بی بی مریم فاطمہؒ

کتاب : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2790

بی بی مریم فاطمہؒ کو بارگاہ اقدسﷺسے خصوصی فیض نصیب ہوا۔ اللہ کی بے شمار مخلوق اس فیض سے سیراب ہوئی، پریشان حال لوگوں نے آپﷺ سے سکھ چین پایا، بے اولاد خواتین کو اولاد کی نعمت عطا ہوئی، آپؒ استغراق کی کیفیت میں جو بات کہہ دیتی تھیں وہ حرف بہ حرف پوری ہو جاتی تھی۔ دم، دعا، درود کے لئے دور دور سے لوگ آتے تھے۔ خدمت خلق کے علاوہ آپؒ گوشہ نشین ہو کر اللہ سے راز و نیاز میں مصروف رہتیں، کئی دفعہ حالت بیداری میں حضورﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئیں۔ شب بیدار، زندہ دل خاتون تھیں۔

ایک دل گرفتہ خاتون ان کے پاس آئیں جو بے اولاد تھیں۔ کوئی اندرونی بیماری تھی اس کی وجہ سے حمل نہیں ٹھہرتا تھا۔ ہر حکیم، طبیب کا علاج کر اچکی تھیں۔ خاتون پر امید ہو کر بی بی مریمؒ کے پاس آئیں۔ بی بی صاحبہؒ نے مراقبہ کیا اور خاتون کی اولاد کی بشارت دی۔ بی بی مریمؒ کی بشارت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے جڑواں بچیاں عطا فرمائیں۔

خدمت خلق کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ لوگ اپنی ضروریات کے لئے بڑی تعداد میں جمع ہو جاتے ہیں۔ اولیاء اللہ اپنے پاس آنے والے لوگوں کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ارشادات بھی سناتے ہیں۔ اس طرح دعا کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم و تربیت کا بھی از خود اہتمام ہو جاتا ہے۔

ولی اللہ خاتون مریمؒ نے فرمایا:

“ماں باپ اگر دونوں اسلامی اخلاق سے آراستہ ہونگے۔ گھر تعلیم و تربیت کا پہلا اسکول بن جائے گا، مرد کے اوپر فرض ہے کہ بیوی اور بچوں کی تمام ضروریات پوری کرے۔ عورت کے اوپر فرض ہے کہ ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنائے رکھے۔ دونوں کو چاہئے کہ اپنے قول و عمل اور انداز و اطوار سے ایک دوسرے کو خوش رکھنے کی کوشش کریں۔ کامیاب ازدواجی زندگی کا یہی راز ہے اور خدا کو خوش رکھنے کا ذریعہ بھی۔”

اللہ تعالیٰ آپ کو جو اولاد دیتا ہے اس کو کبھی ضائع نہ کریں۔ پیدا ہونے سے پہلے یا پیدا ہونے کے بعد اولاد کو ضائع کرنا بدترین سنگدلی، بھیانک ظلم، انتہائی بزدلی اور دونوں جہانوں کی تباہی ہے۔ ولادت کے وقت ماں بننے والی عورت کے پاس آیت الکرسی اور سورہ اعراف کی آیات ۵۴،۵۵ پڑھیں، سورہ فلق اور سورہ الناس پڑھ کر دم کریں، ولادت کے بعد بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہیں۔ اذان اور اقامت کے بعد کسی نیک مرد یا نیک عورت سے کھجور چبوا کر بچے کے تالو میں لگوائیں اور بچے کے لئے خیر و برکت کی دعا کروائیں۔ ساتویں دن عقیقہ کریں۔

اولاد کو ہر وقت سخت سست اور برا نہ کہیں بچہ ڈانٹ ڈپٹ کو روزانہ کا معمول سمجھنے لگتا ہے۔ بچے نادان ہوتے ہیں ان کی کوتاہیوں پر بیزار ہونے کے بجائے یہ سوچیں کہ آپ بھی ان ہی کی طرح بچے تھے اور آپ سے بھی بے شمار کوتاہیاں سرزد ہوئی تھیں۔ نفرت کا اظہار کرنے کے بجائے حکمت، تحمل اور بردباری سے ان کو سمجھائیں۔ ان کو یہ تاثر دیں کہ آپ ان کے دوست ہیں۔ ان کے سروں پر شفقت سے ہاتھ پھیریں۔ بچے وہی کچھ کرتے ہیں جو ماں باپ کرتے ہیں۔ بچے وہی زبان بولتے ہیں جو ماں باپ بولتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ بچے بن کر کھیلئے۔ رسولﷺ کی پشت مبارک پر حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ سوار ہو جاتے تھے اور حضورﷺ کی زلفیں پکڑ کر کھینچتے تھے اور حضورﷺ سے فرمائش کرتے تھے:

“نانا! اونٹ کی آواز نکالیں۔”

حضورﷺ خوشی خوشی بچوں کی فرمائش پوری کرتے تھے۔

بچوں کی تعلیم کا اچھا انتظام کرنا ضروری ہے تا کہ وہ معاشرے میں بہترین مقام حاصل کریں اور دین کی خدمت کریں، بزرگوں کا احترام کریں اور اپنے سے چھوٹے بچوں سے محبت کریں۔

حکمت و دانائی

* اللہ کی طرز فکر یہ ہے کہ وہ اپنی مخلوق کی خدمت کرتا ہے اور اس خدمت کا کوئی صلہ نہیں چاہتا۔

* مومن کی پوری زندگی مہم جوئی اور جدوجہد ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 229 تا 231

ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین کے مضامین :

ِ انتساب  ِ 1 - مرد اور عورت  ِ 2 - عورت اور نبوت  ِ 3 - نبی کی تعریف اور وحی  ِ 4 - وحی میں پیغام کے ذرائع  ِ 5 - گفتگو کے طریقے  ِ 6 - وحی کی قسمیں  ِ 7 - وحی کی ابتداء  ِ 8 - سچے خواب  ِ 10 - حضرت محمد رسول اللہﷺ  ِ 10 - زمین پر پہلا قتل  ِ 11 - آدم و حوا جنت میں  ِ 12 - ماں اور اولاد  ِ 13 - حضرت بی بی ہاجرہؑ  ِ 14 - حضرت عیسیٰ علیہ السلام  ِ 15 - نبی عورتیں  ِ 16 - روحانی عورت  ِ 17 - عورت اور مرد کے یکساں حقوق  ِ 18 - عارفہ خاتون ‘‘عرافہ’’  ِ 19 - تاریخی حقائق  ِ 20 - زندہ درگور  ِ 21 - ہمارے دانشور  ِ 22 - قلندر عورت  ِ 23 - عورت اور ولایت  ِ 24 - پردہ اور حکمرانی  ِ 25 - فرات سے عرفات تک  ِ 26 - ناقص العقل  ِ 27 - انگریزی زبان  ِ 29 - عورت کو بھینٹ چڑھانا  ِ 29 - بیوہ عورت  ِ 30 - شوہر کی چتا  ِ 31 - تین کروڑ پچاس لاکھ سال  ِ 32 - فریب کا مجسمہ  ِ 33 - لوہے کے جوتے  ِ 34 - چین کی عورت  ِ 35 - سقراط  ِ 36 - مکاری اور عیاری  ِ 37 - ہزار برس  ِ 38 - عرب عورتیں  ِ 39 - دختر کشی  ِ 40 - اسلام اور عورت  ِ 41 - چار نکاح  ِ 42 - تاریک ظلمتیں  ِ 43 - نسوانی حقوق  ِ 44 - ایک سے زیادہ شادی  ِ 45 - حق مہر  ِ 46 - مہر کی رقم کتنی ہونی چاہئے  ِ 47 - عورت کو زد و کوب کرنا  ِ 48 - بچوں کے حقوق  ِ 49 - ماں کے قدموں میں جنت  ِ 50 - ذہین خواتین  ِ 51 - علامہ خواتین  ِ 52 - بے خوف خواتین  ِ 53 - تعلیم نسواں  ِ 54 - امام عورت  ِ 55 - U.N.O  ِ 56 - توازن  ِ 57 - مادری نظام  ِ 58 - اسلام سے پہلے عورت کی حیثیت  ِ 59 - آٹھ لڑکیاں  ِ 60 - انسانی حقوق  ِ 61 - عورت کا کردار  ِ 62 - دو بیویوں کا شوہر  ِ 63 - بہترین امت  ِ 64 - بیوی کے حقوق  ِ 65 - بے سہارا خواتین  ِ 66 - عورت اور سائنسی دور  ِ 67 - بے روح معاشرہ  ِ 68 - احسنِ تقویم  ِ 69 - ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین  ِ 70 - ایک دوسرے کا لباس  ِ 71 - 2006ء کے بعد  ِ 72 - پیشین گوئی  ِ 73 - روح کا روپ  ِ 74 - حضرت رابعہ بصریؒ  ِ 75 - حضرت بی بی تحفہؒ  ِ 76 - ہمشیرہ حضرت حسین بن منصورؒ  ِ 77 - بی بی فاطمہ نیشاپوریؒ  ِ 78 - بی بی حکیمہؒ  ِ 79 - بی بی جوہربراثیہؒ  ِ 80 - حضرت اُم ابو سفیان ثوریؒ  ِ 81 - بی بی رابعہ عدویہؒ  ِ 82 - حضرت اُمّ ربیعۃ الرائےؒ  ِ 83 - حضرت عفیرہ العابدؒ  ِ 84 - حضرت عبقرہ عابدہؒ  ِ 85 - بی بی فضہؒ  ِ 86 - اُمّ زینب فاطمہ بنتِ عباسؒ  ِ 87 - بی بی کردیہؒ  ِ 88 - بی بی اُم طلقؒ  ِ 89 - حضرت نفیسہ بنتِ حسنؒ  ِ 90 - بی بی مریم بصریہؒ  ِ 91 - حضرت ام امام بخاریؒ  ِ 92 - بی بی اُم احسانؒ  ِ 93 - بی بی فاطمہ بنتِ المثنیٰ ؒ  ِ 94 - بی بی ست الملوکؒ  ِ 95 - حضرت فاطمہ خضرویہؒ  ِ 96 - جاریہ مجہولہؒ  ِ 97 - حبیبہ مصریہؒ  ِ 98 - جاریہ سوداؒ  ِ 99 - حضرت لبابہ متعبدہؒ  ِ 100 - حضرت ریحانہ والیہؒ  ِ 101 - بی بی امتہ الجیلؒ  ِ 102 - بی بی میمونہؒ  ِ 103 - فاطمہ بنتِ عبدالرحمٰنؒ  ِ 104 - کریمہ بنت محمد مروزیہؒ  ِ 105 - بی بی رابعہ شامیہؒ  ِ 106 - اُمّ محمد زینبؒ  ِ 107 - حضرت آمنہ رملیہؒ  ِ 108 - حضرت میمونہ سوداءؒ  ِ 109 - بی بی اُم ہارونؒ  ِ 110 - حضرت میمونہ واعظؒ  ِ 111 - حضرت شعدانہؒ  ِ 112 - بی بی عاطفہؒ  ِ 113 - کنیز فاطمہؒ  ِ 114 - بنت شاہ بن شجاع کرمانیؒ  ِ 115 - اُمّ الابرارؒ (صادقہ)  ِ 116 - بی بی صائمہؒ  ِ 117 - سیدہ فاطمہ ام الخیرؒ  ِ 118 - بی بی خدیجہ جیلانیؒ  ِ 119 - بی بی زلیخاؒ  ِ 120 - بی بی قرسم خاتونؒ  ِ 121 - حضرت ہاجرہ بی بیؒ  ِ 122 - بی بی سارہؒ  ِ 123 - حضرت اُم محمدؒ  ِ 124 - بی بی اُم علیؒ  ِ 125 - مریم بی اماںؒ  ِ 126 - بی اماں صاحبہؒ  ِ 127 - سَکّو بائیؒ  ِ 128 - عاقل بی بیؒ  ِ 129 - بی بی تاریؒ  ِ 130 - مائی نوریؒ  ِ 131 - بی بی معروفہؒ  ِ 132 - بی بی دمنؒ  ِ 133 - بی بی حفضہؒ  ِ 134 - بی بی حفصہؒ بنت شریں  ِ 135 - بی بی غریب نوازؒ (مائی لاڈو)  ِ 136 - بی بی یمامہ بتولؒ  ِ 137 - بی بی میمونہ حفیظؒ  ِ 138 - بی بی مریم فاطمہؒ  ِ 139 - امت الحفیظؒ (حفیظ آپا)  ِ 140 - شہزادی فاطمہ خانمؒ  ِ 141 - بی بی مائی فاطمہؒ  ِ 142 - بی بی راستیؒ  ِ 143 - بی بی پاک صابرہؒ  ِ 144 - بی بی جمال خاتونؒ  ِ 145 - بی بی فاطمہ خاتونؒ  ِ 146 - کوئل  ِ 147 - مائی رابوؒ  ِ 148 - زینب پھوپی جیؒ  ِ 149 - بی بی میراں ماںؒ  ِ 150 - بی بی رانیؒ  ِ 151 - بی بی حاجیانیؒ  ِ 152 - اماں جیؒ  ِ 153 - بی بی حورؒ  ِ 154 - مائی حمیدہؒ  ِ 155 - لل ماجیؒ  ِ 156 - بی بی سائرہؒ  ِ 157 - مائی صاحبہؒ  ِ 158 - حضرت بی بی پاک دامناںؒ  ِ 159 - بی بی الکنزہ تبریزؒ  ِ 160 - بی بی عنیزہؒ  ِ 161 - بی بی بنت کعبؒ  ِ 162 - بی بی ستارہؒ  ِ 163 - شمامہ بنت اسدؒ  ِ 164 - ملّانی جیؒ  ِ 165 - بی بی نور بھریؒ  ِ 166 - مائی جنتؒ  ِ 167 - بی بی سعیدہؒ  ِ 168 - بی بی وردہؒ  ِ 169 - بی بی عائشہ علیؒ  ِ 170 - بی بی علینہؒ  ِ 171 - اُمّ معاذؒ  ِ 172 - عرشیہ بنت شمسؒ  ِ 173 - آپا جیؒ  ِ 174 - حضرت سعیدہ بی بیؒ  ِ 175 - طلاق کے مسا ئل
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message