اور ماں کے دل کو ممتا سے بھر دیا…… پھر انسان کو شعور عطا کیا…… اسے علوم سکھائے…… اس کیلئے محنت مزدوری کے ذرائع فراہم کئے…… مسافر کیلئے سرائے بنائی تا کہ دنیا میں آنے کے بعد آخرت کی منزل کو پانے کے سفر میں اسے آرام ملے…… آرام کے ساتھ وہ سفر کرتا ہوا ہماری آغوش میں واپس آ جائے……
اضطراب، بے چینی، پریشانی اور ڈپریشن کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم عارضی دنیا میں، عارضی ترقی کی چکاچوند میں یہ بھول گئے ہیں کہ ہم مسافر ہیں، ہماری منزل دنیا نہیں ہے…… ہماری منزل اللہ ہے……
قرآن پاک میں ارشاد ہے:
’’اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف تمام کام لوٹ جائیں گے‘‘……
(سورۃ آل عمران۔ آیت 109)

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 171 تا 180

وقت؟ کے مضامین :

ِ 0 - پیش لفظ  ِ 1 - مشفق استاد  ِ 2 - حاکم اعلیٰ  ِ 3 - اللہ تعالیٰ کی نعمتیں  ِ 4 - اولیاء اللہ کا مشن  ِ 5 - استغنیٰ  ِ 6 - اللہ تعالیٰ کی نشانیاں  ِ 7 - أول ما خلق الله نوري  ِ 8 - رسول اللہﷺ کی تعلیمات  ِ 9 - امام غزالیؒ  ِ 10 - روح  ِ 11 - اہلِ روحانیت  ِ 12 - روحانیت کا راز  ِ 13 - سسٹم  ِ 14 - ناسوتی دنیا اور ماورائی دنیا  ِ 15 - بہتر جہاں  ِ 16 - دماغ  ِ 17 - فکر کی گہرائی  ِ 18 - صبر  ِ 19 - غیب  ِ 20 - غیب کا زون، مظاہر کا زون  ِ 21 - شادی  ِ 22 - انکشافات  ِ 23 - اولاد کی تربیت  ِ 24 - چہرہ  ِ 25 - ریکارڈ  ِ 26 - قدریں  ِ 27 - باشعور انسان  ِ 28 - رنگ برنگ  ِ 29 - منصوبہ بندی  ِ 30 - کٹھن دور  ِ 31 - بے سکونی کا سبب  ِ 32 - قناعت اور اضطراب  ِ 33 - خوش کیسے رہیں؟  ِ 34 - پر سکون زندگی  ِ 35 - تغیر  ِ 36 - آواز کی آلودگی  ِ 37 - Repetition – تکرار  ِ 38 - منطقی عقل اور فلسفہ  ِ 39 - ایمان اور یقین  ِ 40 - دنیا فہم دانشور، دین فہم دانشور  ِ 41 - سات سال کا بچہ  ِ 42 - فقیر کی بات  ِ 43 - موت کی حقیقت  ِ 44 - تاریخ خود کو دہراتی ہے  ِ 45 - زلزلے اور آفات کی وجوہات  ِ 46 - یہ وقت بھی گزر جائے گا  ِ 47 - حضور قلندر بابا اولیاءؒ نے فرمایا
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)