بی بی صائمہؒ

کتاب : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2737

دہلی بھارت میں مقیم بی بی صائمہؒ باکمال اور صاحب باطن خاتون تھیں۔

بابا فرید گنج شکرؒ نے فرمایا:

“اس خاتون کی عبادت و ریاضت اور اشغال دس کامل مردوں کے برابر ہیں”

“بی بی صاحبہ شہباز کی مانند ہیں، مردوں جیسی ہمت ہے۔”

“بی صائمہ معتبر اور بزرگ ہستی ہیں، لوگ آپ کی مجلس میں اس طرح حاضر ہوتے تھے جیسے حضرت رابعہ بصریؒ کی مجلس میں حاضر ہوتے تھے۔”

(حضرت سید محمد گیسودرازؒ )

“علماء اور درویش آپ کی ولایت پر مکمل اعتقاد رکھتے تھے۔ ”

(حضرت جمالیؒ )

“بی بی صائمہ اپنے زمانے کی معتبر عابدہ ہیں۔”

(حضرت عبدالحق محدث دہلویؒ )

بابا فرید گنج شکرؒ کے چھوٹے بھائی حضرت نجیب الدین متوکل اکثر بی بی صائمہؒ کی خدمت میں حصول فیض کے لئے حاضر ہوتے تھے۔

بدایوں میں قیام کے دوران شیخ نجیب الدین کے حالات اتنے زیادہ خراب ہو گئے کہ فاقوں کی نوبت آ گئی۔ ایک دن جب وہ اپنے حجرے میں عبادت کر رہے تھے۔ دروازے پر دستک ہوئی باہر ایک شخص کھانے پینے کا وافر سامان لئے کھڑا تھا۔ اس شخص نے کہا کہ یہ سارا اناج اور خورد و نوش بی بی صائمہؒ نے عنایت پور سے بھجوایا اور کہا ہے کہ

“بہن اپنے بھائی کی تکلیف سے بے خبر نہیں ہے۔”

بی بی صائمہؒ کو حضرت قطب الدین بختیار کاکیؒ سے عقیدت تھی۔ بی بی صائمہؒ نے اپنے ہاتھ سے سوت کات کر اکٹھا کیا اور پارچاباف سے کپڑا بنوایا۔ کپڑے سے مزار کے لئے غلاف سلوا کر حضرت قطب الدین بختیار کاکیؒ کے مزار پر پیش کیا۔ یہ کپڑا سات سو برس سے حضرت قطب الدین بختیار کاکیؒ کے مزار پر چڑھا ہوا ہے۔ ایک بار چور مزار سے غلاف (چادر) چرا کر لے گئے جب چوروں نے چاندی نکالنے کے لئے چادروں کو جلایا تو سب چادریں جل گئیں لیکن بی بی صائمہؒ کی چادر کو آگ نہیں لگی۔ چور خوف زدہ ہو کر اس چادرکو درگاہ میں واپس ڈال گئے۔ یہ عجیب سربستہ راز ہے کہ سات سو برس گزرنے کے باوجود کپڑا ٹھیک حالت میں ہے۔ اس چادر پر روپے کے برابر جلا ہوا نشان بھی ہے۔

بی بی صائمہؒ نے نماز مغرب کے بعد نان اور پانی جو کنیز رکھ گئی تھی۔ تناول فرمانا چاہا تو آواز آئی:

“اے صائمہ! اگر تو آج کی رات مر جائے تو کیسے افسوس کی بات ہے کہ دنیا سے جاتے وقت تیرا پیٹ مادی غذا سے بھرا ہو گا۔”
آپؒ نے غیبی آواز سن کر روٹی پڑوس میں بھجوا دی اس کے بعد چالیس دن رات چپ کا روزہ رکھا۔ اکتالیسیوں دن دیکھا کہ ایک پر ہیبت اور صاحب عظمت شخص گھر کے صحن میں کھڑا ہے بی بی صائمہؒ نے اسے دیکھ کر چالیس روز کے بعد پہلی بار بات کی اور پوچھا:
“آپ کون ہیں؟”

اس شخص نے جواب دیا:

“میں عزرائیل ہوں۔”

بی بی صائمہؒ نے کہا:

“اتنا وقت دیجئے کہ میں وضو کر کے دو رکعت نفل نماز پڑھ لوں۔”

فرشتہ خاموش کھڑا رہا۔ بی بی صائمہؒ نے وضو کیا اور آخری سجدے میں عالم دنیا سے عالم بالا میں تشریف لے گئیں۔

حکمت و دانائی

* ہر کام کو صحیح طریقہ سے انجام دینا “اخلاص” ہے۔

* اللہ کی قربت سے گناہ دھل جاتے ہیں۔

* فرمانبرداری کرتے وقت طبیعت میں انکساری نیک بختی کی علامت ہے۔

* “ادب اور لحاظ‘”وستی کو مستحکم کرتا ہے۔

* احکام الٰہی کی بجاآوری میں”سکون” پنہاں ہے۔

* ادب فقراء کا لباس ہے۔

* آدمی مٹی کا پتلا ہے روح اس کی زندگی ہے۔

* مروت یہ ہے کہ کسی پر احسان نہ جتاؤ۔

* بندہ جب تک اپنے نفس کے بت کو نہیں توڑتا اللہ تک رسائی نہیں ہوتی۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 170 تا 172

ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین کے مضامین :

ِ انتساب  ِ 1 - مرد اور عورت  ِ 2 - عورت اور نبوت  ِ 3 - نبی کی تعریف اور وحی  ِ 4 - وحی میں پیغام کے ذرائع  ِ 5 - گفتگو کے طریقے  ِ 6 - وحی کی قسمیں  ِ 7 - وحی کی ابتداء  ِ 8 - سچے خواب  ِ 10 - حضرت محمد رسول اللہﷺ  ِ 10 - زمین پر پہلا قتل  ِ 11 - آدم و حوا جنت میں  ِ 12 - ماں اور اولاد  ِ 13 - حضرت بی بی ہاجرہؑ  ِ 14 - حضرت عیسیٰ علیہ السلام  ِ 15 - نبی عورتیں  ِ 16 - روحانی عورت  ِ 17 - عورت اور مرد کے یکساں حقوق  ِ 18 - عارفہ خاتون ‘‘عرافہ’’  ِ 19 - تاریخی حقائق  ِ 20 - زندہ درگور  ِ 21 - ہمارے دانشور  ِ 22 - قلندر عورت  ِ 23 - عورت اور ولایت  ِ 24 - پردہ اور حکمرانی  ِ 25 - فرات سے عرفات تک  ِ 26 - ناقص العقل  ِ 27 - انگریزی زبان  ِ 29 - عورت کو بھینٹ چڑھانا  ِ 29 - بیوہ عورت  ِ 30 - شوہر کی چتا  ِ 31 - تین کروڑ پچاس لاکھ سال  ِ 32 - فریب کا مجسمہ  ِ 33 - لوہے کے جوتے  ِ 34 - چین کی عورت  ِ 35 - سقراط  ِ 36 - مکاری اور عیاری  ِ 37 - ہزار برس  ِ 38 - عرب عورتیں  ِ 39 - دختر کشی  ِ 40 - اسلام اور عورت  ِ 41 - چار نکاح  ِ 42 - تاریک ظلمتیں  ِ 43 - نسوانی حقوق  ِ 44 - ایک سے زیادہ شادی  ِ 45 - حق مہر  ِ 46 - مہر کی رقم کتنی ہونی چاہئے  ِ 47 - عورت کو زد و کوب کرنا  ِ 48 - بچوں کے حقوق  ِ 49 - ماں کے قدموں میں جنت  ِ 50 - ذہین خواتین  ِ 51 - علامہ خواتین  ِ 52 - بے خوف خواتین  ِ 53 - تعلیم نسواں  ِ 54 - امام عورت  ِ 55 - U.N.O  ِ 56 - توازن  ِ 57 - مادری نظام  ِ 58 - اسلام سے پہلے عورت کی حیثیت  ِ 59 - آٹھ لڑکیاں  ِ 60 - انسانی حقوق  ِ 61 - عورت کا کردار  ِ 62 - دو بیویوں کا شوہر  ِ 63 - بہترین امت  ِ 64 - بیوی کے حقوق  ِ 65 - بے سہارا خواتین  ِ 66 - عورت اور سائنسی دور  ِ 67 - بے روح معاشرہ  ِ 68 - احسنِ تقویم  ِ 69 - ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین  ِ 70 - ایک دوسرے کا لباس  ِ 71 - 2006ء کے بعد  ِ 72 - پیشین گوئی  ِ 73 - روح کا روپ  ِ 74 - حضرت رابعہ بصریؒ  ِ 75 - حضرت بی بی تحفہؒ  ِ 76 - ہمشیرہ حضرت حسین بن منصورؒ  ِ 77 - بی بی فاطمہ نیشاپوریؒ  ِ 78 - بی بی حکیمہؒ  ِ 79 - بی بی جوہربراثیہؒ  ِ 80 - حضرت اُم ابو سفیان ثوریؒ  ِ 81 - بی بی رابعہ عدویہؒ  ِ 82 - حضرت اُمّ ربیعۃ الرائےؒ  ِ 83 - حضرت عفیرہ العابدؒ  ِ 84 - حضرت عبقرہ عابدہؒ  ِ 85 - بی بی فضہؒ  ِ 86 - اُمّ زینب فاطمہ بنتِ عباسؒ  ِ 87 - بی بی کردیہؒ  ِ 88 - بی بی اُم طلقؒ  ِ 89 - حضرت نفیسہ بنتِ حسنؒ  ِ 90 - بی بی مریم بصریہؒ  ِ 91 - حضرت ام امام بخاریؒ  ِ 92 - بی بی اُم احسانؒ  ِ 93 - بی بی فاطمہ بنتِ المثنیٰ ؒ  ِ 94 - بی بی ست الملوکؒ  ِ 95 - حضرت فاطمہ خضرویہؒ  ِ 96 - جاریہ مجہولہؒ  ِ 97 - حبیبہ مصریہؒ  ِ 98 - جاریہ سوداؒ  ِ 99 - حضرت لبابہ متعبدہؒ  ِ 100 - حضرت ریحانہ والیہؒ  ِ 101 - بی بی امتہ الجیلؒ  ِ 102 - بی بی میمونہؒ  ِ 103 - فاطمہ بنتِ عبدالرحمٰنؒ  ِ 104 - کریمہ بنت محمد مروزیہؒ  ِ 105 - بی بی رابعہ شامیہؒ  ِ 106 - اُمّ محمد زینبؒ  ِ 107 - حضرت آمنہ رملیہؒ  ِ 108 - حضرت میمونہ سوداءؒ  ِ 109 - بی بی اُم ہارونؒ  ِ 110 - حضرت میمونہ واعظؒ  ِ 111 - حضرت شعدانہؒ  ِ 112 - بی بی عاطفہؒ  ِ 113 - کنیز فاطمہؒ  ِ 114 - بنت شاہ بن شجاع کرمانیؒ  ِ 115 - اُمّ الابرارؒ (صادقہ)  ِ 116 - بی بی صائمہؒ  ِ 117 - سیدہ فاطمہ ام الخیرؒ  ِ 118 - بی بی خدیجہ جیلانیؒ  ِ 119 - بی بی زلیخاؒ  ِ 120 - بی بی قرسم خاتونؒ  ِ 121 - حضرت ہاجرہ بی بیؒ  ِ 122 - بی بی سارہؒ  ِ 123 - حضرت اُم محمدؒ  ِ 124 - بی بی اُم علیؒ  ِ 125 - مریم بی اماںؒ  ِ 126 - بی اماں صاحبہؒ  ِ 127 - سَکّو بائیؒ  ِ 128 - عاقل بی بیؒ  ِ 129 - بی بی تاریؒ  ِ 130 - مائی نوریؒ  ِ 131 - بی بی معروفہؒ  ِ 132 - بی بی دمنؒ  ِ 133 - بی بی حفضہؒ  ِ 134 - بی بی حفصہؒ بنت شریں  ِ 135 - بی بی غریب نوازؒ (مائی لاڈو)  ِ 136 - بی بی یمامہ بتولؒ  ِ 137 - بی بی میمونہ حفیظؒ  ِ 138 - بی بی مریم فاطمہؒ  ِ 139 - امت الحفیظؒ (حفیظ آپا)  ِ 140 - شہزادی فاطمہ خانمؒ  ِ 141 - بی بی مائی فاطمہؒ  ِ 142 - بی بی راستیؒ  ِ 143 - بی بی پاک صابرہؒ  ِ 144 - بی بی جمال خاتونؒ  ِ 145 - بی بی فاطمہ خاتونؒ  ِ 146 - کوئل  ِ 147 - مائی رابوؒ  ِ 148 - زینب پھوپی جیؒ  ِ 149 - بی بی میراں ماںؒ  ِ 150 - بی بی رانیؒ  ِ 151 - بی بی حاجیانیؒ  ِ 152 - اماں جیؒ  ِ 153 - بی بی حورؒ  ِ 154 - مائی حمیدہؒ  ِ 155 - لل ماجیؒ  ِ 156 - بی بی سائرہؒ  ِ 157 - مائی صاحبہؒ  ِ 158 - حضرت بی بی پاک دامناںؒ  ِ 159 - بی بی الکنزہ تبریزؒ  ِ 160 - بی بی عنیزہؒ  ِ 161 - بی بی بنت کعبؒ  ِ 162 - بی بی ستارہؒ  ِ 163 - شمامہ بنت اسدؒ  ِ 164 - ملّانی جیؒ  ِ 165 - بی بی نور بھریؒ  ِ 166 - مائی جنتؒ  ِ 167 - بی بی سعیدہؒ  ِ 168 - بی بی وردہؒ  ِ 169 - بی بی عائشہ علیؒ  ِ 170 - بی بی علینہؒ  ِ 171 - اُمّ معاذؒ  ِ 172 - عرشیہ بنت شمسؒ  ِ 173 - آپا جیؒ  ِ 174 - حضرت سعیدہ بی بیؒ  ِ 175 - طلاق کے مسا ئل
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)