باصرہ اور شُہود نفسی

کتاب : لوح و قلم

مصنف : حضور قلندر بابا اولیاءؒ

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2903

ہم اوپر کہہ چکے ہیں کہ لطیفۂِ نفسی کی روشنیاں مَوجودات کے ہر ذرّے کا احاطہ کرتی ہیں۔ اس ہی لطیفۂِ نفسی کی ایک شعاع کا نام باصرہ ہے۔ یہ شعاع کائنات کے پورے دائرے میں دور کرتی رہتی ہے۔ یوں کہنا چاہئے کہ تمام کائنات ایک دائرہ ہے اور لطیفۂِ نفسی کی روشنی ایک چراغ ہے۔ اس چراغ کی لو کا نام باصرہ ہے۔ جہاں اس چراغ کی لو کا عکس پڑتا ہے وہاں ارد گرد اور قرب و جوار کو چراغ کی لو دیکھ لیتی ہے۔ اس چراغ کی لو میں جس قدر روشنیاں ہیں ان میں درجہ بندی اور تنوّع پایا جاتا ہے۔ کہیں لَو کی روشنی بہت ہلکی، کہیں ہلکی، کہیں تیز اور کہیں بہت تیز پڑتی ہے۔ جن چیزوں پر لَو کی روشنی بہت ہلکی پڑتی ہے، ہمارے ذہن میں اُن چیزوں کا تُواہُم پیدا ہوتا ہے۔ جن چیزوں پر لَو کی روشنی ہلکی پڑتی ہے، ہمارے ذہن میں اُن چیزوں کا خیال رُونما ہوتا ہے۔ جن چیزوں پر لَو کی روشنی تیز پڑتی ہے، ہمارے ذہن میں اُن چیزوں کا تصوّر جگہ کر لیتا ہے اور جن چیزوں پر لو کی روشنی بہت تیز پڑتی ہے اُن چیزوں تک ہماری نگاہ پہنچ کر اُن کو دیکھ لیتی ہے۔ اس طرح لطیفۂِ نفسی کی روشنیوں کے چار ابتدائی مرحلے ہوتے ہیں۔ اُن میں سے ہر مرحلہ لطیفۂِ نفسی کی روشنیوں کے شُہود کا ایک قدم ہے۔ شُہود کسی روشنی تک خواہ وہ بہت ہلکی ہو یا تیز ہو نگاہ کے پہنچ جانے کا نام ہے۔ شُہود نفسی ایک ایسی صلاحیّت ہے جو ہلکی سی ہلکی روشنی کو نگاہ میں منتقل کر دیتا ہے تا کہ ان چیزوں کو جواب تک محض تُواہُم تھیں خدّوخال، شکل وصورت، رنگ اور روپ کی حیثیت میں دیکھا جا سکے۔
روح کی وہ صلاحیّت جس کا نام شُہود ہے وہم کو، خیال کو یا تصوّر کو نگاہ تک لاتی ہے اور ان کی جزئیات کو نگاہ پر مُنکشِف کر دیتی ہے۔ روح کی یہ صلاحیّت جب لطیفۂِ نفسی کی حدوں میں عَوّد کرتی ہے اور لطیفۂِ نفسی کی روشنیوں میں قانونی اُصول بن کر رُونما ہوتی ہے تو وہ ایسی شرائط پوری کرتی ہے جو بیداری کی حسّیات کا خاصہ ہیں اور ان خاصّوں کے مظہر کا نام شُہود نفسی ہے۔ جن حدوں میں شُہود نفسی عمل کرتا ہے ان حدوں کا نام جَویَّہ ہے۔ ان حدوں کی جزئیات بیداری کا نصبُ العین، بیداری کی حرکتیں، بیداری کا مفہوم اور بیداری کے نتائج پیدا کرتی ہیں۔ یہ مرحلہ شُہود نفسی کا پہلا قدم ہے۔ اس مرحلہ میں سارے اعمال باصرہ یا نگاہ سے تعلّق رکھتے ہیں۔ اس شُہود کی مزید ترقی یافتہ شکلیں وہی حالت پیدا کرتی ہیں جو بیداری کے عالم میں باصرہ کے علاوہ اور چار حسّیات جن کے نام، شامّہ، سماعت، ذائقہ اور لامِسہ ہیں، پیدا کرتی ہیں۔
جب لطیفۂِ نفسی کی روشنیاں مَضروب ہو جاتی ہیں یعنی جب باصرہ کی کسی حِس کا بار بار اعادہ ہوتا ہے تو درجہ بدرجہ باقی حِسیں ترتیب پا جاتی ہیں۔ اس ترتیب کا دارومدار لطیفۂِ نفسی کی روشنیوں کے زیادہ سے زیادہ ہو جانے میں ہے۔ یہ اضافہ زیادہ سے زیادہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص بیداری میں ذہنی رجحانات کو مسلسل ایک ہی نقطہ پر مرکوز کرنے کا عادی ہو جائے۔ اور یہ چیز عملِ اِسترخاء کے پَے در پَے کرنے سے حاصل ہو جاتی ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 73 تا 74

لوح و قلم کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 0.02 - عرضِ احوال  ِ 1 - بسمِ اللہِ الرّحمٰن الرّحیم  ِ 2 - عالمِ رُؤیا سے انسان کا تعلق  ِ 3 - رُؤیا کی صلاحیّتوں کے مَدارِج  ِ 4 - لوحِ اوّل یا لوحِ محفوظ  ِ 5 - لوحِ دوئم  ِ 6 - عالمِ جُو  ِ 7 - کثرت کا اَجمال  ِ 8 - ‘‘جُو’’ کا واسطہ  ِ 9 - احساس کی درجہ بندی  ِ 10 - وَحدتُ الوُجود اور وَحدتُ الشُہود  ِ 11 - روحِ اعظم، روحِ انسانی، روحِ حیوانی اور لطائفِ ستّہ  ِ 12 - اسماءِ الٰہیہ  ِ 13 - اسماءِ الٰہیہ کی تعداد گیارہ ہزار ہے  ِ 14 - خواب اور بیداری  ِ 15 - لوحِ محفوظ اور مراقبہ  ِ 16 - تدلّٰی  ِ 17 - کُن فیَکون  ِ 18 - علمِ لدُنّی  ِ 19 - ہر اسم تین تجلّیوں کا مجموعہ ہے  ِ 20 - اسمِ ذات  ِ 21 - روح کی مرکزیّتیں اور تحریکات  ِ 22 - لطیفۂِ نفسی کی حرکت  ِ 23 - باصرہ اور شُہود نفسی  ِ 24 - عملِ اِسترخاء  ِ 25 - علم ‘‘لا’’ اور علم ‘‘اِلّا’’  ِ 26 - ‘‘لا’’ کا مراقبہ  ِ 27 - قوّتِ اَلقاء  ِ 28 - سالک مجذوب، مجذوب سالک  ِ 29 - نسبت کا بیان  ِ 30 - ٹائم اسپیس کا قانون  ِ 31 - زمانیت اور مکانیت کا راز  ِ 32 - کائنات کی ساخت  ِ 33 - نیابت کیا ہے؟  ِ 34 - لوحِ محفوظ کا قانون  ِ 35 - اَنا یا انسانی ذہن کی ساخت  ِ 36 - علمُ الیقین، عینُ الیقین، حقُ الیقین  ِ 37 - تخلیق کا قانون  ِ 38 - انبیاء کے مقامات  ِ 39 - تخلیق کا فارمولا  ِ 40 - ماضی اور مستقبل  ِ 41 - زمان و مکان کی حقیقت  ِ 42 - اِدراک کیا ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)