بی بی مائی فاطمہؒ

کتاب : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2796

بی بی مائی فاطمہؒ کا تعلق وادی مہران کے ایک شہر سیہون شریف سے تھا۔ یہ اپنے والد قاضی ساون فاروقیؒ کی روحانی تربیت اور اللہ کے فضل و کرم سے ولایت کے مرتبہ پر فائز تھیں۔ ایک مرتبہ تہجد پڑھنے اٹھیں، کمرے کی کھڑکی سے دیکھا کہ چور گھوڑے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ آپ نے گھوڑے کی طرف نظر کی تو وہ غائب ہو گیا۔ چوروں کی گھگی بندھ گئی۔ وہ سخت خوفزدہ ہو کر وہاں سے بھاگ گئے۔ بی بی فاطمہؒ مسکرائیں۔ گھوڑے پر دوسری نظر ڈالی تو گھوڑا اپنی جگہ موجود تھا۔

ایک دفعہ بی بی فاطمہؒ اور ان کے شوہر قاضی سائیں ڈنونے اللہ سے دعا مانگی کہ ہمیں ایک بچہ مرحمت فرما جو تجھے محبوب رکھے اور تیرا سچا بندہ بنے اور جسے تو پسند کرے، میاں بیوی نے یہ دعا اتنے خشوع و خضوع سے مانگی کہ ہاتف غیبی سے آواز آئی:
“اپنے نیک فرزند کا انتظار کرو۔”

دو سال بعد میاں میر محمد پیدا ہوئے۔ بی بی فاطمہؒ نے ان کی اعلیٰ تربیت کی۔ شوہر کی وفات کے بعد بچے کو روحانی تعلیم و تربیت کے لئے سیہون سے چودہ کوس دور ایک آبادی میں علامہ موسیٰ باغبانی کے پاس بھیجنا چاہا لیکن چودہ سال کے بچے کا روز اتنی دور آنا جانا مشکل تھا۔ بی بی فاطمہؒ نے دعا مانگی کہ اس مشکل کا کوئی حل نکل آئے۔ ایک رات خواب میں اپنے والد قاضی ساونؒ اور شوہر کو دیکھا۔ قاضی صاحبؒ نے فرمایا:

“بیٹی! پریشان نہ ہو۔ تمہارا فرزند علامہ موسیٰ ہی سے علم و فضل حاصل کرے گا۔ کل موسیٰ باغبانی تمہارے پاس آئے گا۔ بچے کو اس کے سپرد کر دینا۔”

بی بی فاطمہؒ نے حیران ہو کر پوچھا:

“بابا جان! اتنی لمبی مسافت بچہ روزانہ کیسے طے کرے گا؟”

انہوں نے کہا:

“اس کا انتظام ہو گیا ہے تم کو دروازے پر ایک گھوڑا ملے گا جو روزانہ لے جایا کرے گا اور واپس بھی لے آیا کرے گا۔ اس راز کو کسی پر ظاہر نہ کرنا۔”

علامہ موسیٰ باغبانی بی بی فاطمہؒ کے اعلیٰ مرتبہ سے واقف تھے۔ یہ ایک کھلی کرامت تھی کہ روز بچہ فجر کے ایک گھنٹہ کے بعد ان کے پاس پہنچ جاتا تھا۔ جب تین سال میں تعلیم مکمل ہو گئی تو علامہ موسیٰ کو پتا چلا کہ جو مشکی گھوڑا بچے کو لاتا لے جاتا تھا وہ قاضی ساونؒ کے مرید کا”جن” گھوڑا تھا۔

میاں میر محمد کے اوپر جب یہ راز منکشف ہوا تو انہوں نے ماں سے وضاحت چاہی۔ بی بی فاطمہؒ نے فرمایا:

“میرے پیارے بیٹے! تم نے علم ظاہر کی تعلیم حاصل کر لی ہے مگر یہ تکمیل علم کی تکمیل نہیں بلکہ تم اب علم کے دروازے میں داخل ہوئے ہو اور آج سے تم علم باطن سیکھو گے علم باطن کا پہلا سبق عقیدہ توحید ہے اور اس علم کو حاصل کرنے کی سب سے بڑی شرط اللہ کی محبت ہے، دل محبت الٰہی سے معمور ہونا چاہئے اس میں کسی اور کی محبت داخل نہ ہو۔ جب طلب حق دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے تو کوئی خواہش باقی نہیں رہتی۔ یہ ایسی آگ ہے جو سب خواہشات کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہے، یاد رکھو نفس کی نفی حق کا اقرار ہے اور اقرار حق ہی تزکیہ نفس ہے، جب دل کو تزکیہ نفس سے جلا ملتی ہے تو قلب مصفی ہو جاتا ہے اور قلب پر حق کی تجلیات کی بارش شروع ہو جاتی ہے، تمام حواس اللہ کے ترجمان ہو جاتے ہیں، بندے کے ہاتھ اللہ کے ہاتھ اور بندے کی زبان اللہ کی زبان بن جاتی ہے، کشف، خرق عادت، کرامت تسخیر اپنی ذات کی نفی کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ میں یہ علم تمہیں خود سکھاؤں گی۔ انشاء اللہ تمہارا دل محبت الٰہی سے پرنور ہو جائے گا۔ مگر یہ علم میں تمہیں منتقل نہیں کر سکتی کیونکہ تمہارا حصہ میرے پاس نہیں ہے۔”

بی بی فاطمہؒ نے میاں میر محمد کو اسم ذات سکھایا یا چھ ماہ انہوں نے ذکر خفی کیا۔ اس کے بعد انہوں نے بلند آواز میں اسم ذات کا ذکر شروع کر دیا۔ دوسری ہی صبح بی بی فاطمہؒ نے بیٹے سے پوچھا:

“اگر تم بلند آواز سے ذکر نہ کرتے تو کیا برائی تھی؟”

پھر مسکراتے ہوئے فرمایا:

“اچھے معلم کو پتا ہوتا ہے کہ شاگرد کا اگلا سبق کیا ہو گا۔”

دوسری صبح ماں نے بیٹے کو بغیر کسی زاد راہ کے گھر سے انجانی منزل کی طرف رخصت کر دیا اور کہاکہ

“اب تم کسی جنگل یا ویرانے کو اپنا مسکن بناؤ اور ذکر جلی جس قدر جوش سے کر سکتے ہو کرو، اللہ تمہارا حافظ و ناصر ہے۔”

میاں میر محمد کو سندھ کی وادیوں میں ایک ولی اللہ شیخ خضر نے بیعت کیا اور دو سال تربیت کی۔ خرقہ خلافت پہنانے کے بعد شیخ خضر نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے سپرد کیا۔ تربیت کے بعد انہوں نے میاں میر کو حکم دیا۔ اب مخلوق کی خدمت کرو، پہلے جا کر اپنی والدہ کی قدم بوسی کرو۔ میں سلام کرتا ہوں ایسی قابل فخر ماں کو جس نے ایسا بے نظیر ہیرا تراشا ہے، اعلیٰ تربیت کر کے کندن بنا دیا ہے۔

گھر سے گئے ہوئے میاں میر محمد کو آٹھ سال ہو چکے تھے۔ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ بی بی فاطمہؒ بستر پر دراز ہیں۔ سلام کیا تو جواب اس طرح ملا کہ جیسے وہ پاس ہی ہوں۔ بی بی فاطمہ نے کہا:

“بیٹا! شروع وقت سے میں نے اس دن کی پیشن گوئی کی تھی جب اللہ تعالیٰ تمہاری سماعت و بصارت کو تابع کر دے۔ فاصلے تمہارے قدموں میں سمٹ آئیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے مخفی راز ہیں اب تم جلدی گھر آ جاؤ۔”

گھر پہنچے تو بی بی فاطمہؒ کا آخری وقت تھا۔ میاں میر کو دیکھ کر بہت خوش ہوئیں اور فرمایا:

“آٹھ سال میں ایک پل بھی تم میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوئے۔ پہلے تم چلے گئے تھے اب میں جا رہی ہوں۔ اب بھی ہم ایک دوسرے کی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوئے۔”

یہ کہہ کر بی بی فاطمہؒ نے اپنے چار بیٹوں اور دو بیٹیوں کو حکم دیا کہ وہ میاں میر محمد کے ہاتھ پر بیعت کریں۔ جب سب نے بیعت کر لی تو کہا کہ

“کلمہ طیبہ کا ورد کرو۔”

خود بھی کلمہ طیبہ پڑھتے اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔

حکمت و دانائی

* دل میں صرف اللہ کی محبت ہونی چاہئے۔

* جب دل میں حق ہوتا ہے تو کسی اور کا خیال نہیں آتا۔

* نفس کی نفی حق کا اقرار ہے۔

* جب اللہ تعالیٰ تمہاری سماعت اور بصارت کو تمہاری مرضی کے تابع کر دے گا تو فاصلے تمہارے قدموں میں سمٹ آئیں گے۔

* انسان اللہ کی مشیت و حکمت کا خزانہ ہے۔

* تزکیۂ نفس سے قلب مصفی ہو جاتا ہے اور مجلی دل پر تجلیات کی بارش برستی ہے۔

* آدمی اپنی ذات کی نفی کے بعد غیب کی دنیا میں داخل ہوتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 236 تا 239

ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین کے مضامین :

ِ انتساب  ِ 1 - مرد اور عورت  ِ 2 - عورت اور نبوت  ِ 3 - نبی کی تعریف اور وحی  ِ 4 - وحی میں پیغام کے ذرائع  ِ 5 - گفتگو کے طریقے  ِ 6 - وحی کی قسمیں  ِ 7 - وحی کی ابتداء  ِ 8 - سچے خواب  ِ 10 - حضرت محمد رسول اللہﷺ  ِ 10 - زمین پر پہلا قتل  ِ 11 - آدم و حوا جنت میں  ِ 12 - ماں اور اولاد  ِ 13 - حضرت بی بی ہاجرہؑ  ِ 14 - حضرت عیسیٰ علیہ السلام  ِ 15 - نبی عورتیں  ِ 16 - روحانی عورت  ِ 17 - عورت اور مرد کے یکساں حقوق  ِ 18 - عارفہ خاتون ‘‘عرافہ’’  ِ 19 - تاریخی حقائق  ِ 20 - زندہ درگور  ِ 21 - ہمارے دانشور  ِ 22 - قلندر عورت  ِ 23 - عورت اور ولایت  ِ 24 - پردہ اور حکمرانی  ِ 25 - فرات سے عرفات تک  ِ 26 - ناقص العقل  ِ 27 - انگریزی زبان  ِ 29 - عورت کو بھینٹ چڑھانا  ِ 29 - بیوہ عورت  ِ 30 - شوہر کی چتا  ِ 31 - تین کروڑ پچاس لاکھ سال  ِ 32 - فریب کا مجسمہ  ِ 33 - لوہے کے جوتے  ِ 34 - چین کی عورت  ِ 35 - سقراط  ِ 36 - مکاری اور عیاری  ِ 37 - ہزار برس  ِ 38 - عرب عورتیں  ِ 39 - دختر کشی  ِ 40 - اسلام اور عورت  ِ 41 - چار نکاح  ِ 42 - تاریک ظلمتیں  ِ 43 - نسوانی حقوق  ِ 44 - ایک سے زیادہ شادی  ِ 45 - حق مہر  ِ 46 - مہر کی رقم کتنی ہونی چاہئے  ِ 47 - عورت کو زد و کوب کرنا  ِ 48 - بچوں کے حقوق  ِ 49 - ماں کے قدموں میں جنت  ِ 50 - ذہین خواتین  ِ 51 - علامہ خواتین  ِ 52 - بے خوف خواتین  ِ 53 - تعلیم نسواں  ِ 54 - امام عورت  ِ 55 - U.N.O  ِ 56 - توازن  ِ 57 - مادری نظام  ِ 58 - اسلام سے پہلے عورت کی حیثیت  ِ 59 - آٹھ لڑکیاں  ِ 60 - انسانی حقوق  ِ 61 - عورت کا کردار  ِ 62 - دو بیویوں کا شوہر  ِ 63 - بہترین امت  ِ 64 - بیوی کے حقوق  ِ 65 - بے سہارا خواتین  ِ 66 - عورت اور سائنسی دور  ِ 67 - بے روح معاشرہ  ِ 68 - احسنِ تقویم  ِ 69 - ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین  ِ 70 - ایک دوسرے کا لباس  ِ 71 - 2006ء کے بعد  ِ 72 - پیشین گوئی  ِ 73 - روح کا روپ  ِ 74 - حضرت رابعہ بصریؒ  ِ 75 - حضرت بی بی تحفہؒ  ِ 76 - ہمشیرہ حضرت حسین بن منصورؒ  ِ 77 - بی بی فاطمہ نیشاپوریؒ  ِ 78 - بی بی حکیمہؒ  ِ 79 - بی بی جوہربراثیہؒ  ِ 80 - حضرت اُم ابو سفیان ثوریؒ  ِ 81 - بی بی رابعہ عدویہؒ  ِ 82 - حضرت اُمّ ربیعۃ الرائےؒ  ِ 83 - حضرت عفیرہ العابدؒ  ِ 84 - حضرت عبقرہ عابدہؒ  ِ 85 - بی بی فضہؒ  ِ 86 - اُمّ زینب فاطمہ بنتِ عباسؒ  ِ 87 - بی بی کردیہؒ  ِ 88 - بی بی اُم طلقؒ  ِ 89 - حضرت نفیسہ بنتِ حسنؒ  ِ 90 - بی بی مریم بصریہؒ  ِ 91 - حضرت ام امام بخاریؒ  ِ 92 - بی بی اُم احسانؒ  ِ 93 - بی بی فاطمہ بنتِ المثنیٰ ؒ  ِ 94 - بی بی ست الملوکؒ  ِ 95 - حضرت فاطمہ خضرویہؒ  ِ 96 - جاریہ مجہولہؒ  ِ 97 - حبیبہ مصریہؒ  ِ 98 - جاریہ سوداؒ  ِ 99 - حضرت لبابہ متعبدہؒ  ِ 100 - حضرت ریحانہ والیہؒ  ِ 101 - بی بی امتہ الجیلؒ  ِ 102 - بی بی میمونہؒ  ِ 103 - فاطمہ بنتِ عبدالرحمٰنؒ  ِ 104 - کریمہ بنت محمد مروزیہؒ  ِ 105 - بی بی رابعہ شامیہؒ  ِ 106 - اُمّ محمد زینبؒ  ِ 107 - حضرت آمنہ رملیہؒ  ِ 108 - حضرت میمونہ سوداءؒ  ِ 109 - بی بی اُم ہارونؒ  ِ 110 - حضرت میمونہ واعظؒ  ِ 111 - حضرت شعدانہؒ  ِ 112 - بی بی عاطفہؒ  ِ 113 - کنیز فاطمہؒ  ِ 114 - بنت شاہ بن شجاع کرمانیؒ  ِ 115 - اُمّ الابرارؒ (صادقہ)  ِ 116 - بی بی صائمہؒ  ِ 117 - سیدہ فاطمہ ام الخیرؒ  ِ 118 - بی بی خدیجہ جیلانیؒ  ِ 119 - بی بی زلیخاؒ  ِ 120 - بی بی قرسم خاتونؒ  ِ 121 - حضرت ہاجرہ بی بیؒ  ِ 122 - بی بی سارہؒ  ِ 123 - حضرت اُم محمدؒ  ِ 124 - بی بی اُم علیؒ  ِ 125 - مریم بی اماںؒ  ِ 126 - بی اماں صاحبہؒ  ِ 127 - سَکّو بائیؒ  ِ 128 - عاقل بی بیؒ  ِ 129 - بی بی تاریؒ  ِ 130 - مائی نوریؒ  ِ 131 - بی بی معروفہؒ  ِ 132 - بی بی دمنؒ  ِ 133 - بی بی حفضہؒ  ِ 134 - بی بی حفصہؒ بنت شریں  ِ 135 - بی بی غریب نوازؒ (مائی لاڈو)  ِ 136 - بی بی یمامہ بتولؒ  ِ 137 - بی بی میمونہ حفیظؒ  ِ 138 - بی بی مریم فاطمہؒ  ِ 139 - امت الحفیظؒ (حفیظ آپا)  ِ 140 - شہزادی فاطمہ خانمؒ  ِ 141 - بی بی مائی فاطمہؒ  ِ 142 - بی بی راستیؒ  ِ 143 - بی بی پاک صابرہؒ  ِ 144 - بی بی جمال خاتونؒ  ِ 145 - بی بی فاطمہ خاتونؒ  ِ 146 - کوئل  ِ 147 - مائی رابوؒ  ِ 148 - زینب پھوپی جیؒ  ِ 149 - بی بی میراں ماںؒ  ِ 150 - بی بی رانیؒ  ِ 151 - بی بی حاجیانیؒ  ِ 152 - اماں جیؒ  ِ 153 - بی بی حورؒ  ِ 154 - مائی حمیدہؒ  ِ 155 - لل ماجیؒ  ِ 156 - بی بی سائرہؒ  ِ 157 - مائی صاحبہؒ  ِ 158 - حضرت بی بی پاک دامناںؒ  ِ 159 - بی بی الکنزہ تبریزؒ  ِ 160 - بی بی عنیزہؒ  ِ 161 - بی بی بنت کعبؒ  ِ 162 - بی بی ستارہؒ  ِ 163 - شمامہ بنت اسدؒ  ِ 164 - ملّانی جیؒ  ِ 165 - بی بی نور بھریؒ  ِ 166 - مائی جنتؒ  ِ 167 - بی بی سعیدہؒ  ِ 168 - بی بی وردہؒ  ِ 169 - بی بی عائشہ علیؒ  ِ 170 - بی بی علینہؒ  ِ 171 - اُمّ معاذؒ  ِ 172 - عرشیہ بنت شمسؒ  ِ 173 - آپا جیؒ  ِ 174 - حضرت سعیدہ بی بیؒ  ِ 175 - طلاق کے مسا ئل
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)