ایٹم بم

کتاب : اسم اعظم

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=760

جب کوئی بندہ کسی ایک نقطہ پر اپنی پوری صلاحیتیں مرکوز کر کے غور کرتا ہے تو اس کی صلاحیتوں میں اتنی وسعت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ اس نقطے کو جس کے اوپر جسم کی تمام صلاحیتیں مرکوز ہو گئی ہیں، پڑھ لیتا ہے۔ پڑھنے سے منشاء یہ ہے کہ نقطے کے اندر موجود اوصاف اور نقطے کے اندر موجود خفیہ صلاحیتیں اور صلاحیتوں کے اندر مخفی صلاحیتیں اس کے سامنے آ جاتی ہیں۔ جب زیادہ گہرائی میں دیکھتا ہے تو نقطہ اس کو اپنا استعمال بتا دیتا ہے۔ نقطے کے اندر مخفی صلاحیتیں اس بات کا مشاہدہ بن جاتی ہیں کہ پوری پوری کہکشائیں ہمارے ساتھ سفر کر رہی ہیں۔ ہم جان لیتے ہیں کہ دنیا میں موجود ہر شئے لہروں پر قائم ہے۔ ہم اور پوری کائنات لہروں کے تانے بانے سے مرکب ہے۔ دنیا کی ہر شئے چاہے وہ پانی ہو، درخت ہو، پتھر ہو، انسان ہو، چرند ہو، پرند ہو، انرجی ہو، آکسیجن ہو یا ایٹم مالیکیول، روشنیوں کے ہالے میں بند ہے یعنی ہر شئے کے اوپر روشنی کا غلاف ہے۔ نظر کے سامنے پہلا انکشاف طاقت کا ہوتا ہے۔ مزید گہرائی پیدا ہوتی ہے دوسرا انکشاف اس طاقت کے استعمال کا ہوتا ہے۔ مزید گہرائی واقع ہو جانے سے تیسرا انکشاف یہ ہوتا ہے کہ طاقت مظہر بن کر سامنے آ جاتی ہے۔
جب اور زیادہ گہرائی میں دیکھتا ہے تو نقطہ اس کو اپنا استعمال بتا دیتا ہے۔ جب ہیروشیما اور ناگا ساگی کے اوپر ایٹم بم گرایا گیا تو ایٹم کی طاقت کا مظاہرہ اس شکل میں ہوا کہ جن پہاڑوں پر بم گرایا گیا تھا تو وہ پہاڑ دھواں بن گئے۔ لوگوں نے دیکھا کہ پہاڑ کھڑے ہیں لیکن جب پہاڑ کو چھوا گیا تو دھویں کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ سوال یہ ہے کہ طاقت کا کھوج کس نے لگایا۔ طاقت کا استعمال کس نے کیا اور طاقت کے استعمال سے کون متاثر ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ایٹم کا کھوج انسانوں نے لگایا اس کی طاقت کو انسانوں نے استعمال کیا اور اس طاقت کے تخریبی اور تعمیری پہلو سے بھی انسان ہی متاثر ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایٹم کے اندر طاقت اللہ کی تخلیق ہے اور طاقت کو استعمال کرنے کا طریقہ اللہ نے انسان کو سکھا دیا ہے۔ لاشعور بتاتا ہے کہ اللہ نے انسان کے اندر اتنی سکت اور صلاحیت منتقل کر دی ہے کہ وہ ایٹم کو اپنے ارادے اور اپنی منشاء کے مطابق استعمال کر سکتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ خالق ہر حال میں تخلیق سے زیادہ باصلاحیت واصف اور با ہمت ہے۔ ایٹم کی طاقت کے خالق کی حیثیت سے جب ہم انسانی کردار پر نظر ڈالتے ہیں تو دراصل ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسی مخفی صلاحیتیں اور قوتیں عطا کر دی ہیں، جس کے سامنے ایٹم کی قوت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ فرق صرف ایٹم کے استعمال کا ہے۔ ہم ایٹم کے اندر لہروں کو تلاش کرتے ہیں، جب ہر چیز لہروں پر قائم ہے تو انسانی وجود بھی لہروں سے بنا ہوا ہے۔
جو تباہی یا بربادی کا پیش خیمہ ہیں یا ان صلاحیتوں کو تلاش کرتے ہیں جو نوع انسانی کی تعمیر لہروں میں قائم وجود میں تفکر انسان کے اوپر منکشف کر دیتا ہے کہ انسان میں تخلیق صلاحیت موجود ہے۔ جس طرح ایٹم ایک نقطہ ہے اور اس کے اندر ایسی طاقت محفوظ ہے کہ اگر انہیں تخریبی ذہن سے استعمال کیا جائے تو زمین الٹ پلٹ ہو جاتی ہے۔ پورے پورے شہر آناً فاناً تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ اس ایٹم کو اگر تعمیر میں استعمال کیا جائے تو بجلی ایجاد ہو جاتی ہے۔ وہ بجلی جو سائنسی ترقی میں کسی نہ کسی طرح موجود ہے۔
انسان کے اندر بھی ایک ایٹم ہے اس ایٹم یا نقطے کے اندر بیشمار طاقتیں ذخیرہ ہیں۔ جب یہ ایٹم کھلتا ہے تو آدمی وسائل سے بے نیاز ہو کر روحانی طور پر ان فارمولوں کا مشاہدہ کر لیتا ہے جن فارمولوں سے سورج بنتے ہیں، چاند بنتے ہیں۔ جن فارمولوں اور کلیوں کے اوپر زمین گردش کر رہی ہے۔
مثال: ہم شربت بناتے ہیں ہمیں معلوم ہے کہ پانی چینی میں گھول دی جائے تو شربت بن جاتا ہے اور اس شربت میں خوشبو ملا دی جائے تو شربت خوش نما بن جاتا ہے۔ اسی شربت میں کوئی ایسی ٹھنڈی دوا شامل کر دی جائے جو خون کو ٹھنڈا کر دے تو یہ شربت گرمی سے ہونے والے مرض کا علاج بن جاتا ہے۔
روٹی پکانا ایک فارمولے کے اوپر قائم ہے۔ جب ہم روٹی کا تذکرہ کرتے ہیں تو روٹی سے متعلق جتنے اعمال ہیں وہ خود بخود زیر بحث آ جاتے ہیں۔
روٹی کا مطلب ہے زمین کے اندر گیہوں ڈالنا، زمین کی کوکھ میں دور کرنے والی روشنیوں اور لہروں کا گیہوں کے بیج پر اثر انداز ہوتا ہے۔ گیہوں کے بیج کے اندر موجود روشنیوں اور لہروں کا زمین کی لہروں اور روشنیوں سے باہم مل کر ایک دوسرے کا تاثر قبول کرنا، ایک دوسرے کے اندر لہروں کا جذب ہونے کے بعد گیہوں کے بیج میں کلہ پھوٹنا، بیج کی پیدائش کے بعد زمین کی کوکھ سے باہر آنا، سورج کی تپش سے پکنا، چاند کی چاندنی سے گیہوں کے اندر مٹھاس پیدا ہونا، گیہوں کے بیج کا جوان ہونا اور پھر اس کو چکی میں پیسنا، آٹا بننا، آتے اور پانی کے ملاپ سے ایک نئی شکل اختیار کرنا، آٹے اور پانی کے ملاپ سے جو مرکب بنا ہے اس مرکب کو آگ پر پکانا، ان تمام عوامل سے گزر کر روٹی پکتی ہے۔ ایک عام آدمی کہتا ہے روٹی کھاؤ بات ختم ہو گئی لیکن تفکر کرنیو الا بندہ یہ تلاش کرتا ہے کہ روٹی کہاں ہے اور کیسے وجود میں آئی۔ اس ہی طرح انسان بھی ایک نقطہ ہے۔
نقطہ کو توڑا جائے بالکل اس طرح جس طرح ایٹم کو توڑا گیا ہے تو اس کے اندر عجائبات نظر آتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے کائنات کہا ہے۔ انسان کی پوری نسل، انسان کی پوری نوع، جنات اور جنات کی پوری نوع، فرشتے، آسمان، جنت، دوزخ، عرش اور انتہا یہ کہ خود اللہ تعالیٰ بھی اس نقطے کے اندر موجود ہے۔ جب یہ نقطہ کھلتا ہے تو انسان مشاہداتی طرزوں میں قدم قدم سفر کر کے منزل مقصود پر پہنچ جاتا ہے اور مقصود اور منظور و مطلوب اللہ تعالیٰ ہے۔ تصوف میں اس نقطے کا نام ’’فواد‘‘ ہے جس کا ترجمہ دل ہے۔ یہ وہی دل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا مسکن اور اپنا گھر قرار دیا ہے۔ یہ وہی دل ہے جو کبھی غلط بیانی نہیں کرتا، کبھی جھوٹ نہیں بولتا، جو کچھ دیکھتا ہے حقیقت دیکھتا ہے۔ دل خالق کائنات کو دیکھتا ہے۔ خالق کائنات دل کو دیکھتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 163 تا 166

اسم اعظم کے مضامین :

ِ 1.1 - نظریہ رنگ و روشنی  ِ 1.2 - فوٹان اور الیکٹران  ِ 1.3 - کہکشانی نظام اور دو کھرب سورج  ِ 1.4 - دو پیروں اور چار پیروں سے چلنے والے جانور  ِ 1.5 - چہرہ میں فلم  ِ 5.8 - مراقبہ مرتبہ احسان اور روشنیوں کا مراقبہ  ِ 1.6 - آسمانی رنگ کیا ہے؟  ِ 1.7 - رنگوں کا فرق  ِ 1.8 - رنگوں کے خواص  ِ 2.1 - مرشد کامل سے بیعت ہونا  ِ 2.2 - مرشد کامل کی خصوصیات  ِ 2.3 - تصور سے کیا مراد ہے؟  ِ 2.4 - علمِ حصولی اور علمِ حضوری میں فرق  ِ 2.5 - اسم اعظم کیا ہے  ِ 2.6 - وظائف نمازِ عشا کے بعد کیوں کیئے جاتے ہیں  ِ 2.7 - روزہ روح کی بالیدگی کا ذریعہ ہے  ِ 2.8 - نام کا انسانی زندگی سے کیا رشتہ ہے اور نام مستقبل پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں؟  ِ 2.9 - جب ایک ہی جیسی اطلاعات سب کو ملتی ہیں تو مقدرات اور نظریات میں تضاد کیوں ہوتا ہے؟  ِ 3.1 - نماز اور مراقبہ  ِ 3.2 - ایسی نماز جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق حضور قلب اور خواہشات، منکرات سے روک دے کس طرح ادا کی جائے؟  ِ 3.3 - روح کا عرفان کیسے حاصل کیا جائے؟  ِ 3.4 - مخلوق کو کیوں پیدا کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کو پہچاننے کا طریقہ کیا ہے؟  ِ 3.5 - چھ دائرے کیا ہیں، تین پرت سے کیا مراد ہے؟  ِ 3.6 - روح انسانی سے آشنا ہونے کا طریقہ کیا ہے؟  ِ 3.7 - مراقبہ کیا ہے۔ مراقبہ کیسے کیا جائے؟  ِ 4.1 - تعارف سلسلہ عظیمیہ  ِ 4.2 - سلسلہ عظیمیہ کے اغراض و مقاصد اور قواعد و ضوابط  ِ 5.1 - مراقبہ سے علاج  ِ 5.2 - مراقبہ کی تعریف  ِ 5.3 - مراقبہ کے فوائد اور مراقبہ کی اقسام  ِ 5.4 - مراقبہ کرنے کے آداب  ِ 5.5 - سانس کی مشق  ِ 5.6 - مراقبہ کس طرح کیا جائے۔ خیالات میں کشمکش  ِ 5.7 - تصورِ شیخ کیا ہے اور کیوں ضروری ہے  ِ 5.9 - مراقبہ سے علاج  ِ 6.1 - سانس کی لہریں  ِ 6.2 - روحانی علم کو مخفی علم یا علم سینہ کہہ کر کیوں عام نہیں کیا گیا  ِ 6.3 - اللہ تعالیٰ پر یقین رکھنے اور توکل کرنے کے کیا معانی ہیں  ِ 6.4 - رحمانی طرز فکر کو اپنے اندر راسخ کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے  ِ 6.5 - واہمہ، خیال تصور اور احساس میں کیا فرق ہے؟  ِ 6.6 - ہمارا ماحول ہمیں کس حد تک متاثر کرتا ہے؟  ِ 7 - کیا نہیں ہوں میں رب تمہارا؟  ِ 7.2 - لوح اول اور لوح دوئم کیا ہیں  ِ 7.3 - علمِ حقیقت کیا ہے  ِ 7.4 - علمِ حصولی اور علم حضوری سے کیا مراد ہے  ِ 7.5 - روح کیا ہے  ِ 8 - انسان اور آدمی  ِ 9 - انسان اور لوحِ محفوظ  ِ 10.1 - احسن الخالقین  ِ 10.2 - روحانی شاگرد کو روحانی استاد کی طرز فکر کس طرح حاصل ہوتی ہے۔  ِ 10.3 - روحانی علوم حاصل کرنے میں زیادہ وقت کیوں لگ جاتا ہے؟  ِ 10.4 - تصورات جسم پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں  ِ 10.5 - یادداشت کیوں کمزور ہو جاتی ہے؟  ِ 10.6 - تصور سے کیا مراد ہے  ِ 10.7 - کسی بزرگ کا قطب، غوث، ابدال یا کسی اور رتبہ پر فائز ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟  ِ 10.8 - تصور کیا ہے  ِ 10.9 - کرامت کی توجیہہ  ِ 10.10 - مختلف امراض کیوں پیدا ہوتے ہیں  ِ 11 - تصوف اور صحابہ کرام  ِ 12 - ایٹم بم  ِ 13 - نو کروڑ میل  ِ 14 - زمین ناراض ہے  ِ 15 - عقیدہ  ِ 16 - کیا آپ کو اپنا نام معلوم ہے  ِ 17 - عورت مرد کا لباس  ِ 18 - روشنی قید نہیں ہوتی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)