اے واعظو! اے منبر نشینو

کتاب : قوس و قزح

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=8773

عیسوی دور کی شماریات میں جنوری کا مہینہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ دو ہزار مرتبہ آ چکا ہے۔ اس مہینے میں رنج و الم داغ مفارقت روح کی بیتابی مسرت و شادمانی آہیں آنسو بے سکونی اور سکون سبھی کچھ آتا رہا ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اس لئے کہ کائنات مسلسل حرکت ہے۔ حرکت ایک لمحہ کو بھی رک جائے گی تو دنیا بقا کے دوش سے فنا کے دوش پر منتقل ہو جائے گی اور اس طرح نیست و نابود ہو جائے گی کہ پھر ماضی حال مستقبل کسی کا تذکرہ نہیں ہو گا۔ لاکھوں کروڑوں سال کا ارتقاء پانی کے بلبلے کی طرح معدوم ہو جائے گا۔
یہ دنیا ایک طرف بقا ہے تو دوسری طرف فنا ہے۔ ایک طرف فنا ہے تو دوسری طرف بقا ہے۔ فنا و بقا کا یہ کھیل ریت کے گھروندے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ یہی وہ سربستہ راز ہے جس کو بتانے سمجھانے اور عام کرنے کے لئے قدرت روشن اور منور لوگوں کو دھرتی پر بھیجتی ہے اور دھرتی کے یہ روشن چراغ زمین پر بسنے والے لوگوں کو روشنی اور نور سے متعارف کراتے ہیں۔ قلندر بابا اولیاءؒ ایسے ہی پاکیزہ اور مقدس گروہ کے افضل ترین ایک فرد ہیں۔
آج کی مجلس میں ہم نے قلندر بابا اولیاءؒ کی تعلیمات کو مختصر الفاظ میں لوگوں تک پہنچانے کی سعی کی ہے۔ مستقبل کی نسل عظیمیہ سلسلہ کے افراد اور قارئین کے لئے یہ تحریر ایک مرقع تصویر ہے۔
* نوع انسان میں مرد عورتیں بچے بوڑھے سب آپس میں آدم کے ناطے خالق کائنات کے تخلیقی راز و نیاز ہیں۔ آپس میں بھائی بہن ہیں، نہ کوئی بڑا ہے نہ چھوٹا۔ بڑائی صرف اس کو زیب دیتی ہے جو اپنے اند رٹھاٹھیں مارتے ہوئے اللہ کی صفات کے سمندر کا عرفان رکھتا ہو۔ جس کے اندر اللہ کی صفات کا عکس نمایاں ہو، جو اللہ کی مخلوق کے کام آئے‘ کسی کو اس کی ذات سے تکلیف نہ پہنچے۔
* یہ کیسا المناک اور خوفناک عمل ہے کہ ہم دوسروں کو نقصان پہنچا کر خوش ہوتے ہیں جبکہ آدم و حوا کے رشتے کے پیش نظر ہم خود اپنی جڑ کاٹتے ہیں۔ درخت ایک ہے شاخیں اور پتے لاتعداد ہیں۔
* خوشی اگر ہمارے لئے معراج کی تمنا ہے تو ہم اپنے نفسوں کو تکلیف پہنچا کر کس طرح خوش رہ سکتے ہیں۔
* دوستو! ایسے کام کیجئے کہ آپ خود مطمئن ہوں۔ آپ کا ضمیر مردہ نہ ہو جائے۔ اور یہی وہ راز ہے جس کے ذریعہ آپ کی ذات دوسروں کے لئے رہنمائی کا ذریعہ بن جائے گی۔
* آدمی حالات کے ہاتھ میں کھلونا ہے۔ حالات جس طرح چابی بھر دیتے ہیں، آدمی اسی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
* موجودہ سائنس تلاش و جستجو کے راستے پر چل کر اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ پوری کائنات ایک ہی قوت کا مظاہرہ ہے۔ یہ انکشاف نیا نہیں ہے۔ ہمارے نبی کریم ﷺ چودہ سو بیس سال (۱۴۲۰) پہلے اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ کائنات کے تمام بظاہر کو ایک ہستی کنٹرول کرتی ہے۔ قرآن اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:
اللّٰہ نور السمٰوٰت والارض
’’اللہ آسمانوں اور زمین کی روشنی ہے۔‘
ہم جانتے ہیں کہ آدم زاد کی طرح چوپائے اور پرندے بھی اللہ کی مخلوق ہیں۔ ان کے اندر بھی احتیاج ہے۔ انہیں بھی بھوک پیاس لگتی ہے۔
اے آدم زاد!
کبھی تو نے سوچا ہے کہ روزی رساں اتنی بڑی مخلوق کو کس طرح روزی فراہم کرتا ہے؟
* ہر انسان کے اندر سطحی اور گہری سوچ موجود ہے۔ تفکر جب گہرا ہوتا ہے تو بجز اس کے کوئی بات سامنے نہیں آتی کہ ہر آدمی جنت اور دوزخ اپنے ساتھ لئے پھرتا ہے اور اس کا تعلق طرز فکر سے ہے۔ طرز فکر انبیاءؑ کے مطابق ہے تو آدمی کی ساری زندگی جنت ہے۔ طرز فکر میں ابلیسیت ہے تو تمام زندگی دوزخ ہے۔
* ترقی کے خوشنما اور پر فریب جال میں دنیا کی عمر گھٹ رہی ہے۔ زمین بیمار ہو گئی ہے۔ کراہتے ہوئے روتے ہوئے کہہ رہی ہے ’’خدارا میرے اور اپنے اوپر رحم کرو۔‘‘ مگر کوئی کان ایسا نہیں ہے کہ اس سسکتی ہوئی اور غم میں ڈوبی ہوئی آواز کو سنے۔
* اے لوگو! دانشورو! کچھ تو ہوش و خرد سے کام لو۔ یہ کیسی ترقی ہے کہ آدمی خود اپنی نسل کو برباد کرنے کے لئے مسلسل کوشاں ہے اور تباہی کا نام اس نے ترقی رکھ چھوڑا ہے اور ترقی کے خوشنما پودوں میں ذہنی سکون اطمینان اور تحفظ کے احساس کو چھپا دیا ہے۔
* اے آدم زاد! میری بات پر دھیان دے۔میں جو تیرا ضمیر ہوں۔تیرے اندر کی آواز ہوں۔ تیرے باطن کی پکار ہوں۔ دیکھ! میرا گلا نہ گھونٹ، میری طرف متوجہ ہو ورنہ تو اسی طرح مصائب کے اندھیروں میں بھٹکتا پھرے گا۔
* اے واعظو!
اے منبر نشینو!
اے قوم کے دانشورو!
برائے خدا سوتی قوم کو جگاؤ اور بتاؤ کہ بے عمل قومیں غلام بن جاتی ہیں۔
* آدمی جب اپنی روح کا عرفان حاصل کرلیتا ہے تواس کی رفتار کے آگے بجلی کی رفتار صفر ہو جاتی ہے۔ ہزاروں لاکھوں
سال پہلے کی باتیں اس کے سامنے آ جاتی ہیں۔
* کوئی چیز براہ راست ہم سے ہم رشتہ نہیں ہے بلکہ ہر رشتہ میں اللہ کی صفت کا عمل دخل ہے۔
* من سے دوستی کا رشتہ مستحکم کرنے کے لئے ہمارا اِنر(Inner) ہمیں راستہ دکھاتا ہے اور وہ راستہ یہ ہے کہ یہاں ہمارا کوئی دشمن ہے نہ کوئی دوست ہے۔ ہم خود ہی اپنے دوست ہیں اور خود ہی اپنے دشمن ہیں۔
* روح رہنمائی کرتی ہے کہ ساری کائنات ایک ڈرامہ کی طرح ہے۔ کوئی باپ ہے کوئی ماں ہے کوئی بچہ ہے کوئی دوست ہے کوئی دشمن ہے کوئی گنہگار ہے کوئی پاکباز ہے۔ دراصل یہ اسٹیج پر کام کرنے والے کرداروں کے مختلف روپ ہیں۔ جب ڈراپ سین ہو جاتا ہے تو کوئی کچھ نہیں رہتا۔
* فتح کی آنکھ دیکھتی ہے کہ اللہ کی ساری مخلوق ایک نقطہ میں بند ہے۔ جس طرح ٹھہرے ہوئے پانی میں جھانکنے سے پانی کے اندر اپنی شکل نظر آتی ہے اسی طرح اس نقطہ کے اندر دیکھنے سے کائنات کے سارے افراد فرشتے جنات انسان اور دوسری تخلیقات باہم دیگر جڑے ہوئے ملے ہوئے اور ایک دوسرے کے ساتھ پیوست نظر آتے ہیں۔
* حقیقی مسرت سے ہم آغوش ہونے کے لئے انسان کو سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ زندگی کا دارومدار صرف جسم پر نہیں ہے بلکہ اس حقیقت پر ہے جس حقیقت نے خود اپنے لئے جسم کو لباس بنا لیا ہے۔
* ہم جب یہ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی مر گیا تو دراصل کہنا یہ چاہتے ہیں کہ فلاں آدمی کا کردار فلاں آدمی کی زندگی یا فلاں آدمی کی آواز ایک دستاویزی ریکارڈ بن گئی ہے۔
* جب تک آدمی کے یقین میں یہ بات رہتی ہے کہ چیزوں کا موجود ہونا یا چیزوں کا عدم میں چلے جانا اللہ کی طرف سے ہے ، اس وقت تک ذہن کی مرکزیت قائم رہتی ہے اور جب یہ یقین غیر مستحکم ہو کر ٹوٹ جاتا ہے تو آدمی ایسے عقیدے اور ایسے وسوسوں میں گرفتار ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ ذہنی انتشار ہوتا ہے پریشانی ہوتی ہے غم اور خوف ہوتا ہے۔ ٹوٹ پھوٹ کا شکار انسان روزانہ مرتا ہے اور روزانہ جینے کے بعد پھر مر جاتا ہے۔
* روح اور جسم کے مشترک نظام سے جب کوئی بندہ واقف ہو جاتا ہے تو وہ خود کو خوش اور ایثار کے جذبہ میں ڈوبا ہوا محسوس کرتا ہے۔ وہ ہر فرد کو اس نظر سے دیکھتا ہے جس نظر سے ماں اپنے بچوں کو دیکھتی ہے۔
* سکون ایک حقیقت ہے۔ ایسی حقیقت جس سے پوری کائنات بندھی ہوئی ہے۔ حقیقت فکشن نہیں ہوتی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بندے کے اندر وہ کون سی طاقت ہے جو ٹوٹ پھوٹ اور گھٹنے بڑھنے سے محفوظ ہے۔ وہ طاقت ہر بندے کی، اس کی اپنی روح ہے۔ نسلی اعتبار سے اگر ہم اپنے بچوں کو ان کے اندر موجود روح سے آشنا کر دیں تو وہ مذہب سے دور نہیں ہونگے۔
* اس رنگ و بو کی دنیا میں ہر طرح ایک اور دنیا بھی ہے جو مرنے کے بعد ہمارے اوپر روشن ہوتی ہے۔ ہم کتنے بدنصیب ہیں کہ ہم نے کبھی اس نادیدہ دنیا کی طرف سفر نہیں کیا۔ اگر ہم اس دنیا سے روشناسی حاصل کر لیں تو اس بات کی توقع کی جا سکتی ہے کہ ناشاد و نامراد زندگی کو مسرت و شادمانی میسر آ جائے گی۔
* یہاں ہر چیز لہروں کے دوش پر رواں دواں ہے۔ یہ لہریں جہاں زندگی کو خوش آرام بناتی ہیں۔ مصیبت و ابتلا میں بھی مبتلا کر دیتی ہیں۔ نور کے قلم سے نکلتی ہوئی ہر لکیر نور ہے اور نور جب مظہر بنتا ہے تو روشنی بن جاتا ہے۔ روشنی کم ہو جائے تو اندھیرا ہو جاتا ہے۔ آدم نے اس اندھیری دنیا میں قید ہونے کو سب کچھ سمجھ لیا ہے۔
* انسانی نگاہ کے سامنے جتنے مناظر ہیں وہ شعور کی بنائی ہوئی مختلف تصویریں ہیں۔اس لئے اس کے مشاہدات و تجربات بھی مفروضہ ہیں۔ ایک چیز کے بارے میں مختلف لوگوں کی سینکڑوں مختلف آراء ہوتی ہیں۔ حالانکہ حقیقت ایک اور صرف ایک ہوتی ہے۔عام مشاہدہ ہے کہ ہماری نگاہ کے سامنے مظاہر میں ہر وقت تغیر ہوتا رہتا ہے۔ آبادی ویرانہ میں اور ویرانہ آبادی میں بدل جاتا ہے۔
یہ متغیر دنیا کس طرح حقیقی ہے؟
جب کہ حقیقت میں تغیر نہیں ہوتا۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 129 تا 135

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)