بی بی اُم احسانؒ

کتاب : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2688

 

بی بی ام احسانؒ کوفہ کی رہنے والی تھیں۔ خوشحال گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ لیکن بہت سادہ زندگی گزارتی تھیں۔ اما م سفیان ثوریؒ کہتے ہیں:

“ان کے صاحب زادے بہت آسودہ حال تھے۔ مگر آپؒ نے کبھی کسی سے کچھ نہ مانگا۔ ساری زندگی ایک حجرے میں گزار دی۔”
آپؒ فرمایا کرتی تھیں۔

جس شخص نے وسعت اور قدرت کے باوجود محض انکساری اور عاجزی کی غرض سے لباس میں سادگی اختیار کی تو اللہ اسے شرافت اور بزرگی کے لباس سے آراستہ فرمائے گا۔ اللہ کے بہت سے بندے ایسے بھی ہیں جن کی ظاہری حالت نہایت معمولی ہوتی ہے، مالی طور پر پریشان اور ان کے کپڑے معمولی اور سادہ ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نظر میں ان کا مرتبہ اتنا بلند ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی بات پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم کو پورا کر دیتا ہے۔

جو شخص کسی مسلمان کو کپڑے پہنا کر اس کی تن پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے روز جنت کا لباس پہنائے گا۔

ملازم اور نوکر تمہارے بھائی ہیں۔ تمہیں چاہئے کہ انہیں وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو۔ ان کو ویسا ہی لباس پہناؤ جو تم پہنتے ہو۔ ان کے اوپر کام کا بوجھ اتنا نہ ڈالو جو ان کی برداشت سے باہر ہو۔ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی غرور ہو گا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔

غرور یہ ہے کہ آدمی حق سے بے نیازی برتے اور لوگوں کو اپنے سے کمتر اور حقیر جانے۔

ایک مرتبہ امام سفیان ثوریؒ نے ان سے کہا کہ اگر آپ کے رشتہ داروں کو آپ کے حالات کی اطلاع دی جائے تو وہ آپ کے لئے آسائش کا سامان مہیا کر دیں گے۔

یہ سن کر ام احسانؒ نے فرمایا:

“اللہ دنیا کی ہر شئے کا خالق و مالک ہے۔ میں ان لوگوں سے کیوں سوال کروں جو خود محتاج ہیں۔ خدا کی قسم! مجھے خبر ہے کہ میری ایک خواہش پر اللہ رب العالمین میرے لئے سونے کے ڈھیر جمع کر دے گا۔”

آپؒ خود شناسی کی منزل سے گزر کر خدا شناسی کی طرف گامزن تھیں۔ اپنی روحانی کیفیات میں سے “جنت کی سیر” کے بارے میں فرماتی ہیں:

“جنت نور کے غلاف میں بند ہے۔ یہاں کے پہاڑ، چشمے، زمین ہر شئے میں ایسی کشش ہے کہ دیکھنے کے ساتھ ہی یہ خود بخود کھنچ کر قریب آ جاتی ہیں۔ جیسے دوربین سے دیکھنے پر کوئی چیز بالکل آنکھوں کے سامنے دکھائی دیتی ہے۔”

حکمت ودانائی

* سادگی ایمان کا جز ہے۔

* خودداری ایک نعمت ہے۔

* اللہ بندے کی روزانہ ایک لاکھ خواہشات بھی پوری کر سکتا ہے۔

* اللہ تعالیٰ کائنت کی ہر شئے کا خالق و مالک ہے۔ جسے چاہے بادشاہ بنا دے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے۔

* استغنا شانِ فقیری ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 127 تا 128

ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین کے مضامین :

ِ انتساب  ِ 1 - مرد اور عورت  ِ 2 - عورت اور نبوت  ِ 3 - نبی کی تعریف اور وحی  ِ 4 - وحی میں پیغام کے ذرائع  ِ 5 - گفتگو کے طریقے  ِ 6 - وحی کی قسمیں  ِ 7 - وحی کی ابتداء  ِ 8 - سچے خواب  ِ 10 - حضرت محمد رسول اللہﷺ  ِ 10 - زمین پر پہلا قتل  ِ 11 - آدم و حوا جنت میں  ِ 12 - ماں اور اولاد  ِ 13 - حضرت بی بی ہاجرہؑ  ِ 14 - حضرت عیسیٰ علیہ السلام  ِ 15 - نبی عورتیں  ِ 16 - روحانی عورت  ِ 17 - عورت اور مرد کے یکساں حقوق  ِ 18 - عارفہ خاتون ‘‘عرافہ’’  ِ 19 - تاریخی حقائق  ِ 20 - زندہ درگور  ِ 21 - ہمارے دانشور  ِ 22 - قلندر عورت  ِ 23 - عورت اور ولایت  ِ 24 - پردہ اور حکمرانی  ِ 25 - فرات سے عرفات تک  ِ 26 - ناقص العقل  ِ 27 - انگریزی زبان  ِ 29 - عورت کو بھینٹ چڑھانا  ِ 29 - بیوہ عورت  ِ 30 - شوہر کی چتا  ِ 31 - تین کروڑ پچاس لاکھ سال  ِ 32 - فریب کا مجسمہ  ِ 33 - لوہے کے جوتے  ِ 34 - چین کی عورت  ِ 35 - سقراط  ِ 36 - مکاری اور عیاری  ِ 37 - ہزار برس  ِ 38 - عرب عورتیں  ِ 39 - دختر کشی  ِ 40 - اسلام اور عورت  ِ 41 - چار نکاح  ِ 42 - تاریک ظلمتیں  ِ 43 - نسوانی حقوق  ِ 44 - ایک سے زیادہ شادی  ِ 45 - حق مہر  ِ 46 - مہر کی رقم کتنی ہونی چاہئے  ِ 47 - عورت کو زد و کوب کرنا  ِ 48 - بچوں کے حقوق  ِ 49 - ماں کے قدموں میں جنت  ِ 50 - ذہین خواتین  ِ 51 - علامہ خواتین  ِ 52 - بے خوف خواتین  ِ 53 - تعلیم نسواں  ِ 54 - امام عورت  ِ 55 - U.N.O  ِ 56 - توازن  ِ 57 - مادری نظام  ِ 58 - اسلام سے پہلے عورت کی حیثیت  ِ 59 - آٹھ لڑکیاں  ِ 60 - انسانی حقوق  ِ 61 - عورت کا کردار  ِ 62 - دو بیویوں کا شوہر  ِ 63 - بہترین امت  ِ 64 - بیوی کے حقوق  ِ 65 - بے سہارا خواتین  ِ 66 - عورت اور سائنسی دور  ِ 67 - بے روح معاشرہ  ِ 68 - احسنِ تقویم  ِ 69 - ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین  ِ 70 - ایک دوسرے کا لباس  ِ 71 - 2006ء کے بعد  ِ 72 - پیشین گوئی  ِ 73 - روح کا روپ  ِ 74 - حضرت رابعہ بصریؒ  ِ 75 - حضرت بی بی تحفہؒ  ِ 76 - ہمشیرہ حضرت حسین بن منصورؒ  ِ 77 - بی بی فاطمہ نیشاپوریؒ  ِ 78 - بی بی حکیمہؒ  ِ 79 - بی بی جوہربراثیہؒ  ِ 80 - حضرت اُم ابو سفیان ثوریؒ  ِ 81 - بی بی رابعہ عدویہؒ  ِ 82 - حضرت اُمّ ربیعۃ الرائےؒ  ِ 83 - حضرت عفیرہ العابدؒ  ِ 84 - حضرت عبقرہ عابدہؒ  ِ 85 - بی بی فضہؒ  ِ 86 - اُمّ زینب فاطمہ بنتِ عباسؒ  ِ 87 - بی بی کردیہؒ  ِ 88 - بی بی اُم طلقؒ  ِ 89 - حضرت نفیسہ بنتِ حسنؒ  ِ 90 - بی بی مریم بصریہؒ  ِ 91 - حضرت ام امام بخاریؒ  ِ 92 - بی بی اُم احسانؒ  ِ 93 - بی بی فاطمہ بنتِ المثنیٰ ؒ  ِ 94 - بی بی ست الملوکؒ  ِ 95 - حضرت فاطمہ خضرویہؒ  ِ 96 - جاریہ مجہولہؒ  ِ 97 - حبیبہ مصریہؒ  ِ 98 - جاریہ سوداؒ  ِ 99 - حضرت لبابہ متعبدہؒ  ِ 100 - حضرت ریحانہ والیہؒ  ِ 101 - بی بی امتہ الجیلؒ  ِ 102 - بی بی میمونہؒ  ِ 103 - فاطمہ بنتِ عبدالرحمٰنؒ  ِ 104 - کریمہ بنت محمد مروزیہؒ  ِ 105 - بی بی رابعہ شامیہؒ  ِ 106 - اُمّ محمد زینبؒ  ِ 107 - حضرت آمنہ رملیہؒ  ِ 108 - حضرت میمونہ سوداءؒ  ِ 109 - بی بی اُم ہارونؒ  ِ 110 - حضرت میمونہ واعظؒ  ِ 111 - حضرت شعدانہؒ  ِ 112 - بی بی عاطفہؒ  ِ 113 - کنیز فاطمہؒ  ِ 114 - بنت شاہ بن شجاع کرمانیؒ  ِ 115 - اُمّ الابرارؒ (صادقہ)  ِ 116 - بی بی صائمہؒ  ِ 117 - سیدہ فاطمہ ام الخیرؒ  ِ 118 - بی بی خدیجہ جیلانیؒ  ِ 119 - بی بی زلیخاؒ  ِ 120 - بی بی قرسم خاتونؒ  ِ 121 - حضرت ہاجرہ بی بیؒ  ِ 122 - بی بی سارہؒ  ِ 123 - حضرت اُم محمدؒ  ِ 124 - بی بی اُم علیؒ  ِ 125 - مریم بی اماںؒ  ِ 126 - بی اماں صاحبہؒ  ِ 127 - سَکّو بائیؒ  ِ 128 - عاقل بی بیؒ  ِ 129 - بی بی تاریؒ  ِ 130 - مائی نوریؒ  ِ 131 - بی بی معروفہؒ  ِ 132 - بی بی دمنؒ  ِ 133 - بی بی حفضہؒ  ِ 134 - بی بی حفصہؒ بنت شریں  ِ 135 - بی بی غریب نوازؒ (مائی لاڈو)  ِ 136 - بی بی یمامہ بتولؒ  ِ 137 - بی بی میمونہ حفیظؒ  ِ 138 - بی بی مریم فاطمہؒ  ِ 139 - امت الحفیظؒ (حفیظ آپا)  ِ 140 - شہزادی فاطمہ خانمؒ  ِ 141 - بی بی مائی فاطمہؒ  ِ 142 - بی بی راستیؒ  ِ 143 - بی بی پاک صابرہؒ  ِ 144 - بی بی جمال خاتونؒ  ِ 145 - بی بی فاطمہ خاتونؒ  ِ 146 - کوئل  ِ 147 - مائی رابوؒ  ِ 148 - زینب پھوپی جیؒ  ِ 149 - بی بی میراں ماںؒ  ِ 150 - بی بی رانیؒ  ِ 151 - بی بی حاجیانیؒ  ِ 152 - اماں جیؒ  ِ 153 - بی بی حورؒ  ِ 154 - مائی حمیدہؒ  ِ 155 - لل ماجیؒ  ِ 156 - بی بی سائرہؒ  ِ 157 - مائی صاحبہؒ  ِ 158 - حضرت بی بی پاک دامناںؒ  ِ 159 - بی بی الکنزہ تبریزؒ  ِ 160 - بی بی عنیزہؒ  ِ 161 - بی بی بنت کعبؒ  ِ 162 - بی بی ستارہؒ  ِ 163 - شمامہ بنت اسدؒ  ِ 164 - ملّانی جیؒ  ِ 165 - بی بی نور بھریؒ  ِ 166 - مائی جنتؒ  ِ 167 - بی بی سعیدہؒ  ِ 168 - بی بی وردہؒ  ِ 169 - بی بی عائشہ علیؒ  ِ 170 - بی بی علینہؒ  ِ 171 - اُمّ معاذؒ  ِ 172 - عرشیہ بنت شمسؒ  ِ 173 - آپا جیؒ  ِ 174 - حضرت سعیدہ بی بیؒ  ِ 175 - طلاق کے مسا ئل
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message