بی اماں صاحبہؒ

کتاب : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2766

بی اماں صاحبہؒ تاج اولیاء بابا تاج الدین ناگپوریؒ کی فیض یافتہ تھیں۔ آپؒ کے والد مسجد کے پیش امام تھے، ان کی کوئی اولاد زندہ نہیں رہتی تھی۔ ان کی بیوی نے منت مانی کہ اگر اولاد زندہ رہ گئی تو وہ اسے تربیت کے لئے بابا تاج الدینؒ کی خدمت میں پیش کر دیں گی۔ بی اماںؒ زندہ رہیں، کم عمری میں انہیں بابا تاج الدینؒ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو بابا صاحبؒ نے آپؒ کی پرورش اپنے ماموں عبدالرحمان صاحب کے سپرد کی۔ اماں صاحبہؒ بڑی ہوئیں تو ان کے رشتہ دار واپس چاندہ لے گئے اور شادی کر دی۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد اماں صاحبہؒ پر جذب کی کیفیت طاری رہنے لگی۔ ان کی حالت دیکھتے ہوئے بابا تاج الدینؒ کی خدمت میں دوبارہ پیش کیا گیا کچھ عرصہ بابا تاج الدینؒ کی خدمت میں رہیں تو جذب ختم ہو گیا۔

بی اماںؒ صاحبہ نے راجورہ میں قیام کیا اور اسی مقام سے آپؒ کا فیض جاری ہوا۔

ایک بار سلسلہ چشتیہ کے بزرگ جو اماں صاحبہؒ سے فیض یافتہ تھے۔ بابا تاج الدینؒ کی خدمت میں آئے اور اپنا ایک عجیب و غریب واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے کہا:

“میں نے دیکھا نور کا ایک ہالہ ہے جس کے درمیان بی اماں صاحبہؒ استغراق کے عالم میں سر جھکائے بیٹھی ہیں اور ان کی پیشانی سے نور کی شعاعیں نکل رہی ہیں۔”

بابا تاج الدینؒ نے ارشاد فرمایا:

“بی اماںؒ پر اللہ کا خصوصی کرم ہے، ہم اس مائی کو عبدالرحمٰن کا لقب دیتے ہیں۔ اس کے ذریعے رحمانی طرز فکر کا فیض جاری ہو گا۔”
ایک بار اماں صاحبہؒ نے بلند آواز میں فرمایا:

“میں ہوں تیری بہن، میں آ رہی ہوں۔”

یہ جملے آپ نے تین بار دہرائے اور جنگل کی طرف چل پڑیں۔ آپؒ کو جاتا دیکھ کر عقیدت مند بھی ساتھ ہو گئے۔ رات کا وقت تھا ہر طرف تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔ شہر کے باہر ایک جگہ آپؒ لمحہ بھر کے لئے رکیں اور پھر ایک طرف چلنے لگیں۔ ایک جگہ پہنچ کر رک گئیں جہاں ایک کوڑھ زدہ مریض پڑا تھا۔ پھوڑوں سے ناقابل برداشت بواٹھ رہی تھی۔ رشتہ دار تنگ آ کر اسے ویرانے میں چھوڑ آئے تھے۔ بی اماں صاحبہؒ نے مریض کے قریب پہنچ کر کہا:

“میں آ گئی ہوں تیری بہن۔ تو میرا بھائی ہے۔”

یہ کہہ کر آپؒ نے اپنا دوپٹہ اس کے اوپر ڈال دیا اور کہا کہ اسے اتارنا مت۔ کچھ دیر کے بعد مریض سو گیا۔ اماں صاحبہؒ اس کے سرہانے بیٹھی رہیں، حضرت فرید الدین تاجیؒ جو اس وقت وہاں موجود تھے کہتے ہیں کہ

“صبح سویرے اماں جیؒ نے اپنا دوپٹہ کھینچا تو ہم نے دیکھا کہ

کوڑھ کا مرض ختم ہو چکا تھا۔”

بی اماں صاحبہؒ کو باغبانی کا بہت شوق تھا۔ اس لئے آپ کے عقیدت مند نایاب پھولوں کے گلدستے پیش کرتے تھے۔ ان گلدستوں کو اماں صاحبہؒ نہایت محبت سے ہاتھ میں لے کر پھولوں کو پیار کرتی تھیں جیسے کہ کوئی ماں بچے کو پیار کرتی ہے۔ کمرے میں رکھے ہوئے گلدستے کئی مہینوں تک ترو تازہ رہتے تھے اور ان سے بھینی بھینی خوشبو آتی رہتی تھی۔ اس کی وجہ دریافت کرنے پر آپ نے فرمایا:
“میری توجہ حیات بن کر ان کے اندر گردش کرتی ہے اور کبھی کبھی تو یہ پھول خوش ہو کر اتنی کلکاریاں مارتے ہیں کہ مجھے کہنا پڑتا ہے کہ بس اب خاموش ہو جاؤ۔”

حکمت و دانائی

* دوسروں کے کام آنا اور ان کی مدد کرنا انسانیت کی معراج ہے۔

* اللہ کی مخلوق کی خدمت کا سچا اور مخلصانہ جذبہ انسان کے اندر محبت، اخوت اور مساوات کو جنم دیتا ہے۔

* جھکنے میں عظمت ہے۔

* سکون کے لئے ضروری ہے کہ انسان کے اندر استغنا ہو۔

* تسخیر کائنات اور جنت کی زندگی نوع انسانی کا ورثہ ہے۔

* فعل و عمل میں اپنی ذات کو اولیت دینے سے جو خول وجود میں آتا ہے وہ انسان کا رشتہ لازمانیت اور لامکانیت سے منقطع کر دیتا ہے۔
* قوت ارادی سے دنیا انسان کے سامنے سرنگوں ہو جاتی ہے۔

* مردہ آدمی اکڑتا ہے زندہ آدمی جھکتا ہے۔

* جھکنا عبادت ہے اور اکڑنا موت ہے۔

 

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 197 تا 200

ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین کے مضامین :

ِ انتساب  ِ 1 - مرد اور عورت  ِ 2 - عورت اور نبوت  ِ 3 - نبی کی تعریف اور وحی  ِ 4 - وحی میں پیغام کے ذرائع  ِ 5 - گفتگو کے طریقے  ِ 6 - وحی کی قسمیں  ِ 7 - وحی کی ابتداء  ِ 8 - سچے خواب  ِ 10 - حضرت محمد رسول اللہﷺ  ِ 10 - زمین پر پہلا قتل  ِ 11 - آدم و حوا جنت میں  ِ 12 - ماں اور اولاد  ِ 13 - حضرت بی بی ہاجرہؑ  ِ 14 - حضرت عیسیٰ علیہ السلام  ِ 15 - نبی عورتیں  ِ 16 - روحانی عورت  ِ 17 - عورت اور مرد کے یکساں حقوق  ِ 18 - عارفہ خاتون ‘‘عرافہ’’  ِ 19 - تاریخی حقائق  ِ 20 - زندہ درگور  ِ 21 - ہمارے دانشور  ِ 22 - قلندر عورت  ِ 23 - عورت اور ولایت  ِ 24 - پردہ اور حکمرانی  ِ 25 - فرات سے عرفات تک  ِ 26 - ناقص العقل  ِ 27 - انگریزی زبان  ِ 29 - عورت کو بھینٹ چڑھانا  ِ 29 - بیوہ عورت  ِ 30 - شوہر کی چتا  ِ 31 - تین کروڑ پچاس لاکھ سال  ِ 32 - فریب کا مجسمہ  ِ 33 - لوہے کے جوتے  ِ 34 - چین کی عورت  ِ 35 - سقراط  ِ 36 - مکاری اور عیاری  ِ 37 - ہزار برس  ِ 38 - عرب عورتیں  ِ 39 - دختر کشی  ِ 40 - اسلام اور عورت  ِ 41 - چار نکاح  ِ 42 - تاریک ظلمتیں  ِ 43 - نسوانی حقوق  ِ 44 - ایک سے زیادہ شادی  ِ 45 - حق مہر  ِ 46 - مہر کی رقم کتنی ہونی چاہئے  ِ 47 - عورت کو زد و کوب کرنا  ِ 48 - بچوں کے حقوق  ِ 49 - ماں کے قدموں میں جنت  ِ 50 - ذہین خواتین  ِ 51 - علامہ خواتین  ِ 52 - بے خوف خواتین  ِ 53 - تعلیم نسواں  ِ 54 - امام عورت  ِ 55 - U.N.O  ِ 56 - توازن  ِ 57 - مادری نظام  ِ 58 - اسلام سے پہلے عورت کی حیثیت  ِ 59 - آٹھ لڑکیاں  ِ 60 - انسانی حقوق  ِ 61 - عورت کا کردار  ِ 62 - دو بیویوں کا شوہر  ِ 63 - بہترین امت  ِ 64 - بیوی کے حقوق  ِ 65 - بے سہارا خواتین  ِ 66 - عورت اور سائنسی دور  ِ 67 - بے روح معاشرہ  ِ 68 - احسنِ تقویم  ِ 69 - ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین  ِ 70 - ایک دوسرے کا لباس  ِ 71 - 2006ء کے بعد  ِ 72 - پیشین گوئی  ِ 73 - روح کا روپ  ِ 74 - حضرت رابعہ بصریؒ  ِ 75 - حضرت بی بی تحفہؒ  ِ 76 - ہمشیرہ حضرت حسین بن منصورؒ  ِ 77 - بی بی فاطمہ نیشاپوریؒ  ِ 78 - بی بی حکیمہؒ  ِ 79 - بی بی جوہربراثیہؒ  ِ 80 - حضرت اُم ابو سفیان ثوریؒ  ِ 81 - بی بی رابعہ عدویہؒ  ِ 82 - حضرت اُمّ ربیعۃ الرائےؒ  ِ 83 - حضرت عفیرہ العابدؒ  ِ 84 - حضرت عبقرہ عابدہؒ  ِ 85 - بی بی فضہؒ  ِ 86 - اُمّ زینب فاطمہ بنتِ عباسؒ  ِ 87 - بی بی کردیہؒ  ِ 88 - بی بی اُم طلقؒ  ِ 89 - حضرت نفیسہ بنتِ حسنؒ  ِ 90 - بی بی مریم بصریہؒ  ِ 91 - حضرت ام امام بخاریؒ  ِ 92 - بی بی اُم احسانؒ  ِ 93 - بی بی فاطمہ بنتِ المثنیٰ ؒ  ِ 94 - بی بی ست الملوکؒ  ِ 95 - حضرت فاطمہ خضرویہؒ  ِ 96 - جاریہ مجہولہؒ  ِ 97 - حبیبہ مصریہؒ  ِ 98 - جاریہ سوداؒ  ِ 99 - حضرت لبابہ متعبدہؒ  ِ 100 - حضرت ریحانہ والیہؒ  ِ 101 - بی بی امتہ الجیلؒ  ِ 102 - بی بی میمونہؒ  ِ 103 - فاطمہ بنتِ عبدالرحمٰنؒ  ِ 104 - کریمہ بنت محمد مروزیہؒ  ِ 105 - بی بی رابعہ شامیہؒ  ِ 106 - اُمّ محمد زینبؒ  ِ 107 - حضرت آمنہ رملیہؒ  ِ 108 - حضرت میمونہ سوداءؒ  ِ 109 - بی بی اُم ہارونؒ  ِ 110 - حضرت میمونہ واعظؒ  ِ 111 - حضرت شعدانہؒ  ِ 112 - بی بی عاطفہؒ  ِ 113 - کنیز فاطمہؒ  ِ 114 - بنت شاہ بن شجاع کرمانیؒ  ِ 115 - اُمّ الابرارؒ (صادقہ)  ِ 116 - بی بی صائمہؒ  ِ 117 - سیدہ فاطمہ ام الخیرؒ  ِ 118 - بی بی خدیجہ جیلانیؒ  ِ 119 - بی بی زلیخاؒ  ِ 120 - بی بی قرسم خاتونؒ  ِ 121 - حضرت ہاجرہ بی بیؒ  ِ 122 - بی بی سارہؒ  ِ 123 - حضرت اُم محمدؒ  ِ 124 - بی بی اُم علیؒ  ِ 125 - مریم بی اماںؒ  ِ 126 - بی اماں صاحبہؒ  ِ 127 - سَکّو بائیؒ  ِ 128 - عاقل بی بیؒ  ِ 129 - بی بی تاریؒ  ِ 130 - مائی نوریؒ  ِ 131 - بی بی معروفہؒ  ِ 132 - بی بی دمنؒ  ِ 133 - بی بی حفضہؒ  ِ 134 - بی بی حفصہؒ بنت شریں  ِ 135 - بی بی غریب نوازؒ (مائی لاڈو)  ِ 136 - بی بی یمامہ بتولؒ  ِ 137 - بی بی میمونہ حفیظؒ  ِ 138 - بی بی مریم فاطمہؒ  ِ 139 - امت الحفیظؒ (حفیظ آپا)  ِ 140 - شہزادی فاطمہ خانمؒ  ِ 141 - بی بی مائی فاطمہؒ  ِ 142 - بی بی راستیؒ  ِ 143 - بی بی پاک صابرہؒ  ِ 144 - بی بی جمال خاتونؒ  ِ 145 - بی بی فاطمہ خاتونؒ  ِ 146 - کوئل  ِ 147 - مائی رابوؒ  ِ 148 - زینب پھوپی جیؒ  ِ 149 - بی بی میراں ماںؒ  ِ 150 - بی بی رانیؒ  ِ 151 - بی بی حاجیانیؒ  ِ 152 - اماں جیؒ  ِ 153 - بی بی حورؒ  ِ 154 - مائی حمیدہؒ  ِ 155 - لل ماجیؒ  ِ 156 - بی بی سائرہؒ  ِ 157 - مائی صاحبہؒ  ِ 158 - حضرت بی بی پاک دامناںؒ  ِ 159 - بی بی الکنزہ تبریزؒ  ِ 160 - بی بی عنیزہؒ  ِ 161 - بی بی بنت کعبؒ  ِ 162 - بی بی ستارہؒ  ِ 163 - شمامہ بنت اسدؒ  ِ 164 - ملّانی جیؒ  ِ 165 - بی بی نور بھریؒ  ِ 166 - مائی جنتؒ  ِ 167 - بی بی سعیدہؒ  ِ 168 - بی بی وردہؒ  ِ 169 - بی بی عائشہ علیؒ  ِ 170 - بی بی علینہؒ  ِ 171 - اُمّ معاذؒ  ِ 172 - عرشیہ بنت شمسؒ  ِ 173 - آپا جیؒ  ِ 174 - حضرت سعیدہ بی بیؒ  ِ 175 - طلاق کے مسا ئل
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)