ایک ہاتھ میں سورج۔ ایک ہاتھ میں چاند

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد اوّل

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=322

کفّارِ مکہ کی سمجھ میں یہ نہیں اۤرہا تھا کہ وہ کس طرح اپنا شرف اور اقدار برقرار رکھیں۔ باہمی مشاورت سے اشرافِ قریش کی ایک جماعت اۤپؐ کے چچا ابو طالب کے پاس اۤئی انہوں نے شکایت کی کہ اے ابو طالب! اۤپ کا بھتیجا ہمارے خداؤں کو برا بھلا کہتا ہے۔ اس نے ہمارے باپ دادا کے طریقے پر نقطہ چینی کی ہے۔ ہمیں عقل و فہم سے عاری قرار دیتا ہے۔ محمدؐ ہمارے باپ دادا کو بھی گمراہ کہتا ہے۔ ہم یہ توہین برداشت نہیں کرسکتے۔ اۤپ یا تو اسے روک دیں کہ وہ ان باتوں سے باز اۤجائےیا ہمارے اور اس کے درمیان سے ہٹ جائیں۔

سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حق کا پرچار جاری رکھا اور باطل کی تکذیب کرتے رہے۔ اہلِ مکہ سے صبر نہ ہوسکا وہ دوبارہ ابو طالب کے پاس اۤئے اور سختی سے مطالبہ کیا کہ اپنے بھتیجے کو ان باتوں سے روک دو یا اس کی حمایت سے دستبردار ہوجاؤ۔ ورنہ ہم سب تمہارے خلاف جنگ کریں گے۔ یہاں تک کہ فریقین میں سے ایک دنیا میں نہ رہے۔

ابو طالب کو اپنے یتیم بھتیجے کی فکر ہوئی اور انہیں بلا کر سمجھانے لگے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب اپنے مہربان چچا کے منہ سے تبلیغِ حق ترک کردینے کا مشورہ سنا تو فرمایا:

”خدا کی قسم! وہ میرے داہنے ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند لاکر رکھ دیں اور یہ چاہیں کہ میں خدا کا حکم اس کی مخلوق کو نہ پہنچاؤں، میں ہرگز اس کے لئے اۤمادہ نہیں ہوں۔ یہاں تک کہ خدا کا سچا دین لوگوں میں پھیل جائے یا کم از کم میں اس جدوجہد میں اپنی جان دے دوں۔ ”

ابو طالب نے جب اپنے بھتیجے کا یہ عزم دیکھا تو کہا، ”تم اپنا کام کرتے رہو، میں تمہاری حمایت سے کسی وقت بھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ ”

اسی دوران حج کا موسم اۤگیا۔ قریش کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ عرب کے وفود کے سامنے محمد الرسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نئے دین کا پرچار ضرور کریں گے۔ لہٰذا اس کے توڑ کے لئے پہلے ہی اقدامات کر لئے جائیں۔ اس مقصد کے لئے وہ ”دارالندوۃ” میں جمع ہوئے۔ دارالندوۃ قریش کا پارلیمنٹ ہاؤس تھا۔ یہ کعبہ شریف کے پہلو میں ایک ذی شان محل تھا۔ قریش جب کسی اہم اور خاص کام کو شروع کرنا چاہتے توسب اسی محل میں جمع ہوکر صلاح مشورہ کرتے تھے۔

ولید بن مغیرہ کی سرکردگی میں گفت وشنید ہوئی۔ کسی نے کہا کہ پاگل مشہور کردیا جائے کسی نے مشورہ دیا کہ کاہن کے نام سے شہرت دی جائے۔ کسی نے کہا کہ شاعر کہا جائے۔ لیکن ولید بن مغیرہ کسی بات سے متفق نہ ہوا۔ بالاۤخر سب نے اس رائے مانگی تو اس نے کہا محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو جادوگر کی حیثیت سے مشہور کردیا جائے۔ لہٰذا طے پایا کہ مکہ کے تمام راستوں پر اپنے اۤدمی بٹھا دیئے جائیں تاکہ اطرافِ عالم سے جو لوگ حج کے لئے اۤئیں انہیں یہ باور کرایا جائے کہ یہاں ایک ساحر ہے جو اپنے کلام سے باپ بیٹے اور خاوند بیوی میں اور تمام رشتوں میں باہمی تفریق ڈال دیتا ہے۔ لہٰذا تم لوگ اس کے پاس نہ جانا۔

قراۤن نے اس مجلس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے:

ترجمہ:

”اس نے سوچا اور اندازہ لگایا۔

وہ غارت ہو اس نے کیسا اندازہ لگایا۔

پھر غارت ہو اس نے کیسا اندازہ لگایا۔

پھر نظر دوڑائی۔

پھر پیشانی سکیڑی اور منہ بسورا۔

پھر پلٹا اور تکبّر کیا۔

اۤخر کار کہا کہ یہ نرالا جادو ہے جو پہلے سے نقل ہوتا اۤرہا ہے۔

یہ محض انسان کا کلام ہے۔ ” (مدثر، ۱۸۔۲۴)

اس کام میں سب سے زیادہ پیش پیش ابولہب تھا۔ وہ لوگوں کے ڈیروں اور عکاظ، مجنہ اور ذوالمجار کے بازاروں میں اۤپؐ کے پیچھے پیچھے چلتا رہتا۔ جہاں اۤپؐ تبلیغ کرتے ابولہب پکار پکار کر لوگوں کو کہتا کہ اس کی بات نہ ماننا۔ لوگ جب حج سے واپس ہوئے تو ان کے علم میں یہ بات اۤچکی تھی کہ اۤپؐ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس طرح پورے عرب اور قرب و جوار میں اۤپؐ کا چرچا پھیل گیا اور کفار کی تدبیر الٹ گئی۔

کفارِ مکہ نے جب یہ دیکھا کہ ان کی تدبیریں ناکام ہورہی ہیں اور اۤپؐ کی دعوت عام ہورہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ لوگ اسلام کی تعلیمات سے واقف ہو رہے ہیں تو انہوں نے مشورہ کرکے مکہ کے سب سے چالاک اور زیرک سردار عتبہ بن ربیعہ کو اۤپؐ کے پاس بھیجا کہ وہ اۤپؐ کو دنیاوی طمح اور لالچ دے کر تبلیغِ دین سے روک دے۔

عقبہ نے اۤپؐ کے پاس پہنچ کر کہا، ”بھتیجے تم حسب و نسب میں ہم سے بہتر ہو۔ تم نے ہمارے اۤباؤ اجداد کے طریقہ کو باطل قرار دیا ہے اور انہیں جاہل سے تعبیر کیا ہے۔ تم اۤج اپنے دل کی بات کہ دو کہ تمہارا مدعا کیا ہے؟ اگر تم دولت کے لئے یہ سب کچھ کر رہے ہو تو ہم تمہارے واسطے اتنا مال جمع کردیں گے کہ تم اہلِ مکہ میں سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ گے۔ اگر سرداری حاصل کرنا چاہتے ہو تو ہم اس پر راضی ہیں کہ تمہیں قریش کا سردار بنادیں۔ اگر تم شادی کے خواہش مند ہو تو مکہ کی سب سے خوبصورت لڑکی کو تمہاری دلہن بنادیں گے اور اگر یہ سب نہیں ہے اور تم کسی جن یا ماورائی طاقت کے زیرِ اثر ہو جس کی باتیں تم لوگوں کو سناتے ہو اور اس سے چھٹکارا پانے سے عاجز ہو تو ہم تمہارے لئے حاذق طبیب تلاش کرتے ہیں تاکہ وہ تمہارا علاج کرے اور تمہیں صحت حاصل ہو۔ ”

عقبہ کے طویل لیکچر کے بعد سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جواب میں سورۃ حٰم السجدہ کی تلاوت کی۔ عقبہ گم سم سنتا رہا۔ پھر اٹھ کر اپنی قوم میں واپس اۤگیا۔ عقبہ کو اۤتا دیکھ کر مشرکین نے ایک دوسرے سے کہا، خدا کی قسم! ابو الولید تمہارے پاس وہ چہرہ لے کر نہیں اۤرہا جو چہرہ لے کر گیا تھا۔ عقبہ نے کہا، ”اۤج میں نے ایسا کلام سنا ہے کہ اس سے پہلے اپنی عمر میں کبھی نہیں سنا تھا۔ خدا کی قسم! نہ وہ شاعری ہے، نہ جادو، نہ وہ نجومیوں کا کلام ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ تم سب اس کو اذیت دینے سے باز اۤجاؤ۔ جو کلام میں نے سنا ہے اس کی شان ظاہر ہونے والی ہے۔ میری بات مانو اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔ اگر عرب اس پر غالب اۤگئے تو تمہارا کام دوسرے کے ذریعے انجام پائے گا اور اگر وہ عرب پر غالب اۤگیا تو اس کی عزت ہماری عزت ہے۔ کیونکہ وہ ہمارے ہی قبیلہ سے ہے۔ ” لوگ حیرت سے اس کو تکنے لگے پھر انہوں نے رائے قائم کی کہ عقبہ پر محمدؐ کا جادو چل گیا ہے۔

ایک روز جب کہ رسول اﷲ ؐ کعبہ کا طواف کر رہے تھے قریش کے سرکردہ افراد ان کے پاس آئے اور تجویز پیش کی کہ اے محمدؐ! اۤؤ جسے تم پوجتے ہو اسے ہم بھی پوجیں اور جسے ہم پوجتے ہیں اسے تم بھی پوجو۔ اس طرح ہم اور تم اس کام میں مشترک ہوجائیں گے۔ یہ روایت بھی ملتی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے یہ تجویز رکھی گئی کہ ایک سال اۤپؐ قریش کے معبودوں کو پوجا کریں اور ایک سال قریش اۤپؐ کے رب کی عبادت کیا کریں گے۔ قریش کی اس قسم کی تجاویز کے جواب میں سورۃ کافرون نازل ہوئی۔

جب قریش کا کوئی حیلہ کارگر نہ ہوا تو ایک بار پھر انہوں نے غور و خوض کیا اور اۤپؐ کی دعوت کا قلع قمع کرنے کے لئے مختلف طریقے اختیار کئے۔ قراۤن نےکفار کی اس مہم کا تذکرہ جگہ جگہ کیا ہے:

ترجمہ: ”اور لوگ کہتے ہیں، اے شخص کہ تجھ پر اتری ہے نصیحت تو یقیناً دیوانہ ہے۔ ” (الحجر۔۶ )

ترجمہ: ”اور اچنبھا کرنے لگے اس پر کہ اۤیا ان کو ایک ڈر سنانے والا انہی میں سے، اور لگے کہنے منکر یہ جادوگر ہے جھوٹا۔ ” (ص۔۴ )

ترجمہ: ”اور منکر تو لگے ہی ہیں کہ ڈگادیں تجھ کو اپنی نگاہوں سے، جب سنتے ہیں سمجھوتی اور کہتے ہیں وہ باولا ہے۔ ” (القلم۔۵۱ )

ترجمہ: ”اور اسی طرح اۤزمایا ہے ہم نے ایک کو ایک سے کہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اﷲ نے فضل کیا ہم سب میں سے؟ کیا اﷲ کو معلوم نہیں حق ماننے والے۔ ” (الانعام۔۵۲ )

ترجمہ: ”جو گنہگار ہیں، وہ تھے ایمان والوں سے ہنستے۔ اور جب ہو نکلتے ان پاس اۤپس میں اشارے کرتے۔ اور جب پھر کر جاتے اپنے گھر، پھر جاتے باتیں بناتے۔ اور جب ان کو دیکھتے، کہتے بے شک یہ لوگ بہک رہے ہیں۔ اور ان کو بھیجا نہیں ان پر نگہبان۔ ” ( المطففین ۔۲۹۔۳۳ )

ترجمہ: ”اور کہنے لگے یہ نقلیں ہیں اگلوں کی، جو لکھ لایا ہے، سو وہی لکھوائی جاتی ہیں اس پاس صبح و شام۔ ” ( الفرقان ۔۵ )

ترجمہ: ”اور کہنے لگے جو منکر ہیں اور کچھ نہیں یہ مگر جھوٹ باندھ لایا اور ساتھ دیا ہے اس کا اس میں اور لوگوں نے، سو اۤئے بے انصافی اور جھوٹ پر۔ ” ( الفرقان۔۴ )

ترجمہ: ”اور ہم کو معلوم ہے کہ وہ کہتے ہیں اس کو سکھاتا ہے اۤدمی۔ ” (النحل۔ ۱۶)

ترجمہ: ”اور کہنے لگے یہ کیسا رسول ہے کھاتا ہے کھانا اور پھرتا ہے بازاروں میں، کیوں نہ اترا اس کی طرف کوئی فرشتہ کہ رہتا اس کے ساتھ ڈرانے کو۔ ” (الفرقان۔۷ )

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 38 تا 46

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)